مردانہ معاشرہ اور عورت گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جس عہد میں رہ رہے ہیں وہاں مرد و زن کو برابر مانا جاتاہے۔ یہ ڈیمانڈ عورت کی طرف سے ہی ہے، کیونکہ عورت نے صدیوں محکومی برداشت کی ہے اس لئے اب اسے برابری چاہیے۔ ہر ایک بات میں برابری، اسے شادی، طلاق، تھپڑ مارنا، اونچا بولنا، سیکس کرنا ہر ایک چیز اور معاملے میں برابری کا حق چاہیے۔ لیکن کیا عورت کو پیسوں کے معاملات میں بھی برابری چاہیے؟ کیا وہ پیسوں کے معاملات میں اتنی ہی برابری کی قائل ہے جتنی برابری وہ اپنی ذات کے لئے طلب کرتی ہے؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ایسا نہیں ہے۔

پاکستان ہو، پڑوسی ملک ہو یا مڈل ایسٹ، میں نے ایک بات بہت شدت سے محسوس کی ہے، جو خواتین ملازمت کرتی ہیں ان کی بہت بڑی تعداد غیر شادی شدہ رہنے پر ترجیح دیتی ہے، شوہر سے لڑائی چل رہی ہے، علیحدہ رہ رہی ہے یا طلاق یافتہ ہے۔ عورت جب پیسہ کمانے لگتی ہے تو اسے اچانک لگنے لگتا ہے کہ اس کا استحصال ہو رہا ہے۔ وہ اپنے پیسوں میں شراکت برداشت نہیں کرتی، شوہر کے لاکھوں کروڑوں روپے استعمال کر تی ہے کیونکہ وہ برابری کی قائل ہے لیکن اپنا ایک سو روپیہ بھی خرچ کرنا مناسب نہیں سمجھتی بلکہ جب عورت کمانے لگے تو وہ خود کو برہمن مان لیتی ہے اور شوہر صرف ایک شودر بن کر رہ جاتا ہے۔

عورت شوہر کی کمائی کا ننانوے فیصد استعمال کرے تو اس کا حق ہے۔ شوہر کسی مجبوری یا ضرورت کے وقت عورت سے پیسے مانگے تو وہ عورت کی کمائی کھانے والا دلال ہے کیونکہ عورت کی کمائی کھانے والے کو دلال ہی کہا جاتا ہے۔ ہاں جس کی کمائی کھائی جا رہی ہے اسے طوائف کہتے ہیں یہ بات ظاہر ہے عورت کیوں سمجھنا چاہے گی۔

تعلق شروع ہونے سے پہلے عہد و پیماں ہوتے ہیں، ہمارا جو کچھ بھی ہے وہ سانجھا ہے لیکن میا ں بیوی بنتے ہی عورت کو شوہر کمائی کھانے والا لگنے لگتا ہے اور چند ہی دنوں میں نوبت طلاق تک آجاتی ہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ عورت بطور جنس خود مختار ہوکر مرد سے انتقام لینا شروع کر دیتی ہے۔ اصولی طور پر پڑھی لکھی اوربرسرروزگار خواتین میں طلاق کا تناسب کم ہونا چاہیے لیکن یہ تناسب ان پڑھ خواتین کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

میں درجنوں پڑھی لکھی اور خود مختار خواتین کو جانتا ہوں جو شادی شدہ تھیں مگر اب اکیلی رہ رہی ہیں۔ وجہ تقریبا ایک جیسی ہے کہ شوہر جاہل ہے یا کمائی کھانے والا دلال ہے۔ ان میں سے اکثریت مردوں سے نفرت کرتی ہے۔ مردوں کو کتا اور سور تک کہتی ہے لیکن جب ان سے ان کے رومانوی معاملات پر بات ہو تو جواب ملتا ہے کہ اپنی پسند کا مرد چنتی ہیں اور اپنی جنسی تسکین پوری کرلیتی ہیں، ہم آزاد ہیں، برابر ہیں کوئی غلام تھوڑی ہیں۔ تب میں ٹوک دیتا ہوں، محترمہ مرد نہیں، سور اور کتا۔ آپ سور اور کتے کے ساتھ بستر گرم فرما رہی ہیں۔

اک مرد کمائے تو وہ عورت کا سامان گھر سے باہر نہیں پھینکتا لیکن اگر اک عورت کمانے لگے تو اسی مرد کا سامان باہر پھینک دیتی ہے جو اس گھر کے تمام اخراجات ایڈوانس میں ادا کر چکا ہوتا ہے۔ اک مرد اپنے والدین پر صرف ایک ہزار روپیہ خرچ کرے تو عورت طلاق لینے تک پہنچ جاتی ہے لیکن وہی عورت جب خود کما رہی ہو تو اپنی کمائی کا ننانوے فیصد حصہ اپنے گھر والوں پر نچھاور کرتی ہے۔ ہاں پھر وہاں کوئی سر پھرا اس کے والد، والدہ اور بہن بھائیوں کو عورت کی کمائی کھانے والے یعنی کہ دلال کہنے کے لئے موجود نہیں ہوتا۔

مسلہ جنس سے نہیں ہے، مسئلہ مرد کے کمانے اور عورت کے گھر بیٹھنے سے نہیں ہے، مسئلہ عورت اور مرد کے برابر کمانے سے بھی نہیں ہے بلکہ مسئلہ ہے جھوٹی برابری کا چورن بیچنے کا۔ مسئلہ منافقت اور دہرے معیارات کا ہے۔ اگر ہم برابری کا جھوٹا چورن بیچنے کے بجائے پہلے اپنے رشتوں کو رشتہ مان لیں تو یہ مسائل کبھی جنم ہی نہ لیں۔ مرد و زن مل کر کمائیں اور ایک دوسرے کو اتنی ہی عزت دیں جتنی کسی بھی نہ کمانے والے کو پہلے مل رہی ہوتی ہے۔ جتنی عزت آپ اپنے خونی رشتوں کو دیتے ہو۔ یاد رہے کہ خونی رشتے آپ کی بیماری کی حالت میں آپ کا گند صاف نہیں کر سکتے۔ میاں اور بیوی کرتے ہیں۔

لیکن سوال پھر بھی وہیں موجود ہے۔ کیا ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے معاشرے کی پڑھی لکھی، برسرروزگار خواتین حقیقی طور پر برابری کرنا بھی چاہتی ہیں؟ افسوس کہ ہم پڑھ لکھ کر، بیرون ملک آکر، بھی منافقت اور دوہرے معیارارت اپنے ساتھ لانا نہیں بھولتے۔

نوٹ: آپ کو اس تحریر سے مکمل اختلاف ہو سکتا ہے جو کہ آپ کا حق ہے۔ لیکن ذرا اپنے گرد و پیش دیکھ کر یہ ضرور بتا دیجئے گا کہ دوستی، رشتہ داری، فلرٹ، محبت اور سیکس میں اختیاراک مرد کے ہاتھ میں ہے یا عورت کے؟ عورت اک سیٹی مارے درجنوں گاڑیاں رکیں گی، اچھا کھانا، مہنگا لباس، بہترین ہوٹل میں قیام اور اعلی قسم کا کنڈوم دستیاب ہوجائے گا، وہیں اک مرد بن ٹھن کے کھڑا ہو سو میں سے دو خواتین صرف دیکھ کر نکل جائیں گی کیونکہ اپن کو روکڑا مانگا۔ ہینڈسم تو سالا پھپھو کا بیٹا بھی ہے۔ برابری۔ ہی ہاہاہاہاہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •