رم جھم رم جھم پڑے پھوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"asifمیں جس شہر میں رہتا ہوں وہاں بارش برائے نام ہوتی ہے۔ سال میں ایک آدھ بار چھینٹا پڑ گیا تو پڑ گیا۔ اس کے بعد  ایک لمبے عرصے کے لیے بارش سے چھٹّی۔ بعض مرتبہ تو پورا سال سوکھا، بن برسے گزر جاتا ہے۔ موسلادھار بارش ہو اور جم کے برسے، ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اسی لیے جتنی بھی بارشیں دیکھنے کو ملی ہیں، مجھے یاد ہیں۔ خاص طور پر وہ بارشیں جو گرجتے برستے ہوئے طوفانی ہو گئیں۔ یعنی ایسی بارش جس کو کراچی میں طوفانی کہا جاتا ہے۔

اتنی بارشوں کے بعد مجھے اب ایسا لگتا ہے کہ بارش اور طرح کی ہونے لگی ہے۔ نہیں، شاید بارش تو ویسی کی ویسی ہے لیکن بارش سے میرا رشتہ بدل گیا اس وقت سے لے کر اب تک جب میں بند کھڑکیوں کے پیچھے سے جھانک جھانک کر بارش کو دیکھا کرتا تھا۔

بارش کو دور سے دیکھنے کے وہ دن بچپن کے تھے۔ ایک دم سے کالے کالے بادل اُمڈ آتے ہیں، گرجنے لگتے ہیں اور جھڑی بندھ جاتی ہے۔ پرانی برساتیں میری یادوں میں دھومیں مچانے لگتی ہیں۔

کسی درخت کی ٹہنی پر چھوٹی سی چڑیا پر پھیلائے بھیگ رہی ہے۔ بجلی کے تار پر کوّا بیٹھا شور مچائے جارہا ہے۔ لان میں ایک پتّہ اڑتا ہوا آیا اور ہوا کے زور سے دور چلا گیا۔ لان کے سامنے برآمدہ تھا، میں اس میں کرسی ڈال کر بیٹھ جاتا تھا اور بارش کا تماشا دیکھتا رہتا۔ درختوں، پودوں پر سے بوندیں ٹپک رہی ہیں، گھاس دُھل رہی ہے، بوچھار کی وجہ سے برآمدے کا اتنا حصّہ گیلا ہوتا جارہا ہے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد کرسی پیچھے ہٹانی پڑتی ہے ورنہ عینک کے شیشے دُھندلے ہو جائیں گے۔

ان دنوں میرے پاس بیٹری سے چلنے والا ایک پرانا ٹیپ ریکارڈر ہوا کرتا تھا۔ بارش میں اس پر پرانے گانے سننا میرا محبوب مشغلہ تھا۔ ادھر \"2\" بوند پڑی، اُدھر میں نے ٹیپ کا بٹن دبا دیا۔

برسو رے۔۔۔۔

خورشید بیگم کی آواز میں یہ گانا مجھے بہت پسند ہوا کرتا تھا۔ سو آج تک ہے اور اس کے بول جیسے کانوں میں رس گھولتے جارہے ہیں:

جو تُمہرے گھر پانی نہ ہو، آنسو میرے لے کے جاوو رے

کارے بادروا پیا پر برسو

جھوم جھوم کر برسو۔۔۔

چھوٹے سے ریکارڈر کو پوری آواز سے بجایا کرتا، یہاں تک کہ کوئی نہ کوئی گھر والا ٹوک دیتا کہ ایسے موقع پر ملہار نہیں بجایا کرتے۔ یہ تو طوفان کو دعوت دینا ہے۔

مگر بارش کو دعوت دینے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو بن بلائے مہمان کی طرح موجود تھی اور میری آواز میں آواز ملا کر گاتی تھی:

رم جھم گرے ساون\"4\"

سلگ سلگ جائے من۔۔۔۔

یا پھر نور جہاں کا اس وقت کا گانا جب ان کی آواز باریک ہوا کرتی تھی:

رم جھم رم جھم پڑے پھوار

تیرا میرا نت کا پیار۔۔۔

میرے چھوٹے بھائی کو ان کے برخلاف جو گانا پسند تھا، وہ یوں تھا:

’اے ابرِکرم آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں۔۔۔‘

ان گانوں سے اب مجھے پکوان کی خوش بو آرہی ہے۔ دو چار بوندیں پڑیں نہیں کہ امّی نے چولہے پر کڑھائی چڑھوا دی۔ لپا جھپ پُھلکیاں اترتی آرہی ہیں__ امّی کا اصرار تھا کہ ہم ان کو پکوڑے نہیں کہتے__ اور بارش تیز ہونے لگی تو گرم پُھلکیوں کا ساتھ دینے کے لیے پودینے کی چٹنی سل پر پسوا لی گئی۔ یعنی موسم کی ادا دیکھ کر یاد آیا ہے کہ پُھلکیوں کا مزہ چٹنی سے دوبالا ہو ا کرتا ہے۔

بوندا باندی میں پھلکیاں چل جاتی تھیں۔ لیکن بارش کی جھڑی لگ جائے تو دال بھری روٹی، جس کو میرے ابّا بڑے شوق سے کھاتے اور برئی روٹی کہتے تھے۔ دال بھری روٹی گرم گرم توے سے اُتر رہی ہے اور آم کا موسم ہو تو کیا کہنے۔ روٹی کے نوالے ٹوٹنے لگتے تو بیچ میں سے دال جھڑنے لگتی اور آم کے رس بھرے گودے پر چپک جاتی۔ لیجئے، آم بھی دال بھرا ہوگیا۔ میرے ابّا ایسے موسم میں چائے ضرور پیتے تھے مگر مجھے یہ عادت اس وقت تک پڑی نہیں تھی۔

موسم کی پہلی بارش ہوتی تو ابّا بڑے اہتمام سے اعلان کرتے کہ اب آم کھایا جاسکتا ہے۔ اب باغوں میں ٹپکا ہوگا۔ ان کا یہ اعلان اس طرح ہوتا \"5\"جیسے کوئی سپہ سالار یہ حکم دے رہا ہو کہ وقت آگیا، بزن کا اشارہ مل گیا۔ انھوں نے خبردار کیا ہوا تھا کہ بارش سے پہلے آم کھانے شروع کر دیے تو پُھنسیاں نکل آتی ہیں۔

اب ان سے کون پوچھے کہ ان سڑی بُسی پھنسیوں کی وجہ سے آم کیسے چھوڑ دیے جائیں۔

آم تو آم، امّی بارش میں نہانے سے ٹوک دیتی تھیں۔ اس لیے مجھے بارش میں نہانے کا مزہ لینے کے بجائے احتیاط کی عادت پڑ گئی۔ بارش میں نہانے سے ٹھنڈ لگ جاتی ہے اور نمونیا ہو جاتا ہے، وہ بہت دو ٹوک انداز میں کہا کرتی تھیں۔ جیسے برسات کے موسم میں تربوز کھانے سے ہیضہ ہو جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آگے چل کر مجھے نمونیا اور ٹائیفائڈ ہوا تو اس کی وجہ بارش میں نہانا تھا اور نہ تربوز کھانا۔

اس خطرے کا حل ابّو نے یہ نکالا تھا کہ پیٹ بھر کر تربوز ناشتے کے وقت کھائو اور اس کے بعد ایک چٹکی نمک چاٹ لو۔ اللہ نے چاہا تو کچھ نہیں ہوگا۔ چناں چہ مجھے اور تو بہت کچھ ہوا، ہیضہ کبھی نہیں ہوا۔

بارش پوری طرح رُکی نہ ہو، اس وقت ہم بیر بہوٹیاں چُننے جایا کرتے تھے۔ سرخ مخمل کے ٹکڑے جیسے گیلی مٹی اور گھاس پر دوڑتے پھر رہے ہیں۔ ہم ان کو اٹھا کر ہتھیلی پر رکھ لیتے تو وہ اپنے پنجے سُکیڑ کر بالکل گُم متھان ہو جاتیں۔

ہم جہاں رہا کرتے تھے وہاں کُھلی زمین بہت تھی۔ برسات میں بیربہوٹیاں ادبدا کر نکلا کرتی تھیں اور شہتوت کے پیڑ پر بلبل آکر بیٹھا کرتی تھی۔ اب مدّت ہو گئی کہ میں نے کوئی بیربہوٹی نہیں دیکھی۔ میرے بچّوں نے اس کا صرف نام سُن رکھا ہے کہ ہمارے ابّو کے بچپن میں کوئی چیز ایسی بھی ہوا کرتی تھی۔

لیکن ٹہرئیے، بیربہوٹی کے تعاقب میں، مَیں بہت آگے نکل آیا۔ یہ تو لڑکپن کی باتیں ہیں۔ بارش سے چھپ جانے کی ایک یاد بہت پرانی ہے۔ تیز \"3\"بارش سے باجی آپا بہت وہم کیا کرتی تھیں، جنھوں نے مجھے پالا تھا۔ بارش میں باہر نکلنے کا کیا سوال ، بادل گرجا اور بجلی چمکی تو فوراً ہاتھ پکڑ کر گھر کے اندر کسی کمرے کی پچھلی جانب لے آتیں۔ بجلی چمکتی تو وہ منھ ہی منھ میں کچھ پڑھنے لگتیں اور مجھے ابّو کے پاس سے الگ ہٹا دیتیں۔ مگر میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ وہ ایسا کچھ نہ کرتیں، وہ مزے سے سارے گھر میں گھومتا پھرتا۔ ’’بجلی چمکے تو احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ بجلی چمکتے چمکتے گر جاتی ہے، جہاں گرتی ہے اسے جلا کر خاک کر دیتی ہے۔ پہلوٹی کے لڑکے کی احتیاط کرنا چاہئے۔ اس پر بجلی۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے منھ پر ہاتھ رکھ لیتیں۔

پہلوٹی کے لڑکے پر بجلی کی یہ مہربانی کیوں ہوتی ہے، مجھے اتنی سمجھ نہ تھی کہ اس بارے میں سوال کرتا۔ گری تھی جس پہ کل بجلی، وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟۔۔۔۔

بارش تو اب بھی ہوتی ہے اور بجلی خوب کڑکتی ہے۔ آسمان پر کوندا لپکتا ہوا دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس کے راستے سے گھسیٹ کر الگ کر دینے والے وہ ہاتھ نہیں رہے۔ کوندا لپکے یا بجلی گرے بھی تو اب کیا؟

وہ پرانی بارشیں تو گرج برس کے رُخصت ہوئیں۔ عینک کے شیشے گیلے ہو جانے کے ڈر سے بارش میں نکلنے سے گھبراہٹ اب بھی ہوتی ہے، لیکن بارش سے دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے۔ پہلی بوندیں پڑتے ہی دماغ میں گھنٹی بجنے لگتی ہے کہ جہاں کہیں بھی بیٹھا ہوا ہوں، یہاں سے اٹھ کر چل دوں۔ ورنہ ٹریفک جام میں پھنس گئے تو گھنٹوں کے لیے کام سے گئے۔ بیر بہوٹیاں اور پُھلکیاں میرے لیے ماضی کا قصّہ بن گئے۔ میرے لیے اب بارش کا مطلب ہے ٹریفک جام۔ سڑکوں پر پانی۔ گھر میں ہیں تو گھر سے نکلنا دشوار اور گھر سے باہر ہیں تو گھر پہنچنا مشکل۔ ذرا دیر میں کراچی کی سڑکیں چڑھتی ہوئی ندی کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں جس کے سامنے موٹرگاڑیاں اور سواریاں کچّے گڑھے ثابت ہوتے ہیں۔ اچھلتے ڈوبتے کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ گئے تو کون سی عافیت ہے۔ پہلے ٹیلی فون بند ہوا پھر بجلی غائب۔ ہمارے ابّا ایسے موقعوں پر کہا کرتے تھے کہ آسمان پر چیل دو قطرے بھی ٹپکا دے تو بجلی کا محکمہ بارش کا اعلان کرکے کام کرنے سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ بجلی گئی تو آپ ٹیلی وژن سے بھی گئے اور انٹرنیٹ سے بھی۔ اب بیٹھے ہاتھ ملتے رہیے۔ بارش کا مطلب کفِ افسوس ملنا کیوں ہو کر رہ گیا؟

میں کئی گھروں میں رہا ہوں اور ہر گھر میں بارش مجھے نئے ڈھنگ سے ملی۔ یہ گھر ہم نے بہت چائو سے بنوایا تھا مگر اتنے عرصے بعد \"Karachirainx\"یوں لگتا ہے جیسے سارے چائو دیواروں میں چُن دیا گیا۔ اس گھر کی وہ بارش یاد ہے جب آدھی رات کے بعد پانی کے شور سے آنکھ کُھلی۔ ہڑبڑا کر جاگ اٹھے اور دیکھا کہ گھر کی چھت سے بہتا پانی سیڑھیاں اترتا نیچے چلا آرہا ہے۔ ہر کمرے کا فرش گیلا ہورہا ہے، چیزیں اپنی جگہ کھڑے کھڑے ڈوبی جارہی ہیں۔ آگے بڑھے تو پتہ چلا کہ سب کمروں کے فرش سے چھپا چھپ آواز آرہی ہے۔معلوم ہوا پانی اسکائی لائٹ سے آرہا ہے۔ چھت پر جاکر ہم سب نے تڑاتڑ برستی بارش میں اسکائی لائٹ کو بند کرنے کی کوشش کی۔ وہ رات چھت کے نیچے بالٹیاں ، دیگچیاں، پتیلیاں رکھ کر اور پلنگ کی چادریں، تولیے ٹھونس ٹھونس کر گزاری۔

بہت خاص طور سے چھت کے پلاستر میں شیشے جوڑ کر اسکائی لائٹ بنوائی تھی کہ گھر میں اجالا رہے۔ چند دن تک روشنی بھی رہی۔ آس پڑوس میں مکان بن گئے تو اندھیرا چھانے لگا۔ دن کے وقت بھی لائونج میں بتّی جلانا پڑتی ہے ورنہ ایسا اندھیرا چاروں طرف سے امڈ کر آنے لگتا ہے جیسے اداسی اُتر رہی ہو۔ روشنی ملی نہیں، بارش کا پانی آنے لگا۔ ایسی اسکائی لائٹ کا کیا فائدہ؟ اس سے تو جیسے چھت کُھل گئی۔

اس کے بعد سے تو جیسے معمول ہوگیا۔ بادل بعد میں آتے ہیں، پلاسٹک کی شیٹ اور ترپال پہلے گھر میں لائے جاتے ہیں۔ پھر بھی کان ہلکی سی آواز پر لگے رہتے ہیں۔ کوئی آہٹ ہو اور گھر والے اپنے کمروں سے نکل کر دیکھنے لگتے ہیں کہ پانی آنا تو شروع نہیں ہوگیا۔ بارش کا ہر آنے والا دن سہمتے ڈرتے گزرتا ہے۔ بارش کا لُطف ایسے میں خاک آئے گا! بارش، اب تم کسی اور دیس جا کر برسو، بارش کا سندیسہ لانے والے کالے بادلوں سے میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *