دیوار پر لکھی ہماری قومی بدذوقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے ساتھ ہمارا کھلواڑ ہماری فطرت ثانیہ بن چکا ہے اور اس سے زیادہ مضحکہ خیز رویہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ہم تاریخی واقعات اور شخصیات کو اپنے محدود اور تنگ نظر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں سیاست کے میدان میں ایسی روشن اور تابناک مثالیں خال خال ہی ہیں کہ جن پر فخر کیا جا سکے۔ تاہم ایسا بھی نہیں کہ ہماری تاریخ اس سے مکمل طور پر بانجھ ہو۔ موجودہ دور میں سیاست کے شعبے میں ہمارا واسطہ کچھ ایسے ”نابغوں“ سے پڑا ہے کہ جن کے سیاست کے طور طریقے جمہوریت کی تعریف سے لگا نہیں کھاتے تاہم ان کی تعریف و توصیف میں ان کے حامی اس درجہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ خوشامد کی پستی کو چھونے لگتے ہیں۔

فقط طبقہ سیاست کے افراد اس آلائش میں نہیں لتھڑے ہوئے بلکہ ہماری تاریخ کے فوجی حکمران بھی اس میں بری طرح لت پت ریے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جب آصف زرداری کو مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں پس زنداں کیا گیا تو ان کی جماعت کے کارکنوں نے ایسے پوسٹر اور بینرز چسپاں کیے کہ جس میں انہیں عظیم نیلسن منڈیلا سے تشبیہ دی گئی۔ پی پی پی کے جیالوں کی جانب سے اس حرکت پر یقینی طور پر عظیم منڈیلا کی روح تڑپ اٹھی ہوگی کہ جس نے ستائیس برس نسل پرستی کے خلاف جدو جہد کے نتیجے میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیے۔

عظیم منڈیلا پر عظمت اس طرح ٹوٹ کر برسی کہ آج بھی ان کے ذکر پر پلکیں عقیدت سے اس کی بڑائی کے سامنے جھک جاتی ہیں۔ آصف زرداری کرپشن کی ہوشربا داستانوں کے ایک کلیدی کردار ہیں ان کا نام آتے ہی جعلی اکاؤنٹس، شوگر ملیں اور مالیاتی غبن کے ناگ پھن پھیلا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کو ان کے ایک خوشامدی نے ایک بار ”قائد اعظم ثانی“ کا خطاب دے ڈالا۔ اس خوشامدی نے اس کے بدلے پارلیمان کی رکنیت تو حاصل کر لی لیکن تصور کیجیے کہ اس پر جناح صاحب کی روح کس قدر کرب میں مبتلا ہوئی ہو گی۔

آج بھی جب نواز لیگی انہیں قائد اعظم ثانی کے نعرے ان کے حق میں لگاتے نظر آتے ہیں تو مجھے ان کی کوتاہ بینی سے زیادہ قائد اعظم کے ساتھ ہونے والی اس نا انصافی پر زیادہ غصہ آتا ہے۔ قائد اعظم کی شخصیت سے اسٹیس مین شپ، قانون کی حکمرانی، جمہوریت پسندی اور سب سے بڑھ کر لبرل اور ترقی پسندانہ نظریات جڑے تھے جب کہ دوسری جانب بصیرت، فہم و تدبر، جمہوریت پسندی اور اصول پسندی سے عاری میاں نواز شریف کی شخصیت۔ اگرچہ میں اس قدر قائل ہوں کہ انہیں اگر مالی معاملات میں غبن کی بجائے پاکستان کی تقدیر کو بگاڑنے کے جرم کی سزا بھی ملتی تو وہ کچھ زیادہ صائب ہوتا۔

آج کے حکمران عمران خان اور ان کی جماعت نے اور بڑا ظلم ڈھایا کہ انہوں نے اپنی سیاست اور حکمرانی کے لیے مقدس اور پاکیزہ تاریخی ہستیوں اور واقعات کو استعمال کرنے میں ذرا برابر تامل بھی نہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات سے قبل عوام سے ووٹ اس نعرے کی بنیاد پر مانگے کہ ان کی حکومت ریاست مدینہ کے اصولوں پر استوار ہو گی۔ ریاست مدینہ ان پاکیزہ نفوس اور صاحبان کردار پر مشتمل ایک نظام حکومت تھا جنہوں نے پیغمبر اسلام سے براہ راست اکتساب کیا تھا۔

یہ باکمال ہستیاں مسلم تاریخ میں انتہائی عقیدت و احترام کا محور و مرکز ہیں۔ جب کہ دوسری جانب عمران خان کے گردوپیش میں جو افراد ہیں ان کے بارے میں فقط ایک بات قطعیت سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ ابن الوقت ٹولہ ہے جو ہر دور میں اقتدار کے سورج کی کرنوں سے اپنے اور اپنے خاندانوں کی سیاسی بقا کے لیے درکار توانائی حاصل کرتا رہا ہے۔ ریاست مدینہ کا نام استعمال کر کے عمران خان ہر وہ کام کر رہے ہیں جس کا ریاست مدینہ سے دور دور تک کا تعلق نہیں۔

ریاست مدینہ کے پاکیزہ تصور کو ذہن میں رکھ کر جب انسان موجودہ حکومت کے رنگ ڈھنگ اور چال چلن ملاحظہ کرتا ہے تو دل و جان میں کرب و رنج کی لہریں اٹھتی ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لیے ہم نے مقدس ہستیوں تک کو بھی نہیں بخشا۔ سیاست دانوں کی طرح فوجی آمروں کے خوشہ بینوں نے بھی کچھ کم کسر نہیں ڈھائی۔ فوجی آمر جنرل ایوب خان کو ان کے حمایتیوں نے چارلس ڈیگال سے تشبیہ دے ڈالی جب کہ پرویز مشرف کی صورت میں ان کے چاہنے والوں کو ترکی کا مرد آہن مصطفٰی کمال اتاترک نظر آتا تھا۔

فوجی آمروں کے دوسرے تمام تو جرائم کے باوجود انہیں اس سلسلے میں کم مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے کہ ان کے حمایتیوں نے کم از کم اس قدر زوال کم بینی کا مظاہرہ نہیں کیا کہ جب وہ شخصیات کے تقابل کر رہے تھے۔ آصف زرداری کو جب نیلسن منڈیلا سے تشبیہ دی جائے گی تو لازمی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اسی طرح جب نواز شریف کو قائد اعظم ثانی کے ”منصب جلیلہ“ پر فائز کیا جائے گا تو دل و دماغ یکدم ماؤف ہو سکتے ہیں۔

 جب عمران خان کو ریاست مدینہ کے حکمرانوں کے روپ میں دکھایا جائے گا تو یقیناً رگ و پے میں سنسناہٹ دوڑے گی۔ یہ سب کیفیات اس لیے جنم لیں گی کہ جب پلے کچھ نہ ہو تو پھر میلہ نہیں لوٹا جا سکتا بلکہ میلے کی بھیڑ میں انسان گم ہو جاتا ہے۔ ریاست مدینہ حکم رانوں، نیلسن منڈیلا اور قائد اعظم نے اپنے کردار و عمل سے تاریخ انسانی پر نقوش ثبت کیے کہ وہ آج بھی تابناک اور ضوفشاں ہیں، دوسری جانب بینر پر لکھی خوشامد سے مسرور افراد ہیں جو دیوار پر لکھی تحریر سے ہمیشہ بے خبر رہتے ہیں اور اس لیے ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •