سیاست دانوں سے نفرت کرنے والوں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالیٰ نے کھیوڑہ کے نمک اور سطح مرتفع پوٹھوہار کے علاوہ بھی پاکستان کو نوع بنوع نعمتیں بخشی ہیں۔ سہیل وڑائچ کے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک نہایت بالغ نظر خاتون فرماتی ہیں:

” جب آپ سیاستدانوں سے الفت جتا رہے ہوتے ہیں یا ان کی تعریف میں اپنے قیمتی لفظ استعمال کرتے ہیں،  مجھے کافی امیچور لگتے ہیں۔”

اگرچہ ڈاکٹر شاہد مسعود، عارف حمید بھٹی، صابر شاکر، چوہدری غلام حسین، حسن نثار، اوریا مقبول جان اور مبشر لقمان جیسے نابغوں سے تاریخ اور سیاست کا آموختہ پڑھنے والی نسلوں سے بحث میں الجھنا تضیع اوقات ہے تاہم ریکارڈ صاف رکھنے کے لئے ذیل کی گزارشات عرض ہیں:

سیاست دانوں کی حمایت یا مخالفت کرنا انسانی تہذیب کی ایک اہم منزل ہے۔ غیر مہذب اور پسماندہ معاشروں میں تلوار چلانے والے طالع آزماؤں سے الفت جتائی جاتی ہے۔ یہ آمر کی ذات سے محبت نہیں، اندھی قوت کی ذلت آمیز اطاعت ہوتی ہے۔ اپنے حق استدلال سے دستبردار ہو کر چوپائیوں کی سطح پر اترنے سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا۔ تاہم سیاست اور سیاست دانوں کو من حیث المجموع مسترد کرنا معاشرتی پسماندگی اور ذہنی پستی کا نشان ہے۔

سیاست دان سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے اختلاف رکھنا بھی جائز ہے۔ تاہم اتفاق اور اختلاف کسی کی ذات سے نہیں ہوتا، اس کے موقف سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہمیں کسی سیست دان کے موقف سے جزوی اتفاق یا جزوی اختلاف ہو۔ یہ سب اس جمہوری مکالمے کا حصہ ہوتا ہے جس میں حق حکمرانی عوام کی ملکیت ہوتا ہے اور سیاست دان بنیادی طور پر ایک شہری کے طور پر اپنا نقطہ نظر بیان کر کے اس کے لئے عوامی تائید کا طلب گار ہوتا ہے تاکہ دستوری مدت کے لئے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اقتدار میں آ کر اپنے نصب العین کو عملی جامہ پہنا سکے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، ایک سیاست دان نے 1947ء میں ہمارا ملک قائم کیا، اس کا نام محمد علی جناح تھا۔ یحییٰ خان نامی ایک آمر اور اس کے چیلے چانٹوں نے 1971ء میں ہمارا ملک توڑ دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نامی ایک سیاست دان نے ہمیں 1973ء میں ملک کا دستور بنا کر دیا جسے توڑنے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا۔ ایوب خان نامی ایک آمر نے بھی ہمیں ایک خود ساختہ آئین دیا تھا۔ سات برس بعد رخصت ہوتے ہوئے اپنا آئین بھی توڑ گیا۔

ایک سیاست دان نے ستمبر 1958ء میں ہمیں گوادر کی بندرگاہ لے کر دی۔ اس کا نام فیروز خان نون تھا۔ (مطالعہ پاکستان لازمی پڑھنے والی عالم فاضل نسلیں اس کا نام تک نہیں جانتیں)۔ ضیاالحق نامی ایک آمر نے سیاچین گنوا کر کہا تھا کہ وہاں کیا رکھا ہے، وہاں تو گھاس تک نہیں اگتی۔

جو لوگ سیاست دانوں سے الفت جتانا نہیں چاہتے، وہ رات کے اندھیرے میں قوم کی عفت پر ڈاکہ مارنے والے مجرموں سے بے شک پیار کی پینگیں بڑھائیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ کم از کم اتنی جرات ضرور پیدا کریں کہ سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہوئے قوم کو یہ ضرور بتایا کریں کہ آپ کی نظر میں جمہوری سیاست کا متبادل کیا ہے۔ کیا آپ جمہوریت کی بجائے آمریت کی وکالت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ سیاست دان کا متبادل فوجی طالع آزما کو سمجھتے ہیں؟ کیا آپ سیاست دان کی بجائے کسی مذہبی شخص کو ملک سونپنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے الوہی تصورات کے مطابق آپ پر حکومت کرے؟ کیا آپ بادشاہت کے حامی ہیں؟ اس وضاحت سے آپ کا بیان مکمل ہو جائے گا اور تاریخ کے صفحات میں آپ کی بالغ نظری کے ثبوت میں محفوظ رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •