سابق چیف جسٹس پاکستان، جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے نام خط میں کیا لکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

10جنوری 2019 کو سابق چیف جسٹس پاکستان، جسٹس جواد ایس خواجہ کا سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا ایک خط ذیل میں پیش ہے۔

ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کا مواخذہ اور برطرفی صرف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ مواخذہ اور برطرفی کے لیے کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست بھجوا سکتا ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا مواخذہ ایک حساس معاملہ ہے اور بوجوہ عدلیہ کی آزادی کے لیے از حد ضروری ہے کہ ان کے خلاف مواخذہ کا عمل بدنیتی پرمبنی جھوٹے الزامات پر نہ ہو۔ مواخذہ کے عمل میں جانبداری کا تاثر یا شائبہ بھی اس عمل کو غیرشفاف بنا دے گا۔

میں آج کل  LUMSمیں ایک کورس ”مستحسن طرز حکومت” (Good Governance) پر پڑھا رہا ہوں۔ ایسی حکمرانی کا ایک بنیادی عنصر عدلیہ کی آزادی اور ججوں کے مواخذہ کا طریقہ کار ہے۔ مواخذہ کے مقاصد کے لیے آئین میں (SJC)  سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہے۔

جج صاحبان کے مواخذہ کے لیے لازم ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل شفاف اور منصفانہ طریقہ سے اپنے فرائض سر انجام دے۔ شفافیت اور انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ جب سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کوئی شکایت یا درخواست سنے تو اس کا طریقہ کار سب کے لیے یکساں برابر اور مساوی ہو۔ اس عمل میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں۔

معتبر اور ذی شعور اشخاص جو کہ احسن طرزِ حکمرانی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ججوں کے مواخذہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وہ اس تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ججوں کے مواخذہ کے عمل میں یکساں معیار نہیں ہے بلکہ من مانی اور عدم اصولی کا تاثر نمایاں ہے۔ مثلاً چند ذرائع کے مطابق اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 300 سے زائد شکایات ججوں کے خلاف دائر ہیں اور زیرِ التوا ہیں۔

عوام الناس اور ملک کے شہریوں کو کوئی بھی اعداد و شمار یا کوائف ان شکایات کے بارے میں مہیا نہیں کیے گئے اور نہ ہی شکایات کی نوعیت کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے۔ آج سے دو سال قبل پاکستان بار کونسل کے ایک رکن نے ان شکایات کے بارے میں معلومات اور اعدادو شمار حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اُس کی درخواست کو خارج کر دیا گیا باوجود اس کے کہ آئین کے آرٹیکل 19 A کے تحت (معلومات کا حصول) آئینی استحقاق ہے۔ ایسے اعداد و شمار دینے سے گریز و انکار یقینا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور مواخذہ کے عملی کے غیر منصفانہ اور جانب دار ہونے کا واضح تاثر پیدا کرتا ہے۔ اس طرح عدلیہ بطور آئینی رکن اور عدلیہ کی آزاد حیثیت کو سخت ٹھیس اور نقصان پہنچتا ہے۔

سنجیدہ سوچ رکھنے والے وکلاء جج صاحبان ، قانون کے ماہرین اور اساتذہ نے یہ سوال اٹھایا ہے اور بجا طور پر کہا ہے کہ چند جج صاحبان ایسے ہیں جنھوں نے اپنے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیاں کی تھیں لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے ان خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا ہے اور خلاف ورزیوں کے مرتکب ججوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ضابطۂ اخلاق کے اطلاق میں جانب داری کا ثبوت دیا ہے یا واضح تاثر دیا ہے۔

میڈیا کے مطابق بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں جن سے ججوں کے ضابطۂ اخلاق اور بالخصوص ضابطے کی شقیں4، 5، 7، 8 اور 10 کی خلاف ورزیاں عیاں ہوتی ہیں لیکن ان بے ضابطگیوں اور بد عملی کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حالانکہ ایسی بے ضابطگیوں کو بد عملی (miscondcut) گردانا گیا ہے۔ اگرچہ چند ججوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے لیکن بیشتر ججوں کی بے ضابطگیوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے تو پھر مواخذہ اور احتساب کا تصور ہی باقی نہیں رہتا۔

بطور سابق جج اور چیف جسٹس یہ میرے لیے نہایت تشویش کا باعث ہے کہ یہ تاثر قائم ہو کہ ججوں کے محاسبہ میں اور ضابطۂ اخلاق میں جانب داری عیاں ہو۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے پچھلے چند برسوں کی کارکردگی سے عدالتوں اور ججوں کی ساکھ پر منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔ عدلیہ کی ساکھ کی اہمیت سب سے زیادہ مقدم ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ یہ تاثر نہ دے کہ وہ متعصب ہے اور یہ کہ احتساب کے عمل میں یکساں برابر اور مساوی مواخذہ کرنے سے قاصر ہے۔

(بشکریہ: پاکستان 24)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •