زرداریوں میں گھرے ہوئے عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ کا شکر ہے۔ اللہ کو پاکستان پر رحم آگیا۔ سارے چور پکڑے گئے۔ عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں یہ بات وزیروں کو بڑا پکّا منہ کر کے بتائی۔ وزیروں نے کچے کانوں سے یہ بات سنی اور گھر جا کر سکون سے لیٹ گئے۔ وزیر صاحبان کوئی نئے تو ہیں نہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے وزیراعظموں کی آنیاں جانیاں دیکھ چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیروں کی تنخواہیں کم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزرا نے اس بات کا بھی برا نہیں منایا، انہیں اچھی طرح علم ہے کہ پہلے بھی وہ کون سا تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے تو دس سال تنخواہ نہیں لی پھر بھی احتساب کے شکنجے میں کس دیے گئے ہیں۔ وزرا جانتے ہیں تنخواہ کا تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں۔ اور تنخواہ کو تو ان کے ڈرائیور چوکیدار اور چھوٹے ملازم تک جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔

قوم سے خطاب میں ریاست مدینہ کی بات کرتے ہوئے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا عزم کیا۔ نیز ریاست مدینہ بنانے والے اصحاب کو بھی نہ جانے کیا کہہ دیا۔ وزیراعظم پاکستان ابھی تک کھلاڑی عمران خان بنے ہوئے ہیں۔ قوم سے بھی ایسے ہی خطاب کرتے ہیں جیسے ڈریسنگ روم میں ٹیم پلیرز کے ساتھ تو تو میں میں کر رہے ہوں۔

چور پکڑے گئے، تھانیدار، تحصیل دار اور انکم ٹیکس کمشنر آزاد ہیں۔ حکومت کا ان پر کوئی دباو، کوئی پریشر نہیں۔ ادارے اب آزاد ہیں۔ عوام ٹیکس دیں۔ اپنے پیسے باہر نکالیں ورنہ تھانیدار، تحصیلدار اور ٹیکس کمشنر آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔ عوام بھی کان لپیٹ کر سو چکے ہیں۔ وہ ان تھانیداروں اور تحصیلداروں کو اچھی طرح جانتی ہے۔ اور جو بڑا ٹیکس تھانیدار، سرمایہ داروں کی پتلونیں اتارنے کے لئے لگایا ہے وہ تو نواز شریف اور زرداری دور میں اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر اپنے بڑے بڑے ٹیکس چور سرمایہ داروں کو ٹیکس چوری سے بچاتا تھا۔ بڑے بڑے ٹیکس افسر اس کی قابل مونچھوں سے ڈرتے تھے، جو نہیں ڈرتے تھے ان کو ٹیکس میں سے حصہ مل جاتا تھا۔ یوں زیدی صاحب حکومت کی پتلون ڈھیلی کرنے میں مرکزی کردار بنے رہے۔

زرداری صاحب نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو مسکراتے ہوئے گلے لگایا اور پولیس کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اب دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ ہمارے گاؤں میں لوگ دس روزہ یا چودہ روزہ پیکج لے کر عزیزوں رشتے داروں سے اس طرح ہنستے مسکراتے مل کر عمرے پر روانہ ہوتے ہیں۔ ان کے بچے ان سے دعا کی درخواست کر رہے ہوتے ہیں۔ ”بابا ہمارے لئے بھی دعا کرنا، اللہ ہمیں بھی آپ کی طرح یہ سعادت نصیب فرمائے“۔

زرداری صاحب نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ”ہم نہیں ہوں گے تو گاؤں میں بلاول ہوگا۔ بلاول بھی گیا تو آصفہ ہوگی“۔ سچی بات ہے ”تم کتنے زرداری پکڑو گے، ہر گھر سے زرداری نکلے گا“۔ سچی بات یہی ہے، ہر گاؤں میں، محلّے اور شہروں میں، قریہ قریہ، بستی بستی زرداریوں کا راج ہے۔ یہ زرداری آپ کو سٹاکیے کی شکل میں ملیں گے۔ یہ آٹا ذخیرہ کرتے ہیں، اجناس سستے داموں خرید کر بڑے بڑے گودام بھر لیتے ہیں اور پھر مجبور عوام کو مہنگے دام بیچ دیتے ہیں۔ یہ زرداری کسان کو جعلی زرعی ادویات ادھار میں دیتے ہیں اور سونے جیسی کپاس سستے داموں خرید کر کاٹن مافیا کے ساتھ مل کر گورنمنٹ کی ایسی تیسی پھیر دیتے ہیں۔ یہی زرداری کسان سے سستا گنّا خرید کر چینی بناتے ہیں اور گودام بھر لیتے ہیں۔ حکومت سے مل کر چینی کی مصنوعی قلّت پیدا کرتے ہیں اور پھر اسی کمائی سے لندن اور پیرس میں جائیدادیں بناتے ہیں۔ غریب کسان اپنے گنے کی قیمت لینے کے لئے ڈی سی اوز کے چکر لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

مڈل کلاس لوگ، تاجر اور دکان دار جہاں خود زرداری ہیں وہیں اپنے سے بڑے زرداریوں، تحصیلداروں، ٹیکس کمشنروں اور تھانیداروں کے ظلم و ستم کے آگے بے بس اور مجبور ہیں۔ چھوٹے زرداری عوام کا خون چوس رہے ہیں اور بڑے زرداری چھوٹے زرداریوں کا۔ ایک زرداری کو مارنے سے ان ہزاروں زرداریوں کے ظلم وستم پر کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ یہاں تو زرداریوں کے سروں کی فصل پک چکی، یا ان کو کاٹا جائے یا پھر یہ پاکستان کو کاٹ کھائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان خود زرداریوں میں گھرے بلکہ بال بال جکڑے ہوئے ہیں۔ آپ کا کھانا پینا، چلنا پھرنا اور کپڑے لتّے سب انہی زرداریوں کے مرہون منّت ہیں۔ آپ کو گھر یعنی بنی گالا کا گھر جو ایک ناجائز تعمیر تھا، انہی زرداریوں کے بل بوتے دھل کر پاکیزہ محل بن سکا۔ آپ کے دوست زرداری چینی مہنگی کروا کر اربوں کما چکے۔ کاٹن مافیا اور قبضہ گروپ پلاٹوں کا دھندا کر رہے ہیں۔ یہی زرداری مشرف کے ساتھ سب سے پہلے پاکستان بنا رہے تھے پھر بڑے زرداری کے پروں کے نیچے چھپ کر دھندا کرتے رہے، اب ریاست مدینہ بنائے کھڑے ہیں۔

عمران کی ریاست مدینہ بنی گالا تک محدود ہو چکی۔ سارا اسلام آباد زرداریوں کے کنٹرول میں ہے۔ ایسے میں آصف علی زرداری کی گرفتاری اور حمزہ کی پکڑ دھکڑ سے آپ جو سکون محسوس کر رہے ہیں وہ بہت عارضی ہے۔ ریاست مدینہ قائم کرنی ہے ہے تو خود کو ان زرداریوں سے بچاؤ اور قوم کو نکے زداریوں یعنی تحصیل داروں، ٹیکس کمشنروں اور تھانیداروں سے بچاؤ۔ اللہ کے عذاب سے ڈرو۔ اور دنیا گھوم پھر کر دیکھو، تکبر کرنے اور ظلم کرنے والے کس طرح اپنے انجام کو پہنچے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •