وزیراعظم عمران خان کا روسی خبررساں ادارے سپوتنک سے خصوصی انٹرویو کا مکمل متن
سپوتنک: شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف لوٹتے ہیں۔ میں واپس آنا، کیا اس تنظیم میں شمولیت آپ کے لئے ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتی ہے؟
عمران خان: اصل میں، شنگھائی تعاون تنظیم اس خطے کے تمام ممالک میں باہمی تعلقات بہتر بنانے میں مدد گار ہے۔ ماضی میں پاکستان کا رجحان مغرب کی طرف زیادہ تھا۔ اب پاکستان زیادہ متنوع رویہ اختیار کر رہا ہے، نئی منڈیوں کے لئے ان ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی جستجو میں ہے جن کے ساتھ پہلے ہمارے انتہائی محدود تعلقات تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم نے ان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے نئے راستے سمجھائے ہہیں۔ اور یقیناً اس میں بھارت بھی شامل ہے کیونکہ اس وقت بھارت کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات شاید نچلی ترین سطح پر ہے۔ امید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس اجلاس میں بھارتی قیادت سے بھی رابطے کا موقع مل سکے گا۔
سپوتنک: کیا اسلام آباد بھارت کے ساتھ مصالحت میں بین الاقوامی ثالثی چاہتا ہے؟ مثال کے طور پر روس اس ضمن میں کیا کر سکتا ہے؟
عمران خان: پاکستان کسی بھی قسم کی ثالثی کا خیرمقدم کرے گا کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ امن سے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ ۔ اگر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوں تو قومیں ایسے وسائل سے محروم ہو جاتی ہیں جو معمول کے حالات میں انسانوں پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ ہتھیاروں جیسے غیر پیداواری معاملات پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ہم تمام پڑوسیوں کے ساتھ، خاص طور پر بھارت کے ساتھ امن پر یقین رکھتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ ہماری تین دفعہ جنگ ہوئی ہے، اور ان جنگوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ غربت برصغیر میں ہے۔
مجھے یقین ہے کہ پیسہ لوگوں کو غربت سے باہر نکالنے پر خرچ کیا جانا چاہیے، جیسے چین لاکھوں کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنے مین کامیاب ہوا ہے۔ اسی طرح ہمارا زور امن پر ہونا چاہیے، مذاکرات کے ذریعہ اپنے اختلافات کو حل کرنا چاہیے۔ اور بھارت کے ساتھ ہمارا اہم اختلاف کشمیر پر ہے۔ اور اگر دونوں ممالک کے سربراہ اور دونوں حکومتیں فیصلہ کریں تو، یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ لیکن، بدقسمتی سے، ابھی تک ہمیں بھارت کے ساتھ زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔ لیکن ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم (مودی) کا بہت بڑا ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اس مینڈیٹ کو بہتر تعلقات کو فروغ دینے اور برصغیر میں امن لانے کے لئے استعمال کریں گے۔
سپوتنک: بھارت کے ساتھ مستقل امن کو یقینی بنانے کے لئے اسلام آباد کا لائحہ عمل کیا ہے؟ کیا آپ ذاتی طور پر مودی کے ساتھ ان کے دوبارہ انتخاب کے بعد بات چیت کی میز پر بیٹھنا چاہتے ہیں؟
عمران خان: جی ہاں، ہم نے انتخابات کے بعد بھارت کو اس کا واضح اشارہ دیا تھا۔ ہم نے اصل میں انتخابات سے پہلے بھی کوشش کی تھی، لیکن بدقسمتی سے ہم محسوس کرتے ہیں کہ انتخابات سے قبل وزیراعظم مودی کی پارٹی نے دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں سے اپیل کرتے ہوئے پاکستان مخالف جذبات پر اپنی انتخابی مہم کھڑی کی تھی۔ اور اس طرح انتخابات سے قبل امن کا کوئی امکان نہیں تھا۔
اب جب انتخابات ختم ہوچکے ہیں تو ہمیں امید ہے کہ بھارتی قیادت اب اس موقع کو سمجھے گی، بھارت اس موقع پر پاکستان کی پیش کش سے فائدہ اٹھائے گا تا کہ ہم بات چیت کے ذریعے اپنے تمام اختلافات کو حل کر سکیں۔ اصل میں، یہ ہمارے اختلافات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے مسلح دو ملکوں کو فوجی ذرائع کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ یہ پاگل پن ہے۔ لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ اب ہم اختلافات کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ استعمال کرنے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
سپوتنک: کیا آپ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان لوگوں کے رابطوں کو فروغ دینے کے لئے کرتار پور کوریڈور کی طرح کے اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں؟
عمران خان: سکھ کمیونٹی کے لیے کرتار پور کوریڈور پاکستان کی طرف سے ایک عظیم پہل کاری ہے۔ اور امید ہے کہ، جیسا کہ میں نے کہا ہے، اب انتخابات ختم ہو گئے ہیں، بھارت دونوں ملکوں کے عوام میں رابطے کے ان اقدامات کا مثبت جواب دے گا۔ بدقسمتی سے، عوام کی سطح پر رابطے صرف اسی سورت مین مفید ہو سکتے ہیں جب حکومتیں بھی ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ جہاں حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہوں وہاں لوگوں کو قریب لانے کی توقع پوری نہیں ہو سکتی۔
لہذا حکومتوں اب بھارتی حکومت کو اس پہل کاری کا جواب دینا چاہیے۔ بدقسمتی سے، جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ انتخابات سے پہلے ایسا نہیں کر سکے۔ اب، مجھے لگتا ہے کہ، یہ وقت ان کے لئے پہل کاری کا ہے، اور اسی طرح ہم بات چیت کی میز پر واپس جا سکتے ہیں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم کشمیر کا مسئلہ حل کر لیتے ہیں تو برصغیر میں امن ہو جائے گا۔ کشمیر لا مسئلہ صرف اس صورت میں حل ہوسکتا ہے اگر کشمیر کے لوگوں کو وہ حق کود ارادیت دیا جائے جس اقوام متحدہ کی طرف سے انہیں ضمانت دی گئی ہے۔
ہندوستانی حکومت کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کے باعث کشمیر کے لوگ ہندوستانی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، کشمیر کے نوجوانوں میں زیادہ انتہا پسندی آئی ہے۔ اور یہ انتہا پسندی برصغیر میں عدم استحکام کا پیش خیمہ ہے۔ لہذا کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا بہت اہم ہے۔
سپوتنک: میڈیا نے حال ہی میں ازبکستان، روس، افغانستان اور پاکستان سے منسلک 700 کلومیٹر لمبی ریلوے کی تعمیر کے منصوبوں کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ کیا اس کی تعمیر کے لئے کوئی مخصوص ٹائم لائن ہے؟ آپ اس منصوبے سے کیا امید رکھتے ہیں؟
عمران خان: مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک زبردست منصوبہ ہے کیونکہ پاکستان افغانستان سے ازبکستان اور پھر روس تک جانے والا یہ روٹ اس پورے خطے کو کھول دے گا۔ اور پھر، یاد رکھیں، وہاں سے یہ گوادر تک پہنچ جائے گا، جو سمندر تک سب سے چھوٹا راستہ ہے۔ لہذا یہ پورے علاقے کو کھول دے گا۔ مشکل یہ ہے کہ ہم ٹائم لائن نہیں دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ فنڈز کی فراہمی پر منحصر ہے۔ ہم اس ریلوے کے لئے کافی فنڈز پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسرا، یہ افغانستان میں امن پر منحصر ہے۔ اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ تمام فریق، طالبان اور افغان حکومت بھی، سب محسوس کرتے ہیں کہ افغانستان کے مستقبل کے لئے یہ ریلوے اہم ہے۔ لہذا بنیادی طور پر یہ فنڈز کا سوال ہے، لیکن یہ پورے علاقے، پورے خطے کے مستقبل کے لئے ایک عظیم منصوبہ ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



