پہنچنا اسلام آباد اور پھر بام دُنیا کا راستہ ناپنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو آدمی گاڑی کے سارے معاملات طے کر رہا تھا، وہ ایک طرف ہو گیا اور ایک دبلے پتلے نوجوان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کا قصد کیا۔

 ”یہ گاڑی چلائے گا؟ “ میں نے کچھ شک ظاہر کیا۔

جواب میں مجھے بتا دیا گیا کہ یہ بہت عرصے سے گاڑی چلا رہا ہے اور اس کا کام یہی ہے۔ سوال زیادہ پوچھنے کی اجازت نہیں تھی۔ پھر بھی اپنی عادت سے مجبور ہوکر میں نے اس نوجوان سے وہی معمول کے سوالات کیے جو ہر جگہ کیے جاتے ہیں، نام، تعلیم اور پھر پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔

رات پھر گاڑی چلاؤ گے، تمہیں نیند تو نہیں آجائے گی؟ گفتگو جاری رکھنے کے لیے میں نے سوال کیا۔

دو آدمی ہیں ناں، اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

مجھے تو چلتی گاڑی میں بہت نیند آ جاتی ہے، میں نے اپنی مجبوری بتائی۔

 ”آپ کو سونے نہیں دوں گا۔ آپ کو جاگنا پڑے گا۔ “ اس نے مجھ پر میرا فریضۂ منصبی واضح کردیا۔

مقام شکر ہے کہ مجھے سارے وقت ان ڈرائیور صاحب کی بیداری کا کام نہیں کرنا پڑا۔ وہ مستقل ٹیپ لگائے رہا۔ پہلے ہندوستانی گانے پھر تسبیح۔ اور ان کے علاوہ چیونگم بھی چباتا رہا۔ جب ہم گلگت اترے تو میں نے دیکھا اس نے قمیض کے دامن میں سرخ رنگ کی انرجی ڈرنک بھی رکھی ہوئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم ان میں سے کون سی شے سب سے زیادہ کارگر ہوئی۔ بہرحال کام چل گیا۔

چلتی کا نام واقعی گاڑی ہے۔

نیند اور اندھیرے میں چھوٹے بڑے شہر گزرتے گئے۔ حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ۔ رمضان کے آخری عشرے کی وجہ سے دوکانیں رات گئے تک کُھلی ہوئی ہیں اور بازار میں لوگ چلتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ عید آنے والی ہے، اسی لیے تو گاڑیاں نہیں مل رہی ہیں۔ گاڑی والے نے مجھے پہلے سے انتباہ کردیا تھا۔

لوگ فیملی سے ملنے جا رہے ہیں، اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ آپ کی فیملی کہاں ہے؟ اس سے رہا نہ گیا تو اس نے براہِ راست سوال کر لیا۔

عصمت چغتائی کا مضمون ایک شوہر کی خاطر یاد آگیا۔ اکیلے دکیلے سفر کرنے والوں سے لامحالہ اس طرح کے سوال کیے جاتے ہیں۔ میں اس معاملے میں نیا ہوں اس لیے کوئی گھڑا گھڑایا جواب نہیں دے پاتا۔

 ”سب ہیں۔ دو بیٹیاں ہیں، اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ “ میں بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں۔

اتنا کافی نہیں ہے۔ پچھلی سیٹ والی خاتون اپنا تعارف کراتی ہیں اور میرے بارے میں تفصیلات پوچھتی ہیں۔ ان کا تعلق گلگت سے ہے۔ کراچی کے ایک بینک میں افسر ہیں اور اپنی امّی سے ملنے کے لیے جارہی ہیں۔

شمالی علاقوں کے پڑھے لکھے افراد کی طرح وہ دونوں آپس میں ساری باتیں اردو میں کرتی ہیں۔ بس بچّہ جب اٹھ جاتا ہے تو اس سے گفتگو انگریزی میں ہوتی ہے۔ وہ کسی نے کہا تھا ناں کہ شہروں کے لوگ اپنے کُتّوں سے اور بچّوں سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔

بچّہ ٹیڑھا منھ کرکے انگریزی میں فرمائش کرتا ہے اور حلق پھاڑ کر چیختا ہے۔ شکر ہے اس کی بیداری کے وقفے کم سے کم رہتے ہیں۔

یہ لوگ ایبٹ آباد میں کھانا کھاتے ہیں مگر بچے کو ٹھنڈی سیون اپ نہیں ملتی تو مانسہرہ میں بھی رک کر پوچھتے ہیں۔ مانسہرہ، سیون اپ، ٹھنڈی، ہیں؟ آگے چلو۔ اب میری نیند کے جھونکے بھی لمبے ہونے لگے۔

صبح سحری سے پہلے بشام آجاتا ہے۔ اس کا نام آتے ہی میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے لیے دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔ یہ کون سی جگہ ہے دوستو، یہ کون سا دیار ہے۔ میں زیرلب دہراتا ہوں اور اس کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر رات کے وقت کھلتے ہوئے بازاروں کے ایک قصباتی شہر کے علاوہ کچھ نہیں پہچان پاتا۔

بازار سے گزرتے ہوئے پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل، شہر کا مرکزی تھانہ مجھے نظر آتے ہیں۔ تھانہ دو منزلہ عمارت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ شہر میں جابجا پولیس اور ملٹری کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ بازار جہاں رکنے لگتا ہے، وہاں سے سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک حصّہ اوپر سوات کو چلا جاتا ہے اور سیدھی سڑک آگے گلگت کو، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔

ہوٹل کے کمرے سے اس سڑک کو دیکھا کرتا تھا، اداسی کے ساتھ۔ پھر وہ گاڑی بڑھ کر اسی ہوٹل کے سامنے رک گئی۔ ہم سب اندر آگئے۔ ہوٹل کی سیڑھیاں، ایک اجاڑ سا لان اور ہوٹل کا بڑا کمرہ عین مین اسی طرح تھے۔ بہت سے لوگ وہاں موجود تھے اور سامنے کئی گاڑیاں، بسیں کھڑی ہوئی تھیں۔ آگے کا سفر کرنے والے یہاں سحری کے لیے وقفہ کر رہے تھے۔

اتنے لوگوں کی وجہ سے ہر چیز کا صفایا ہوچکا تھا۔ برتن خالی تھے مگر دوبارہ مانگنے پر چائے آگئی اور اس وقت گرم چائے اچھی لگی۔ میں نے چائے پی کر جائزہ لیا۔ ہوٹل کی عمارت کا سامنے والا حصہ روشنی میں نہلا دیا گیا تھا مگر کمرے کا بدرنگ قالین اسی طرح تھا، شاید وہی تھا۔ 2005 ء کے تباہ کن زلزلے کے بعد مجھے یہاں تعینات کردیا گیا تھا اور میں نے جتنا وقت گزارا، یہ ہوٹل میرا بے قاعدہ دفتر بنا رہا۔ میں نے رسیپشن پر بیٹھے ہوئے آدمی سے ہاتھ ملایا مگر اس جگہ سے اپنی پچھلی وابستگی کی داستان سنانے سے گُریز کیا۔ اس طرح کے قصّوں سے لوگ اکتا جاتے ہیں اور اسے کیا دل چسپی ہوسکتی ہے کہ میں اتنے برس پہلے وہاں آیا تھا۔ نئے مالک نے کچھ عرصہ پہلے ہوٹل خریدا ہے، اس نے بتایا۔

ہوٹل کا یہ حال شاید منافع میں مل گیا، میں نے دل میں سوچا اور چائے کی خالی پیالی جگہ پر رکھتے ہوئے باہر آنے لگا۔

چائے کے کتنے پیسے، میں نے اس سے پوچھا۔

ایک چائے کا کیا پیسہ لینا، اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے رخصت کیا اور میں بھی سلام کرکے باہر آگیا۔ گاڑی سفر کے اگلے مرحلے کے لیے تیار تھی۔

جس طرح گنگا کے اشنان سے پہلے بنارس کی گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح گلگت سے پہلے چیلاس آتا ہے۔ یہ مجھے معلوم تھا۔ طول طویل جو کسی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لیتا، بے رنگ وبو، گرد آلود، اکتاہٹ کا مارا۔ لیکن شاید میں چیلاس کے ساتھ بے انصافی کررہا ہوں۔ طویل سفر کا آخری حصّہ یوں بھی بوجھل لگتا ہے۔ پھر کوہستان اور چیلاس کی وضع قطع شانگلہ سے بھی مختلف ہے اور گلگت سے بھی۔ ایسی جگہوں کا اپنا کھردرا مزاج ہوتا ہے اور کبھی ان کو دیکھنا چاہیے۔ لیکن آج نہیں۔ آج تو جی چاہ رہا تھا کہ یہ مسافت کسی طرح ختم ہو۔

گاڑی کے سفر میں مستقل چلنے والے گانے دہرا دہرا کر گھس گئے تھے، پچھلی سیٹ کی مسافر خواتین کا تبادلۂ خیال اونگھنے لگا تھا۔ سڑک کے کنارے جو چائے خانے نظر آتے تھے، سب بند تھے۔ رمضان کے مہینے میں کوہستان کا سفر کررہا ہوں، میں نے اس ڈر سے پانی کی بوتل کو مُنھ بھی نہیں لگایا۔ لیکن ہوٹل بند ہونے سے ایک نئی مشکل کا اندازہ ہوا۔ ’باتھ روم‘ جانے کے لیے بھی آپ کو افطاری کا انتظار کرنا پڑے گا، میں یہ سوچ کر کانپ اٹھا۔

اس علاقے میں تو یہ بات بھی نہیں کہ ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے۔ اس طرح کا قصّہ سفر میں میرے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

چٹانوں کی اوٹ سے میرا کام تو چل گیا مگر مجھے اندازہ ہے کہ خواتین کو خاصی مشکل پیش آئی ہوگی۔

سست رو، مٹیالا سا دریا ہمارے ساتھ ساتھ بہہ رہا تھا۔ اس میں تُندی تھی نہ شورش۔ ایسے ہی ایک مقام پر چھوٹا سا بورڈ نظر آیا۔ دیامر۔ بہت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا لیکن کچھ ہو تو نظر آئے۔ ایک وقت تھا کہ دیامر کا نام ہمارے ہر قومی مسئلے کے حل کے طور پر لیا جاتا تھا۔ اب اتنے دن ہو گئے، نام بھی سننے میں نہیں آتا۔ جیسے وہ کیا جانور ہوتا ہے جس کے سر کے سینگ نظر آنا بند ہو جاتے ہیں۔

دیامر کے نام سے چونک اٹھنے سے تو بہتر تھا میں سوتا ہی رہتا۔ میں ڈرائیور سے ایک ہزارویں دفعہ پوچھتا ہوں، اب گلگت کتنی دور رہ گیا ہو گا؟

اس کا جواب مجھے سوال پوچھنے سے پہلے معلوم ہے۔

تھوڑی دیر بعد، وہ جیسے مجھے طفل تسلّی دینے کے لیے کہتا ہے۔

ایک اور آدمی سے تصدیق ہو گئی کہ میں ابھی راستے میں ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •