پاک فلائٹ اور کیپٹن عمران خان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فلائٹ کے مسافروں کو وہ دن ابھی بھولا نہیں ہو گا کہ جب مسافر سیٹ بیلٹ باندھے جہاز اڑنے کے منتظر تھے کہ اچانک طیارے میں جہاز کو اڑانے والے کیپٹن کی آواز گونجی کہ انتظامیہ نے طیارہ اڑانے کے لئے دوسرے کپتان کی جگہ ان کا انتخاب کیا ہے، ان کا نام کیپٹن عمران خان ہے۔ یہ اعلان سننا تھا کہ مسافروں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ کپتان عمران خان کرکٹ ٹیم کا کپتان رہا ہے، یہ جہاز کا کپتان بن کر کس طرح جہاز اڑا سکتا ہے؟

ایک مسافر بولا، ”عمران خان انگلینڈ میں پڑھتا رہاہے اور وہاں کی ایک امیر ترین عالمی شخصیت کا داماد رہا ہے، شاید عمران خان نے وہاں طیارہ اڑانا بھی سیکھ لیا ہو گا۔ مسافروں کے سوالات اور خود ساختہ جوابات کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ اچانک طیارے میں کپتان کی طرف سے اعلان سنائی دیا، “ اب میں طیارہ اڑانے لگا ہوں، بس آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے ”۔ اس اعلان سے وہ مسافر بھی بے چین ہو گئے جو پہلے سکون سے بیٹھے ہوئے تھے۔

کیپٹن عمران خان پھر مسافروں سے ہم کلام ہوئے، ”ہم طیارے کی اڑان کے نئے تجربات کر رہے ہیں، اس دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ طیارہ بلندی کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے کامیابی کے رن وے پر لینڈ کرے گا، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے“۔

اچانک مسافروں میں شور مچ گیا، کسی نے کھڑکی سے دیکھا کہ جہاز کے پرزے الگ ہو کر گر رہے ہیں۔ جہاز کے عملے نے آ کر مسافروں سے معاملے کا پوچھا اور کپتان کو اطلاع دینے چلے گئے کہ جہاز کے پرزے گر رہے ہیں۔ کپتان عمران خان نے پرسکون لیکن پرعزم آواز میں اعلان کیا ”گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ ہم چلتے طیارے میں پرزے تبدیل کرنے کا تجربہ کر رہے تھے، اس دوران کوئی بڑا پرزہ بھی گر سکتا ہے، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے“۔

کچھ دیر ہی گزری تھی کہ کپتان صاحب کا مسافروں سے خطاب ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا، کہنے لگے ”طیارے کا سابق کپتان طیارے کے کئی اہم پرزے اپنے ساتھ لے گیا ہے، آپ بے فکر رہیں کیونکہ سابق کپتا ن انتظامیہ کی تحویل میں ہے، تمام مسافر اپنی پاس موجود ہر قسم کی دھاتی اشیاء عملے کے پاس جمع کرا دیں تا کہ اس سے طیارے کے لئے نئے پرزے بنائے جا سکیں۔ “

یہ اعلان ہونا تھا کہ کئی مسافر چیخنے لگے کہ یہ کپتان جہاز تباہ کر دے گا۔ لیکن انہی مسافروں میں سے کئی ایک آستینیں چڑھا کر شور مچاتے ہوئے کہنے لگے کہ ”جہاز کے تباہ ہونے کی باتیں کرنے والے مایوس لوگ ہیں، طیارے کے پرزے پہلے والا کپتان نکال کر لے گیا ہے، یہ والا کپتان (عمران خان) تو ہم سے دھاتی اشیاء جمع کر کے، ان سے پرزے بنا کر جہاز میں لگانے کا انتظام کر رہا ہے، اور تم بد خواہ لوگ طیارہ تباہ ہونے کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے دشمنوں کی زبان بول رہے ہو“۔

طیارے میں کپتان کی آواز گونجی تو سب خاموش ہو گئے۔ کیپٹن عمران خان کہہ رہے تھے ”طیارے کے واش روم خراب ہو چکے ہیں، تا ہم خوش قسمتی سے جہاز میں خوراک بھی کم ہے اس لئے واش روم جانے کی نوبت نہیں آنی چاہیے“۔ یہ اعلان سن کر مسافر ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے لگے۔ اتنے میں جہاز کے عملے نے مسافروں کو پلاسٹک کے لفافے دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیٹ پر بیٹھ کر پیشاب کرنے کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں تاہم انہیں پیشاب والا لفافہ اپنے پاس ہی رکھنا ہو گا۔

اچانک طیارہ ہچکولے لینے لگا، مسافروں نے جلدی سے سیٹ بیلٹ باندھ لی۔ ایسے موقع پر کیپٹن عمران خان اپنے مسافروں کو کیسے اکیلا چھوڑ سکتے تھے، کہنے لگے، ”سابق کپتان کے پرزے نکالنے کی وجہ سے طیارے کی خرابی بڑھ گئی ہے، لیکن آپ فکر نہ کریں کیونکہ سابق کپتان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مجھے اس کے خلاف کارروائی کی لمحہ نہ لمحہ رپورٹ ’وٹس ایپ‘ پہ مل رہی ہیں، طیارہ کی حالت اور بھی خراب ہو سکتی ہیں، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے“۔

کمزور دل مسافروں نے کلمہ شہادت پڑھنا شروع کر دیا۔ کئی مسافر ہاتھ بلند کیے، خلوص دل سے، اللہ تعالی سے طیارہ محفوظ رکھنے کی دعائیں کرنے لگے۔ کیپٹن کا خطاب پھر شروع ہو گیا ”آنے والے وقت میں طیارے کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے لیکن آپ بے فکر رہیں کیونکہ سابق کیپٹن کی خلاف سخت ترین کارروائی کی جا رہی ہے، اس کو نشان عبرت بنا نے کا پورا انتظام کر دیا گیا ہے، آپ سب جہاز کے محفوظ رہنے لئے لئے روحانی اجتماع منعقد کر سکتے ہیں، میں خود بھی آپ کی اس روحانی محفل میں شرکت کروں گا اور آپ کو روحانی کرامات کے چند قصے بھی سناؤں گا، اللہ بہتر کرے گا، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے“۔

اسی دوران ایک ایئر ہوسٹس نے مسافروں کوخوشخبری سنائی کہ کیپٹن نے مختلف ہوائی اڈوں سے رابطے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ کیپٹن کی آواز پھر گونجی، وہ کہہ رہے تھے کہ ”اس وقت ہم کم بلندی پر اڑ رہے ہیں، میرے پاس پیرا شوٹ ہے جس سے میں کسی بھی وقت کود کر اپنی جان بچا سکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا کیونکہ میں جو کچھ کر رہا ہوں، آپ سب کے لئے کر رہا ہوں، آپ سب کے لئے ایک خوشخبری یہ ہے کہ عدالت نے سابق کپتا ن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، آپ سب کو مبارک ہو، اب آپ سب بلند آواز سے کلمہ شہادت کا ورد شروع کر سکتے ہیں، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •