سیاسی گرفتاریاں: ہوا کسی کی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1988ء میں ضیالحق کی ناگہانی موت کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں چلائے گئے جھرلو کی باز گشت آج بھی نہ صرف گونجتی ہے بلکہ سپریم کورٹ میں چلے اصغر خان کیس کی شکل میں ایک بد نما داغ کی طرح ہمیشہ کے لئے باعث عبرت و ندامت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ ہم کبھی تاریخ سے شرمسار ہوئے اور نہ ہم نے غلطیوں سے سیکھنے کی زحمت گوارا کی کیونکہ ہم بزعم خویش ایک عظیم قوم ہیں۔

منظم منصوبہ بندی کے ساتھ مقتدر قوتوں کی طرف سے دھاندلی صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کو اقتدار سے باہر رکھنے یا کم از ان کو کمزور کرنے کے لئے رچائی گئی تھی جس کا اعتراف کھیل کا مصنف و ہدایت کار حمید گل مرتے دم تک کرتا رہا۔ نتیجے کے طور پر ان انتخابات میں بے نظیر بھٹو واحد اکثریتی جماعت بن کر تو ابھری مگر پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل نہ کر پائی۔

ضیالحق کے دور میں 1973 ء کا آئین مسخ ہو چکا تھا صدر کے پاس لامحدود اختیارات آگئے تھے جس کی رو سے صدر اکثریتی جماعت کے سربراہ کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کا پابند بھی نہیں تھا۔ قیام پاکستان سے چلتے آئے بیوروکریٹ غلام اسحٰق خان بطور چئیرمین سینیٹ ملک کا قائم مقام صدر تھا جن کی ضیالحق سے وفاداری اور بھٹو کی بیٹی سے عداوت بھی کسی سے مخفی نہ تھی۔ انتخابات میں نتائج کے بعد سوال یہ تھا کہ بے نظیر بھٹو صدر کی طرف سے حکومت بنانے کی دعوت کا انتظار کرے یا عوام کی حمایت کے باوجود مقتدرہ سے حکومت بنانے کی بھیک مانگے۔

جیالے ملک کے کونے کونے میں بھنگڑے ڈال رہے تھے اور ایک ہی صدا گونج رہی تھی ًوزیر اعظم۔ بے نظیرً۔ ادھر گیارہ سال کی طویل جدوجہد اور باپ اور بھائی کو کھو دینے کے بعد ایوان اقتدار کے دروازے پر کھڑی بے نظیر بھٹو کے سامنے وہ کارکن بھی تھے جنھوں نے اپنی پیٹھ پر کوڑے کھائے تھے، جنھوں نے عقوبت خانوں میں بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کا سامنا کیا تھا۔ وہ بیوائیں بھی ان کی نظروں کے سامنے تھیں جن کے سہاگ اجڑے تھے۔ وہ مائیں بھی تھیں جن کے نوجوان بیٹوں کی لاشیں آئی تھیں اور وہ بہنیں بھی جن کے بھائی تاریک راہوں میں مارے گئے تھے۔ دوسری طرف شاطران زمانہ نے بساط ایسی بچھائی تھی کہ نہ پائے رفتن و نہ جائے ماندن۔

جب بے نظیر بھٹو نے بطور وزیر اعظم حلف لینے کے لئے دیگر باتوں کے علاوہ ضیاالحق کی سب سے بڑی باقیات غلام اسحٰق خان کو صدر بنانے پر اتفاق کیا تو کئی جیالے ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ بی بی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہاں سے گیارہ سال تک آمریت کے خلاف لڑنے والی بے نظیر بھٹو کے خلاف سازشوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جس میں ضیاالحق بھٹو کی بیٹی کے ساتھ جو نہیں کر پایا تھا، وہ بھی کر دیا گیا۔

اسلامی جمہوری اتحاد کے پرچم تلے جمع کی گئی ضیاالحق کی باقیات کا سرکاری خرچے پر بنایا گیا بھان متی کا کنبہ مسلم لیگ کہلایا اور نواز شریف اپنے لیڈر محمد خان جونیجو کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر اس کا سربراہ بن گیا اور ملک کی مذہبی قوتوں کے اتحاد کا استعارہ بھی۔ نواز شریف نے بھی اسی غلام اسحٰق خان کو ہی صدر بنائے رکھا جس نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا تھا۔ لیکن آگے کے حالات نے ثابت کیا کہ ًہوا کسی کی نہیں ً۔

خود کو لاڈلا اور انوکھا شہزادہ سمجھ کر بار بار چاند مانگنے والے نواز شریف کو ایوان وزیر اعظم سے اٹھا کر اٹک کے قلعے میں پہنچا دیا گیا تواس کو بھی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوگیا۔ ضیالحق کے زمانے سے چلتی آئی اصلی طاقتوں سے واسطہ داری اور رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز میں جھکنے والی چند با اثر وبارسوخ جبینوں کے طفیل دس سالوں کے لئے خاموشی کے وعدے پر جدہ کے لئے جہاز میں لاد کر نواز شریف کی جان چھوٹی تو لاکھوں پائے۔

جلاوطنی کے دوران نواز شریف نے کارزار سیاست میں آنے اور لانے والوں کی اس نارسائی سے عبرت پکڑ کر ہمیشہ کے لئے توبہ تائب ہوکرحجاز مقدس میں اپنے آبائی پیشہ آہن گری کا دوبارہ احیا کیا۔ لیکن ان کے دور حکومت میں دیس نکالا کی گئی ان کی حریف بے نظیر بھٹو مگر وطن واپس آکر ایک بار پھر وقت کے آمر کے خلاف صف آرا ہونے پر کمر بستہ تھی۔ سیاست میں بڑے حریف سے مقابلہ کے لئے چھوٹے مخالف کو ساتھ رکھنے کے پرانے اصول کے مطابق بے نظیربھٹو نے تمام گلے شکوئے ایک طرف رکھ کر لندن سے جدہ آکر نواز شریف کو ایک معاہدہ پر آمادہ کیا اور یوں میثاق جمہوریت کی داغ بیل رکھی گئی۔

لندن میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پائے جانے والے میثاق جمہوریت کی دستاویز ایک طرف پاکستان میں جمہوریت کے ارتقاء کی تاریخی شہادت ہے اور دوسری طرف سیاست دانوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف نامہ بھی۔ مختصراً یہ دستاویز ملک میں جمہوریت، آئین اور سیاست کی حرمت اور بالادستی کی بنیاد بن گئی۔ اس میثاق کی بدولت بے نظیر بھٹو کے ساتھ نواز شریف کی بھی واپسی ممکن ہوئی اور اس کو ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک بار پھر حصہ لینے کا موقع ملا۔

1988 ء میں ضیالحق کی حادثاتی موت کی طرح 2008 ءمیں بے نظیر بھٹو کی ناگہانی شہادت نے ایک بار پھرپیپلز پارٹی کو اس موڑ پر لاکھڑا کیا جہاں آئین ایک بار پھر مسخ ہو چکا تھا۔ مگر اس بار میثاق جمہوریت کی دستاویز ایک ایسا فرق تھا جس نے کسی نئے اسلامی جمہوری اتحاد کو جنم لینے نہیں دیا اور نہ اب کی بار چھانگا مانگا میں عوامی نمائندوں کی مویشی منڈی لگی۔ نہ صرف ملک سے وقت کا آمر رخصت ہوا اور 1973ء کا آئین بحال ہوا بلکہ اس میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وہ وعدے بھی پورے کیے گئے جو نصف صدی سے منتظر ایفا تھے۔

جب حالات بدل گئے اور وقت نے پلٹا کھایا تو سب کو نہ صرف ماضی کی وہ تلخ یادیں بھول گئیں بلکہ میثاق جمہوریت کو بھی مذاق جمہوریت بنا دیا۔ سب نے ان ہی ہواؤں کے دوش پر اڑنے کی اپنی اپنی کوشش کی جنہوں نے چراغ سب کے بجھائے تھے۔ آمر کے ہاتھوں رسوا ہوئے نواز شریف نے کبھی کالا کوٹ پہن کر داد سمیٹنے کی کوشش کی تو کبھی لانگ مارچ کے ذریعے جمہوریت کے خیمے میں ایک شتر بے مہار عدالت کو گھسا دیا۔ آج اسی عدالت کے ہاتھوں ایک بار پھر کوٹ لکھپت کی جیل پہنچنے والا نواز شریف یہ ضرور سوچ رہا ہوگا کہ ہوا کسی کی نہیں۔

بلوچستان کی خاموش پیالی میں طوفان بھرپا کرکے اپنے زمانہ طالب علمی کے دوست ثنا اللہ زہری کو کوئٹہ سے خضدار بھیجنے والے بمبینو سنیما کے مالک آصف علی زرادری کا بھی آج میلوڈی سنیما کے سامنے واقع نیب کے دفتر میں شاندار استقبال ہوچکا ہے۔ میثاق جمہوریت کے بعد پاکستان کے مستقبل کو آئین میں اٹھارویں ترمیم جیسا تحفہ دینے والے رضا ربانی کو پس پشت ڈال کر ایک نامعلوم تاجر کو سینیٹ کا چئیرمین بنا کر بزعم خویش خود کو بادشاہ گر سمجھنے والا سب پر بھاری اور ایک واری فر زرداری نیب کے آٹھ فٹ لمبے اور چھ فٹ چوڑے کمرے میں کبھی چلتے اور کبھی بند ہوتے مگر مسلسل غوں غوں کرتے پنکھے کے نیچے لیٹے یہ ضرور سوچتا ہوگا کہ ان سے کیے سارے وعدے وعید ہوا ہوئے، کیونکہ ہوا کسی کی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 194 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan