پہنچنا اسلام آباد اور پھر بام دُنیا کا راستہ ناپنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس کا کوئی انتظار نہ کر رہا ہو۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترتے ہی ایک سرخوشی کا احساس میرے سارے بدن میں دوڑ گیا۔ خوشی جو دست برداری سے حاصل ہوئی۔ میرے قدموں کی چال دھیمی ہوگئی۔ کندھے پر لٹکا ہوا بستہ بھی جیسے لہرانے لگا۔ رکتا رکاتا میں آگے بڑھنے لگا۔ غسل خانے گیا، منھ دھویا، بال بنائے، رومال سے چہرہ رگڑتا ہوا واپس آکر سامان لانے والی بیلٹ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ میرا سامان ابھی نہیں آیا تھا۔ مجھے اطمینان تھا کہ دیر نہیں ہورہی۔

باہر میرے نام کی تختی لیے ہوئے کھڑا نہیں ہوگا۔ کوئی باہر نکلنے والے ہر مسافر سے پوچھ نہیں رہا ہوگا کہ کہیں وہ میں تو نہیں۔ کسی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس میں میری بکنگ نہیں ہے۔ اور نہ کوئی میرا نام آمد کے اندراج کے بہی کھاتے میں لکھنے بیٹھا ہوا ہے۔ اسلام آباد میں دوست احباب کو خبر نہیں کہ میں یہاں ہوں۔ میں آرام سے نکلوں گا اور سوٹ کیس دھکیلتا ہوا باہر آجاؤں گا۔

مگر کوئی ہے۔ باہر آتے ہی ایک آدمی لپکتا ہوا میری طرف آتا ہے۔ جیسے وہ اتنی دیر سے میرا انتظار کررہا ہو۔ وہ قریب آتا ہے تو میں چونک پڑتا ہوں۔ ”گاڑی چائیدی اے؟ “ وہ میری طرف نظریں جما کر پوچھتا ہے۔

سر ہلا کر میں اسے اضطراری طور پر منع کر دیتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ یہاں سے جانا تو ہے۔ پھر ایک اور آدمی اس سے بھی زیادہ لپک کر آتا ہے۔

 ”پنڈی تک کا کیا لوگے؟ “ میں اس سے پوچھ بیٹھتا ہوں۔

 ”جو مناسب ہے“ وہ جواب دیتا ہے۔

 ”مناسب کیا ہوتا ہے؟ “ میں جواب میں پوچھتا ہوں اس لیے کہ میں اس سے پہلے کئی دفعہ اس لفظ سے دھوکا کھا چکا ہوں۔ مناسب۔ ہم اس لفظ کی وضعی تعریف کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ سوٹ کیس میرے ہاتھ سے لے کر چل پڑتا ہے۔

اب وہ میرے آگے آگے چل رہا ہے۔

اسلام آباد کا ایئرپورٹ اب بھی نیا ہے اور ڈبّے میں سے تازہ تازہ نکلنے والی چیزوں پر جیسے پیکنگ والے مواد کے ٹکڑے لگے رہ جاتے ہیں، ایک چمک اور نئے پن کی خوشبو ہوتی ہے، وہ در و دیوار سے نظر آتی ہے۔ گاڑی آگے کہیں کھڑی ہے کہ اس سے نزدیک تر لانے کی اجازت نہیں۔ ہم وہاں تک جاتے ہیں۔ صرف عمارت کا ساز و سامان ہی نہیں۔ ضابطے بھی نئے نئے ہیں۔ جب پرانے ہوں گے تب تک ہم ان کے عادی ہوجائیں گے یا بھول جائیں گے۔ میں گاڑی والے کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہوں۔

صاف ستھری گاڑی اور قاعدے قرینے کا آدمی مجھے اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوا۔ میری نظریں کھڑکی کے باہر جم گئیں اور میں بدلتے منظر دیکھنے لگا۔ خالی سڑکوں کے دونوں طرف خالی علاقے۔ بیچ بیچ میں کھیت اور مکان۔ چمکتی ہوئی سرمئی سڑک جیسے خاموشی اور سناٹے کے بیچ میں سے گزر رہی ہے۔

خاموشی میں اپنے اندر جھانکتے رہنے کا یہ کچا کانچ یک لخت ٹوٹ جاتا ہے۔ گاڑی والا آدمی موبائل فون پر بات کررہا ہے۔ ٹوٹی ہوئی خاموشی کے کانچ اس کی آواز کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ ہندکو بول رہا ہے، میں نے اندازہ لگایا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی چند الفاظ کانوں میں پڑنے لگے، سمجھ میں آنے لگے۔ اسپتال۔ سی ٹی اسکین۔ ڈاکٹر نی۔ داخلہ۔ فیس۔ اوہو، میں اپنے ماضی کے ایک اور حصّے میں پہنچا دیا گیا، اپنی مرضی کے خلاف۔

اس لیے میں نے پوچھ لیا، کیا ہو گیا؟

وہ چند منٹ کے اندر اپنی پوری ابتلا سنا دینے کے لیے بے تاب ہے۔ بڑی بیٹی کی عمر ستائیس سال ہے۔ زچگی کے بعد ٹانگ میں درد رہنے لگا۔ بہت علاج کیا۔ ڈاکٹروں نے ٹیسٹ بہت کروائے۔ الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین۔ درد میں فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی سمجھ میں بس اتنا آ رہا ہے کہ ڈاکٹرنی جو کہہ رہی ہے، اس پر عمل کرتے رہنا ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک معروف اسپتال کا نام لیتا ہے۔ پھر بے بس اور وضاحت طلب نظروں سے گاڑی کے بیک ویومرر میں میری طرف دیکھتا ہے۔ میں نظریں جُھکا لیتا ہوں۔ میرے پاس اس سے کہنے کے لیے کیا الفاظ ہیں؟

راستہ پوچھتے پوچھتے مجھے وہاں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں کا پتہ میں نے گاڑی والے کو بتا دیا تھا اور اس نے حد درجے اعتماد سے کہا تھا، اسے پتہ ہے۔ پنڈی کا کونہ کونہ اس کا دیکھا ہوا ہے۔ چناں چہ پوچھ پوچھ کر راستہ طے کیا۔

دو عمارتوں کے درمیان ایک گلی اور اس گلی سے نکلنے والی ایک اور گلی جو آگے سے بند تھی۔ عمارت پر کوئی بورڈ نہیں تھا مگر باہر سے نظر آرہا تھا کہ اس میں کئی منزلیں ہیں اور بہت سے کمرے۔ دوبارہ فون کرنے پر ایک لڑکا کچھ ڈھونڈتا ہوا آیا اور سر کا اشارہ کرتا ہوا سیڑھیوں کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں نے گاڑی والے کا نمبر لیا۔ بیٹی کی خیریت پوچھنے کے لیے۔ اور بھاری قدموں کے ساتھ اس سنسان عمارت کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ وہ لڑکا اتنی دیر میں غائب ہوچکا تھا اور یہ میں اندازہ لگا کر آگے چل رہا تھا کہ اس طرف تو گیا ہوگا۔

تیسری منزل کے ریسپشن پر وہ مجھے نظر آیا۔ ”مجھے گاڑی کا انتظار کرنا ہے۔ فلاں صاحب سے بات ہوئی تھی۔ انھوں نے یہاں کا پتہ دیا تھا۔ “ میں نے اپنا سارا مقصد اس کے سامنے رکھ دیا، مبادا وہ پھر غائب ہوجائے۔

 ”آپ کو کمرہ دکھا دیتا ہوں۔ شناختی کارڈ دیں، بکنگ کر دیتا ہوں۔ “ وہ بھی اسی قدر تیزی میں ہے۔

کمرہ؟ بکنگ؟ مجھے تو گاڑی کا انتظار کرنا ہے۔ دو گھنٹے۔ میں سمجھ نہیں پاتا۔ وہ بھی سمجھا نہیں پاتا۔ ایک لاحاصل کشمکش کے مختصر دورانیے کے بعد میں سامنے والے کمرے میں بھجوا دیا جاتا ہوں اور فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

آپ فریش ہوجائیں۔ گاڑی نو بجے جائے گی، مجھے جواب ملتا ہے۔

نوبجے؟ اس میں تو بہت دیر ہے۔ آپ نے تو سات بجے کہا تھا۔ میں شاید بچّوں کی طرح ٹھنٹھنانے لگتا ہوں۔

سات بجے چلے گی، جواب ملتا ہے۔ پھر فون بند ہو جاتا ہے۔

اسی رسیپشن تک جاتا ہوں اور چائے منگوا لیتا ہوں۔ پھر سبزی اور روٹی شاید سب سے بڑی عقل مندی تھی جو میں نے اس دوران کی اس لیے کہ اگلے دن اس کے علاوہ کھانے کو اور کچھ نہیں ملنا تھا۔ لیکن اگلے دن کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ ہوتا ہے جو مجھے بھی پتہ ہوتا؟

دروازے پر دستک۔ وہ آدمی آتا ہے جس سے میں نے فون پر بات کی تھی۔ اب میں آدمیوں کو گڈمڈ کرچکا ہوں۔ پیسے دینے ہوں گے ایڈوانس وہ مجھے بتاتا ہے۔ آپ کو فرنٹ سیٹ دی ہے۔ اس کے اتنے ہوں گے۔

یہ گلگت تک ہے۔ اس کے آگے آپ جائیں گے، اتنا ٹائم لگے گا اور اتنے پیسے۔ وہ رقم بتاتا ہے اور میں حیران رہ جاتا ہوں۔

مجھے یہ سب تفصیلات طے کر لینا چاہیے تھیں۔ اب میرے پاس اور کیا راستہ ہے۔

میں بستر پر لیٹ جاتا ہوں۔ آنکھوں پر سے ہاتھ اٹھاتا ہوں اور سامنے والی کھڑکی کے اکتا دینے والے منظر۔ جس میں دوسرے مکانوں کی چھتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ میں دن کی دھوپ ڈھلتے ہوئے دیکھتا رہتا ہوں۔

چائے منگوا کر میں نے غلطی کی۔ چائے تو جیسی ہونی تھی، ویسی تھی۔ ایک پیالے میں شکر کے ساتھ نمک دانی بھی رکھی ہوئی تھی۔ اوہ، مجھے کچھ یاد آیا۔ یہ پہلا اشارہ تھا کہ گلگت یہاں سے آگے میری منزل ہے جہاں بہت سے لوگ چائے میں نمک کا ڈھیلا گھماتے ہوئے نظر آنا تھے۔

پیسوں کی فکر دل میں لیے میں پھر کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں اور اپنے آپ کو لعنت ملامت کرنے لگتا ہوں۔

یہ جان بوجھ کر پورا فائدہ اٹھا رہا ہے اور میں دیکھتے بھالتے لُٹ رہا ہوں۔ میں کراچی سے آیا تھا اس لیے لٹنے کے لیے تیار تھا۔

بلکہ اس کا عادی تھا۔

نہیں۔ میں اپنے کو نفرین بھیجتا ہوں۔ تم پیسے دکھا رہے ہو کہ تمہارے پاس خرچ کرنے کے لیے ہیں۔ اس لیے تمہارے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔ لٹنے کی دعوت تو تم خود دیتے ہو۔ اپنے آپ کو ڈانٹ لیا تو پھر ذرا دیر کے لیے اونگھ گیا۔ وقت ہونے لگا تو نیچے جا کر کھڑا ہوگیا کہ گاڑی کب آئے گی۔

گاڑی کو آنا تھا اور گاڑی آ گئی۔ سڑک کے اس طرف کھڑی ہے، وہ والی۔ اس نے اشارہ کیا اور میرا سوٹ کیس سڑک کے دوسری طرف لے آیا۔

گاڑی کے اندر دو خواتین بیٹھی تھیں۔ دو لیڈیز، یہ پیچھے کی سیٹ پر بیٹھیں گی۔ مجھے بتا دیا گیا تھا۔ لیڈیز بھی ایک سے دو ہوگئیں اور ان کے ساتھ ایک بچّہ بھی تھا جو سو رہا تھا۔ سامان رکھا گیا، ہمیں مقررہ سیٹوں پر بٹھا دیا گیا اور سفر شروع۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •