کرپشن کہانی میں حقیقت کیا ہے اور افسانہ کتنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرپشن کا لفظ پاکستانی سیاست میں 80 کی دہائی میں ابھر کر سامنے آیا تھا اور پچھلی ایک دہائی میں اس نے خاصا عروج حاصل کیا ہے۔ چونکہ ہر اہم سیاسی معاملے میں کرپشن کا رونا رویا جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ جامع تجزیہ کیا جائے کہ آخر اس داستان میں حققیت کہاں تک ہے اور زیب داستان کہاں تک۔

پاکستانی سیاستدان، بنیادی طور پرایک منظم انداز میں کرپشن کا ہدف بنے ہوئے ہیں، اگرچہ بد عنوانی کے اولین مبینہ واقعات حیران کن طور پر فوج کی حوالے سے ملتے ہیں۔ 1947 سے لے کر ذوالفقارعلی بھٹو کے عدالتی قتل (اپریل 1979) تک پاکستانی سیاست اس لفظ سے زیادہ واقف نہ تھی۔ ایوب خان سمیت اپنے پیش رووں کی طرح بھٹو بذات خود ایک دیانت داررہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔

کرپشن کے پہلے بڑے معاملات ایئر مارشل انور شمیم اور جنرل اختر عبد الرحمان کے بارے میں سامنے آئے۔ افغان جنگ کے زمانے میں انور شمیم ملکی تاریخ کی سب سے لمبی مدت (85- 1978) فضائیہ کے سربراہ جبکہ اختر عبد الرحمان سب سے لمبی مدت (86- 1979) تک آئی ایس آئی سربراہ رہے۔ دونوں فور سٹار جرنیلوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دفاعی سودوں اور افغان جنگ کے دنوں میں امریکہ اور سعودی عرب کے کھلے کھاتوں سے دسیوں لاکھ ڈالر کمائے۔

اگرچہ کرپشن کے ان اولین معاملات کے حجم کے بارے میں قیاس ہی کیا جاسکتا ہے،مگرایسی رپورٹیں آ چکی ہیں کہ یہ کئی ملین ڈالرکے معاملات تھے۔ لیکن یہ رپورٹیں بھی آئی گئی ہوگئیں اور اب ان کے بارے کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ایئر چیف مارشل انور شمیم امریکہ منتقل ہو گئے، وہاں ایک گھر اور اطلاعات کے مطابق کئی ملین ڈالر مالیت کی زرعی جاگیریں خریدیں۔ اگرچہ جنرل ضیا نے ایئر مارشل انور شمیم کو کینیڈا اور سعودی عرب کے لیے پاکستان کا سفیرنامزد کیا، مگر دونوں حکومتوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا، صرف کرپشن اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کی الزامات کی وجہ سے۔ نیب نے 1999 اور 2000 میں ان کی کرپشن کے مقدمات باضابطہ طور پر شروع کئے مگر جنرل مشرف کی جانب سے ان کے اثاثوں کو کلاسیفائیڈ اور ناقابل دست اندازی قرار دئیے جانے کے بعد اس بابت کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ مقدمات داخل دفتر ہوئے اور 2013 میں ائیر مارشل صاحب کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔

جنرل اختر عبد الرحمان، افغان جنگ کے دوران بطور آئی ایس آئی سربراہ جن کے ہاتھوں سے نقد اربوں ڈالرگزرے، مبینہ طور پر دسیوں لاکھ ڈالر کی کرپشن میں ملوث ہوئے، مگر ان کے خلاف نیب نے کبھی کوئی مقدمہ نہ بنایا۔ اگست 1988 میں جنرل ضیا کے ساتھ ہی اخترعبد الرحمان بھی جان لیوا طیارہ حادثے کا شکار ہو گئے۔

پھر اس کے بعد 90 کی پوری دہائی بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ایک دوسرے پر بدعنوانی کے مقدمات بناتے رہے۔ صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر۔ یہاں تک کہ صدر غلام اسحاق خان کے دور میں 1993 کی عبوری حکومت نے بھی نواز شریف پر کرپشن کے 13 مقدمات بنا ڈالے۔

پاکستان پیلز پارٹی کے خلاف بنائے گئے کرپشن کے بڑے مقدمات میں ایک سوئس بینک میں چھ کروڑ ڈالر جمع کروانے، سرے محل خریدنے (مالیت 41 لاکھ برطانوی پاونڈ) اور ڈیڑھ لاکھ ڈالر مالیت کے ڈائمنڈ نیکلس کے تھے۔ آصف علی زرداری جنہیں سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا کرپٹ سیاستدان ظاہر کیا گیا، گیارہ سال جیل میں گزارنے کے بعد اگست 2017 میں ناکافی شواہد کی بنا پر نیب کی جانب سے بنائے گئے ان چھ کے چھ مقدمات سے بری قرار پائے۔ حال ہی میں پی ٹی آئی نیو یارک کے علاقے مین ہیٹن میں زرداری کی ملکیت ایک کمرے کے فلیٹ کا مقدمہ لے کر آئی ہے جس کی ملکیت ڈی ایچ اے کے اکثر گھروں سے بھی کم ہے۔ نیب کی جانب سے 2017 میں کلین چٹ ملنے کے بعد اب زرداری کو منی لانڈرنگ کے مقدمات اورنیب کے نئے ریفرنسوں میں پھنسایا جا رہا ہےجنہیں ابھی مروجہ عدالتی مراحل سے گزرنا ہے۔

پھر شریف خاندان کا معاملہ آتا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کی تفتیش جسےلاہور ہائی کورٹ نے مسترد کردیا تھا، نیز پانامہ لیکس کے چار ریفرنس۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹ جن کے بارے کہا یہ جاتا ہے کہ ان کی مالیت اربوں میں ہے، 1998 میں ان کی مالیت صرف 30 لاکھ پاونڈ تھی۔ برطانیہ میں وہ تمام 21 جائیدادیں جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی ملکیت ہیں، کی مالیت صرف تین کروڑ 20 لاکھ پاونڈ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر جائیدادیں نواز شریف کی ہائیڈ پارک والی جائیداد فروخت کرنے کے بعد خریدیں گئیں جس کی مالیت چار کروڑ 60 لاکھ پاونڈ تھی۔ شریف خاندان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے قاضی خاندان کے ذریعے 50 لاکھ پاونڈ کی منی لانڈرنگ کی اوراس رقم کو بینکوں سے قرض اور پٹے پر جائیدادیں لینے کے لیے استعمال کیا۔

نوے کی دہائی میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کوآلودہ کرنے کے لیے کرپشن کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا۔

پھر جنرل مشرف آتے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر بینکوں کے اکاونٹس میں دو ارب روپے سے زائد رقم رکھی۔ علاوہ ازیں وہ بہت سی جائیدادیں جو ملک کے اندر اور باہر جنرل کی ملکیت تھیں۔ تاہم 2013 میں جنرل صاحب نے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کئے گئے اثاثوں کی مالیت صرف 626 ملین روپے بتائی تھی۔

مشرف نے 2000 میں بیرون ملک 200 جرنیلوں، بیورو کریٹوں، سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات کے 200 اثاثوں کی ریکوری کے لیے برطانوی کمپنی پراڈ شیٹ ایل ایل سی کو ذمہ داری سونپی۔ مگر ان اہداف کی سیاسی وفا داری حاصل کرنے کے بعد مشرف نے یہ معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔

ان 200 اہداف میں سے صرف ایک نیب کے ساتھ پلی بارگین کی حد تک آیا۔ بطور نیول چیف اپنے دور میں کی گئی کرپشن کے عوض ایڈمرل منصور الحق نے 2000 میں نیب کو75 لاکھ ڈالر ادا کئے۔

جنرل مشرف کے بعد جنرل کیانی آئے جن کے بھائی امجد، بابر اور کامران کیانی نے اسلام آباد میں ڈی ایچ اے ایلیسیم رینچز کے نام سے ہاوسنگ سوسائٹی شروع کی۔ کامران کیانی ڈی ایچ اے سٹی لاہور کے بھی مرکزی کردار تھے۔ دونوں لینڈ ڈیویلپمنٹ منصوبوں کی مالیت 71 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی۔ کامران کیانی آشیانہ ہاوسنگ سکیم میں باقاعدہ اشتہاری ہیں۔ نیب کی جانب سے کیانی برادران میں سے کبھی کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ یہ معاملہ آرمی کی جانب سے 2009 میں اسلام آباد میں شروع کی گئی ڈی ایچ اے ویلی سکیم کے علاوہ ہے، جو ڈیڑھ لاکھ سرمایہ کاروں کے 13 کروڑ ڈالر ڈکار گئی۔

پھر جنرل راحیل شریف کی شاہانہ سبکدوشی، جنہوں نے لاہور کے علاقے بیدیاں روڈ پر دو ارب روپے مالیت کی 868 کنال اراضی الاٹ کروا لی۔ یہ سعودی سربراہی میں 41 ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی کی نفع بخش ملازمت کے علاوہ ہے۔

اور آخر میں جنرل باجوہ صاحب آتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کی شادی ڈی ایچ اے کوزمین خرید کر دینے والے صابر مٹھو کی بیٹی کے ساتھ کی ہے، مگر ان کی فائنل سیٹلمنٹ ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت ہی سامنے آئے گی۔

تو یہ کہانی کہ پاکستانی سیاستدان کرپٹ ہیں، سرے سے غلط ہے کیونکہ ریاست اور نیب کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے جرنیلوں نے کرپشن سے کہیں زیادہ ہاتھ رنگے ہیں۔

لکھاری اے پی این ایس ایوارڈ یافتہ صحافی ہے۔ رابطے کے لیے [email protected]

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •