لیاقت علی عاصم، ایک مختصر تاثر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روز پیروں تلے کچلتا ہوں
پھر بھی سر پر سوار ہے دنیا

لیاقت علی عاصم کا نام میں اس وقت سے سنتا آیا ہوں جب سے با قاعدہ لکھنے اور چھپنے چھپانے کے مواقع میسر آنے شروع ہوئے۔ یہ شاید 1985 یاس اس کے کچھ بعد کی بات ہے جب میں نے چند بہت عمدہ اشعار سنے پڑھے اور مجھے پسند آئے۔ بعد میں علم ہوا کہ یہ اشعار لیاقت علی عاصم کے ہیں۔ تب سے ان کے ساتھ قربت کا ایک خاص احساس رکھتا ہوں لیکن اس کے باوجود ان کا کل کلام میری دسترس میں کبھی نہیں آیا۔ غالباً ان کے سات شعری مجموعوں میں میں دو تین ہی دیکھ پایا اور ایک آدھ انتخاب۔ لیکن اس محدود مواد میں سے بھی میرے پسندیدہ اشعار کی تعداد سیکڑوں میں ہو گی۔ خاص طور پر یہ چند اشعار دیکھیے

کوئی لباس کفن کے سوا نہیں جچتا
مرے وجود میں ایسا سلا ہوا دکھ ہے

علاج یہ ہے کہ نشتر لگا دیا جائے
لہو نہیں یہ رگ و پے میں دوڑتا دکھ ہے

مجھے لیاقت علی عاصم کے ساتھ ملنے کے مواقع بھی کم کم ہی میسر آئے ہیں لیکن جو ایک دو ملاقاتیں ہوئیں ان میں ان کی شفقت، متانت اور اخلاص نے دل جیت لیا۔ ان سے میرے رابطے کی ایک صورت انٹرنیٹ کی ادبی چوپالیں بھی رہی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دو بار میں نے ان کے کلام پراپنے محدود علم کے مطابق کچھ رائے زنی بھی کی اور بعد میں نادم بھی رہا مگر انہوں نے کبھی مجھے یہ باور نہیں کرایا کہ وہ خفا ہیں بلکہ جب جب رابطہ ہوا اسی شفقت سے پیش آتے رہے۔ ایسے مشفق لوگ اب نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ ایسی شخصیات ہماری عظیم مشرقی تہذیبی روایت کی زندہ نشایوں میں سے ہیں۔

اس بات میں کیا کلام ہے کہ لیاقت علی عاصم اور غزل کا نام دور عہد میں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ لیاقت علی عاصم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ
اس سے بہتر کوئی تصویر نہیں ہے مرے پاس
دیکھ سکتی ہے مجھے میری غزل میں دنیا

ان کی شعر گوئی کی تکنیک مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے۔ ان کے ہاں اشعار پورے جواز کے ساتھ وارد ہوتے ہیں اور غیر ضروری اشعارکی تعداد کم ہوتی ہے۔

ذخیرہء الفاظ، روزمرہ و محاورہ کے تنوع اور الفاظ کی درست نشست کے حوالے سے بہت ثروت مند ہیں۔ مجھے ان کے انداز بیان کی سادگی اور سہولت نے ہمیشہ متاثر کیا۔
جو حسن کی تلاش میں نکلے اسی کا دن
جو آنکھ کو چراغ بنا لے اسی کی رات

ان کے اشعار میں بڑی سے بڑی بات بھی ایک بے تکلفی اور سلاست کے ساتھ ادا ہوتی ہے۔ ان کے اس مشہور عالم شعر میں دیکھئے کہ مو ضوع کتنا بڑاہے اور کتنی بڑی تاریخی حقیقت کو چند لفظوں کی مدد سے نئی طرح پینٹ کر دیا گیاہے

ورنہ سقراط مر گیا ہوتا
اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
Jun 27, 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •