اصغر ندیم سید اور دو دھڑ والے بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mustafaاصغر ندیم سید کی ذات کے کئی حوالے ہیں ایک قابل احترام استاد، ایک معروف ڈرامہ نگار، ایک نامور ادیب، ایک حساس انسان. ایک سید، ایک سرائیکی. سرائیکی علاقے کا سید یعنی شراب وہ بھی دو آتشہ. ممکن ہے ایک سید کے ساتھ شراب کا ذکر کچھ مناسب معلوم نہیں ہو لہٰذا شراب کی جگہ عرق گلاب استعمال کر لیں.. وہ بھی دو آتشہ. سادات کا زنجیروں\’ بیڑیوں\’ جولانوں اور رسیوں سے رشتہ بہت پرانا ہے اگر آپ انہی میں سے کسی رسی کو پکڑتے ہوۓ ماضی کی جانب سفر کریں تو اسکا آخری سرا یا کربلا میں سلگتا نظر آئے گا یا پھر شام کے دربار میں بی بی زینب کی کلائیوں سے لپٹا دکھائی دے گا. شاید لنڈی کوتل کے میس میں زنجیروں سے جکڑے درخت کی اخباری تصویر دیکھ کر شاہ جی کو کوئی دربار\’ کوئی حکمران کوئی سید زادی یاد آئی ہو جسے طاقت کے نشے میں دھت ایک بزدل نے زنجیروں میں جکڑا تھا. (شاید اس دھت بادشاہ کو بھی وہ اکیلی عورت اپنی جانب بڑھتی نظر آئی تھی )

قیدی درخت دیکھ کر حساس سید تڑپ اٹھا اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے آزاد انسانوں کے دلوں پر دستک دے بیٹھا کہ آؤ سب مل کر آتے سال کے یوم آزادی لنڈی کوتل چلیں اور برگد کو آزادی دلائیں. مقصد نیک ہے\’ خیال بھی اچھا ہے لیکن شاعرانہ ہے کہ ایک شاعر کے دل میں اترا ہے. ایک سو اٹھارہ سالہ قید ایک لمبی سزا ہے کسی بھی جاندار کے لئے ایک صدی اوپر اٹھارہ سال تک یوں جم کے کھڑے رہنا ناممکن ہے لیکن یہ درویش آج بھی اپنی مٹی میں گڑا کھڑا ہے سانس لیتا ہے ہر سال نئے پتوں کو بھی جنم دیتا ہے نجانے اس کی جڑیں زمین کے سینے میں پھیلتی کہاں کہاں تک جا چکی ہوں شاید میس کی چاردیواری سے بھی آگے لیکن اندر ہی اندر…. شاید اس انگریز صاحب کی قبر تک.. کہ ایک صدی پہلے مرنے والے اکثر گورے اسی مٹی میں دفنائے جاتے تھے. لاشیں ولایت نہیں بھیجی جاتی تھیں. مرحوم کے صرف اس ایک کارنامے سے اس کی لیاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنا عظیم جنگجو تھا جو درختوں سے ڈرتا تھا کرتوت صاحب بہادر کے بتاتے ہیں کہ کچھ لمبی زندگی نہیں پائی ہو گی ایک تو فوجی اوپر سے شرابی تیسرے سرحدی صوبہ جہاں شورشیں جھڑپیں قتل وغارت قومی مشغلہ تھا ممکن ہے تاج برطانیہ کا یہ انمول رتن کسی افغانی کے ہاتھوں جلد ہی مارا گیا ہو. اور اسی برگد کے آس پاس کہیں دفن ہو. جس کی بیڑیاں کاٹنے کا بیڑا ملتان کا سیدزادہ اپنے کندھوں پر اٹھا کے لنڈی کوتل جانا چاہتا ہے اور اس قافلے میں سب کو شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے.

آواز سید کی ہو اور ہم ایسے امتی لبیک نہ کہیں یہ تو ممکن ہی نہیں. یقین ہے اصغر صاحب کے اس نیک کام میں مملکت کے کونے کونے سےلبیک لبیک کی صدائیں سنائی دیں گی. فیس بک کی دیواریں چلو چلو لنڈی کوتل چلو\’ ہلو ہلو لنڈی کوتل ہلو\’ قدم بڑھاؤ شاہ جی ہم تمہارے ساتھ ہیں کے پرتاثیر نعروں سے بھر جائیں گی. نیک تمناؤں کے پیغامات سے بوریاں بھر جائیں گی. لیکن حضور یاد رکھئیے مدینے سے چلنے والے اصلی نسلی تے وڈے شاہ کے پاس بھی پیغامات اور خطوط کی بوریاں تھیں جو انسانوں کی زنجیریں کاٹنے نکلا تھا. اس معصوم نے بھی اعتبار کیا اور اس کے بعد جو ہوا وہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے.

جس سلطنت میں چلتے پھرتےانسان گمشدہ ہو جاتے ہیں اور کہیں سے صدا نہیں آتی\’ پارک میں کھیلتے بچے زندہ نہیں بچتے تب بھی صرف شور شرابہ ہوتا ہے کوئی قدم نہیں اٹھاتا. کوئی گھر سے نہیں نکلتا. صرف 30 سال میں مملکت کا ہر شعبہ ہماری آپ کی آنکھوں کے سامنے زوال کی ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا کہ جس کی جڑیں ہماری آنے والی نسلوں کی ناف تک پہنچی ہوئی ہیں کوئی بھی یہ ناف کاٹنے کو تیار نہیں. جہاں کئی نیک بخت کاٹ ڈالے گئے وہاں آپ ایک درخت چھڑانے چلے ہیں وہ بھی ایک شرابی انگریز کا بندھا. یہاں تو پوری قوم ہی بندھی ہوئی ہے. اس قیدی درخت کو اس قوم کے ایک بیوڑے کی نشانی سمجھ کر نظرانداز کر دیجئے جس قوم نے اس مملکت کے چپے چپے پر ہسپتال یونیورسٹیاں کالج تعمیر کئے. یہ برگد زنجیروں میں بھی شاداب رہے گا کہ اسکی جڑیں اپنی زمین میں ہیں ان کی فکر کیجئے کہ جو تاریک راہوں میں ابھی تک جکڑے پڑے ہیں . جیتے جاگتے غائب ہوتے ہیں اور لاشوں کی صورت گندے نالوں میں ملتے ہیں. گستاخی معاف اصغر صاحب بس اتنی گزارش ہے کہ اپنے اس شاعرانہ اور مہذب ارادے کو کسی نظم کا روپ دے کر اپنی ذمےداری سے مکت ہو جائیے. لنڈی کوتل جانے کے خیالات کو کوفیوں کے خطوط سمجھ کے ذہن کی بوریوں میں بند ہی رہنے دیجئے.

آپ کو دو دھڑ والا بچہ یاد ہے جسے اسکی ماں ایک سرکس میں چھوڑ گئی تھی. آپ تو اسے بھول بھال کے آگے بڑھ گئے لیکن وہ بچہ بڑا بھی ہوا اس نے ایک جہاد میں بھی شرکت کی .وہ جب بھی پہاڑوں میں جہاد کرنے جاتا تو واپسی پر گدھوں پر ہیروئن کے بورے یا کلاشنکوف کی کھیپ لاد لے آتا. انہی جہادی سفروں کے دوران اسے اپنے جیسی دو دھڑی دلہن بھی نصیب ہو گئی پھر ان دونوں کے ملاپ سے پچھلے 30/25 سالوں میں ہم سب اسی سرکس کے تنبو میں پیدا ہوۓ اور دھڑا دھڑ ہوۓ. ہماری شکلیں ہماری عادات ہماری جسمانی ساخت سب ماں باپ سے ورثے میں ملی. یقین نہ ہو تو کبھی غور سے ہمارے دھڑوں کو دیکھئیے آپ کو ہمارا ایک دھڑ بےحس نظر آئے گا اور ایک بےبس…….

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 17 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

Leave a Reply