عرب دنیا کا جائزہ سات چارٹس میں: کیا عرب دنیا میں مذہب سے دوری بڑھ رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Illustration

BBC
</figure>Arabs are increasingly saying they are no longer religious, according to the largest and most in-depth survey undertaken of the Middle East and North Africa.

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے اب تک کے سب سے بڑے اور تفصیلی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عربوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اب خود کو غیر مذہبی قرار دے رہی ہے۔

The finding is one of a number on how Arabs feel about a wide range of issues, from women’s rights and migration to security and sexuality.

یہ تحقیق ان کئی مطالعوں میں سے ہے جو کہ جنسی رویوں، تحفظ، ہجرت اور خواتین کے حقوق سے لے کر کئی معاملات پر ان کے خیالات جاننے کے لیے کی گئی۔

More than 25,000 people were interviewed for the survey – for BBC News Arabic by the Arab Barometer research network – across 10 countries and the Palestinian territories between late 2018 and spring 2019.

بی بی سی نیوز عربی کے لیے عرب بیرومیٹر ریسرچ نیٹ ورک کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں 2018 کے اواخر اور 2019 کے موسمِ بہار کے درمیان 10 ممالک اور فلسطینی علاقوں میں 25 ہزار سے زائد افراد کا انٹرویو کیا گیا۔

Here are some of the results.

ذیل میں سروے کے چند نتائج دیے جا رہے ہیں۔

عرب سروے

BBC
</figure><p>Since 2013, the number of people across the region identifying as "not religious" has risen from 8% to 13%. The rise is greatest in the under 30s, among whom 18% identify as not religious, according to the research. Only Yemen saw a fall in the category.

سنہ 2013 سے اب تک اس خطے میں خود کو ‘غیر مذہبی’ قرار دینے والے افراد کی تعداد 8 فیصد سے بڑھ کر 13 فیصد ہو گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ 30 سال سے کم عمر افراد میں دیکھنے میں آیا جن کی 18 فیصد آبادی خود کو غیر مذہبی قرار دیتی ہے۔ صرف یمن ایسا ملک ہے جہاں اس زمرے میں گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔

عرب سروے

BBC
</figure><p>Most people across the region supported the right of a woman to become prime minister or president. The exception was Algeria where less than 50% of those questioned agreed that a woman head of state was acceptable.

خطے کے زیادہ تر افراد نے خواتین کے صدر یا وزیرِ اعظم بننے کے حق کا دفاع کیا۔ صرف الجیریا ہی ایسا ملک تھا جہاں انٹرویو کیے گئے 50 فیصد سے بھی کم لوگوں نے خاتون کے سربراہِ مملکت بننے کے تصور سے اتفاق کیا۔

But when it comes to domestic life, most – including a majority of women – believe that husbands should always have the final say on family decisions. Only in Morocco did fewer than half the population think a husband should always be the ultimate decision-maker.

مگر جب گھریلو زندگی کی بات آئے تو زیادہ تر افراد بشمول خواتین کی ایک بڑی تعداد کا ماننا تھا کہ خاندان کے فیصلوں میں ہمیشہ حتمی فیصلہ مرد کا ہونا چاہیے۔ صرف مراکش ایسا ملک تھا جہاں آدھی سے کم آبادی کا یہ ماننا تھا کہ شوہر کو ہی حتمی فیصلہ ساز ہونا چاہیے۔

عرب سروے

BBC
</figure><p>Acceptance of homosexuality varies but is low or extremely low across the region. In Lebanon, despite having a reputation for being more socially liberal than its neighbours, the figure is 6%.

ہم جنس پرستی کی قبولیت تبدیل ہوتی رہتی ہے مگر پورے خطے میں کم یا انتہائی کم ہے۔ لبنان، جو کہ اپنے پڑوسیوں کے مقابلے میں سماجی طور پر زیادہ آزاد خیال تصور کیا جاتا ہے، وہاں یہ تعداد 6 فیصد ہے۔

An honour killing is one in which relatives kill a family member, typically a woman, for allegedly bringing dishonour onto the family.

غیرت کے نام پر قتل ایسا قتل ہے جس میں رشتے دار اپنے خاندان کے کسی شخص، عموماً عورت کو خاندان کی بدنامی کی وجہ بننے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

عرب سروے

BBC
</figure><p>Every place surveyed put Donald Trump's Middle East policies last when comparing these leaders. By contrast, in seven of the 11 places surveyed, half or more approved of Turkish President Recep Tayyip Erdogan's approach. 

سروے کی گئی ہر جگہ نے ان رہنماؤں کا موازنہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو سب سے آخر میں رکھا۔ اس کے مقابلے میں سروے کی گئی 11 میں سے سات جگہوں میں نصف یا اس سے زائد نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی حکمتِ عملی سے اتفاق کیا۔

Lebanon, Libya and Egypt ranked Vladimir Putin’s policies ahead of Erdogan’s.

لبنان، لیبیا اور مصر میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی پالیسیوں کی قبولیت اردوغان کی پالیسیوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی۔

عرب سروے

BBC
</figure><p><em>Totals for each country do not always sum to 100 because 'Don't know' and 'Refused to respond' have not been included.</em>

(کُل تعداد ہمیشہ 100 کے برابر نہیں ہوتی کیونکہ ‘معلوم نہیں’ اور ‘جواب دینے سے انکارکرنے والوں کو شمار نہیں کیا گیا۔)

Security remains a concern for many in the Middle East and North Africa. When asked which countries posed the biggest threat to their stability and national security, after Israel, the US was identified as the second biggest threat in the region as a whole, and Iran was third.

مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں کئی لوگوں کے لیے تحفظ و سلامتی اب بھی لوگوں کے لیے ایک فکر کی بات ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے ملک کے استحکام اور قومی سلامتی کو کس ملک سے سب سے زیادہ خطرہ ہے، تو اسرائیل کے بعد امریکہ کو خطے میں مجموعی طور پر دوسرا جبکہ ایران کو تیسرا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

عرب سروے

BBC
</figure><p>In every place questioned, research suggested at least one in five people were considering emigrating. In Sudan, this accounted for half the population. 

جن تمام جگہوں پر سوال کیے گئے، وہاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہر پانچ میں سے ایک شخص ترکِ وطن کے باری میں سوچ رہا ہے۔ سوڈان میں نصف آبادی ایسا سوچتی ہے۔

Economic reasons were overwhelmingly cited as the driving factor.

ترکِ وطن کی وجہ بننے والے عوامل میں اقتصادی وجوہات سرفہرست رہیں۔

The number of those considering leaving for North America has risen, and while Europe is less popular than it was it remains the top choice for those people thinking of leaving the region.

امریکہ جانے کے بارے میں سوچ رہے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور بھلے ہی یورپ پہلے کے مقابلے میں اتنا مقبول نہیں رہا مگر اب بھی یہ خطہ چھوڑنے کے خواہشمند افراد کا اولین انتخاب ہے۔


Methodology

طریقہءِ کار

The survey was carried out by the research network, Arab Barometer. The project interviewed 25,407 people face-to-face in 10 countries and the Palestinian territories. The Arab Barometer is a research network based at Princeton University. They have been conducting surveys like this since 2006. The 45-minute, largely tablet-based interviews were conducted by researchers with participants in private spaces.

سروے عرب بیرومیٹر نامی ریسرچ نیٹ ورک کی جانب سے کیا گیا۔ پراجیکٹ میں 10 ممالک اور فلسطینی علاقوں کے 25 ہزار 407 افراد کا دوبدو انٹرویو کیا گیا۔ عرب بیرومیٹر پرنسٹن یونیورسٹی میں قائم ایک ریسرچ نیٹ ورک ہے۔ ان کی جانب سے ایسے سروے 2006 سے کیے جا رہے ہیں۔ ٹیبلٹ پر لیے جانے والی 45 منٹ کے انٹرویوز شرکاء کے ساتھ رازدارانہ جگہوں پر کیے گئے۔

It is of Arab world opinion, so does not include Iran or Israel, though it does include the Palestinian territories. Most countries in the region are included but several Gulf governments refused full and fair access to the survey. The Kuwait results came in too late to include in the BBC Arabic coverage. Syria could not be included due to the difficulty of access.

یہ عرب دنیا کی رائے ہے چنانچہ اس میں ایران یا اسرائیل شامل نہیں مگر ان میں فلسطینی علاقے ضرور شامل ہیں۔ خطے کے زیادہ تر ممالک اس میں شامل ہیں مگر کئی خلیجی ممالک نے سروے تک مکمل اور شفاف رسائی دینے سے انکار کر دیا۔ کویت کے نتائج بہت دیر سی آنے کی وجہ سے بی بی سی عربی کی کوریج میں شامل نہ کیے جا سکے۔ شام بھی رسائی میں مشکل کی وجہ سے شامل نہیں کیا جا سکا۔

For legal and cultural reasons some countries asked to drop some questions. These exclusions are taken into account when expressing the results, with limitations clearly outlined.

قانونی اور ثقافتی وجوہات کی بناء پر کچھ ممالک نے کچھ سوالات حذف کردینے کے لیے کہا۔ نتائج شائع کرتے ہوئے ان محدودیات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔

You can find out more details about the methodology on the Arab Barometer website.

آپ عرب بیرومیٹر کی ویب سائٹ پر اس طریقہءِ کار کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11075 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp