اقلیتوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی بل 2019

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ 28 مئی 2019 کو اقلیتی رکنِ قومی اسمبلی جناب جمشید تھامس نے ”اقلیتوں کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی بل 2019“ کے نا م سے بلِ پیش کیا جو کہ مسترد کر دیا گیا۔ بل کا مقصد اقلیتوں کو ملک بھر کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کی رسائی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کوٹہ مختص کرنا تھا۔

پارلیمانی سیکرٹری محترمہ وجیہہ اکرم جو کہ عورتوں کی مخصوص نشست سے پاکستان تحریک ِ انصاف کی جانب سے رکنِ ِ قومی اسمبلی ہیں نے بل کی مخالفت کی اور دلیل پیش کی کہ مذہب کی بنیا د پر تفریق نہیں کی جا سکتی۔ اب ان محترمہ کو کون سمجھائے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتوں کے نام سے شراب بیچنا مذہبی تفریق کے زمرے میں نہیں آ تا کیا؟

بحر حال کوٹے کا مقصد کمزور اور پسے ِ ہوئے طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہوتا ہے نہ کہ مذہبی، صنفی یا لسانی تفریق کو فروغ دینا۔ اقلیتوں کی طرح عورتیں بھی ہمارے معاشرے کا محروم طبقہ ہے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور دیگر اداروں میں عورتوں کے لئے نشستیں مخصوص کرنا بھی کوٹہ ہے تو کیا ہم اس کوٹہ کو صنفی تفریق کہہ کر ختم کر سکتے ہیں؟

آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 37 (A) میں درجِ ہے کہ ریاست کمزور اور پِسے ہوئے طبقات کے تعلیمی اور معاشی مسائل کی خصوصی دیکھ بھال کی ضامن ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف 2018 کے منشور میں اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے ہے کہ ”قائداعظم کے فرمودات اور آئینِ پاکستان کی منشاء کے برعکس ہمیشہ ہی سے اقلیتوں کے حقوق پر آنچ آتی رہی ہے۔ تمام شعبہ ہائےِ حیات میں اقلیتوں کے ساتھ رکھی جانے والی تفریق نے تشدد اور اقلیتوں کی نا گفتہ بہ سماجی و معاشی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ “

2012۔ 13 میں جامعہ پشاور میں میَں جب ماسٹرز کا اوپن میرٹ پر طالبعلم تھا تو محترم جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز (چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل) تب جامعہ پشاور کے وائس چانسلر تھے۔ جامعہ پشاور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر صاحب نے اقلیتی طالبِ علموں کی ایک خصوصی میٹنگ بُلائی اور مسائل دریافت کیے ۔ وہاں موجو د تمام اقلیتی شرکاء نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ جامعہ پشاور کے ہر شعبہ میں اقلیتوں کے لئے مخصوص نشست مختص ہونی چائیے۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب نے جُرات مندانہ فیصلہ کیا اور BS اور Master پروگرامز میں ایک ایک نشست مختص کر دی جس سے اقلیتیں بھر پور مستفید ہو رہی ہیں اور ڈاکٹر صاحب کی تہہِ دل سے شکر گزار ہیں۔

کچھ عرصہ قبل خیبر پختون خوا پبلک سروس کمیشن نے کثیر تعداد میں MBBS ڈاکٹرز کی اسامیوں کا اعلان کیا جس میں 100 سے زائد اقلیتوں کے حصے میں بھی آئیں۔ مگر پورے صوبے کے سرکاری میڈیکل کالجز میں اقلیتوں کے لیے صرف 2 نشستیں ہیں۔ اور نجی اداروں اعلی تعلیم مہنگی ہونے کی وجہ سے اقلیتوں کی دسترس سے باہر ہے۔

گذشتہ سال اسلام آباد میں اک کانفرس کا انعقاد ہوا جس میں خیبر پختون خوا ء پبلک سروس کمیشن کے چئیرمین نے اقلیتوں کی خالی اسامیوں کے اعداد و شمار پیش کیے ۔ مزید فرمایا کے ہم سوچ رہے ہیں کے اگر مختص شدہ نشستوں پر دو سال تک کوئی مناسب امیدوار نھی آتا تو اسے اوپن میرٹ پر تبدیل کر دیا جائے۔ جس پر التجا ء کی گئی کہ خدارا ایسا ستم نہ ڈھایں۔ بجائے اس کے کیوں نہ اقلیتوں کو تعلیم میں کوٹہ فراہم کر کے اس قابل بنا یا جائے کہ وہ آسانی سے ان اسامیوں پر تعنیات ہو سکیں۔

لہٰذ ا تبدیلی سرکار کو فرمانِ قائد، آئینِ پاکستان اور اپنے منشور کا پاس رکھتے ہوئے اقلیتوں کے معاشی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کر کے حقیقی معنوں میں ریاستِ مدینہ قائم کی جا سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کاشف منیر کی دیگر تحریریں
کاشف منیر کی دیگر تحریریں