کیا انسان آزاد پیدا ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان جب آنکھ کھولتا ہے۔ تو وہ جس گھرانے میں پیدا ہوتا ہے، اسے بچپن میں ہوش سنبھالتے ہی بتا دیا جاتا ہے۔ کہ تمھارا مذہب کیا ہے۔ تمہاری براداری کیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ گجر ہیں تو یہ بات ذہن نشین کروا دی جاتی ہے کہ آپ کی برادری بہترین ہے۔ صرف ان سے تعلق رکھ سکتے ہو۔ باقی شیخ کنجوس ہوتے ہیں۔ اور آرائیں مطلبی ہوتے ہیں وغیرہ۔ خاندان میں کن لوگوں سے میل جول رکھ سکتے ہو۔ کون سی پھوپھو اچھی ہے۔ اور کون سی خالہ اور کن لوگوں سے دور ہی رہنا ہے، وغیرہ۔

خوش قسمتی سے اگر آپ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں۔ تو اچھی طرح یہ بھی سمجھا دیا جاتا ہے کہ تمہارا مسلک کیا ہے۔ بلکہ اس بات پر مکمل ذہن سازی کی جاتی ہے۔ کہ مثال کے طور پر اگر آپ سنی مکتبہ فکر سے ہو تو یہ بات دماغ میں اچھی طرح والدین اور علاقائی مولویوں کی بدولت ٹھونس دی جاتی ہے۔ کہ حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق قیامت تک مسلمانوں کے تہتر فرقے بنیں گے۔ اور صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔

اسی دوران ہمارے معاشرے میں بچے کو اور بہت سی دشواریوں اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر بچے کو اسکول میں انگریزی بولنی پڑتی ہے۔ گھر میں آ کر والدین اردو سکھا رہے ہوتے ہیں۔ اور گھر سے باہر دوستوں وغیرہ میں پنجابی بول رہے ہوتے ہیں۔ اور دوسری تیسری کلاس میں ہی بچے کو کتابوں کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔

اِس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں چار، پانچ سال تک بچے کی تربیت پر توجہ دی جاتی ہے۔ ان کو اصول سمجھائے جاتے ہیں۔ اور ان اصولوں کی پیروی کرنا سکھایا جاتا ہے۔ جبکہ چائنا، جاپان یا امریکہ میں بچوں پر یہ دباؤ بھی نہیں ہوتا کہ آپ کو مختلف جگہوں پر مختلف زبانیں بولنی پڑ رہی ہوں۔ چائینیز ہر جگہ چائینیز بول رہے ہوتے ہیں۔ جاپان والے جاپنیز اور امریکہ والے انگریزی سکھا اور پڑھا رہے ہوتے ہیں۔

اسکول کے بعد آپ کالج کی زندگی میں آتے ہیں۔ اور آپ کو بچپن سے ہی سارے کون سی پٹ بتا بتا کر پکے کر دیے ہوتے ہیں۔ اور آپ ان معاملات کے متعلق اپنے شعور سے باہر لا شعور میں دیکھ نہیں سکتے۔ حالانکہ آپ ایک سمجھدار پڑھے لکھے شہری بن چکے ہوتے ہیں۔ مگر آپ کے لیے ان سب چیزوں سے باہر نکل کر سوچنا انتہائی مشکل ہو چکا ہوتا ہے۔

آپ کالج کے بعد یونیورسٹی میں جاتے ہیں۔ جہاں پر آپ کو پاکستان کے مختلف شہروں سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگ ملتے ہیں۔ لیکن چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بچپن میں ٹھونسی ہوئی چیزوں اور یک طرفہ سوچ سے باہر نکل کر سوچتے ہیں۔ ان کی مقدار بلا شبہ انتہائی کم یعنی آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ مگر ان سے آپ ایسے معاملات پر اچھے ماحول میں بحث و مباحثہ کر سکتے ہیں۔ جس سے آپ کو بھی اور دوسروں کو بھی کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

یہاں پر اس موضوع کو زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہے۔ کہ کیوں نہ ہم اپنے بچوں کو ایک اچھا پر سکون اور خوش گوار ماحول مہیا کریں۔ جہاں پر ان کی بنیادی چیزوں کے باری میں اچھی طرح رہنمائی کی جائے۔ ان کو مذہب کی تعلیم بھی ضرور دی جائے۔ مگر مسلک سے بالا تر ہو کر۔ ان کو اصول سمجھا دیے جائیں جن پر وہ خود غورو خوص کریں۔ جو کہ ہر جگہ تقریباً ایک جیسے ہوں۔ پِھر جب شعور کی منازل طے کرتے ہوئے وہ خود اس نہج پر پہنچ جائے۔ اور وہ خود چیزوں کو پرکھنے کے قابل ہو سکے۔ تو وہ خود فیصلہ کر سکے۔

مسلمان اجتماعی طور پچھلے چار، پانچ سو سال میں میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر سکے۔ کوئی ایجاد نہیں دے سکے ہیں۔ اس کی وجہ شاید ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے۔ یہاں پر اپنے ملک کی بات کرتا ہوں۔ جہاں پر رٹے رٹائے کون سی پٹ ٹھونسے جاتے ہیں۔ پچوں کو چیزوں کے بارے میں کریٹیکلی تجزیہ کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ ہمارے اداروں میں بچوں کو کریٹیکل تھنکنگ کے بارے میں بتایا جائے۔ تاکہ وہ خود تجزیہ کریں اور غورو فکر کر کے سیکھیں۔

ہاں اپنی برادری، فرقہ یا مسلک کو صحیح ضرور کہیں۔ مگر اپنی غیر جانبدار تحقیق کے بعد اور دوسروں کو یعنی اختلاف رائے رکھنے والوں کو غلط، اپنے سے کم تر اور برا بھلا نہ کہا جائے۔ اور نہ ہی بچوں کو یہ سب سکھایا جائے۔ اس طرح سے ایک پرامن اور باشعور معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •