وزیراعظم عمران خان کا روسی خبررساں ادارے سپوتنک سے خصوصی انٹرویو کا مکمل متن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے کرغیزستان روانگی سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے روسی صحافتی ادارے سپوتنک کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ پاکستان کا وزیر اعظم بننے کے بعد یہ ان کا روسی میڈیا سے پہلا اں ٹرویو ہے۔ اس اہم انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر پوتین کے ساتھ اپنی ملاقات سے توقعات، بھارت کے ساتھ تعلقات، ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور افغانستان کی صورت حال جیسے موضوعات پر سیرحاصل تبصرہ کیا۔ ذیل میں اس انٹریو کا مکمل اردو متن پیش کیا جا رہا ہے

سپوتنک: کیا آپ مستقبل قریب میں روسی قیادت سے مذاکرات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیا آپ خود بھی روس کا دورہ کرنا چاہیں گے؟

عمران خان: میں یقیناً روس کا دورہ کرنا چاہوں گا۔ مجھے یاد ہے، بہت عرصہ پہلے، میں ایک مرتبہ روس گیا تھا۔ جی ہاں، مجھے امید ہے کہ بشکیک میں اجلاس کے دوران روسی قیادت سے ملاقات ہو گی اور میں صدر پوتن سے بھی ملوں گا۔

سپوتنک: اس ملاقات سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟

عمران خان: مجھے لگتا ہے کہ فی الحال یہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس کے موقع پر ایک غیر رسمی ملاقات ہو گی۔ چین میں، جہاں جہاں چینی صدر زی نے کانفرنس بلا رکھی تھی، میں نے صدر پوتن سے بھی ملاقات کی تھی۔ لیکن اس بار مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ غیر رسمی گفت و شنید ہو گی۔ میں نے چین کے پہلے ہی دورے میں روسی وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی تھی۔

سپوتنک: روسی فوج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ روسی فوج اس سال کے اواخر میں پاکستانی فوج کے ساتھ فوجی مشقیں کرے گی۔ آپ روس کے ساتھ فوجی تعاون کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا دونوں ملکوں کی مسلح افواج یں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے؟

عمران خان: جی ہاں۔ دونوں ملکوں کی مسدلح افواج میں تعاون پہلے سے بہتر ہوا ہے۔ ہمارے عسکری اہلکاروں نے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ اور ہم دفاع کے شعبے میں اپنے رابطوں کو مزید گہرا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

دیکھئے 50 s، 60 s اور 70 s کے عشرے سرد جنگ مین صرف ہو گئے۔ تب بھارت سوویت یونین کے قریب تھا، اور پاکستان امریکہ کے قریب تھا۔ ہم مختلف کیمپوں میں تھے۔ اب چیزیں بدل گئی ہیں۔ بھارت کی بھی امریکہ کے ساتھ دوستی ہے، اور پاکستان بھی امریکہ کا دوست ہے۔ لہذا اب ہمارے پاس سرد جنگ جیسی صورت حال نہیں ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہم نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا ہے اور ان میں مزید پیش رفت کی جا رہی ہے۔

سپوتنک: آپ کا ملک طویل عرصہ سے امریکی ساختہ ہتھیار درآمد کر رہا ہے، یہاں تک کہ امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بن گیا۔ لیکن اب روسی ہتھیاروں کو اس خطے میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ کیا اسلام آباد روسی ہتھیار خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ کیا آپ S۔ 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر غور کر رہے ہیں؟

عمران خان: جیسا کہ میں نے کہا، سرد جنگ ختم ہونے کے بعد صورت ہال بدل گئی ہے۔ پاکستان پہلے امریکہ کا حلیف تھا اور، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، بھارت سوویت یونین سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ اب ایسی صورت حال نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو ہم امید رکھتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ہمارے کشیدگی میں کمی آئے گی تاکہ ہمیں ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہ رہے کیونکہ ہم ہتھیاروں کی بجائے انسانی ترقی پر پیسہ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ہم روس سے ہتھیار خریدنے مین دلچسپی رکھتے ہیں، اور میں جانتا ہوں کہ ہماری فوج روسی فوج سے پہلے ہی رابطے میں ہے۔

سپوتنک: کیا ایران۔ پاکستان پائپ لائن منصوبے پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے؟ کیا آپ امریکی پابندیوں کی وجہ سے منصوبے کو مکمل طور پر ملتوی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

عمران خان: آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت اس منصوبے پر زیادہ کام نہیں ہو سکا اور یہ امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی وجہ سے ہے۔

سپوتنک: آپ شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر روس کے ساتھ پاکستان کے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں گے؟

عمران خان: ہم نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے، ہم مزید رابطوں کی جستجو میں ہیں تاکہ دونوں ملکوں میں تجارت بڑھائی جا سکے۔ روس کے پاس اضافی توانائی موجود ہے۔ پاکستان میں توانائی کی قلت ہے، لہذا ہم ان شعبوں پر بات کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ہم دفاع کے علاوہ روس کے ساتھ دوسرے شعبوں میں بھی تعاون کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

سپوتنک: آپ خاص طور پر کس شعبے کا ذکر کرنا چاہیں گے؟

عمران خان: دیکھئے، اس وقت ان شعبوں کی نشاندہی ہی کا کام ہو رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے تجارتی وفد جلد ہی روس جائیں گے۔ ہم روس سے تجارتی وفود کو اپنے یہاں مدعو کریں گے، انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع ملے گا۔ مجھے علم ہے کہ روس کی ایک اسٹیل کمپنی کراچی میں ہماری اسٹیل مل میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ اصل میں، کراچی اسٹیل مل روس ہی نے طویل عرصہ پہلے، غالباً 70 کی دہائی میں تعمیر کی تھی۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ہم مختلف شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ دونوں ممالک کن شعبوں مین ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہم چاہین گے کہ روسی لوگ آئیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھا رہے ہیں۔ ہم پاکستان میں ویزا پابندیاں نرم کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو ویزا حاصل کرنے کے طویل پیچیدہ عمل سے گزرنے کی ضرورت نہ رہے، بلکہ وہ آئیں اور ہوائی اڈے پر ہی ویزا حاصل کر سکیں۔

سپوتنک: کیا یہ ممکن ہے کہ روس اور پاکستان میں ویزے کی پابندی ختم کی جا سکے؟

عمران خان: دراصل پاکستان کی حکومت اس سمت میں بڑھ رہی ہے۔ اب ائر پورٹ پر ویزہ حاصل کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ہم نے کسی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کیا تھا، لیکن اب ہم سرمایہ کاری اور سیاحت کے لئے پاکستان کو کھول رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے شہری آسانی سے پاکستان کا سفر کر سکین۔ اس ضمن مین ستر ممالک کی فہرست بنائی گئی ہے اور روس ان ممالک میں شامل ہے جہاں کے شہری پاکستان آ کر ہوائی اڈے پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •