کیا تاریخ جھوٹ کا پلندہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں دانش وران ملت تاریخ پر بہت برہم ہیں بالخصوص مغربی مورخین پر کہ انھوں نے تاریخی حقائق کو مسخ کیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اب تاریخ کو درست کرنے یا نئی تاریخ رقم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ایک مشہور سفر نامہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار نے اپنے کالم میں بیان کیا ہے کہ تاریخ ایک بے ہودہ چیز ہے کیونکہ یہ عام طور پر زور آوروں اور صاحبان اقتدار کی گود میں بیٹھ کر لکھی جاتی ہے۔۔۔ دنیا بھر کی قومیں اپنی بقا اور سربلندی کے لیے تاریخ گھڑتی ہیں۔ سکندر اعظم اور پورس کی جنگ کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ سکندر اعظم کے ہمراہ آنے والے مشہور تاریخ دانوں نے قلم بند کی اور انھوں نے سکندر کی شکست کو فتح میں بدل دیا۔ پورس کی شکست کا سبب یونانی تاریخ نگاروں نے یہ بیان کیا ہے کہ اس کے ہاتھیوں نے پلٹ کر اپنی ہی فوجوں کو روند دیا تھا۔

فاضل کالم نگار کے نزدیک یہ بالکل بے ہودہ بات ہے کیونکہ جنگ کے لیے تیار کئے گئے ہاتھی کس طرح بھاگ سکتے ہیں۔ اس کے بعد محمود غزنوی سے لے کر اکبر بادشاہ تک ہاتھیوں کی میدان جنگ میں کارکردگی سے یونانیوں کو جھوٹا ثابت کیا ہے۔ (روزنامہ 92۔ بتاریخ 21 اپریل 2019)

یہاں چند اہم سوال پیدا ہوتے ہیں۔

(1) کیا تاریخ واقعی جھوٹ کا پلندہ ہے جس میں کچھ بھی سچ نہیں ہے اور حقائق کو اپنی مرضی اور منشا سے گھڑا گیا ہے۔

(2) تاریخ میں کتنے مورخین گزرے ہیں جنھوں نے فتح کو شکست میں اور شکست کو فتح میں تبدیل کیا ہے؟

(3) جس فوج کے پاس ہاتھی ہوتے تھے کیا اس کو کبھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ہم آخری سوال کو پہلے لے لیتے ہیں۔ میرا تاریخ کا مطالعہ فاضل کالم نگار سے کہیں زیادہ محدود ہے لیکن فوری طور پر جو مثال ذہن میں آتی ہے وہ جنگ قادسیہ کی ہے۔ ایرانی فوجوں کے پاس بڑی تعداد میں ہاتھی تھے جب کہ عربوں کو ہاتھیوں کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ جنگ کی بہت سی تفصیل مولانا شبلی نعمانی نے الفاروق میں اپنے مخصوص انداز میں بیان کی ہے۔ جنگ کا نتیجہ یہی ہے کہ ایرانی افواج کو ہاتھیوں اور رستم کے باوجود ہزیمت اٹھانا پڑی۔

قادسیہ کی فتح کا یہ واقعہ عربوں کا گھڑا ہوا نہیں ہے اور نہ ایرانیوں نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ اصل میں فاتح وہ تھے۔ پانی پت کی پہلی لڑائی میں ابراہیم لودھی کی فوج کے پاس ہاتھی تھے لیکن پھر بھی شکست ہوئی۔ بابر کے پاس ہاتھی نہیں تھے لیکن توپ خانہ تھا جو ہاتھیوں سے زیادہ موثر ثابت ہوا۔

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تواس بات میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ میں بہت جھوٹ بولا اور گھڑا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ تاریخ میں کچھ بھی سچ نہیں ہے۔ تاریخی واقعات کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں نا کسی نے کبھی ان کا انکار کیا ہے۔ البتہ ان حقائق کو بالعموم افسانہ طرازی، دروغ بافی اور رنگین بیانی کے غلافوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ تر ایک ہی فریق کا بیان ملتا ہے جو کہ فاتح ہوتا ہے، بالخصوص برصغیر کی تاریخ میں کیونکہ یہاں کے باسی تاریخ نگاری سے کوئی شغف نہیں رکھتے تھے۔ بہرحال اس سے یہ نتیجہ کسی طور نہیں نکالا جا سکتا کہ درباری مورخین نے جو بھی لکھا ہے وہ سب کذب و افترا ہے۔

جس چیز کو تاریخ عالم کا نام دیا جاتا ہے وہ زیادہ تر جنگوں اور قتل و غارت گری کا تذکرہ ہے۔ اگر ہم کتب تواریخ کا تنقیدی جائزہ لیں تو کچھ ایسے حقائق ضرور سامنے آ جاتے ہیں جن سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ تقابلی مطالعہ سے ہم پر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ بالعموم فتح کو فتح اور شکست کو شکست ہی لکھا گیا ہے۔ اس بات پر مورخین کے مابین شاید ہی کبھی اختلاف ہوا ہو کہ فلاں جنگ میں کس کو فتح ہوئی تھی اور کس کو شکست۔ یہ کام تو نسیم حجازی نے بھی نہیں کیا کہ جس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی ہو اس کو اپنے ناولوں میں فتح بنا کر پیش کیا ہو۔

یونانی تاریخ نگار جب ایران اور یونان کی جنگوں کا احوال بیان کرتے ہیں تو جن جنگوں میں یونانیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا وہ اسے شکست ہی لکھتے ہیں۔ اگر پورس کے مقابلے میں سکندر کو شکست ہوتی تواس کو لکھنے میں کیا امر مانع تھا۔ سکندر کے متعلق یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ وہ دریائے بیاس تک آن پہنچا تھا۔ اس مقام پر اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا چنانچہ اسے واپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سکندر کو دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر شکست ہوئی تھی تو وہ بیاس تک کیسے پہنچ گیا؟ فوج شکست کھا کر پیچھے کی طرف بھاگتی ہے۔ بھاگتی ہوئی فوج کا بڑا حصہ شاید دریائے جہلم کی موجوں کی نذر ہو جاتا۔

چنگیز خان کے حملوں نے مسلم دنیا کو بہت تاخت و تاراج کیا تھا۔ لیکن کسی نے مسلمانوں کی ہزیمت کو فتح کے رنگ میں کبھی بیان نہیں کیا۔ بلکہ ہمارے تاریخ نگاروں کی تقریباً متفقہ رائے یہ ہے کہ مسلمانوں پر ان حملوں کی ذمہ داری علاو الدین خوارزم شاہ کی حماقتوں پر عاید ہوتی ہے۔ لیکن کابل کے نزدیک 1221 میں ہونے والی ایک جنگ میں چنگیز خان کی فوجوں کو جلال الدین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسلم اور غیر مسلم مورخین سبھی اس جنگ کے نتیجے کو اسی طرح بیان کرتے ہیں۔

ایک تاریخ ایسی بھی ہے جس میں دونوں اطراف کا تحریری ورشن موجود ہے اور وہ ہے مسلمانوں اور مسیحیوں کی تاریخ۔ 635 ھ سے شروع ہو کر 1453 تک آٹھ صدیوں پر محیط اس تاریخ میں مسلمانوں کی بازنطینی سلطنت سے معرکہ آرائیوں کا بیان ہے اور پھر صلیبی جنگیں بھی بہت شہرت رکھتی ہیں۔ ان تمام صدیوں میں کبھی مسلم فوجوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا،ا ور کبھی رومیوں کو۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی جنگ میں مسلمان اور مسیحی مورخین خود کو فاتح قرار دے رہے ہوں۔

یہی معاملہ صلیبی جنگوں کا ہے۔ جہاں جہاں مسلمان فوجوں کو شکست ہوئی اسے اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی فرنگی فوجوں سے عسقلان کے مقام پر جو پہلی باقاعدہ جنگ ہوئی اس میں سلطان کو بری طرح شکست ہوئی تھی اور وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔

چنانچہ یہ کہنا درست نہیں کہ تاریخ میں کوئی حقائق نہیں ہوتے، یہ تو گھڑے گئے واقعات کا مجموعہ ہے جو فاتح اقوام نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے بیان کیے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ بعض اوقات مورخین اپنی شکست کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کرتے ہیں جسے جگر مراد آبادی نے شکست فاتحانہ سے تعبیر کیا تھا۔ جہاں اختلاف رونما ہوتا ہے وہ حقائق کی تعبیر و توجیہ کا معاملہ ہے۔ اس لیے حقائق اور تعبیرات میں فرق کیا جانا لازم ہے۔ کسی مخصوص تعبیر کو رد کرنے کے لیے حقائق کو مسخ کرنا ضروری نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>