ان خراب حالات سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا خیالات دنیا کو تبدیل کرسکتے ہیں؟ سوچا جائے تو یہ خیالات ہی ہیں جنہوں ‌ نے دنیا کے دھارے کا رخ ترتیب دیا ہے۔ خیالات ہی الفاظ بن جاتے ہیں اور الفاظ اعمال۔ اگر ایک جیل ہو جو خیالات کی بنی ہوئی ہو تو لوگ سوچ کے ذریعے اس میں ‌ سے باہر نکل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ‌ خیالی جیلوں میں سوچ اور اس کے اظہار پر پابندی ہوتی ہے۔ جب انسانوں پر مصیبت پڑتی ہے تو انہی خیالات پر انحصار ہوتا ہے جو ہمارے گرد موجود ہوں اسی لیے یہ خیالات پھیلاتے رہنا ضروری ہے۔ 1951 میں ‌موجودہ پاکستان کی آبادی 34 ملین تھی جو اگلے دس سالوں ‌ میں ‌ 300 ملین ہوجائے گی۔ خواتین کی تعلیم اور صحت میں ‌ سرمایہ کاری کے بغیر ان حالات کا بدلنا ناممکن ہے۔

خواتین تعلیم حاصل کریں، چاہے چھوٹی سی ہو لیکن اپنی کمائی ہونی چاہیے، شادی کے بعد بھی اپنا بینک اکاؤنٹ الگ رکھیں، شادی کے فوراً بعد بچے پیدا شروع نہ کریں۔ دو تین سال میں ‌ معلوم ہوجائے گا کہ یہ مناسب ہوگا یا نہیں۔ اگر کسی کی پہلے سے اچھی نوکری ہے اور ریٹائرمنٹ میں ‌ پیسہ یا جائیداد ہے تو شادی سے پہلے اگریمنٹ بنائیں۔ امریکہ میں ‌ شادی ختم ہونے کی صورت میں ‌ سب کچھ آدھا آدھا تقسیم ہوجاتا ہے۔ شادی کرنے سے پہلے قانون دان کے ساتھ بیٹھ کر طے کریں ‌ کہ طلاق کی صورت میں ‌ آپ کے شوہر آپ کی جائیداد اور پیسے کے پچاس فیصد کے مالک قرار نہیں دیے جائیں گے۔ شادی کرنا سستا کام ہے اور طلاق لینا بہت مہنگا۔ ہر ملک کی خواتین اپنے ملک کے قانون کے مطابق اپنے لیے اور اپنے بچوں ‌ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے منصوبہ بندی کریں۔

آپ نے پاکستان میں ‌ کوئی مریض‌ دیکھے تھے؟ ایک پاکستانی میڈیکل اسٹوڈنٹ نے پوچھا۔ ہاں ‌ اسٹوڈنٹ لائف میں پروفیسرز اور اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ مریض‌ دیکھتے تھے۔ لیکن وہاں باقاعدہ نوکری نہیں ‌ کی اس لیے شہروں ‌ میں ‌ کام کرنے کا یا ان مریضوں کو جاننے کا موقع نہیں ‌ ملا۔ لاڑکانہ میں ‌ 99 فیصد مریض سندھی، بلوچی یا سرائیکی بولتے تھے اور میں ‌ سن کر سمجھ لیتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن جواب میں ‌ اردو میں ‌ ہی بات کرتی تھی۔

زیادہ تر مریض اردو سمجھ لیتے تھے، کچھ کی بات میری کلاس فیلوز ترجمہ کرکے بتا دیتی تھیں، کلاس میں ‌ ڈسکشن انگلش میں ‌ چلتی تھی اور امتحان بھی انگلش میں ‌ ہوتے تھے اس طرح‌ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی۔ ٹیچنگ ہسپتال میں ‌ آنے والے زیادہ تر مریض نہایت غریب ہوتے تھے اور کچھ کو ان کے گاؤں سے چارپائی میں ‌ لایا جاتا تھا، ہسپتال کے باہر ان کے گھر والے درختوں کے نیچے سو جاتے تھے۔ کچھ خواتین پتھر جوڑ کر لکڑیاں جلا کر اس پر توا رکھ کر روٹیاں پکا رہی ہوتی تھیں۔ کافی مریض میلوں ‌ پیدل چل کر ہسپتال پہنچتے تھے کیونکہ وہ رکشے وغیرہ کا کرایہ برداشت نہیں ‌ کرسکتے تھے۔

شیخ زائد خواتین کا ہسپتال امارات کے شیخوں‌ نے مفت میں ‌ بنا دیا تھا جو کافی اچھی طرح‌ بنا ہوا تھا لیکن اس کی دیکھ بھال اور مرمت پر زیادہ دھیان نہیں ‌ دیا جاتا تھا۔ لیبر روم میں ‌ خوفناک حالات دیکھے جن کے بارے میں ‌ سوچ کر اب بھی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ خواتین کی دگرگوں ‌ حالت دیکھی۔ سرجری کے دوران بجلی چلی جاتی تھی۔ مریضوں ‌ کو ہسپتال پہنچتے ہی ایک لسٹ دی جاتی تھی کہ میڈیکل اسٹور سے یہ چیزیں اور دوائیں لائیں کیونکہ ہسپتال میں ‌ ان کے لیے ایک خالی بستر اور نیم ڈاکٹروں ‌ کے سوا کچھ نہیں ‌ ہوتا تھا۔ بہت لڑکیاں ڈاکٹر تو بن گئی تھیں ‌ لیکن انہوں نے مواقع اور سازگار حالات نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم اور ہاؤس جاب ختم کرنے کے بعد ڈاکٹری نہیں ‌ کی۔ ہماری کلاس کی سو لڑکیوں ‌ میں ‌ سے مشکل سے بیس ہی آج میڈیکل پریکٹس کررہی ہیں۔

او بی ہسپتال میں ‌ ایک سترہ سال کی لڑکی ایکلیمپسیا میں ‌ تھی، اس کا سارا جسم پھول گیا تھا اور وہ رہ رہ کر جھٹکے لیتی تھی۔ اس کے ہاتھ بستر سے باندھ دیے گئے تھے اور اس کی ماں ساتھ میں ‌ بیٹھی روتی رہتی تھیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بستر کے پیچھے دیوار پر ایک موم بتی جل رہی تھی جس کے دھوئیں ‌ سے دیوار کالی پڑ گئی تھی۔ یہ کسی ڈراؤنی فلم کا منظر لگتا تھا۔

اوکلاہوما میں میرا آفس نہایت خوبصورت ہے جس میں ‌ بہت اچھی پینٹنگز لگی ہوئی ہیں اور جدید ترین سہولیات موجود ہیں۔ کبھی کبھار ویک اینڈ پر بھی اپنے نوٹس ختم کرنے یا مریضوں ‌ کو ان کے لیب رزلٹ بتانے آفس آجاتی ہوں۔ ساری بلڈنگ خالی ہوتی ہے۔ ملکی قوانین کی وجہ سے اور تعلیم و تربیت کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں ‌ کہ کس طرح‌ ساتھ میں ‌ تمیز اور عزت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا ہے۔ ایک مرتبہ میں ‌ باہر نکلی تو چابی پیچھے کمرے میں ‌ رہ گئی۔ میں ‌ نے سیکیورٹی کو فون ملایا اور ایک افسر نے آکر دروازہ کھول دیا۔ ہیلتھ پلیکس بھی نہایت خوبصورت ہسپتال ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •