انسانوں کے عقائد اور سارتر کا فلسفہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی تاریخ کا ایک وہ زمانہ تھا جب انسان اپنے نظریات اور اعتقادات کو اپنے ذاتی تجربات سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ چاہے وہ موسیٰ کے پیروکار ہوں یا مارکس کے پرستار وہ اپنے نظریات اور اعتقادات سے نہ صرف انفرادی اور اجتماعی طور پر رہنمائی حاصل کرتے تھے بلکہ اپنے اعمال کو ان نظریات اور اعتقادات کی کسوٹی پر پرکھتے بھی تھے۔

ایسی روایات کی موجودگی میں بیسویں صدی میں ایک اور فلسفہِ حیات بہت مقبول ہوا جو EXISTENTIALISM۔ وجودیت کا فلسفہ۔ کہلایا۔ اس فلسفے نے ماضی کی بہت سی روایات کو چیلنج کیا۔ بیسویں صدی میں اس فلسفے کے بانی ژاں پال سارتر نے اپنی کتاب BEING AND NOTHINGNESS میں وجودیت کے فلسفے کے چند بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔ اس کتاب کے چھپنے کے بعد اس پر شدید ردِ عمل منظرِ عام پر آیا۔ سارتر پر نہ صرف دائیں بازو کے مذہبی رہنماؤں نے سنگ باری کی بلکہ بائیں بازو کے کامریڈوں نے بھی دشنام طرازی کی۔

سارتر کے وجودیت کے فلسفے کا ایک بنیادی اصول یہ تھا کہ انسان کے تجربات، چاہے وہ خوشی کے ہوں یا غم کے، محبت کے ہوں یا نفرت کے، اس کے فلسفیانہ نظریات اور مذہبی اعتقادات سے زیادہ اہم ہیں۔ اس بنیادی اصول کو سارتر نے تین الفاظ میں سمو دیا تھا۔

EXISTENCE PRECEDES ESSENCE

سارتر کے فلسفے پر اتنی سنگ باری اور دشنام طرازی ہوئی کہ اس فلسفے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جو سارتر کی وفات کے چالیس برس بعد آج تک قائم ہیں۔ چونکہ ایک زمانے میں مجھے سارتر کی ذات، ان کے خیالات، زندگی کے حالات اور خاص طور پر ان کی سیمون دی بوژوا سے پچاس سالہ محبت بھری رفاقت میں کافی دلچسپی رہی ہے اس لیے میں نے سوچا کہ میں سارتر اور وجودیت کے فلسفے کے بارے میں اپنے خیالات رقم کروں۔

لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی طرح پیرس میں بھی ایک کیفے ہوتا تھا جس میں 1930 کی دہائی میں نہ صرف فرانس کے بلکہ پورے یورپ کے ادیب اور شاعر، فنکار اور دانشور جمع ہوتے تھے۔ اس کیفے میں 1933 کی ایک شام سارتر اور سیمون کی ملاقات سارتر کے بچپن کے دوست ریمنڈ ایرون سے ہوئی۔ ایرون نے سارتر سے کہا کہ جرمنی کے قیام کے دوران اس کی ایسے دانشوروں سے ملاقات ہوئی جوPHENOMENOLOGY فینامینولوجی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ روایتی فلسفی ہمیں نہایت دقیق، گنجلک اور پیچیدہ فلسفوں میں الجھائے رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں زندگی کو سمجھنے کے لیے اپنے تجربات کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے نہ کہ نظریات اور اعتقادات کو۔ سارتر ایرون کے خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ہسرل اور ہیڈیگر جیسے Phenomenologists کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ ان کے نظریات کو اپنے فلسفے میں شامل بھی کیا۔ ان دانشوروں کا موقف یہ تھا کہ جب انسان اپنی واردات کو سنجیدگی اور تفصیل سے بیان کرتا ہے تو وہ اپنے تجربے کی بہتر تفہیم کر پاتا ہے اور اسے بامعنی بنا سکتا ہے۔

ایک زمانے میں سارتر کی ایک اور وجودیت پسند لکھاری البرٹ کیمو سے بھی دوستی رہی جو بعد میں چند غلط فہمیوں کی نذر ہو گئی۔

سارتر اور سیمون کی محبت نے بھی سارتر کے خیالات کو کافی متاثر کیا۔ جہاں سارتر کی کتابBEING AND NOTHINGNESS بہت مقبول ہوئی وہیں سیمون کی فیمنزم کے بارے میں تخلیقTHE SECOND SEX نے بھی عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کی تحریک میں ایک انقلاب برپا کیا اور اس کتاب کا اردو سمیت دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔

وجودیت کے فلسفے کو چند الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن میں اس فلسفے کے چند بنیادی اصولوں کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ عین ممکن ہے اس مختصر تعارف سے آپ کو اس فلسفے اور اس کے بانی سارتر کو تفصیل سے پڑھنے کی ترغیب اور تحریک ہو۔

وجودیت کے فلسفے کے مطابق

1۔ انسانی تجربات ان کے نظریات اور اعتقادات سے زیادہ اہم ہیں۔

2۔ انسانی زندگی باقی بے جان اور جانداروں کی زندگی سے مختلف ہے۔ بے جان چیزیں قوانینِ فطرت کی پیروی کرتی ہیں۔ جانور بھی اپنی سرشت اور جبلت INSTINCTSکے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ انسان واحد مخلوق ہے جو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ اس کی ایک مثال خوراک ہے۔ گائے ہمیشہ گھاس کھاتی ہے اور شیر ہمیشہ گوشت کھاتا ہے لیکن بعض انسان گوشت کھاتے ہیں اور بعض صرف سبزیاں اور بعض ساری عمر گوشت کھانے کے بعد اچانک گوشت کھانا بند کر دیتے ہیں اور بعض ساری عمر سبزیاں کھانے کے بعد اچانک گوشت کھانا شروع کر دیتے ہیں۔

3۔ چونکہ انسان اپنے اعمال میں آزاد ہے اس لیے وہ اپنے اعمال کے نتائج کاذمہ دار بھی ہے۔

4۔ انسان پر کتنی بھی داخلی اور خارجی پابندیاں ہوں لیکن وہ پھر بھی ایک حد تک آزاد ہوتا ہے۔

سارتر کا کہنا تھا کہ دو انسانوں یا دو ہمسایوں کے ایک دوسرے سے محبت پیار سے رہنے کے لیے انہیں کسی خدا اور مذہب کی ضرورت نہیں۔

سارتر کی زندگی میں ان کے بہت سے مرد اور عورتیں دوست بنے لیکن سیمون سے ان کی دوستی، روایتی شادی کے بندھن کے بغیر، ایسی محبت بھری دوستی تھی جو پچاس سال قائم رہی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی سوچ اور فکر کو مثبت انداز سے متاثر کیا۔

سارتر نے زندگی میں نہ صرف فلسفیانہ مکالے لکھے بلکہ بہت سی کہانیاں اور ڈرامے بھی لکھے۔ ان کا ناول NAUSEA ان کا ڈرامہ NO EXITاور ان کی کہانی THE RESPECTABLE PROSTITUTE بہت مشہور ہوئے۔ وہ ایک ادیب بھی تھے اور ایک دانشور بھی۔

سارتر کو جب ادب کا نوبل انعام ملا تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادیب کو کسی ادارے یا نظریے سے منسلک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے اس کی آزادی میں کمی آ سکتی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ادیب کی صرف اپنے سچ سے وفاداری ہونی چاہیے۔

سارتر نے آخری دم تک اپنی آزادی کو گلے لگائے رکھا اور اس آزادی کے لیے بہت سی قربانیاں دیں۔
1980 میں سارتر جب فوت ہوئے تو فرانس میں ان کے جنازے میں لاکھوں لوگ شامل تھے۔

سیمون نے ان کی وفات پر ایک تاریخی جملہ کہا جو دو ایسے انسانوں کی دوستی کا آئینہ دار ہے جو دونوں خدا، مذہب اور حیات بعد الموت پر یقین نہ رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا

YOUR DEATH SEPARATED US AND MY DEATH WILL NOT BRING US TOGETHER۔

سارتر کے خیالات اور تخلیقات نے نہ صرف فلسفے کی روایت کو نادر تحفے دیے بلکہ ادب اور نفسیات کی روایتوں میں بھی گرانقدر اضافے کیے۔ سارتر کا نام بیسویں صدی کے دانشوروں میں ایک اہم نام ہے جن کے وجودیت کے فلسفے کے بغیر فلسفے کی تاریخ نامکمل رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 270 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail