دُشمن کا تعاقب: ایک غیر سیاسی حکایت


\"aliایک کسان اپنا بیل لے کر میلے کی سمت جارہا تھا کہ میلے کے مقام سے کچھ پہلے راستے میں پڑنے والے گاؤں کے ایک شخص نے اُسے روک کر بیل کے بارے میں دریافت کیا، یہ جان کر کہ کسان اُسے بیچنے جا رہا ہے، اس شخص نے قیمت پوچھی تو کسان نے سات سو روپے بتائی جسے سُن کر دیہاتی نے ایسے ظاہر کیا جیسے اُسے کسان کی ذہنی حالت پر شُبہ ہورہا ہو، اور کہا، ‘اپنے بیل کو غور سے دیکھا ہے کہ اس کی آنکھوں میں دیکھو یہ کسی بیماری کا شکار ہے، اور جلد ہی مرجائے گا۔ کسان کو اس کی بات سُن کر بہت طیش آیا لیکن وہ کچھ کہنے کے بجائے آگے چل پڑا۔ لیکن وہ شخص بھی اُس کے پیچھے چل پڑا اور مُسلسل بیل کی پراسرار بیماری کے بارے میں بولتا رہا۔

ایسے میں چند فرلانگ آگے ایک اور شخص نظر آیا، وہ بھی اِن کے قریب آیا اور پھر اُس نے بھی بیل کے بارے میں دریافت کیا، کسان کا ارادہ جان کر اُس نے بھی بیل کے دانت چیک کئے اور قیمت سُن کر اُس نے بھی وہی بات دُہرائی کہ تمھارا بیل کسی جان لیوا بیماری کا شکار ہے، جتنی جلدی ہوسکے اسے بیچو، اور قیمت کی پرواہ نہ کرو ورنہ کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

اب کے بار کسان واقعی تشویش میں پڑ گیا، لیکن اُس نے ایسا ظاہر کیا جیسے وہ ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا ہو، اور آگے چل پڑا۔ لیکن حیران کُن طور پر وہ دوسرا شخص بھی اس کے پیچھے ہولیا اور اپنی بات کی تکرار جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اگلے چوراہے پر ایک اور شخص آ ٹکرایا، اور بیل کے بیماری کے بارے میں وہی باتیں دُہرا کر کسان کی بتائی ہوئے قیمت کے نصف میں خریدنے پر بھی تیار ہوگیا، کسان کا انکار سُن کر وہ بھی پیچھے ہولیا اور باقی دو کی ہمنوائی میں بیل کے بارے میں بولتا رہا۔

میلے سے کچھ ہی دُور انہیں ایک فرشتہ صورت بڑے میں تسبیح ہاتھ میں تھامے مراقبے میں مُستغرق نظر آئے۔ تو اس کے ہمراہ چلے آنے والوں میں تیسرے شخص نے کہا کہ ایسا کرو اس بابا جی سے صلاح لے لو، تمھارے پاس آخری موقع ہے، میلے میں گئے تو بیوپاری بیل کی بیماری دیکھ کر یہ قیمت بھی نہیں دیں گے۔ مجھے تو اس لئے خریدنا ہے کہ دادا جی کی برسی پر کاٹنا ہے۔

کسان ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مراقبے میں مستغرق بزرگ نے ایک آنکھ کھول کر ان کی طرف دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش رہنے اور آگے بڑھنے کا کہا۔ یہ دیکھ کر جانے کسان کو کیا سوجھی اور اُس نے جا کر بابا سے کہ دیا کہ ہمارے بیچ میں آپ معاملی کرادیں۔ بابا جی نے پہلے تو انکار کیا لیکن کسان کی لجاجت بھرے لہجے سے متاثر ہوکر کہا، \’اچھا بتاؤ کیا معاملہ ہے، تو وہ تینوں شخص بہ یک وقت بول پڑے، بابا جی نے سرزنش بھرے لہجے میں ان کو چُپ رہنے کا کہا اور دور ہٹ جانے کا اشارہ کرکے کسان کو قریب بُلا کر کہا، ‘تم بتاؤ کیا معاملہ ہے؟’ کسان نے اپنی مالی ضرورت، بیل کے لئے اپنے بے انتہا پیار، بادل نخواستہ فروخت کے فیصلے سے لے کر تینوں آدمیوں کی گفتگُو کی ساری بات سُنا دی۔

بابا جی نے ہمدردی بھرے لہجے میں کہا کہ یہ تینوں کہیں ملے ہوئے نہ ہوں، ٹھگ ایسا کرتے ہیں۔ پھر کہا کہ دیکھو میں جانوروں کی بیماریوں کا عالم تو نہیں ہوں لیکن تمھارا بیل دیکھ کر جانے کیوں مُجھے بھی کھٹکا لگا ہے کہ یہ کچھ بیمار سا ہے، اگر تینوں کی بات صحیح ہوئی تو یقیناً نقصان ہوگا تمھیں، اسی لئے اللہ کا نام لے کر بیچ دو، یہ جھوٹے ہوں گے تو خُدا ان کو غارت کردے گا، اور تمھیں کہیں اور طریقے سے نواز دے گا۔

پھر تینوں کو بُلا کر کہا کہ دیکھو یہ بیچارہ کسان مجبور ہے اور مُسافر ہے، لیکن میں تو یہیں کا ہوں اگر مجھے ذرا بھی بھنک ملی  کہ تم لوگ ملے ہوئے ہو، اور تُم لوگوں نے مل کر اسے ٹھگ لیا ہے تو میری بددُعا تمھیں کہیں کا نہ چھوڑے گی۔ اب ایسا کرو کہ جو قیمت تم نے لگائی ہے اُس پر پچّیس روپے بڑھا کر اسے دے دو، تم نے ویسے بھی صدقہ کرنا ہے، اللہ تمھیں اجر دے گا۔ تیسرے شخص نے جیب سے تین سو پچھتّر روپے نکال کر کسان کو دیئے اور بیل کی رسّی پکڑ کر چل پڑا، اور دفعتاً وہ باقی دو بھی غائب ہوگئے۔

کسان نے رقم جیب میں رکھی اور سوچا کہ اتنی دور آ ہی گیا ہوں میلہ بھی گھوم آؤں۔ جب وہ میلے میں گیا تو گھومتے گھومتے اسے دیر ہوگئی سو اس نے رقم کی حفاظت کی خاطر شام کو سفر کرنے کے بجائے وہی سرائے میں ٹھہرنے کا فیصلہ کرلیا، سوچا رات کو کوٹھے پر رقص بھی دیکھ لے گا۔ سرائے میں کھانے کے دوران اُس نے کچھ لوگوں کو میلے کے ٹھگوں کے بارے میں بات کرتے سُنا، اور تین بیٹوں اور ایک عمر رسیدہ باپ کے بارے میں سب سے زیادہ قصّے سُنے، اُن کا حُلیہ اور طریق واردات سُن کر اس کا خون کھول اٹھا، لیکن اُس نے تمسخر اڑائے جانے کے خوف سے کسی سے ذکر نہ کیا اور علی الصبح اپنے گاؤں واپس آگیا۔ گھر پہنچ کر اپنی بیوی کو ساری بپتا سُنائی تو وہ اسے اپنے شوہر کی سادہ لوحی پر ترس اور ٹھگوں کی عیاری پر بہت غُصّہ آیا، اس نے اپنے شوہر کو کہا کہ دوسرے گاؤں کے میلے میں ان کو ڈھونڈ کر سبق سکھاتےہیں۔ شوہر پہلے تو اس کا مذاق اڑاتا رہا پھر بڑی لے دے کے بعد اس کا منصوبہ سننےاور اس پر عمل پیرا ہونے پر راضی ہوا۔

جب میلے کا دن آیا تو دونوں میاں بیوی ساتھ ہی چل پڑے، جب اس گاؤں کے قریب پہنچے تو بیوی مصنوعی زیور گلے اور کلائیوں میں ڈالے اور شوہر کو وہیں روک دیا اور خود چلنے لگی، ایسے میں پہلا ٹھگ سے سامنا ہوا، زیورات سے لدی پھندی اکیلی عورت کو دیکھ کر وہ آگے بڑھا تو کسان کی بیوی نے گھونگھٹ نکال لیا اوراسے کہا کہ اس کا شوہر پچھلے سال اسی میلے میں آیا تھا اور پھر واپس نہیں لوٹا، ٹھگ نے تفصیل پوچھی تو اس نے کہا کہ وہ کھیس بیچتا تھا، لیکن کھیس گُم کرنے کے بجائے خود گم ہوگیا۔ میں نے ایک سال انتظار کیا، پھر پیر صاحب نے کہا تمھیں اسی میلے میں شوہر ملے گا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہی شوہر ملے گا یا دوسرا، سو میں میلہ دیکھنے آگئی۔

ٹھگ اس کی سادگی سے محظوظ ہوا اور اسے کہا کہ وہ شوہر تو اب کیا ملے گا، مجھ سے ہی کرلو شادی، خاتون نے کہا کہ مجھے دیکھو اور اپنی شکل دیکھو، میں تو میلہ دیکھوں گی، کیا پتہ میرے میاں ہی مل جائیں، اور آگے چل پڑی۔ ٹھگ بھی پیچھے ہو لیا اور کہا چلو ٹھیک ہے مل کر تمھارے شوہر کو ڈھونڈتے ہیں۔ یوں چلتے چلتے وہ اگلے چوک پر پہنچے، وہاں دوسرا ٹھگ ملا، اس سے بھی وہی گفتگو ہوئی، اور وہ بھی ساتھ ہو لیا، تیسرے چوک پر بھی یہی قصہ رہا، بالآخر وہ باباجی کے آستانے جا پہنچے۔ بابا جی نے بھی وہی منظر دہرایا، لیکن جب شادی پہ بات آئی تو تینوں سے کہا، بیٹو! تم تو جوان ہو تمھیں تو کوئی بھی لڑکی مل جائے گی لیکن میں عمر رسیدہ ہوں، مجھ سے اس کی شادی کرا دو، میری خدمت کرے گی، اور اس کے گلے میں جو زیور ہیں وہ بعد میں تم لوگ بانٹ لینا۔ تینوں بیٹوں نے کہا، ‘جو حُکم ابّا حُضور’

پھر کسان کی بیوی کو بہلا پھسلا کر شادی پر راضی کرلیا، وہ اس شرط پر تیار ہوگئی کہ میں ایک رات تمھارے گھر میں قیام کروں گی، اچھا لگا تو پھر اگلی صبح کو نکاح کرا لینا، سارے ٹھگ اور ان کے اباجی راضی ہوگئے، اور اسے گھر لے گئے۔ رات گزری اور صبح ہوئی تو کسان کی بیوی نے ٹھگوں کے باپ کو اشارہ کیا کہ آج گھر پر رُک جاؤ، میں کل تمھارے بیٹوں کے سامنے تو نہیں کہ سکتی تھی لیکن میں جانچنا چاہتی ہوں کہ تم شوہر ٹائپ میٹیریل ہو بھی یا نہیں، تم نے ثابت کیا تو ٹھیک ورنہ میں تمھارے کسی بیٹے سے شادی کرلوں گی۔ جب کہ ہر بیٹے سے الگ الگ کہا کہ آج اباجی کو گھر پر روک لو اور تم بھائیوں کو لے جاؤ۔ جب تم شام کو آ ؤ گے تو میں اباجی سے شادی سے انکار کردوں گی اور تمھارا نام لے دوں گی۔ سب خوشی خوشی چل دیئے۔

اب جب کسان کی بیوی اور بابا جی اکیلے رہ گئے توبابا جی کی آنکھوں سے ٹپکتی ہوس دیکھ کر اُس نے کہا میں اُس بیل والے کی بیوی ہوں جسے تم لوگوں نے مل کر ٹھگ لیا تھا اور گھر کے پیچھے چُھپےبیٹھے اپنے شوہر کو اندر آنے کے لئے آواز دے دی۔ وہ اندر آیا اور بابا جی کو باندھ کر اس کی خوب دھنائی کی اور ٹھگوں کی گھر کے مختلف کونوں میں چھپائی رقم کا پوچھ کے ساری رقم نکال لی، اور باباجی کو اوندھے منہ گھر کے تندور میں ڈال کر اپنے گھر کو چل دیئے۔

شام کو جب ٹھگ گھر لوٹے تو باباجی کی حالت دیکھ کر حیران ہوئے اور بہت غُصّہ بھی، اور کسان کو ڈھونڈ نکال کر بدلہ لینے کی قسمیں اٹھاتے رہے، باباجی نے انہیں گالیاں دے کر کہا، ‘پہلے میرے لئے کوئی حکیم لے آؤ کمینو!’

اگلے دن جب یہ نکلے تو انہیں ایک لمبی سی داڑھی اور ٹوپی پہنے ایک مداری نما شخص ملا، جس نے اُن سے ایک قریب کی پہاڑی کا پتا پوچھا، ٹھگوں نے اس کے مضحکہ خیز حلیے کو دیکھ کر ازراہ تجسّس پوچھا کہ آپ کون ہیں اور اُس پہاڑی پہ کیا کرنے جا رہے ہیں وہاں تو سانپوں کی کثرت ہے۔ اس شخص نے انہیں بتایا کہ وہ حکیم ہے اور تین سو میل کا فاصلہ پیدل طے کرکے یہاں آیا ہے، اسے کسی جڑی بوٹی کی تلاش ہے۔

یہ سُن کر تینوں ٹھگوں نے اسے اپنے گھر جاکر باباجی کے معائنے کی درخواست کی، منّت سماجت کے بعد وہ اس شرط پر راضی ہوا کہ وہ جڑی بُوٹی ڈھونڈنے میں اس کی مدد کریں گے۔

گھر جاکر اس نے باباجی کا معائنہ کیا اور زخموں کا جائزہ لینے کے بعد اس کی وجوہات جاننا چاہی تو انہوں نے کہا کہ پہاڑی پر رفع حاجت کے لئے گئے تھے وہاں سے پھسل گئےتھے۔ حکیم کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اُس نے کچھ دواؤں کا لیپ بناکر اس کے زخموں پر لگایا اور ٹھگوں سے کہا کہ تمھارے والد کے زخموں میں زہر پھیل گیا ہے، اور اُس کے لئے وہی جڑی بوٹی درکار ہے جو ڈھونڈنے میں یہاں آیا ہوں۔ اب آپ ایسا کرو کہ اس پہاڑی پر جاکر وہ جڑی بوٹی ڈھونڈ لاؤ۔ ٹھگوں نے کہا کہ ہم بھلا کیسے پہچانیں گے؟ آپ ساتھ چلیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ میں یہاں تمھارے باباجی کے ساتھ ہوں، تم لوگ چلے جاؤ، اس جڑی بوٹی کی پہچان یہ ہے کہ وہ سانپوں کے بلوں کے پاس اگتی ہے، جب آپ اسے جڑ سے اکھاڑو گے تو سانپوں کے بچّے اس کے ساتھ چمٹے ہوں گے، ان بچوں کو مار کر وہ جڑ لے آنا۔ اس عجیب و غریب قسم کی نشانی کو سن کر ان کو یقین تو نہیں آیا پر وہ چل دیئے۔

جیسے ہی تھوڑی دیر گُزری، حکیم صاحب نے اپنی زنبیل میں سے ایک بھاری سے سوٹا نکال کر ابّا جی کو پھر سے کُوٹنا شروع کردیا، اور کہا میں وہی بیل والا ہوں جسے تم لوگوں نے مل کر ٹھگ لیا تھا، مال کہاں دبایا ہوا ہے، اور بچا کُھچا مال بھی سمیٹ کر نکل لیا۔

بیٹے جب واپس آئے تو باباجی کی حالت دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھائے اور کسان کو زندہ نہ چھوڑنے کی قسمیں کھانے لگے۔ ‘اس بار نظر آیا تو ضائع ہوجائے گا اپنے ہاتھوں سے’

اگلی صبح کسان نے ایک چرواہے کو پکڑا اسے کچھ رقم سے کر کہا کہ اس گھر کے پاس جاکر آواز دو کہ کسان یہاں ہے، جو بگاڑ سکتے ہو، بگاڑ لو اور بھاگ جانا۔ چرواہے نے وہی کیا، ٹھگوں نے جیسے ہی اس کی آواز سنی، سب مل کر اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ پر چرواہے کو بھلا کون مات دے سکتا ہے اونچی نیچی پہاڑیوں اور ڈھلان راستوں پر میں دوڑنے میں۔ جب وہ دور نکل گئے تو کسان دوسری سمت سے آکر پھر ٹھگوں کے گھر میں گُھسا اور باباجی کو پکڑ کر پھر کُوٹ دیا، کہا آپ کے بھروسے پر بیل دیا تھا میں نے، کہا سُنا معاف، اب نہیں آؤں گا۔

وہاں ٹھگ کافی دور تک دوڑنے کے بعد واپس آتے ہوئے ایک دوسرے سے کہ رہے تھے اجی میں نے ایک گاؤں تک اس کا پیچھا کیا، دوسرے نے کہا میں نے دو گاؤں تک اسے دوڑایا، تیسرے نے کہا میں تو تین گاؤں تک اس کے پیچھ دوڑا اور پھر اک پتھر اٹھا کے دے مارا، کمر تو توڑ ہی دی ہوگی اس کی۔ اب واپس آتے دس بار سوچے گا۔

Facebook Comments HS