اس دنیا میں اب کوئی محفوظ نہیں


\"mubashirبابا بھی باتیں کرنے کے شوقین اور میں بھی۔ ہم دونوں ایک وقت میں گھنٹوں باتیں کرتے رہتے تھے۔ زیادہ تر تو وہی اپنے قصے سناتے تھے۔ لیکن میں بھی کم نہیں تھا۔ کہانیاں گھڑ گھڑ کے انھیں سناتا۔ جھوٹ بھی بہت بولتا تھا۔ بابا آخر باپ تھے، میرے جھوٹ پکڑ لیتے ہوں گے۔ لیکن اظہار نہیں کرتے تھے۔ بس مسکراتے رہتے تھے۔ وہ اگر حوصلہ شکنی کرتے تو شاید میرے اندر کا کہانی کار مر جاتا۔

میں نے ہوش سنبھالتے ہی بابا سے دوستی کرلی تھی۔ یا یوں کہہ لیں کہ بابا نے مجھ سے دوستی کر لی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس یہ آپشن مجھ سے پہلے تھا۔ انھوں نے مجھے اسکول میں داخل کرانے سے پہلے گھر ہی میں اتنا پڑھا دیا تھا کہ میں بچوں کے رسالے پڑھنے لگا تھا۔ بعد میں ہر مہینے رسالے خریدنے کے لیے پیسے دیتے۔ مجھے یاد ہے کہ نونہال تین روپے کا آتا تھا اور تعلیم و تربیت ساڑھے تین روپے کا۔ اشتیاق احمد کا ناول چھ روپے کا۔ میں کوئی ایک رسالہ خرید سکتا تھا۔

بابا نے سب سے پہلی بات مجھے یہ بتائی کہ صرف وہی بچے اچھے ہوتے ہیں جو سوال کرتے ہیں۔ صرف وہی بچے ذہین ہوتے ہیں۔ صرف وہی بچے زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ صرف وہی بچے ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ صرف وہی بچے ملک کو درپیش سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔

بابا کوئی مشہور آدمی نہیں تھے۔ وہ امیر بھی نہیں تھے۔ وہ کسی اعلیٰ عہدے پر بھی نہیں رہے۔ ان کے کسی وی آئی پی سے تعلقات نہیں رہے۔ وہ میٹرک سے آگے تعلیم حاصل نہیں کرپائے۔ وہ اپنا مکان بھی نہیں بنا سکے۔ ان کے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی۔ لیکن بابا کے پاس بہت سی باتیں تھیں۔ وہ باتیں کبھی ختم نہیں ہوتی تھیں۔ میں نے ان کی باتوں سے بہت سی کہانیاں کشید کی ہیں۔

اتفاق کی بات ہے کہ جب تک بابا ملازمت کرتے رہے، میں پڑھتا رہا یا بیروزگار رہا۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ میری ملازمت شروع ہو گئی۔ اب بابا کے پاس وقت ہی وقت تھا لیکن میرے پاس فرصت کہاں۔ میں ان کی طویل گفتگو سے بور ہو جاتا تھا۔ کبھی تنگ آجاتا تھا۔ کبھی کان بند کر لیتا تھا۔ کبھی آنکھیں بند کر کے سونے کی اداکاری کرتا تھا۔ لیکن بابا اپنی کہانیاں، اپنی زندگی کے واقعات، جنھیں وہ بہت دلچسپ سمجھتے تھے، مجھے سناتے رہتے تھے۔

بابا کا نام محفوظ علی زیدی تھا۔ وہ کہتے تھے، اللہ حافظ ہے اور میں محفوظ۔ اس لیے کم از کم تین سو سال جیوں گا۔ وہ واقعی بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ انھیں شوگر نہیں ہوئی۔ انھیں بلڈپریشر کا عارضہ نہیں تھا۔ پچیس سال پہلے دل کا دورہ پڑا لیکن چند دن بعد اسپتال سے آئے تو پہلے کی طرح بھلے چنگے تھے۔ نہ کوئی انجیوپلاسٹی، نہ آپریشن، نہ بعد میں تمباکونوشی چھوڑی، نہ دوائیں نگلیں۔ حد یہ کہ میں نے انھیں کبھی بخار میں بھی مبتلا نہیں دیکھا۔

بابا اور امی کی عمروں میں بارہ تیرہ سال کا فرق تھا۔ امی آٹھ سال پہلے کینسر کا شکار ہو کر انتقال کر گئی تھیں۔ بابا اداس تو ہوئے لیکن میں نے انھیں جذباتی ہوتے نہیں دیکھا۔ ہماری دادی اماں کہتی تھیں، اور بعد میں امی بھی دوہراتی رہیں کہ بابا لاپرواہ انسان تھے۔ میرا خیال ہے کہ کچھ سخت جان اور سخت دل بھی تھے۔ کیسی بھی صورت حال ہو، پریشان نہیں ہوتے تھے۔ کوئی مشکل درپیش ہوتی تو کہتے، سر پڑی سب بھگتی جا ہے۔

میرا ایک ہی بھائی ہے۔ وہ تین بہنوں کے بعد ہوا اور مجھ سے چودہ سال چھوٹا ہے۔ گزشتہ دنوں اس کی شادی ہوئی اور ستائیس جولائی کی شب ولیمہ تھا۔ تقریب سے پہلے بابا کچھ بے چینی محسوس کررہے تھے۔ چند ہفتے پہلے ٹبا اور آغا خان اسپتال میں ہم ان کا چیک اپ کروا چکے تھے۔ 80 سالہ بزرگ کتنا ٹھیک ہو سکتا ہے؟ لیکن ان کی سب رپورٹیں ٹھیک تھیں۔ ہم سمجھے کہ بے چینی کی وجہ تھکن ہے۔

تقریب کے بعد گھر آکر میں نے ان سے پوچھا، اسپتال لے چلوں۔ انھوں نے کہا، نہیں سب ٹھیک ہے۔ ہم صبح چار بجے تک ان سے باتیں کرتے رہے۔ پھر میں سو گیا۔ سات بجے بھائی نے فون کر کے اٹھایا کہ بابا کی طبعیت ٹھیک نہیں، اسپتال لے چلیں۔

بابا کو سینے میں شدید درد ہورہا تھا۔ ہم اسپتال پہنچے۔ انھیں ایمرجنسی میں پہنچایا۔ چند منٹ بعد بابا نے درد سے کراہتے ہوئے کہا، ’’مبشر! میں چلا۔‘‘

میں نے انھیں تسلی دی کہ بابا، سینے میں معمولی بھاری پن ہے، ڈاکٹر نے انجکشن لگا دیا ہے، ابھی درد ختم ہوجائے گا۔ لیکن درد ختم نہیں ہوا۔ انھیں آئی سی یو منتقل کردیا گیا۔

بیس منٹ بعد ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ بابا کا انتقال ہوگیا ہے تو میں وہیں ویسے ہی کھڑا تھا۔ تین سو سال جینے کا ارادہ کیے ہوئے، سخت جان، سخت دل، مضبوط اعصاب والے باپ کے منہ سے ’’میں چلا‘‘ سن کر میں سُن ہو گیا تھا۔ مجھے اسی وقت پتا چل گیا تھا کہ بابا واقعی جا رہے ہیں۔

اس کے بعد میں کچھ دیر بابا کے پاس بیٹھا رہا۔ میں نے ان سے کچھ باتیں کرنے کی کوشش کی۔ ایک دو سوال رہ گئے تھے، ان کے جواب مانگے۔ کئی بار ان کی باتیں سنی ان سنی کردی تھیں، ان کی تفصیل پوچھی۔ ایک دو بار بیزاری کا اظہار کیا تھا، اس پر معذرت کی۔ لیکن بابا کچھ نہیں بولے۔ کبھی کبھی میں ان سے روٹھ جاتا تھا تو وہ مجھے منالیتے تھے۔ وہ روٹھے تو میں انھیں نہیں منا سکا۔

وجاہت بھائی! آپ بار بار پوچھ رہے تھے کہ میں خاموش کیوں ہوں۔ عدنان صاحب کہہ رہے تھے کہ وہ میری فیس بک ٹائم لائن سے پرانی تحریریں چھاپ چھاپ کر تھک گئے ہیں، میں نیا کیوں نہیں لکھ رہا۔ بس یہی وجہ تھی۔

ابا کے انتقال کو ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ جس وقت میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں، کیلنڈر پر تاریخ دو ستمبر درج ہے۔ یہ میری سالگرہ کا دن ہے۔ آج مجھے مبارکباد کے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ لیکن جنم دینے والے ماں باپ کے انتقال کے بعد کیسا جنم دن اور کون سی سالگرہ؟

Facebook Comments HS

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 194 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

One thought on “اس دنیا میں اب کوئی محفوظ نہیں

Comments are closed.