بچوں کا ادب اور مسعود احمد برکاتی کی سرپرستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” بچے قوم کامستقبل ہوتے ہیں“ بظاہر مختصر سا یہ جملہ ہمیں ایک اہم ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے کہ اگر ہم ملت کا مستقبل اچھا دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے نونہالوں کو بہترین تعلیم وتربیت دینا ہمارا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ ایسے ہی کہ جس طرح اچھے پھل دار مضبوط درخت کے لئے اعلی معیار کے بیج ہی نہیں زرخیز زمین اور جانفشانی سے کی گئی آبیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ قوم کے بچے بھی ان بیجوں کی مانند ہیں جو ہم سے بہترین ذہنی، تخلیقی، اخلاقی اور سماجی نشو ونما جیسی اہم ذمہ داریوں کے متقاضی ہیں۔

بچوں کا ادب شخصی فراست، سماجی اور اخلاقی نشو ونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کو نظر انداز کرنا قوم کے مستقبل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ تمام دنیا کے ممالک میں بچوں کے ادب کو حکومتی ایجنڈے میں سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر پاکستان نے اس سلسلے میں اپنی جس بے رخی کا مظاہرہ برتا ہے، وہ افسوسناک ہے۔ پاکستان کی پیدائش کو سات دھائیاں گزر جانے کے باوجود بچوں کے ادب میں ہماری ترقی کا گراف دوسرے بہت سے اہم شعبوں کی طرح تنزلی کی جانب ہی مائل ہے۔

تمام دنیا کے ممالک میں بچوں کا ادب لکھنا مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر پاکستان میں سنجیدگی سے اس شعبہ میں کام کرنے والوں کا فقدان اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے ابتداء ہی سے بچوں کے ادب کو اپنی ترجیحات میں رکھا ہی نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ محلہ لائبریریوں کا عنقا ہوجانا اور اس شعبے میں حکومت کی سرپرستی کا نہ ہونا وہ المیہ ہے جس کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔

اگر بازار میں جا کر ایک محتاط تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ کہانیوں کی کتابیں تو مہیا ہیں مگر ان کا معیار پہلے کے مقابلے میں پست ہوتاجا رہا ہے۔ ناشروں نے منافع میں کمی کے خوف سے انگریزی کے تراجم پہ ہی گزارا کرنا شروع کر دیا ہے۔ دیسی معاشرے میں مسلسل بدیسی ثقافت کے ادب کی بھرمار نے معاشرے میں تخلیقی صلاحیتوں کے فقدان کے ساتھ ساتھ احساس کمتری بھی پیدا کر دیا ہے جو قوموں کی ترقی میں سمِ قاتل ہے۔ تاہم قحط الرجال کے اس عہد میں آج بھی کچھ ایسے افراد ہیں کہ جو ستائش اور حوصلہ کی پرواہ کیے بغیر پیکارِ مسلسل ہیں۔

ہر شعبہ میں ہی آپ کو کچھ افراد ایسے ضرور مل جائیں گے کہ جو مایوسی سے مرتے معاشرے کو اپنے کام سے زندہ رکھ رہے ہیں۔ ایسے ہی چند افراد میں ایک نام مسعود احمد برکاتی کا بھی ہے۔ جو محسنِ قوم حکیم سعید کے ادارے ہمدرد فاؤنڈیشن سے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے منسلک ہیں اور انہوں نے اپنی عمر کا طویل حصہ مسلسل جانفشانی سے ان ننھے بچوں کی آبیاری میں لگا دیا جو کہ انہیں نہ کوئی تمغہ دے سکتے تھے اور نہ ہی کوئی اور مادی منافع۔

گزشتہ چھ دھائیوں سے ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو بچوں کے رسالہ ”ہمدرد نونہال“ کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ وطن کے نونہالوں کو صحت مند ذہنی تفریح کی وہ روشن کرنیں مہیا کرتا ہے کہ جس کی توانائی اور تابناکی کا کوئی مول نہیں۔ رسالہ کے توسط سے بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تخلیقی آبیاری کرنا صدقہِ جاریہ کی طرح کا کارِ خیر ہے کہ جس کا فیض جاری رہے گا کہ اس رسالہ کی تابناک علمی شعاعوں نے کئی نسلوں کی کلیوں کو گرمائی اور کاملیت دی اور یہ سفر آج بھی شدومد سے جاری ہے۔

اس رسالے کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اردو ادب کے بڑے ادیبوں نے اس میں بچوں کے لئے بہت محبت سے لکھا اور شان سے چھپوایا بھی۔ جس میں شان الحق حقی، ڈاکٹر حسن منظر، اسلم فرخی، مرزا ادیب جیسے اہم ادیبوں کے نام شامل ہیں۔ گو مسعود احمد برکاتی صاحب کو ان کی مسلسل خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈز کے علاوہ پاکستان کے سب سے سینئیر پروفیشنل ایڈیٹر کی حیثیت سے نشانِ سپاس پیش کیا جا چکا ہے، تاہم ضروری ہے کہ اس مضمون کے توسط سے ان کا مختصر تعارف قارئین سے کرایا جائے جو ان کی پیہم کاوشوں کے اعتراف میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ادنی سی کاوش ہو گی۔

ہمارے بہت سے قارئین کی طرح میرا بچپن بھی ہمدرد نونہال، تعلیم وتربیت، پھول، بچوں کی دنیا، کھلونا، غنچہ جیسے رسائل کی ورق گردانی میں غرق گزرا ہے۔ اس لحاظ سے مسعود احمد برکاتی صاحب سے میرا غائبانہ تعارف تو بچپن ہی سے تھا، تاہم باقاعدہ یا بالمشافہ ملاقات کا شرف چند سال قبل ہی ہوا کہ جب میرا جانا پاکستان ہوا تھا۔

جون کی چلچلاتی گرمی میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی خوبصورت عمارت کی بالائی منزل میں جب پہنچی (یہ آفس ناظم آباد کراچی میں واقع ہے ) تو وعدہ کے مطابق وہ میرا انتظار کر رہے تھے۔ میرے پاس بچوں کے لکھی میری پانچ چھ کہانیوں کے پلندہ کے علاوہ ایک کتاب کا مسودہ بھی تھا۔ (تھامس ایلوا ایڈیسن کا بچپن) ۔ مسلسل مصروفیت کے باوجود ان کے چہرے پہ تھکن نہیں تھی۔ انہوں نے بہت اخلاق اور شفقت سے تمام تخلیقات کی نقول بنوا کر رکھ لیں اور کتاب اپنے ادارے کی جانب سے چھاپنے پہ بھی رضامندی ظاہر کی۔ (یہ کتاب چند سال پہلے سے چھپ کر بازار میں دستیاب ہے۔ ) وہ مجھے میری پہلی کتاب کے حوالے سے جانتے تھے۔ (والٹ ڈزنی کی سوانح عمری) اور اس بات پہ خوش نظر آ رہے تھے کہ میں نے بچوں کے لئے لکھنے کا سنجیدگی سے فیصلہ کر لیا ہے۔

گو میرا ارادہ قارئین کے لئے ایک تفصیلی ملاقات کا تھا، لیکن ان کی مسلسل مصروفیت (ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر) کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا، تاہم ہماری آسانی کے لئے انہوں نے پہلے سے چھپی کچھ دستاویزات ضرور فراہم کر دیں جو ان کے مختصر تعارف کا ذریعہ بن سکیں۔

ادیب، صحافی، مدبر مسعود احمد برکاتی ہندوستان کی ریاست ٹونک راجپوتانہ میں 15 اگست 1933 کو پیدا ہوئے۔ چھوٹی عمر میں ماں کا انتقال ہو گیا اور عمر بھر ماں جیسی انمول نعمت سے محروم رہے۔ گھر کا ماحول علمی تھا کہ والد اور دادا دونوں عالم اور حکیم تھے۔ گھر کی لائبریری میں عربی، فارسی اور اردو کی بے شمار کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ اس کا اثر تھا کہ چودہ سال کی عمر میں اپنے دادا حکیم برکات احمد کے نام پر ”البرکات“ کے نام سے ایک قلمی رسالہ نکالا۔

اردو، فارسی، عربی اور طب کی تعلیم دارالعلوم خلیلیہ میں اور انگریزی تعلیم گھر پر اتالیق سے حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں انجمن ترقی اردو کے رسالہ معاشیات میں ( 1949 تا 1952 ) سلسلہِ مضامین لکھا۔

بچپن کے زمانہ میں سائنس اور اردو سے سب سے زیادہ دلچسپی تھی، لیکن کورس کے مقابلے میں غیر نصابی کتابیں شوق سے پڑھتے تھے۔ ان کے بچپن کا زمانہ سکون کا تھا۔ گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی اور ہر خواہش پوری ہو جاتی تھی، لیکن خاندان میں کوئی ہم عمربچہ نہ تھا جس کی وجہ سے دو شوق کچھ زیادہ تھے، پڑھنے کا اور چڑیاں پالنے کا۔ کھیلوں سے زیادہ دلچسپی نہ رہی، بس تھوڑی بہت کرکٹ ہی کھیلی۔

تصانیف و تالیفات اور تراجم کی تعداد بے شمار ہے۔ مثلا جوہرِقابل، صحت کی الف بے، دو مسافر دو ملک (بچوں کے لیے اردو میں پہلا سفر نامہ) ، صحت کے 99 نکتے کے علاوہ مشہور انگریزی کتابوں کے تراجم شامل ہیں۔

اے پی این ایس نے 2 مارچ 1996 کو ایک تقریبِ سپاس میں پاکستان کے سب سے سینئیر پروفیشنل ایڈیٹر کی حیثیت سے نشانِ سپاس پیش کیا۔

مسعود احمد برکاتی ملک کے ممتاز میڈیکل جرنلسٹ اور ماہنامہ ہمدرد صحت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بھی ہیں۔

بیرون ممالک میں مختلف علمی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت اور صدارت کر چکے ہیں اور مقالات پیش کر چکے ہیں۔

ماہانہ عرفان کراچی اور ماہنامہ سائنسی دنیا کی مجلسِ ادارت میں بھی شامل رہے ہیں۔ یونیسکو کے ماہانہ کورئیر کے اردو ایڈیشن ”پیامی“ کے شریک مدیر رہے ہیں۔ ملک کے اخبارات اور رسائل میں برکاتی صاحب کے علمی، ادبی اور نفسیاتی مضامین مسلسل شاملِ اشاعت رہے ہیں۔

اس مختصر تعارف سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ مسعود احمد برکاتی کی گرانقدر خدمات بالخصوص بچوں کے ادب کے حوالے سے مثالی ہیں۔ جس کی بدولت پاکستان کی تاریخ میں ان کا نام سرِ فہرست رقم ہو گا۔
۔
یہ مضمون مسعود احمد برکاتی صاحب کی وفات سے قبل لکھا گیا تھا۔ 10 دسمبر 2107 کو ان کا انتقال 86 برس کی عمر میں ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •