کراچی کے بادشاہ گر بنام عوام اور بھتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے تیس سال، کراچی میں ہمارا بادشاہ گری کا سیاسی تجربہ بہت ہی کامیاب رہا۔ اس لئے اسے جاری رکھا جائے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے بادشاہی اور بادشاہ گری کے باقی تمام تجربات بہت کامیاب رہے ہیں اور وہ بھی ہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام اور سیاستدانوں کی ایک قلیل تعداد، جو ہمارے اس تجربے سے مفید ہوئے یا وہ ہمارے دوسرے تجربات، پالیسیوں اور ہماری موثر ٹویٹر سروس کی وجہ سے مکمل آگاہ ہیں، وہ تو ہماری شاندار کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے۔ اور ہمارے اسی تجربے کو کراچی میں دہرانے کے حامی بھی ہیں۔ لیکن عوام کی ایک بھاری اکثریت اور کچھ سیاست دان جو ہماری شاندار ٹویٹر سروس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا جنہیں ہم نے گھاس نہیں ڈالی وہ واویلا مچاتے رہتے ہیں۔ اور کراچی میں لاشوں کی تعداد اور امن یا کاروبار کی بربادی کو بنیاد بنا کر ہماری بادشاہی اور بادشاہ گری کے فن کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کی باتیں بد نیتی پر مبنی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو اس بد نیتی کے ساتھ وطن دشمنی اور غداری کے جرم (الزام نہیں ) کے تحت آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور آہنی ہاتھوں کا قانونی ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔

ہاں تو واپس آتے ہیں کراچی میں ہمارے بادشاہ گری کے 30 سالہ تجربے کی کامیابی کی طرف۔ عوام اور سیاستدانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کراچی میں یہ تجربہ حکمرانی کے صدیوں سے آزمودہ کار اصول لڑاؤ اور حکومت کرو (divide and rule) کے تحت کیا گیا تھا۔ اور اس حوالے سے یہ تجربہ بہت ہی کامیاب رہا۔ اگر نیک نیتی سے دیکھا جائے تو یہ تجربہ انگریزوں کے برصغیر میں لڑانے اور حکومت کرنے سے بھی زیادہ کامیاب رہا۔ حالانکہ ہمارے لئے حالات انگریزوں سے کہیں زیادہ مشکل تھے۔ مثلاً انگریزوں کو تو مختلف مذاہب کے لوگوں کو آپس میں لڑانا تھا جو کہ نسبتاً آسان ہونا چاہیے۔ جب کہ ہمارے سامنے تو ایک ہی مذہب اور شہر کے لوگ تھے اور ان میں زبان کا بھی کوئی مسئلہ نہ تھا۔ لہٰذا ہمارا کام بہت مشکل تھا لیکن پھر بھی ہمیں بہت کامیابی ملی ہے۔

مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت کے بادشاہ کی حکومت اپنی تمام تر سختی کے باوجود کمزور تھی اور ڈر رہتا کہ کسی وقت بھی پیپلز پارٹی کو موقع ملا تو وہ لوگوں کو جمہوریت جیسی نجس چیز کے چکر میں ڈال دے گی اور ایم آر ڈی قسم کا کھیل شروع کر دے گی۔ ملک میں خون خرابے کا خدشہ ہر وقت رہتا تھا۔ تو اس تجربے کا واحد مقصد یہ تھا کہ کراچی اور حیدرآباد جیسے شہروں سے پیپلز پارٹی کا خاتمہ ہو جائے تاکہ بادشاہ سلامت آرام کی نیند سو سکیں اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ جیسے اہم فریضے کو تسلی سے پورا کر سکیں۔ یہ مقصد (اسلامی نظام کے نفاذ کا نہیں پیپلز پارٹی کے خاتمے کا) بہت کامیابی سے حاصل کر لیا گیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اب کراچی میں پیپلز پارٹی کی چھٹی ہو چکی ہے۔

آپ کہیں گے کہ ایم کیو ایم کو غلط سپورٹ کیا گیا اور شہر برباد ہو گیا۔ ہم نے خود تو شروع کے چند سال ہی مہاجروں کی الگ پہچان کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا اور اس دوران اگر چند ہزار لوگ مارے گئے تھے تو آپ کہہ سکتے تھے کہ وہ ہماری بادشاہ گری کی پالیسی کا حصہ تھے۔ لیکن اس کے بعد آپ یقین کریں ہم نے شہر میں بھائی چارے اور امن کی فضا قائم کرنے کی بہت کوشش کی مگر لوگ سنتے ہی نہیں تھے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ لہٰذا پہلے چند برس کے بعد جتنے بھی لوگ قتل ہوئے یا جو بھی بربادی ہوئی اس میں ہماری بادشاہ گری کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ بے وقوف عوام کی اپنی غلطی تھی۔ ہاں اگر آپ بہت ضد کریں تو 12 مئی کے کوئی پچاس جنازے بھی ہماری بادشاہ گری کے کھاتے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ وہ قتل عام بھی اس وقت کے بادشاہ کو خطرے سے نکالنے کے لئے تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بادشاہی ہماری ہی تھی۔ اس وقت ہم قدامت پسندی سے روشن خیالی کی طرف بڑھ چکے تھے اور روشن خیالی کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لئے بادشاہی کو بچانا ضروری تھا۔

مزید یہ کہ 12 مئی کو بھی بادشاہ کی جانب سے اتنے زیادہ جنازوں کی کوئی خاص ڈیمانڈ نہیں تھی۔ بس حکم تو صرف ”شو آف پاور“ کا تھا۔ اور اس کے لئے ایم کیو ایم کے سامنے متوقع رکاوٹوں مثلاً پولیس یا رینجرز کو اس دن کے لئے چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔ یہ تو جب لوگوں نے ”شو آف پاور“ کے سامنے روڑے اٹکائے تو چند لاشیں اندازے سے زیادہ گر گئیں۔ ورنہ اگر بادشاہ کے مخالف لوگ امن سے گھروں میں رہتے تو اتنے لوگوں کو قتل کرنے کا تردد نہ کرنا پڑتا۔

بہرحال اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ ہمارے کراچی میں بادشاہ گری کے تجربے کی کامیابی ہے کہ ایک سیاسی پارٹی بیس سال بعد بھی وہ مقصد پورا کر رہی تھی جس کے لئے وہ بنائی گئی تھی۔ اسی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اسی منصوبے کو دہرانے کی کوشش کی ہے۔ پاک سر زمین پارٹی کو اسی اصول کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے۔

صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لئے ہم نے خود ہی کچھ کرنا ہے اور کرتے رہنا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کراچی میں صرف عدالتوں اور قانون کے ذریعے امن قائم کیا جائے اور انصاف دیا جائے اور سیاست کو عوام پر چھوڑ دیا جائے۔ اس طرح سے سمت خراب ہونے کا خطرہ ہے اور حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔ ہمیشہ کی طرح، ہمارا ملک، بڑے ہی خطرناک حالات سے دوچار ہے۔ عوام ان حالات سے آگاہ نہیں ہیں لہٰذا ملکی سالمیت کو لاحق خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ہم مانتے ہیں کہ ایم کیو ایم سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ وہ چونکہ خفیہ ایجنسیوں کی شاگردی اور فرماں برداری کے بہت عادی ہو چکے تھے اور انہی پر اعتبار کرتے تھے تو غلطی سے دشمنوں کی خفیہ ایجنسیوں کو بھی اپنی خدمات دینے لگے۔ ان خدمات سے شاید وہ اپنے مالی حالات بہتر کرنا چاہتے تھے۔ ہمیں یقین ہے اس سلسلے میں ملک کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بس کچھ جدید اسلحہ وغیرہ کراچی آیا اور اس کے استعمال سے کچھ لوگ جان سے گئے۔ 12 مئی کو بھی ہو سکتا ہے یہ اسلحہ استعمال ہوا ہو لیکن یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ اس واقعہ کی تحقیقات نہیں ہو سکتی تھیں۔

ہم عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم نے ایم کیو ایم کو بنانے اور اس کو چلانے کے تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس لئے اب ”پاک سر زمین پارٹی“ کو ہم شروع ہی سے خبردار کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے صرف بھتے پر انحصار کرنا ہو گا تاکہ وہ دشمنوں کی خفیہ ایجنسیوں سے دور رہیں۔ اور کراچی کے لوگوں پر بھتے کا بوجھ کم کے لئے بھتہ وصول کرنے والی کچھ پارٹیوں کو بہت سختی سے منع بھی کیا جا رہا ہے۔

پہلی تاریخ اشاعت: 03/09/2016۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 242 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply