ایوان صدر کے طوطے اور پنجروں میں قید جمہوریت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر عارف علوی نے ایوان صدر کے طوطوں کے لئے نئے پنجروں کے ٹینڈر کی خبر عام ہونے کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا ہے کہ یہ ٹینڈر واپس لیا جائے۔ یہ چھوٹی سی دلچسپ خبر اور اس پر صدر مملکت کا رد عمل یہ سمجھانے کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ کسی بھی ملک میں جمہور کی طاقت کیا معنی رکھتی ہے اور آزادی رائے کسی بھی جمہوری نظام میں کیوں ضروری ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر کے حکم اور ٹینڈر کی واپسی کے بعد ان طوطوں کی دیکھ بھال کے مصارف ختم ہو جائیں گے یا ان کے لئے پنجرے بنوانے کا اہتمام نہیں کیا جائے گا لیکن اس واقعہ سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ضرور دیا جاسکتا ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان جیسے معاشروں میں جمہوری نظام اور رویہ قابل عمل نہیں ہے۔ جمہوریت کسی بھی معاشرہ کے لئے اب تک دریافت شدہ نظام ہائے حکومت میں سب سے قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے پاکستان میں اس کی ضرورت اور اہمیت پر زور بھی دیا جاتا ہے۔ البتہ ملک میں کسی نہ کسی طرح کا جمہوری نظام نافذ ہونے کے باوجود اس کے بارے میں شبہات اور بے یقینی کی فضا برقرار رہتی ہے۔

اس بے یقینی کو پیدا کرنے میں عام طور سے سیاست دان خود ہی کردار ادا کرتے ہیں اور جمہوری روایت اور طریقوں کو مسترد کرتے ہوئے عوام میں بداعتمادی اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن ایوان صدر کے طوطوں کے پنجروں کی معمولی خبر اور اس پر آنے والے رد عمل سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ اسی لئے حکمران یا تو اپنی بے اعتدالیوں کو ان سے چھپانا ضروری خیال کرتے ہیں یااس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ خبر اور معلومات کو عام لوگوں تک پہنچانے کے راستوں کو محدود کیا جائے اور میڈیا پر گرفت سخت کی جائے۔ تاکہ یہ معلومات عام نہ ہوں اور حکمرانوں کے عوام دوستی کے دعوے کو عوام کا سنہرا خواب بنا کر پیش کیا جاتا رہے۔ جب بھی یہ کوشش ناکام ہوتی ہے تو حکمرانوں کو اس کا مداوا کرنے کا خیال آجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے صرف انتخاب منعقد کروانا یا پارلیمنٹ میں وزیر اعظم منتخب کرنا ہی اہم نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان معاملات کی نگرانی کے لئے ملک کا میڈیا بھی آزاد ہو اور اسے عوامی دلچسپی کے امور کے بارے میں سرکاری معلومات تک رسائی بھی حاصل ہو۔ خبر کے مطابق صدر عارف علوی ایوان صدر کے طوطوں کے پنجروں کے لئے سی ڈی اے کے ٹینڈر سے بے خبرتھے لیکن جوں ہی میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی تو انہوں نے اس ٹینڈر کو واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیاہے۔ ایوان صدر نے صدر عارف علوی کی ہدایت کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ٹینڈر مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر شائع کردیا گیا تھا، اس لئے اس کی تحقیقات کا حکم دیاگیا ہے۔

خبر کے اس حصہ کو بھی جمہور کی طاقت اور آزاد میڈیا کی ضرورت کے حوالے سے دیکھا جائے تو دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ ایوان صدر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ طوطوں کے لئے 20 لاکھ روپے کے پنجرے بنوانے کا ٹینڈر صدر کے علم کے بغیر ہی جاری ہو گیا۔ حالانکہ ملک کے عوامی صدر تو حکومت کی بچت حکمت عملی پر دل و جان سے عمل کرتے ہیں۔ یہ وضاحت جاری کرنا بھی ایوان صدر کی مجبوری تھی۔ وگرنہ ایسا کوئی ٹینڈر ’مجاز اتھارٹی‘ کی اجازت کے بغیر بھی جاری ہوسکتا ہے اور یہ اتنا بڑا خرچہ بھی نہیں کہ صدر مملکت سے اس کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو۔ تاہم اس کی سیاسی حساسیت اور عوام کے سامنے حکومت کا بچت والا چہرہ پیش کرنے کے لئے صدر عارف علوی کو یہ وضاحت دینا ضروری محسوس ہؤا۔

یہ خبر سامنے آنے سے دو روز پہلے ہی تحریک انصاف کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا تھا اس میں عوام پر محاصل اور ٹیکسوں کا بوجھ لادا گیا تھا اور بچت کو قومی ضرورت بتاتے ہوئے مشیر مالی امور عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کے اخراجات میں چالیس کروڑ روپے کی کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایوان صدر کے طوطوں کا خیال رکھنے والوں تک حکومت کے ارادے اور مشیر مالی امور کے الفاظ نہیں پہنچے ہوں گے۔ کیوں کہ دعوؤں اور اعلانات کے باوجود ملک میں بیوروکریسی اور سرکاری چال ڈھال کا پرنا لہ وہیں پر موجود ہے جہاں وہ گزشتہ سات دہائیوں سے نصب کردیا گیا ہے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں پر موجود گاڑیاں اور بھینسیں نیلام کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میڈیا اور خاص طور سے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ سابقہ حکومت اور وزیر اعظم کس قدر فضول خرچ اور بے حس تھے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بھینسیں پالی ہوئی تھیں۔ یاوش بخیر ان بھینسوں کو نیلام کرکے 23 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے گئے تھے۔ لیکن اب پتہ چلا ہے کہ اس رقم سے تو ایوان صدر کے طوطوں کے پنجرے ہی بن سکتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے کا دعویٰ بھی حرف غلط ثابت ہؤا۔ البتہ عمران خان کے بنی گالہ سے پرائم منسٹرہاؤس آنے جانے کے لئے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر اس وقت کے وزیر اطلاعات کو یہ دور کی کوڑی لانا پڑی تھی کہ ہیلی کاپٹر پر ہونے والا خرچہ دراصل عام کار کے خرچ سے بھی کم ہوتا ہے۔ اور وزیر اعظم کی آمد ورفت کے دوران عام شہریوں کو دقت سے بچانے کے لئے بھی ہیلی کاپٹر کی سواری ضروری ہے۔ لیکن اس حجت کے سب مضمرات لوگوں کو بخوبی سمجھ آگئے تھے۔

ایوان صدر بلا شبہ یہ اعلان بھی کرسکتا ہے کہ وہاں پر قائم چڑیا گھر دراصل سابق صدر آصف زرداری کی فضول خرچی کا منہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے اپنے دور صدارت میں یہ چڑیا گھر قائم کرنے کا حکم دیا تھا اور وہاں پر دیگر جانوروں و پرندوں کے علاوہ وسطی اور جنوبی امریکہ کے میکاؤ طوطے بھی لائے گئے تھے۔ ہوسکتا ہے بدعنوانی کے خلاف سرگرم قومی احتساب بیورو اس معاملہ پر آصف زرداری کے خلاف ایک نیا ریفرنس بھی تیار کر لے۔ اسی طرح ایوان صدر یہ دعویٰ بھی کرسکتا ہے کہ اس کے بجٹ سے ان پرندوں کی دیکھ بھال نہیں ہوتی کیوں کہ یہ مصارف بھی سی ڈی اے بجٹ سے پورے کئے جاتے ہیں حتی کہ ان طوطوں کی خوراک بھی مرغزار چڑیا گھر سے فراہم ہوتی ہے۔ لیکن یہ بے ضرر معلومات عام ہونے سے عام لوگوں کا شعور پختہ ہوتا ہے اور وہ حکمرانوں اور طرز حکمرانی کے بارے میں اپنی رائے قائم کرسکتے ہیں۔ اس لئے معلومات کا عام ہونا جمہوری نظام کا جزو لاینفک ہے۔ اسی لئے میڈیا کی آزادی اور خود مختاری عوام کے حق حکمرانی کی حفاظت کے لئے اہم سمجھی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے حکومتیں اس حق کو محدود کرنے اور اصل معاملات خاص طور سے حکمرانوں کی فضول خرچیوں اور عوام کے وسائل سے اپنے شوق پورے کرنے کے طریقہ کو پوشیدہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں اور میڈیا میں اپنے خیر خواہ پیدا کرنے کے لئے بھی سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان معاملات کو چھپانے کے لئے انتظامی لحاظ سے بھی نت نئے طریقے اختیا رکئے جاتے ہیں۔

آزادی رائے محدود کرنے کے ا نہی ہتھکنڈوں کی وجہ سے گمراہی پھیلتی ہے اور معاشرے میں افواہ سازی کا غیر ضروری سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس افسوسناک صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ریاست کے بعض اداروں اور عہدوں کو میڈیا کے ذریعے ’عوامی احتساب‘ سے محفوظ رکھنے کے لئے خصوصی آئینی استثنیٰ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ احتساب سے گریز اور استثنیٰ کی چھتری ہی ملک میں جمہوریت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان کی مختصر تاریخ میں غیر جمہوری قوتوں نے اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بار بار جمہوریت اور آئین کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم ایوان صدر کے طوطوں نے ایک ٹینڈر نوٹس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد کی ہے کہ جمہوریت میں ’مقدس بت‘ بنانے اور معلومات کا راستہ روکنا عوام کے حق انتخاب کا راستہ کاٹنے کے مترادف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1291 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali