بجٹ پر بحث اور اراکین اسمبلی کی بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بجٹ پیش ہوا اور پھر بحث کا آغاز ہوا۔ شور شرابہ اور غل غپاڑہ کے ابتدائی دور کے بعد ارکان اپنی اپنی باری پر بولتے رہے۔ شروع میں یہ سلسلہ سست روی کا شکار تھا لیکن بعد میں خاصی تیزی آگئی اور بحث رات گئے تک جاری رکھی جاتی رہی۔ معلوم ہوا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات تھیں کہ اس بحث کو جلد نمٹایا جائے اور پھر ہم نے دیکھا کہ اتوار کے روز بھی بجٹ بحث جاری تھی۔ حکومت نے زیادہ اپوزیشن کو موقع دیا گیا کہ وہ جو نقطہ اعتراض اٹھانا چاہیں اٹھائیں تاکہ بحث کو لپیٹ کر بجٹ منظوری کی طرف جایا جاسکے۔

قومی ایوان زیریں میں ارکان کی تعداد انتہائی کم رہی نہ اپوزیشن نے زیادہ پابندی کی اور نہ ہی حکومتی ارکان پارلیمنٹ نے کوئی اہمیت دی۔ محض چند ارکان نظر آتے جن میں سے اکثر آدھی کارروائی کے بعد رخصت ہوجاتے تھے۔

پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف مسلسل حاضر نظر آئے جبکہ پی ٹی آئی کے حماد اظہر، زرتاج گل اور مراد سعید بھی نظر آتے رہے۔
البتہ علی زیدی اور زرتاج گل ہاؤس میں گھومتے پھرتے گپیں لگاتے اور ہاؤس کو مقدس ایوان کی بجائے پکنک پوائنٹ کا تاثر دینے میں کامیاب رہے۔

بعض ممبران کے مطالبات نہایت دلچسپ رہے جیسے کہ اقلیتی ممبر پیپلز پارٹی رمیش لال نے ایک مطالبہ کیا کہ بار بار پارٹی بدلنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کوئی نیا قانون بنایا جائے تاکہ ’لوٹا کریسی‘ کا خاتمہ ہو اور محض مفادات کی سیاست کرنے والوں کا راستہ روکا جاسکے انہوں فردوس عاشق اعوان کی مثال دی جس پر پی ٹی آئی میں شور مچ گیا اور اسپیکر کو مداخلت کرنا پڑی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ مطالبہ کرنے والے خود ان ممبران کی دیگر جماعتوں سے ان کی پارٹی میں عین اس وقت شمولیت کا دعوی بھی کرتے رہے جب الیکشن میں ان کی پارٹی کے جیتنے کے روشن امکانات تھے۔ پوچھنا چاہیے کہ اس وقت آپ نے بقول ان کے ”لوٹوں“ کو کیوں پارٹی میں جگہ دی؟ اگر آپ خود اسوقت ان کو مسترد کرتے تو آج ان کی جگہ کہیں بھی نہ ہوتی اور آپ یوں ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہ کرتے۔

بہرحال بات کرتے ہیں کہ دیگر ارکان اسمبلی نے کیا کہا۔ پی ٹی آئی کے افضل ڈھانڈلہ نے آغاز اشعار سے کیا جس پر اپوزیشن نے خوب ڈیسک بجا کر داد دی اور مکرر مکرر کی آوازوں سے ہاؤس گونجنے لگا۔ کچھ وقت کے لئے ہاؤس ایک مشاعرہ گاہ میں تبدیل ہوگیا۔ انہوں نے آخر میں اپنے علاقے کے مسائل پر توجہ دلائی جن میں ایک مطالبہ بھکر میڈیکل کالج کا تھا۔

حیرت کی بات ہے کہ اگر دیکھا جائے جنوبی پنجاب کے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد ہمیشہ سے اتنی رہی ہے کہ اگر ایک رکن محض ایک مطالبہ ہی پورا کروا لیتا عمر بھر کی سیاست میں تو شاید ان علاقوں میں زندگی ایسی بے بس، مجبور اور لاچار نہ ہوتی۔

عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے عوام میں ایک امید تو پیدا ہوگئی کہ اگر معیشت کو استحکام ملا تو ملک کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی ضروریات کو فراہم کرنے پہ توجہ دی جائے گی شاید یہی وجہ ہے کہ ابکہ سیاست دان بھی کچھ متحرک ہیں کہ اپنے علاقوں کے مسائل حل کروانے چاہیں۔ افضل ڈھانڈلہ نے زراعت پر توجہ دینے کا مطالبہ بھی کیا اور جھنگ بھکر ڈبل روڈ کے مطالبے کے ساتھ ساتھ کچا کے علاقے کی پسماندگی پر بھی بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ تھل میں گزشتہ پانچ سالوں میں چنے کی اکلوتی فصل جو ہوتی ہے وہ بھی نہ ہوئی کیونکہ موسمی تبدیلی نے فصل کو نقصان پہنچایا اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں اورتھل کی سرکاری بیکار زمین تھل کے باسیوں کو الاٹ کی جائے۔ مزید یہ کہ سرائیکی صوبہ بنایا جائے اور بھکر کو اس کا حصہ بنایا جائے۔

مطالبات سارے قابل توجہ تھے لیکن شومئی قسمت کہئے کہ پی ٹی آئی کی باری آئی تو قومی خزانے میں دم خم نہ تھا جو پسماندگی کو کم کرنے کا بوجھ اٹھاتے۔

مسلم لیگی رکن پارلیمنٹ طاہرہ نے بھی اپنی باری آنے پر حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ۔ بنایا اور کہا کہ میں ایک گھریلو عورت ہوں اور مہنگائی سے پریشان ہوں۔ انہوں نے 70000 بجلی کا بل آجانے پر دہائی دی کہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے۔

دیگر ارکان نے بھی بجٹ پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں مسائل کے حل کے لئے حکومت سے مختلف مطالبات کیے ۔

تعلم کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے ایک قومی نصاب تشکیل دینے کی نوید بھی سنائی گئی تاکہ ملک میں تعلیم کو کاروبار بنانے والوں کی حوصلہ شکنی کے ساتھ امیر غریب کے لئے یکساں تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس دوران سعد رفیق کی آمد پر کچھ دیر ہلچل دیکھنے میں آئی۔ پی ٹی آئی کے حماد اظہر اور سعد رفیق کی ملاقات میں گرمجوشی بھی کچھ غیر معمولی تھی۔

سپیکر اسد قیصر کا انداز مصالحت انگیز ہے وہ اپوزیشن کو موقع دیتے ہیں کہ وہ حکومت پر تنقید کریں اور شور شرابا کرتے رہیں، البتہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا انداز مختلف ہے۔ انہوں نے کئی بار سخت الفاظ کا استعمال کیا اور ارکان کو ڈسپلن قائم رکھنے کی تلقین کرتے رہے۔

ایوان میں وزیر اعظم کو بار بار سلیکٹڈ وزیر اعظم کہا گیا تو ڈپٹی اسپیکر نے لفظ سلیکٹڈ کے استعمال پر پابندی عائد کردی جس کی شاید ایسی ضرورت نہ تھی۔ اپوزیشن کا تو کام ہی یہی ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرتی ہے البتہ حکومتیں تنقید کو خندہ پپیشانی سے قبول کرتی اور جہاں اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے وہاں اصلاح کرتی رہتی ہیں۔

پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں بیٹھے صحافی ان ارکان پارلیمنٹ کی تقاریر کے ساتھ ساتھ ان کی حرکات وسکنات کو بھی احاطہ تحریر لاتے ہیں کہ ایک عام آدمی جو اپنی آنکھوں سے اسمبلی کی کارروائی نہیں دیکھ سکتا وہ بھی ان کی تحریر کی ذریعے پس منظر کو جان سکے۔ جیسے نئے آنے والوں کے لئے پریس گیلری میں بیٹھ کر اسمبلی اجلاس کی کارروائی دیکھنے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض نا امید ہو کر اٹھتے ہیں اور بعض نئی معلومات لے کر رخصت ہوتے ہیں۔

بعض سوچتے ہیں کہ 22 کروڑ آبادی میں سے ہم نے کیا نمائندے چنے جن کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا ڈھنگ بھی نہ آیا وہ بھلا ایسی مشکل صورتحال میں ملک کو کیاسنبھالیں گے۔ ایسی گفتگو عموماً سننے کو ملتی ہے اور اس کی بڑی وجہ حکومتی جماعت کے ارکان کی غیر سنجیدگی ہے۔ خود مجھے اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ ایک سیشن کروڑوں روپے کا پڑتا ہے لیکن عوام کے ٹیکس سے چلنے والی پارلیمنٹ کے اراکین کو اس کا احساس نہیں کہ وہ اس مقدس ایوان میں عوام کے مسائل حل کرنے آئے ہیں، وقت گزارنے نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعدیہ کیانی کی دیگر تحریریں
سعدیہ کیانی کی دیگر تحریریں