مریم اور بلاول کی تصویر دیکھ کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ شعبہ سیاسیات کے پروفیسر تھے جن کے سامنے میں بیٹھا ہوا تھا، ہمارے سامنے بکھرے اخبارات کے پہلے صفحات پر مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی تصویریں تھیں، میرے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی، پروفیسر صاحب بولے، اس ہنسی کے دو ہی مطلب لئے جا سکتے ہیں، پہلا یہ کہ تم اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھے ہوتے ہوئے دیکھ کر خوش ہو رہے ہو کہ اس سے تبدیلی کی راہ نکلے گی یا دوسرا یہ ایک طنزیہ مسکراہٹ ہے، تم سمجھتے ہو کہ ہم ایک نسل کی غلامی سے نکل کردوسری کی غلامی میں جا رہے ہیں بلکہ بلاول کی صورت میں اسے تیسری، چوتھی نسل کی غلامی بھی کہا جا سکتا ہے۔ میرے لئے یہ سوال اچانک تھا، میں نے محتاط جواب دیا، ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی باتیں درست ہوں، جواب ملا، سوشل میڈیا پر ایسی باتوں پر پر لائیکس لے سکتے ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ چاہے یہ خوشی ہو یا طنز، غلط ہے۔

انہوں نے کہا، مریم اور بلاول پاکستان کی سیاست کا مستقبل ہیں مگر ان کی ملاقات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سیاست میں کوئی بڑی اور مستقل تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے۔ یہ ملاقات وقتی مفادات اور تقاضوں کے تحت ہوئی ہے، اس سے کہیں زیادہ اہم میثاق جمہوریت تھا، یہ درست ہے کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کی کوشش نہیں کی مگر یہ بھی درست ہے کہ اس بہترین دستاویز پردل سے عمل بھی نہیں کیا۔ اس ملاقات کا سب سے اہم اعلان یہی ہے کہ وہ دونوں مل کربجٹ کو قومی اسمبلی سے منظور نہیں ہونے دیں گے مگر وہ قوتیں جو ابھی تک پورے خلوص کے ساتھ عمران خان کی مدد کر رہی ہیں، کیا ایسا ہونے دیں گی۔

عمران خان، عوام کُش بجٹ پیش کرنے کے باوجود اتنے پُراعتماد ہیں کہ وہ اپنے ارکان کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا اپوزیشن کے ہی انداز میں مقابلہ کرنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں، جمہوری حکومتیں بھلا ایسے کب کرتی ہیں، بجٹ تقاریر کے دوران وزرائے خزانہ اپوزیشن کی تقاریر سے نکات نوٹ کرتے ہیں اور اگر ان نکات کو مسترد بھی کرنا ہو تو اس کے ایوان کے سامنے دلائل رکھے جاتے ہیں مگر یہاں ون وے ٹریفک ہے۔

جہاں تک موروثیت کی بات ہے تو اسے تین، چار مختلف حوالو ں سے دیکھنا ضروری ہے، پہلا سراسرکتابی حوالہ ہے، دوسرا دیکھنا ہو گا کہ غیرقوموں کا طرز عمل کیا ہے، تیسرا ہمیں اپنی سیاست اورمعاشرت کے اصول اور تقاضے بھی دیکھنے ہوں گے۔ ہم اپنی معاشرت سے شروع کر لیتے ہیں کہ جب ایک تاجر کا بیٹا جوان ہوتا ہے تو وہ اسے ’گلے‘ پر بٹھا دیتا ہے یعنی باپ کی کمائی کی وارث اس کی اولاد ہی ہے، ہم عمومی طور پر دیکھتے ہیں کہ بیوروکریٹ کا بیٹا بیوروکریٹ اور استاد کا بیٹا استاد ہی بنتا ہے، جب ایک فوجی افسر قابل رشک ملازمت کے بعد اپنے بیٹے کو فوجی افسر بناتا ہے تو ہم سب اس کے گھر مبارکباد دینے جاتے ہیں تو پھر ہم سیاستدانوں کی اولادوں کی طرف انگلیاں کیوں اٹھاتے ہیں جو سیاست میں آتی ہیں، سوچو، کیا ہمارا رویہ سیاستدانوں کے لئے کچھ الگ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوری سیاست، تجارت اورافسر شاہی سمیت سب سے زیادہ سخت شعبہ ہے۔ جس بلاول اور مریم کی طرف تم طنزیہ مسکراہٹ اچھال رہے تھے ان میں سے بلاول اپنے نانا، ماموں، ماں اور نجانے کس کس کی قربانی دے کر آیا ہے، اس کا باپ پاکستان کی تاریخ کی طویل ترین سیاسی قید کاٹنے کے بعد ایک مرتبہ پھر جیل میں ہے اوہ پلیز، یہاں کرپشن یا منی لانڈرنگ کا نام مت لینا ورنہ اگر یہی جرم ہوتا تو دو تہائی حکومت جیل میں ہوتی۔ دوسری طر ف مریم ہے جس کے باپ کے دور کو مورخ پاکستان کی تاریخ کا سنہری ترین دور لکھے گا جب ہم نفرت اور تعصب کے سونامی سے باہر نکل چکے ہوں گے۔ وہ شخص بھی جیل میں ہے جس نے پاکستان کو دفاعی اور معاشی استحکام دیا۔

بلاول اور مریم اپنے والدین کی سیاست کو سنبھال رہے ہیں تو کیا تمہارے خیال میں یہ مقام انہیں پلیٹ میں رکھ کے دے دیا گیا ہے، ہرگز نہیں، ہمارے معاشرے میں ایسا ہونا اہلیت، شوق اور جرات کے بغیر ممکن ہی نہیں، اگر ایسا ممکن ہوتا تو آج نہ صرف اپوزیشن کا اتحاد ہوچکا ہوتا بلکہ اس کے سربراہ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کے بیٹے نوابزادہ منصور علی خان ہوتے مگر وہ باپ کی سیاست تو ایک طرف رہی، باپ کی ان ڈائریوں تک کا بوجھ نہیں اٹھا سکے جو وہ پچاس کی دہائی سے لکھ رہے تھے، ان ڈائریوں میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے حقائق تھے، سیاست اگر صرف وراثت سے ملتی تو ذوالفقار علی بھٹو کے بعد مرتضی بھٹو اس ورثے کے سب سے زیادہ حقدار تھے مگر ان کی بہن ان سے بہت آگے نکل گئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر خاندان سیاست نہیں کرتا اور جو خاندان سیاست کرتے ہیں وہ اس کے خوگر اور ماہر ہوجاتے ہیں، یہ برہمنوں کے خاندان تشکیل دینے والی بات نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے کہ جس گھر کے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم تک ہر وقت سیاست ڈسکس ہو رہی ہو وہاں آپ کیسے امید کرسکتے ہیں کہ بچے سیاست میں دلچسپی نہیں لیں گے۔ کیا موروثیت صرف پاکستان کاسوال ہے، جی نہیں، ہمارے ہمسائے میں انڈیا ہے، کیا آپ موتی لعل نہرو سے شروع ہونے والے سلسلے کو جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، راجیوگاندھی، سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پریانیکا گاندھی، سنجے گاندھی اور آگے بڑھ کے ان کی بیوہ مانیکا گاندھی تک روک سکے جو کانگریس کے مخالف نریندرا مودی کی وزیر رہیں، بنگلہ دیش میں وزیراعظم حسینہ واجد اور اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا کون ہیں۔

آپ موروثی اور خاندانی سیاست کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں تو برصغیر سے باہر نکل کر دیکھ لیں جس میں ترقی یافتہ جاپان سب سے آگے ہے، ایک ہی خاندان کے باپ، بیٹے، پوتے تک وزیراعظم بنتے رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں سوکارنو پہلے صدر تھے اور میگاوتی سوکارنو پتری پانچویں صدر، فلپائن کے اکینو فیملی کی ہسٹری پڑھ لیجیے باپ، بیٹا، بہو صدارت صدارت کھیلتے رہے ہیں، نارتھ کوریا میں وہاں کی ورکرز پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ طاقت کا مرکز ہے، باپ کے بعد بیٹا بنا اور پھر پوتا، اس وقت پوتا پارٹی کا چیئرمین ہے، ساؤتھ کوریا کے ساتھ ساتھ سنگاپور میں بھی ہمیں ایسی روایات ملتی ہیں، تائیوان کو دیکھ لیں جسے اس وقت دنیا میں دوسرے سب سے طویل مارشل لائی ملک ہونے کا ’اعزاز‘ حاصل ہے وہاں بھی چیانگ کائی شیک کے بعد بیٹا جیانگ چنگ صدر بنا۔

برطانیہ نے اپنے غیر تحریر شدہ آئین میں شاہی خاندان کو باقاعدہ تحفظ دے رکھا ہے تو آپ تحریری آئین والے جدت پسند امریکیوں کو دیکھ لیں، جان ایڈم وہاں دوسرا صدر تھا اوراس کے بعد بیٹا جان کوئینس ایڈم امریکا کا چھٹا صدر بنا، ہیری سن فیملی کے بعد رُوز ویلٹ فیملی ہے، کینیڈی فیملی کے بعد بُش فیملی ہے اور اسی طرح بل کلنٹن صدر رہے اوران کی اہلیہ امریکا کی صدر بنتے بنتے رہ گئیں کہ اگر وہاں بہت زیادہ ٹیکنیکل ووٹ کاؤنٹنگ نہ ہوتی تو ٹرمپ ہار چکے تھے۔

ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم اپنے ذہن میں کچھ بہت اعلیٰ اخلاقی اصول وضع کرلیتے ہیں مگر مجھے کہنے دو کہ اگر پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نہ ہوتی، یہاں اپنی مرضی کی سیاسی جماعتوں کو جنم نہ دیا جا رہا ہوتا تو ہم کہیں زیادہ بہتر سیاسی اور اخلاقی روایات کے حامل ہوتے۔ یوں بھی موروثیت کے خلاف اس وقت وہی لوگ زیادہ بات کر رہے ہیں جن کے اپنے لیڈر کے بچے پاکستانی سیاست کو لفٹ نہیں کرواتے ورنہ اگر وہ یہاں سیر سپاٹا بھی کرنے آجائیں تو یہی لوگ انہیں چوم چوم اور چاٹ چاٹ کے اتنا گیلا کر دیں جیسے دریاسے ڈُبکی مار کے نکلے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •