ایک ملک میں ٹُو مچ فن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک تھا۔ آپ اس کو اپنی آسانی کے لیے چ سے شروع ہوتا ہوا کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ ملک کے عوام بھی اسی ملک کے نام سے پکارے اور پہچانے جاتے ہیں جیسے چین میں چینی، ایران میں ایرانی اور پاکستان میں پاکستانی رہتے ہیں۔ چناچہ اس ملک ’چ‘ کے عوام بھی ’چ‘ ہی تھے۔ ملک ’چ‘ میں ہر طرح کی چور ی چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کادور دورہ تھا۔ عوام بھی ’چ‘ تھے لہٰذا چوری چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کے نت نئے چکر نہ صرف ایجاد کرتے رہتے بلکہ ان پر چوکس ہو کر چلتے بھی رہتے تھے۔ ’چ‘ عوام کی پسندیدہ غذا چُوری تھی جسے وہ چائے کے ساتھ چسکیاں لے کر کھاتے تھے۔

جس مرتبہ کا ذکر ہے اس مرتبہ اس ملک میں جمہوریت کا راج تھا۔ ملک کے حکمراں کو آپ ’گ‘ تصور کر لیں۔ حکمراں ’گ‘ کو ملک کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ گراں فروشی، گراوٹ، گالم گلوچ، گھٹیا پن، گڑبڑ اور گناہ کرنے والے گندے لوگ اس کے گرد رہتے تھے اور ’گ‘ ان کا گرویدہ تھا۔ ’گ‘ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں مہارت رکھتا تھا۔ جمہوری دور میں وہ جمہوریت کا علم بردار تھا جبکہ آمریت میں وہ آمریت کا دم بھرتا نظر آتا تھا۔ ’گ‘ کی ’گورمنٹ‘ بیڈ گورننس کا شاہکار تھی۔ اس مرتبہ ’گ‘ کاستارہ گردش میں آیا ہوا تھا اور ’گ‘ کے گھرانے پر گرد اڑ رہی تھی۔

ملک ’چ‘ میں ایک سیاست دان بھی تھا جس کو ہم ’ل‘ فرض کر لیتے ہیں۔ ’ل‘ لمبی لمبی چھوڑنے کا شوقین تھا۔ قد بھی کچھ لمبا تھا اس لیے لگی لپٹی رکھنے کا قائل نہیں تھا۔ وہ کھل کر ’چ‘ عوام کو اپنی لاف و گزاف سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔ ’ل‘ کی پرورش لاہور اور لندن میں ہوئی تھی اس لیے اس اکثر وہ لال پیلا رہتا تھا۔ ’ل‘ اکثر اپنے مخالفین کو لعنت ملامت بھی کرتا رہتا تھا۔ ’چ‘ عوام اسے کبھی کبھار لال بجھکڑ بھی کہ دیتے تھے۔ ’ل‘ بھی ملک ’چ‘ کا حکمراں بننا چاہتا تھا اور اس کے لیے لیفٹ رائٹ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔

اسی ملک ’چ‘ میں ایک اور سیاست دان بھی تھا۔ اس کو ہم ’ب‘ کہ لیتے ہیں۔ ’ب‘ کو بات کا بتنگڑ بنانے کا فن آتا تھا۔ ’ب‘ کی بیوی اب نہیں رہی تھی اس لیے بعض اوقات ’ب‘ بہکی بہکی حرکتیں بھی کر جاتا تھا۔ ’ب‘ بھی ’چ‘ پر حکومت کر چکا تھا جس کی ’چ‘ عوام کو بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔ ’ب‘ جو تھا وہ ’گ‘ اور ’ل‘ دونوں کا سیاسی مخالف تھا اور بہر صورت اقتدار کی کرسی پر بیٹھنا چاہتا تھا۔

اسی ملک میں ایک طبقہ ایسا تھا جس کو آپ ’ح‘ تصور کر لیں۔ یہ طبقہ ہمہ وقت حرام اور حلال کی بحث چھیڑے رکھتا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ معاشرے کے ہر طبقے پر حاوی ہونے کی کوششوں میں مصروف رہتا تھا۔ اس سلسلے میں کبھی حلاوت تو کبھی حرارت زدہ لہجے میں بات کرتا یہ ’ح‘ والا طبقہ حلوے کا شوقین تھا۔ ’ح‘ حرمت رسول پر جان قربان کرنے کے نعرے لگاتا اور ہمیشہ دوسروں کی جان لیتا تھا۔ ’ح‘ دوسرے مذاہب والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ ’ح‘ اس ملک ’چ‘ میں حجازی طرز حکومت چاہتا تھا مگر حمایت سے محروم تھا۔

اس کے علاوہ بھی ملک ’چ‘ میں کچھ طبقات تھے۔ ہم ان کو مجموعی طور پر ’پ‘ کا نام دے لیتے ہیں۔ یہ وہ طبقات تھے جو پہاڑ جیسی طاقت رکھتے تھے۔ پانی سے لے کر پرندوں تک اور پہاڑوں سے لے کر پاتالوں تک ملک ’چ‘ کی پاسبانی کرتے تھے۔

ہوا کچھ یوں کہ ’ل‘ نے ’گ‘ کو لعنت ملامت کرنا شروع کر دیا۔ ’گ‘ بھلا کب یہ بات گوارا کرتا چناچہ اس نے ’چ‘ عوام سے رجوع کیا۔ ’چ‘ عوام تو چاہتے ہی یہ تھے کہ ’ل‘ اور ’گ‘ کی لگ جائے چنانچہ ’چ‘ عوام نے چالاکی دکھاتے ہوئے ’ل‘ کے سامنے ’ل‘ اور ’گ‘ کے سامنے ’گ‘ کی چاہت کا اظہار شروع کر دیا۔ ’ح‘ نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور حصول اقتدار کے لیے ’چ‘ عوام کی حمایت حاصل کرنے کی تگ ودو شروع کر دی۔ ’چ‘ عوام نے ’ح‘ کو حسین خواب دکھانے شروع کر دیے اور ’ح‘ خود کو حقیقی راہنما محسوس کرنے لگا۔

’گ‘ کے لیے یہ گھاٹے کا سودا تھا چناچہ ’گ‘ نے ’ح‘ کو ساتھ ملانے کے لیے گڑ کا حلوہ پکایا۔ ’ل‘ کو ’گ‘ کی گہری چال سمجھ میں آگئی۔ ’ل‘ نے ’ح‘ کے کچھ لوگوں کو لاکھوں روپے دے دیے جس سے ’ح‘ میں پھوٹ پڑ گئی۔ ’ح‘ کے کچھ حصے کو ساتھ ملا کر ’ل‘ نے ’گ‘ کا مسئلہ حل کرنے کا سوچا۔ ’چ‘ عوام یہ ساری چکربازی دیکھ رہے تھے چناچہ ’چ‘ عوام نے چاروں صوبوں میں ’گ‘ ’ل‘ اور ’ب‘ کو ووٹ ڈال دیے۔ سب کی اپنی اپنی حکومتیں بن گئیں۔ اب ’ل‘ ’گ‘ کے لتے لے رہا ہے اور ’گ‘ ’پ‘ کو گھونسہ دکھا رہا ہے۔ ’پ‘ ’ح‘ کو آگے کر ہا ہے اور ’ب‘ اپنی باری کے انتظار میں ہے۔ یعنی ”ٹُو مچ فن“۔

آپ کو سمجھ آئی؟ نہیں آئی نا؟ کوئی بات نہیں۔ ملک ’چ‘ میں بھی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی پھر بھی وہ چناؤ میں چاول کھا کر ایسوں ویسوں کو چن لیتے ہیں۔ پھر جب چار چوٹ کی لگتی ہے اور چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں تو چن چن کر ایسی چکراتی ہوئی کہانیاں پڑھتے ہیں اور چکر کھا جاتے ہیں۔ آپ بھی کھائیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 103 posts and counting.See all posts by awais-ahmad