طلبہ مدارس اور انہیں قبول کرنے سے انکاری سماج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدارس کے طلباء اور اسلامی تحریک کے ساتھ وابستہ افراد کے لئے سماج اور معاشرہ کے ساتھ تعلقات اور ہم آہنگی میں بہت سی مشکلات ہوتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں سیا ست و حکومت اسلامی طرز حکومت خلافت کی صورت میں نہ ہو۔ معاشیات میں بینکنگ، سرمایہ دارانہ نظام اور سود رائج ہو۔ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات میں اسلامی شرائط کو ملحوظ نہ رکھا جاتاہو۔ جہاد جیسے اہم حکم شرعی کو ترک کیا جا چکا ہو۔ مردوزن کا مخلوط معاشرہ ہو، تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کا ماحول ہو۔ عورت اور مرد ایک ہی جگہ پر جاب کرتے ہوں اور حجاب کے شرعی احکام کا لحاظ نہ رکھا جاتا ہو۔

گھروں کی چار دیوار ی میں بھی ٹی وی، کیبل، ڈش اور اس قسم کی چیزوں کا استعمال عام ہو۔ محرم اور غیر محرم کی تمیز نہ ہو۔ شادی بیاہ، خوشی غمی، ہر چیز شرعی اوامر و نواہی کے خلا ف ہو۔ ایک ایسا معاشرہ اورسوسائٹی جو ان سب خرابیوں کا مرقع ہے۔ اس کے افراد و حکومت اسلام کے ساتھ وابستگی کے دعویدار ہیں لیکن اسلامی احکام کا لحاظ نہیں رکھا جاتاہے۔ ہر چیز میں اغیار کی مشابہت اور پیروی نظر آتی ہے۔ تعلیم، صحت، رہائش، لباس، سیاست و معیشت ہر چیز میں مغرب کا اثر غالب نظر آتا ہے۔

ایسے معاشرے میں طلبہ مدارس اور اسلامی تحریک سے وابستگی رکھنے والے افراد ردعمل اور نفی کی کیفیات میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے سامنے یہ حدیث ہوتی ہے کہ برائی کو دیکھ کر اس کی روک تھام ہا تھ یا زبان سے کرنی چاہیے ورنہ آخری درجے میں اس کو برا جاننا چاہیے۔ وہ ان سب چیزوں کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن بدل نہیں پاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور اسلامی تحریکوں میں ان کو ویسے بھی باور کروایا جاتا ہے کہ حق کا اثبات اور باطل کا ابطال ان کا بنیادی فریضہ ہے۔ اس لئے معاشرتی رسوم و رواج کو وہ کسی صورت قبول نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

مسجد، مدرسہ اور خانقاہ ان جگہوں میں ان کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہوتی ہے کہ یہ معاشرتی تبدیلیوں سے محفوظ رہیں۔ اس محفوظ رہنے کے عمل میں اکثر اوقات مبالغہ ہوتاہے جس کی وجہ سے مسجد و مدرسہ اور خانقاہ یا ان کے زیر اثر دیگر اداروں میں ایک الگ ریاست یا معاشرت کی شکل بن چکی ہوتی ہے۔ اسی طرح اپنے گھروں، خاندانوں اور دائرہ اختیار کی جگہوں کو بھی وہ ان معاشرتی تبدیلیوں کی ضد سے محفوظ رکھنے کے لئے آخری حد تک جاتے ہیں۔ جس سے خاندان کے لوگوں میں مذہبی لوگوں کے سخت گیراور متشدد ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ان کے بچوں اور گھریلو افراد میں معاشرے سے الگ تھلگ رہنے کا احساس نمایاں ہوتاہے۔ معاشرے میں عام رائج چیزوں سے محرومی ان کی نفسیات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔

سوسائٹی کے افراد بھی ایسے لوگوں کو حدود پارسائی میں رکھتے ہوئے ان کے ساتھ معاشرے کے عام آدمی کا سا رویہ نہیں رکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں بھی ان لوگوں کا سوسائٹی سے الگ تھلگ عبادات میں گوشہ نشیں ہونا ضروری قرار پاتاہے۔ سوسائٹی کی ایکٹویٹیز میں ان لوگوں کی شرکت پر سوسائٹی کے لوگ ہی ان کو باور کروارہے ہوتے ہیں کہ انہیں ان میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ سوسائٹی ایسے افراد کو قبول نہیں کر رہی ہوتی ہے اور یہ لوگ سوسائٹی کو قبول نہیں کررہے ہوتے ہیں۔

معاشرے میں تبدیلی کے خواہاں یہ لوگ مختلف سیاسی، سماجی، اصلاحی، تبلیغی اور خانقاہی جماعتوں و تحریکوں کے ذریعے کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی لے کر آئیں۔ ان کی تبدیلی کی یہ کوششیں معمولی سطح پر تو رنگ لاتی ہیں لیکن مجموعی معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ یہ جماعتیں و تحریکیں اپنے کارکنوں کے رد عمل کے جذبات کو مختلف طرح سے کنٹرول کرتی ہیں۔

ان کو باور کروایا جاتاہے کہ ہم ایک عبوری دور میں جی رہے ہیں۔ اس دور میں ہم اس معاشرے اور سوسائٹی کو قبول تو کرلیتے ہیں لیکن کسی ایسے وقت کے انتظار تک، جب موقع ملنے پر، ہم ان سب چیزوں کا خاتمہ کردیں گے اور پھر اسلامی نظام و حکومت قائم ہوگی۔ اسی طرح ان کو سازشی تھیوری سے متعارف کروایا جاتاہے جس میں ان کے کچھ دشمن ہوتے ہیں جو ان سب خرابیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور پھر ان دشمنوں پر ساری بھڑاس نکالی جاتی ہے۔ ملکی قانون اور بین الاقوامی صورتحال میں جب کبھی ان کو موقع ملتاہے بھرپور احتجاج و مزاحمت کی راہ اپنائی جاتی ہے اور اس کے ذریعے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔

یہ ساری چیزیں جہاں اسلام پسندوں کے ہاں پائی جاتی ہیں وہاں لبرلز کے ہاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اسلام پسند یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کی اکثریت اسلام کو چھوڑ کر لبرل و سیکولر اقدار کے پیچھے لگ چکی ہے اس لئے ان کی اصلاح ضروری ہے۔ جبکہ لبرلز سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں اسلام پسندوں کا غلبہ ہے اور سوسائٹی ان کے کنٹرول میں ہے اس لئے سوسائٹی کی اصلاح ضروری ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سوسائٹی کے چلنے کا اپنا ایک بہاؤ ہوتاہے جس میں وہ اسلام پسندوں اور لبرلز ہر دو کی کچھ چیزوں کو تو قبول کرتی ہے لیکن اس کے علاوہ میں زمانی تبدیلیاں خود اس کی روانی کو کوئی شکل دے رہی ہوتی ہیں۔ یہ زمانی تبدیلیاں ایسی فطری ہوتی ہیں کہ ہر معاشرے میں نظر آتی ہیں۔ ان زمانی تبدیلیوں سے مزاحم ہونے والے طبقے کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتاہے۔

ان فطری تبدیلیوں کے اثرات سے اسلام پسند یا لبرلز دونوں محفوظ نہیں رہ پاتے ہیں۔ اسلامسٹ ان کو ایک مثالی دور سے ہٹ کرہونے کی وجہ سے غلط بھی کہہ رہے ہوتے ہیں لیکن ان میں مبتلا بھی ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے ادارے، جماعتیں، تحریکیں اور گھر بار ان تبدیلیوں کی ضد میں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو قول و فعل کے تضاد میں زندگی گزارنا پڑتی ہے۔

مدارس کے طلبہ اور اسلامی تحریک کے ساتھ منسلک لوگوں سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ اسلام کی اقدار و روایات پر ہمیں خود بھی عمل کرنا چاہیے اور ان کے حوالے سے معاشرے میں سٹینڈ بھی لینا چاہیے۔ لیکن زمانی تبدیلیوں کے ساتھ جن چیزوں میں علماء کرام اجتہاد سے کام لے چکے ہیں ان میں سختی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اسی طرح اپنے مزاج اور ذاتی یا خاص گروہی پسند و ناپسند کو مجموعی امت پر نافذ کرنے کی فکر میں پڑنے کی بجائے دیگر رحجانات کا بھی احترام کرنا چاہیے۔

ہر چیز کو رد اور نفی کی نظر سے دیکھنے اور بعد میں زمانی تبدیلیوں کے زیر اثر اس کو قبول کرنے کی بجائے اول روز سے ہی اگر وہ شریعت کے کسی واضح اصول سے ٹکراتی ہے تو اس کی نفی کی جائے ورنہ اس کو تسلیم کیا جائے۔ مثالیت پسندی کا شکار ہونے کی بجائے معاشرے کی عملی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں غور و فکر کیا جائے اور انہی پر زیادہ زور صرف کیا جائے۔

ہمارے معاشروں میں بنیادی اخلاقیات تک کا فقدان پایا جاتاہے۔ اس میں معاشرے کا ہر طبقہ یکساں اور برابر ہے۔ اس لئے معاشرے میں تبدیلی و اصلاح کے لئے سوسائٹی کی اخلاقیات کی اصلاح کو سب سے پہلے اپنی محنت کا میدان بنایاجائے۔ اس حوالے سے پاک پیغمبر ﷺ کی خوبیاں کہ وہ صلہ رحمی کیا کرتے تھے، دوسروں کا بوجھ اٹھایا کرتے تھے، مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے، مہمان نوازی کرتے تھے، باحیاء و با کردار تھے، صادق اور امین تھے۔ ان کو ایک داعی، طالب علم اور اسلامی تحریک سے وابستہ لوگوں کو خود اپناتے ہوئے ان پر معاشرے کو استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •