شاہ جی اور لال آندھی

”آج لال آندھی آنی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں آسمان پہ خدا کا جلال نظر آنے کو ہے۔ بہت احتیاط سے رہنا۔ استغفار پڑھو، توبہ کرو۔ اللہ کے آگے سر کو جھکا لو اور اس کے جلال سے پناہ مانگو۔ آج زمین بھی بے قرار ہے اور آسمان بھی غضبناک۔“ شاہ جی بولتے تھے تو ہم سب خاموشی سے سنتے تھے۔ ہمارے دلوں میں دہشت بیٹھ جاتی تھی۔ ہم ڈرنے لگتے۔ اللہ سے توبہ تائب کرتے اور شہداء کربلا کے

Read more

ایک مصیبت کی ماری عورت کی بپتا

”باجی میرے اندر سے پیپ اور خون ایسے بہہ رہا تھا جیسے کسی نے پانی والا نلکا کھول دیا ہو“۔ وہ ہاتھ کے اشارہ سے اپنی حالت بتاتے ہوئے بولی : ”میرا 7 روز کا بچہ کمرے میں پڑا چلا چلا کر رو رہا تھا کیونکہ مجھے یہاں دروازے میں بیٹھے اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ میری ہمت اب واپس کمرے تک جانے کی بھی نہیں رہی۔ اس پر میرے ٹانکوں میں پڑی پس اس طرح بہہ رہی تھی کہ

Read more

یو ایس ایڈ کے کاغذی رول ماڈل

میرے والد صاحب بہت امیر آدمی تھے۔ مجھے تعلیم کے حصول سے لے کر بزنس تک مکمل تعاون ملا البتہ ہمارے ہاں جاب کرنامعیوب سمجھا جاتا تھا اس لیے جب میں نے اپنی این جی او بنانے کا سوچا تو یہ ذرا مشکل تھا۔ ہم امیر گھرانوں کی خواتین کا کام کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن میرے ابو بہت کھلے دل و دماغ کے مالک تھے اس لیے ناصرف میں نے اس میں خوب نام بنایا بلکہ یو

Read more

نواز شریف کے مصائب میں مریم نواز کا کردار اور مریم کا مستقبل

”مریم نواز بیٹی ہونے کے باوجود باپ کی مشکلات میں ساتھ کھڑی ہے“
”مشکلات بھی تو اسی نے گھڑی ہیں باپ بچارہ تو جیل بھی اسی لئے گیا کہ جو خاموش رہنے کا معاہدہ ہوا تھا وہ مریم نے اپنی سخت زبان کے استعمال سے ختم کردیا۔ ظاہر ہے دریا میں رہتے مگرمچھ سے کون لڑتا ہے؟ اب بھگتیں“۔

Read more

زانی جمہوریت کی طوائف سینٹ ایک بار پھر بک گئی

سینٹ چیئرمین کے خلاف تحریل عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تو بھاگم بھاگ وہاں پہنچی۔ پریس گیلری میں صحافیوں کا رش لگا ہوا تھا۔ سبھی اس اہم کارروائی کو دیکھنا چاہتے تھے۔ میں بھی جگہ بناتی ہوئی فرنٹ رو تک پھلانگ پھلونگ کر پہنچ گئی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود پر نظر پڑگئی جو عین میرے پیچھے والی رو میں بیٹھے تھے۔ سلام دعا اور مزاج پرسی کے بعد ارد گرد نظر دوڑائی۔ خوب گہما گہمی تھی۔ اجلاس شروع ہونے میں کچھ وقت تھا اس لیے میں نے ذرا سا آگے ہوکر نیچے جھانکا تو تقریبا سبھی ارکان سینٹ ہاؤس میں نظر آئے۔

Read more

سانجھی

کرتارپور بارڈر سکھ یاتریوں کے لئے کھول دیا گیا جو بہت خوش آئند بات ہے۔ ایک تصویر دیکھی جس میں ایک سکھ یاتری چندن ( صندل) کے پودے پاکستانی سرزمین کے لئے تحفے کی خاطر لائے۔ دل خوش ہوا کہ تحفہ تو محبت کی علامت ہے۔ اس خطے نے اتنا خون خرابہ دیکھا کہ اب محبت اور امن کی بات کو دل ترس گئے ہیں۔ کرتار پور راہداری منصوبہ محبت کی راہ ہموار کرتا نظر آتا ہے۔ اس موقع پر

Read more

دوسری شادی: دوسرا رخ

دو سال میں کتنی عیدیں گزریں؟ کوئی ایک ہی عید میرے ساتھ گزاری ہوتی؟ یہ ہے مطلب فیملی کا تمہاری نظر میں؟ میں نے سب چھوڑ دیا تمہاری خاطر طے کرلیا تھا جہاں تم خوش وہیں میں راضی۔ جو تمہاری خواہش وہی میری ضرورت۔ جیسے تم چاہو گے ویسی نظر آونگی۔ کیا میں نے تمہاری چاہت میں کوئی شریک بنایا؟ بتاؤ۔ کیا میری خالص محبت نے ہر بار تمہیں تازگی اور قوت نہ بخشی؟ سچ بتاؤ۔ جو پیار تم کو

Read more

پاکستان کا مشہور برانڈ عمران خان

عمران خان ایک برانڈ ہے جس کا استعمال باجوہ ڈاکٹرائن نے بہت عمدہ طریقے سے کیا۔
عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کامیاب قرار پائی۔ آرمی چیف کے ساتھ مشاورت اور حساس موضوعات پر مکمل بریفنگ کا اندازہ وزیر اعظم کی بنا پرچی گفتگو سے ہورہا تھا۔ بہت حساس اور بہت اہم معاملات پر بہت نپے تلے انداز میں بات کرتے ہوئے عمران نے پاکستان کی موثر سفارتکاری کا ایک نیا باب کھول دیا۔

Read more

بھلا پرفیکٹ بھی کچھ ہوتا ہے؟

موٹی آنٹی ہم آگئے۔ چھوٹی نے سیڑھیاں چڑھتے ہی نارے کو آواز لگائی۔ وہ پہلے ہی دروازے کے عین سامنے بازو پھیلائے کھڑی تھی۔ زور سے بچوں کو بھینچ کر پیار دیا اور میری طرف بڑھی۔ نارے کو جپھی لگانے کے لئے بازو انکریڈبل فورس والے چاہیے ہوتے ہیں۔ محترمہ نے خوب وزن بڑھا رکھا تھا اور پہلی نظر میں یوکوزونا (پہلوان) کی رشتے دار لگتی تھی۔

Read more

میرے دل میں ایک چھید اور ہو گیا

بیٹی مرگئی ہے اس کی!
کیا؟ کس کی بیٹی مر گئی؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔
وہی جس کے آپریشن کے لئے ہم نے پیسے جمع کیے تھے۔ کام والی کی 13 سالہ بیٹی مر گئی۔
گذشتہ ماہ جب لاہور سے واپس آئی تو میری دوست نے مجھے بتایا، جس کام والی کی بیٹی دل کے عارضے میں مبتلا تھی اور آپریشن کے لئے ہم ادھر ادھر سے پیسے جمع کررہے تھے وہ آپریشن کے چند روز بعد مرگئی۔

Read more

حضرات شادیاں کیجئے، گناہ نہ کیجئے

”مردوں میں ساری خوبیاں ہوتی ہوں گی ماسوائے عورت سے وفاداری کے“۔ روف کلاسرا کے منتخب کالموں پر مشتمل کتاب ”آخر کیوں“ پڑھتے ہوئے یہ جملے میری توجہ کا مرکز بن گئے۔ اپنی ایک یونانی دوست کا تذکرہ کرتے ہیں جو مردوں کی بیوفائی کا رونا روتے ہوئے کہتی ہے کہ مردوں کے لئے ”ایک عورت پر اکتفا کرنا ان کی فطرت میں نہیں ہے“۔

ہمارا معاشرہ جس پستی کا شکار پے وہاں اس موضوع پہ تحقیق کی جائے تو دلخراش حقائق سامنے آئیں گے۔ کس طرح مرد اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے نامحرم عورتوں کے پیچھے پھرتا ہے۔ اسی طرح بعض عورتیں اس گھناونے کاروبار میں ملوث ہیں کہ مردوں کی خواہشات کو معاوضہ لے پورا کیا جائے۔

Read more

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

اب اس وڈیو لیک کے بعد جج ارشد ملک کے ساتھ ساتھ نواز شریف خاندان ایک بار پھر مصیبت میں گرفتار ہوتا نظر آتا ہے۔ مریم نواز کو جو استثنی (جو رعایت حاصل تھی) ملا تھا۔ عنقریب وہ آزادی سلب ہوتی نظر آتی ہے۔ فلیگ شپ میں نواز شریف کی بریت اب چیلنج ہوسکتی ہے۔ فلیگ شپ اور العزیزیہ کیس اور نواز شریف کی اپیل کا جائزہ اب نئے شواہد کی روشنی میں لیا جائے گا۔ جس کردار کو مریم نواز نے شطرنج کی بساط پر بادشاہ کے حفاظتی حصار کے طور پر استعمال کیا ہے شاید وہی مہرہ آخرکار مات کا سبب بن جائے۔ کیونکہ بادشاہ اپنے بچاؤ کے لئے ایک ایک گھر چلتا ہے جبکہ ناصر بٹ وہ مہرہ ثابت ہوا جس نے بادشاہ کے آخری چند قدم بھی بلاک کردیے۔ اب بس مخالفین کی کارروائی کا انتظار ہے کہ کتنی چالوں میں کھیل ختم کیا جائے۔

Read more

چٹنی، لسی اور تندور کی روٹی

”آپا تندور گرم ہوگیا“ میں نے خمار بھری نگاہوں سے دیکھا۔ یہ تندور اتنا بڑا کیوں ہے؟ بالکل کمرے جیسا! اگلے چند لمحوں میں حواس بحال ہوئے تو دیکھا کہ میں تو سوئی ہوئی تھی اور گاؤں کی گرمی نے کمرے کو تندور بنا رکھا تھا۔ بیزار ہو کر کروٹ بدلی تو کمر پہ ٹھنڈک کا احساس ہوا۔

”خدایا! ساری پسینوں پسین ہوگئی یہ لڑکی۔ اٹھ میرا پتر! ابھی جاکر نہا لے ورنہ کچھ دیر میں ٹینکی کا پانی کھولنے لگے گا تو نہانا بھی ممکن نہ رہے گا“
ٹائی اماں نے اپنے پلو سے میرے چہرے کا پسینہ صاف کیا جو اب آنکھوں میں پڑنے لگا تھا۔

ہائے تائی جی! یہ اتنی گرمی کیوں ہے یہاں، میں نے تقریبا روتے ہوئے کہا تو تائی نے پچکارنے ہوئے میری تھوڑی ہلائی۔ گرمی نہ ہو تو فصل کیسے پکے؟ اناج کو پکانے کے لئے تو آسمان آگ برساتا ہے۔ تب میرے ذہن میں گونجا ’اسی لئے مجھے اپنا آپ تندور میں ِسکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ لیکن وہ آواز کس کی تھی؟ ابھی یہ خیال ذہن میں ابھرا ہی تھا کہ خالہ سر پہ روٹیوں کی بڑی سی چھابی رکھی کمرے میں داخل ہوئیں۔

Read more

مسقبل پہ میری نگاہ

2014 سے میں نے ایک خاص موضوع پر بہت لکھا۔ موضوع تھا پاکستان کا مسقبل کیا ہے؟ اور یہ کہ میں مسقبل کیسے دیکھتی ہوں۔ میری جمع تفریق ماضی اور حال کے پیٹرن کو دیکھ کر ہوتی یے۔ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے وہ شعور عطا کیا ہے کہ پرانی روش دیکھ کر آنے والے فیصلے کا اندازہ ہو جایا کرتا ہے۔

2017 میں جب نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا تو میں 25 اور 26 جولائی کو متوقع فیصلہ لکھ کر سوشل میڈیا پر شئیر کرچکی تھی وہ دونوں نوٹ اب بھی سوشل میڈیا کی ہسٹری میں موجود ہیں۔ بعد میں جو کچھ ہوا وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا تحریر کیا بلکہ برطانیہ میں اسوقت منی لنڈرنگ کی تحقیق کا قانون ہی نہ تھا۔ وہ بھی بعد میں منظور ہوا جبکہ میں پہلے لکھ چکی تھی کہ ایسا ممکن ہے۔

Read more

عمران خان کا ووٹر آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

عمران خان کے ووٹرز کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی آسمان سے گرے تو کھجور میں اٹکے۔ تبدیلی کے خواہش مندوں کی حالت یہ ہے کہ وہ نواز زرداری سے بھاگے تو خان کو ٹکرائے۔

نواز شریف کے بعد بے نظیر اور پھر نواز، گزشتہ تین چار دہائیوں میں دو ہی پارٹیاں اقتدار میں آتی جاتی رہیں اور فلاح و بہبود یا ترقی سے ان کو کوئی سروکار نہ رہا۔ درمیان میں جنرل مشرف تشریف لائے تو کچھ کام تیزی سے ہونے لگے لیکن جیسے ہی وردی سے نکل کر سیاستدانوں کے گروپ میں شامل ہوئے تو انہوں نے بھی صرف ذاتی ترقی کو ہی کامیابی سمجھ لیا اور ملک کی ناؤ میں دیگر کی طرح دو چار چھید اور ڈال دیے کہ ترقی والی ریس میں ملک ہم سے آگے نہ جائے۔

Read more

لفظ سلیکٹڈ عمران خان کی چڑ ہے یا چال؟

خان صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ روز ٹیلی وژن کے آگے بیٹھ جاتے ہیں اور ٹی وی شوز میں اینکرز کی گفتگو سننے کے بعد، وزیروں اور مشیروں کی میٹنگ کال کیے بنا خود ہی قوم سے خطاب کو چل پڑتے ہیں۔ تاکہ جو تنقید ہوئی یا کوئی الزام عائد ہوئے ان کا جواب خود ہی دیا جائے جبکہ اتنی بڑی وزیروں مشیروں کی فوج ایک دوسرے کا منہ تکتی رہ جاتی ہے۔ یہ بات گزشتہ دنوں ایک رکن پارلیمنٹ سے بات چیت کے دوران سننے کو ملی۔ جو وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا سٹریٹجی کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اجلاسوں میں دفاعی بیانیے سے بھی خاصے غیر مطمئن نظر آتے تھے۔

Read more

اٹھارہویں ترمیم آخر ہے کیا؟

اٹھارہویں ترمیم کے نقصانات اقلیتوں کے لئے بھی زیادہ ہیں۔ اقلیتوں کو بھی صوبوں کی طرح تقسیم کردیا گیا۔ سندھ کے ہندو دوسرے شہروں اورصوبوں کی طرف ہجرت کرنے پہ مجبور ہوگئے کیونکہ ان کی عزتوں کو خطرہ ہے۔ عید کے دنوں میں غریبوں نے خودکشیاں کیں کیونکہ بچوں کو کچھ نہیں دے سکتے تھے۔

حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران ایک اقلیتی ممبر سندھ میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا رونا روتے ہوئے اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔
اٹھارہویں ترمیم آخر ہے کیا؟ ہمارے ہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی ایک آدھ شق کا اضافہ ہوا یا کوئی شق حذف ہوئی جبکہ ایسا نہیں۔

Read more

بجٹ پر بحث اور اراکین اسمبلی کی بے حسی

بجٹ پیش ہوا اور پھر بحث کا آغاز ہوا۔ شور شرابہ اور غل غپاڑہ کے ابتدائی دور کے بعد ارکان اپنی اپنی باری پر بولتے رہے۔ شروع میں یہ سلسلہ سست روی کا شکار تھا لیکن بعد میں خاصی تیزی آگئی اور بحث رات گئے تک جاری رکھی جاتی رہی۔ معلوم ہوا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات تھیں کہ اس بحث کو جلد نمٹایا جائے اور پھر ہم نے دیکھا کہ اتوار کے روز بھی بجٹ بحث جاری تھی۔ حکومت نے زیادہ اپوزیشن کو موقع دیا گیا کہ وہ جو نقطہ اعتراض اٹھانا چاہیں اٹھائیں تاکہ بحث کو لپیٹ کر بجٹ منظوری کی طرف جایا جاسکے۔

Read more