ٹیکس پروفائلنگ سسٹم: اپنی ٹیکس تفصیلات تک رسائی آسان پر غیر محفوظ؟
پاکستان کے وزیر برائے محصولات حماد اظہر اور فیڈرل بیورو آف ریوینیو کے چیئرمین شبر زیدی نے ایک پریس کانفرنس میں باضابطہ طور پر نئے ’ٹیکس پروفائلنگ سسٹم‘ کے آغاز کا اعلان کیا جس تک انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس سسٹم میں پانچ کروڑ 30 لاکھ افراد کی ذاتی، مالیاتی اور دیگر ضروری معلومات موجود ہیں، جیسے کہ آپ کی کل آمدنی کتنی ہے، آپ کے اثاثے کیا ہیں، آپ نے گذشتہ سال کتنا ٹیکس دیا، رواں سال ابھی تک کتنا ٹیکس دے چکے ہیں، آپ کے بیرون ملک سفر کی تفصیلات، گاڑیاں، موبائل کنکشن وغیرہ شامل ہیں۔
اسے ’سیٹیزن ٹیکسنیٹ پروفائل‘ کہتے ہیں۔
The results of data integration exercise shall be made online today. Data is spread over 2 portals; NADRA and FBR website. It contains info on bank accounts, properties, travel history, utilities etc of 53 million citizens. Anyone can access their own data to check their details.
— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) June 21, 2019
یہ سسٹم ایف بی آر اور نادرا کے پاس موجود معلومات کی مدد سے بنایا گیا ہے اور اعداد و شمار تازہ ترین ہیں۔ اگر اس میں کسی شخص کو کسی قسم کی بے ضابطگی نظر آتی ہے تو وہ ایف بی آر کو مطلع کر سکتا ہے اور ساتھ ہی ان معلومات سے حکام کو بھی اثاثے چھپانے والے افراد کو پکڑنے میں مدد ملے گی۔
This is the most stupid idea. It violates right of personal privacy and given the incompetence and corruption in public sector organizations (incl NADRA, FBR) will lead to jeopardizing persons' safety and security. https://t.co/ceEewsaLGb
— Zulfi Rao 💙♻️ 🇵🇸 (@ZulfiRao1) June 21, 2019
ذاتی معلومات کا تحفظ
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نئے نظام کے ردعمل میں عوام نے ذاتی معلومات تک غیروں کی رسائی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔
زلفی راؤ اپنی ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ ’یہ بہت ہی بیوقوفانہ سوچ ہے۔ یہ پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے اور پبلک سیکٹر اداروں میں نااہلی اور بدعنوانی لوگوں کے ذاتی تحفظ کے نقصان کا باعث بنے گا۔‘
It has sensitive information. Need to have much stronger security. Hope your team will work on it
— Shozabnaqvi (@Shozab_naqvi) June 21, 2019
ایک اور صارف شوزب نقوی لکھتے ہیں کہ ’پورٹل کے اندر حساس معلومات ہیں۔ اس میں اس سے زیادہ مضبوط سکیورٹی ہونی چاہیے۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کی ٹیم اس پر کام کرے گی۔‘
What on earth is the government thinking? Anyone can easily obtain anyone else's CNIC numbers and personal details such as sibling's date of birth and can easily check their earnings and spending?!
— Asad Masood (@asadmasood92) June 21, 2019
اسد مسعود کہتے ہیں کہ ’حکومت کیا سوچ رہی ہے کہ کوئی بھی کسی سے بھی آسانی سے اس کا قومی شناختی کارڈ نمبر اور بہن بھائیوں کی پیدائش کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ان کی آمدنی اور اخراجات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔‘
’سیٹیزن ٹیکسنیٹ پروفائل‘ تک رسائی کا طریقہ
سسٹم پر معلومات تک رسائی کا طریقہ کافی آسان ہے جس میں تقریباً پانچ منٹ لگ جاتے ہیں اور آپ کی جیب سے پانچ سو روپے لگتے ہیں لیکن چار مہینوں کے بعد آپ کو دوبارہ سے رسائی کے لیے پیسے جمع کروانے ہوں گے۔
ویب سائٹ پر جائیں تو سسٹم سب سے پہلے آپ سے آپ کا 13 ہندسوں پر مشتمل قومی شناختی کارڈ مانگا جاتا ہے اور ساتھ ہی موبائل نمبر بھی، ان دونوں چیزوں کے بغیر آپ کا اکاؤنٹ نہیں بن سکتا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے موبائل فون کی جگہ ای میک ہونا لازمی ہے۔
یہ معلومات درج کرنے کے بعد ایک خفیہ کوڈ آپ کے موبائل اور ای میل پر آتا ہے جسے آپ نے جا کر ویب سائٹ پر لکھنا ہوتا ہے۔ یہ آپ کی تصدیق کا پہلا قدم ہے کہ آیا یہ آپ ہی ہیں جو اس معلومات تک کی رسائی حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔
تصدیق کے دوسرے مرحلے میں آپ سے دو سوال کیے جاتے ہیں جو آپ کے خاندان کے متعلق ہوتے ہیں جیسے آپ کے بھائی کس شہر میں پیدا ہوئے یا آپ کے دادا کی پیدائش کا شہر کیا ہے وغیرہ۔
آپ کو تین مواقع دیے جاتے ہیں صحیح جواب دینے کے لیے ورنہ آپ کا اکاؤنٹ بند کر دیا جاتا ہے۔
صحیح جواب دینے کے بعد آپ کو پیسے جمع کرنے ہوتے ہیں جس کے لیے دو طریقوں کی آپشن دی جاتی ہے، ای سہولت یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پیسے جمع کروائے جا سکتے ہیں۔
اس کے بعد آپ میسج پر بھیجے کوڈ کے ذریعے آخری دفعہ اپنے اکاؤنٹ میں داخل ہوتے ہیں اور اپنی مرضی کا خفیہ پاسورڈ رکھتے ہیں اور آپ کو اپنے پروفائل تک رسائی مل جاتی ہے۔


