این آر او کیا چیز تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آتش نے کیا خوب کہا تھا، ”بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا“۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ مینار پاکستان جلسے کے بعد جب موجودہ حکومتی جماعت کو طاقت کے سرچشموں سے شہہ ملی ہے تب سے این آر او این آر او کا شور جاری ہے۔ یہ شور انہوں نے اس وقت بھی مچا رکھا تھا جب انہوں نے 126 دن تک سڑکیں بلاک کیے رکھیں، پارلیمان کو معطل کرنے کی کوشش کی، پی ٹی وی پر حملہ کیا، پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑے، سپریم کورٹ کی دیوراوں کو دھوبی گھاٹ بنایا، سول نافرمانی جیسی غیر آئینی کال دی، عوام کو منی لانڈرنگ کی دعوت دی اور ’جب آئے گا عمران سب کی جان‘ کے پس منظر میں مسکراتے ہوئے بجلی کے بل جلائے۔

گزشتہ اگست سے لے کر آج تک عمران خان نے پارلیمان میں جو بھی تقریر کی، قوم سے جو بھی خطاب کیا، ان کے نمائندوں نے پارلیمان میں جب جب تقاریر کیں، جہاں جہاں انٹرویو دیے اس میں ایک ہی نعرہ انہوں تسلسل سے لگایا کہ این آر او نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ جس شخص کو یہ پارٹی کا چہرہ کہتے تھے، جس کو معاشی گرو کے منصب پر فائز کر رکھا تھا اسی شخص کو چھ ماہ میں ہی رخصت کر دیا اور معیشت کے لئے اس شخص کو قلمدان سونپ دیا جو زرداری حکومت کا مشیر خزانہ تھا۔

آپ ان کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گزشتہ دس سال کے قرضوں کا حساب مانگنے کے لئے جو کمیشن بنا رہے ہیں، جس میں ان کا دعوی ہے کہ کرپشن ہوئی ہے، اس میں وہ شخص بھی شامل ہو گا جو ان دس سالوں میں تین سال منسٹر برائے انوسٹمنٹ و پرائیوٹائزیشن رہے اور تین سال منسٹر فنانس رہے۔ صرف انہی پر کیا موقوف، عمران خان نے اور بھی بہت سے وعدے کیے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ آزاد امیدوارجیتنے کے بعد خود کو نیلام کرتا ہے، یہ صرف اپنے فائدے کے لئے الیکشن لڑتا ہے، ان کو نہ ہم پارٹی میں لیں گے اور نہ ان کو کوئی ووٹ دے۔

الیکشن کے بعد درجنوں کے حساب سے آزاد امیداوار جہانگیر ترین صاحب جہاز میں بھر بھر کر بنی گالہ لاتے رہے اور وہ مشرف بہ پی ٹی آئی ہو کر دھلتے رہے۔ انہوں نے پرویز الہی کو پنجاب کو کا سب سے بڑا ڈاکو کہا تھا، آج وہی پرویز الہی ان کے نہ صرف اتحادی ہیں بلکہ ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہو کر پنجاب اسمبلی کے اسپیکر بھی ہیں۔ صرف یہی نہیں عمران خان کی کابینہ میں سے 23 وفاقی وزراءمیں سے 17 کا تعلق ان جماعتوں سے تھا جن کو عمران خان چور کہتے رہے تھے، دیگر 23 وزراءمملکت، معاون خصوصی اور مشیروں میں سے 8 کا تعلق سابقہ کرپٹ جماعتوں سے تھا اور بقیہ 15 میں سے 10 ٹیکنوکریٹس اور دوست احباب ہیں جبکہ 5 پی ٹی آئی کے پرانے کارکن ہیں۔

ایسی صورت میں جب ملک کی معاشی صورتحال بہت زیادہ خراب ہے، پے در پے منی بجٹس، آئی ایم ایف کے پاس جانے یا جانے کی پریشان کن صورتحال نے معیشت کی حالت ابتر بنا دی ہے اور حکومت کے اقدامات سے کہیں بھی نہیں لگ رہا کہ یہ صورتحال جلد بہتر ہونے کی کوئی امید ہے۔ خارجہ اور داخلہ پالیسی پر حکومت بالکل خاموش ہے جیسے یہ فریضہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی کسی اور کے ذمے کر دیا ہو۔ میڈیا پر قدغنیں عائد ہیں۔ قومی اسمبلی کے ممبران نیب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہوں، ان کا پروڈکشن آرڈر یا جاری نہ کیا جا رہا ہو یا جاری کرنے کا اختیار ہی نہ ہو، ایسے میں ہر جگہ صرف این آر او، این آر او کی رٹ لگانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حکومت کی ترجیحات سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ نہیں ہیں اورنہ ہی ان میں ملک چلانے کی صلاحیت موجود ہے۔

سب سے پہلے مگر این آر او پر نظر ڈال لیجیے۔ گزشتہ روز حکومتی وزیر مراد سعید پارلیمان میں امریکہ کی سابق سیکریٹری اسٹیٹ کونڈا لیزا رائس کی کتاب لہراتے دیکھے گئے جس میں سے انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کونڈا لیزا رائس سے بھی این آر او میں مدد مانگی تھی۔ این آر او یا قومی مفاہمت کا فرمان جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 2007 میں جاری کیا تھا جب وہ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔

آرڈینینس کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اس سے قومی مصالحت کو فروغ ملے گا اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی اعتماد بحال ہو گا۔ اس اڑڈینینس میں جو سب سے اہم نکتہ ہے وہ کچھ یوں ہے کہ، ”وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے پہلے کسی بھی ملزم کے استغاثہ سے دستبردار ہو جائیں بشمول فرار ملزمان کے جو سیاسی وجوہات کی بنیاد پر جھوٹے طریقے ان میں ملوث کیے گئے ہیں یا انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، ان تمام کیسز میں جو 1 جنوری 1986 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 تک بنائے گئے ہیں“۔

یہ تو معلوم ہے کہ 1986 میں کس کی حکومت تھی اور سیاستدانوں کے خلاف کیسسز کس نے بنائے تھے۔ اس بیچ پیپلز پارٹی اور مسلم ن نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی انتقام میں کئی کیسسز بنائے۔ پھر پرویز مشرف نے طیارہ سازش کیس اور کرپشن کے نام پر ایسے کئی کیسسز سیاستدانوں کے خلاف بنائے۔ یوں سیاسی انتقام کا ایک طویل سلسلہ ہے جس میں ججوں، جرنیلوں، سیاستدانوں، احتساب بیورو کے سربراہوں کے اثر و رسوخ کی طویل داستانیں شامل رہی ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ این آر او سے 8041 لوگوں نے فائدہ اٹھایا جن میں صرف 34 سیاستدان تھے جبکہ باقی بیوروکریٹس، ایمبیسڈرز اور اس طرح کے دیگر ٹیکنوکریٹس اور غیر معروف احباب شامل تھے۔ یوں یہ تاثر دینا کہ این آر او سیاستدانوں نے کرپشن سے بچاؤ کے لئے ایک ڈکٹیٹر سے ایمنسٹی لی تھی بنیادی طور پر غلط تاثر ہے۔ سیاست دانوں کے بارے میں واضح ہے کہ ان کے خلاف کیسسز کی نوعیت سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے۔ ان میں چند ایسے ضرور ہوں گے جنہوں نے کرپشن کی ہو گی مگر یہ صرف کرپشن کی کہانی نہیں تھی۔

اور ان دیگر 8007 لوگوں کے بارے میں گھمبیر خاموشی کی چادر اوڑھ کر صرف سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہرانا اور صرف انہی سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہرانا جو پی ٹی آئی میں شامل ہر کر دھلے نہیں ہیں، یہ وہی سیاسی انتقام ہے جو اس سے پہلے بھی کئی بار اس ملک کی عوام دیکھ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ وکلاءتحریک کے بعد سپریم کورٹ کے 17 رکنی بنچ نے افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں اس این آر او کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا۔ اس وقت نہ صرف غیر ملکی ڈپلومیٹس بلکہ ملکی سطح پر اس فیصلے کے خلاف کئی سنجیدہ آوازیں اٹھی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اسے جوڈیشل ایکٹوازم اور creeping coup قرار دیا تھا۔

اس کا پس منظر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ پرویز مشرف کی گرفت اقتدار پر کمزور ہو رہی تھی۔ وہ جعلی ریفرنڈم کے بعد جعلی الیکشن کرا چکے تھے مگر اقتدار کی بھول بھلیوں میں ان کو ان کی خواہش کے مطابق طاقت برقرار رکھنا مشکل ہو رہی تھی۔ ادھر امریکہ اور مغرب کو اپنے مفادات کے حصول کے بعد مشرف میں دلچسپی نہیں رہی تھی اور انہوں نے مشرف سے جمہوری عمل بحال کرنے کے تقاضے شروع کر دیے تھے۔ وکلاءتحریک زوروں پر تھی۔

پرویز مشرف نہ اقتدار چھوڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی وردی اتارنا چاہتے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف وطن واپس آنے کے لئے اپنی اپنی لابنگ کر رہے تھے۔ بے نظیر کی کوشش تھی کہ عالمی طاقتیں کم ازکم مشرف کو فوج کی سربراہی چھوڑنے پر مجبور کر دے یا دوسرے الفاظ میں ایک باوردی صدر کی حمایت چھوڑ دیں۔ اور ایسا ہی ہوا۔ دو اکتوبر کو مشرف نے جنرل طارق مجید کو چئیرمین جوائنٹ چیفس کمیٹی نامزد کر دیا اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو وائس چیف آف آرمی نامزد کیا۔ پانچ اکتوبر 2007 کو انہوں نے قومی مفاہمتی آرڈینینس جاری کیا اور اٹھائیس نومبر 2007 کو فوج سے مستعفی ہو گئے۔

یوں این آر او کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ خالص دو جماعتوں کے سیاستدانوں کی کرپشن سے بریت کا پروانہ تھا بنیادی طور پر غلط معلومات اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ کونڈا لیزا رائس کی مذکورہ کتاب ”No Higher Honour“ نومبر 2011 کو پبلش ہوئی ہے جب کہ بے نظیر اپنا موقف دینے سے قاصر منوں مٹی تلے پڑی ہیں۔ یوں یہ ایک یک طرفہ کہانی ہے جسے مکمل سچ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ الزام کا جواب دینے کے لئے دوسرا فریق موجود ہی نہیں ہے۔ اس لئے ان دونوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں یہ قطعی طور پر حتمی نہیں ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ بینظیر امریکہ کو اس قائل کر رہی تھیں کہ وہ مشرف کی حمایت ترک کر دے اور پاکستان میں بحالی جمہوریت میں مدد کریں۔ ایسے میں اگر انہوں اپنے خلاف بننے والے سیاسی کیسز کو ختم کرنے کی بات کی ہے تو کوئی برا نہیں کیا۔

این آر او ایک گڑا مردہ ہے جس میں سے افتخار چوہدری صاحب کی جوڈیشل ایکٹوازم پہلے ہی خون چوس چکی ہے۔ پی ٹی آئی کو اب احساس ہو جانا چاہیے کہ وہ اب حکومت چلا رہے ہیں کنٹینر پر بِل نہیں جلا رہے۔ این آر او، این آر او کے بے معنی نعرے اور سیاسی انتقام کو چھوڑ کر ان کو گورنینس پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ ملک اس وقت معاشی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ عوام کے لئے ضروریات زندگی کا حصول ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ اگر بہت جلد اس طرف توجہ نہ دی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب اس ملک کے گلی کوچوں میں لوگ عمران خان کے پتلے نذر آتش کر رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 181 posts and counting.See all posts by zafarullah