”آپا تندور گرم ہوگیا“ میں نے خمار بھری نگاہوں سے دیکھا۔ یہ تندور اتنا بڑا کیوں ہے؟ بالکل کمرے جیسا! اگلے چند لمحوں میں حواس بحال ہوئے تو دیکھا کہ میں تو سوئی ہوئی تھی اور گاؤں کی گرمی نے کمرے کو تندور بنا رکھا تھا۔ بیزار ہو کر کروٹ بدلی تو کمر پہ ٹھنڈک کا احساس ہوا۔
”خدایا! ساری پسینوں پسین ہوگئی یہ لڑکی۔ اٹھ میرا پتر! ابھی جاکر نہا لے ورنہ کچھ دیر میں ٹینکی کا پانی کھولنے لگے گا تو نہانا بھی ممکن نہ رہے گا“
ٹائی اماں نے اپنے پلو سے میرے چہرے کا پسینہ صاف کیا جو اب آنکھوں میں پڑنے لگا تھا۔
ہائے تائی جی! یہ اتنی گرمی کیوں ہے یہاں، میں نے تقریبا روتے ہوئے کہا تو تائی نے پچکارنے ہوئے میری تھوڑی ہلائی۔ گرمی نہ ہو تو فصل کیسے پکے؟ اناج کو پکانے کے لئے تو آسمان آگ برساتا ہے۔ تب میرے ذہن میں گونجا ’اسی لئے مجھے اپنا آپ تندور میں ِسکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ لیکن وہ آواز کس کی تھی؟ ابھی یہ خیال ذہن میں ابھرا ہی تھا کہ خالہ سر پہ روٹیوں کی بڑی سی چھابی رکھی کمرے میں داخل ہوئیں۔
Read more