جاوید شاہین، چند یادیں، باتیں اور انتخاب کلام

اکتوبر کے مہینے میں پیدا ہونے اور اسی مہینے میں وفات پا جانے والے ممتاز شاعر جاوید شاہین کی زندگی ایک مسلسل تغیر و تبدل سے عبارت ہے، جو کہ اتفاقی نہیں بلکہ منطق اور منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ 1932ء سے 2008ء تک پھیلا ہو، ان کا سفرِ حیات، ان کی پیہم جستجو، جد…

Read more

لیاقت علی عاصم، ایک مختصر تاثر

لیاقت علی عاصم کا نام میں اس وقت سے سنتا آیا ہوں جب سے با قاعدہ لکھنے اور چھپنے چھپانے کے مواقع میسر آنے شروع ہوئے۔ یہ شاید 1985 یاس اس کے کچھ بعد کی بات ہے جب میں نے چند بہت عمدہ اشعار سنے پڑھے اور مجھے پسند آئے۔ بعد میں علم ہوا کہ یہ اشعار لیاقت علی عاصم کے ہیں۔ تب سے ان کے ساتھ قربت کا ایک خاص احساس رکھتا ہوں لیکن اس کے باوجود ان کا کل کلام میری دسترس میں کبھی نہیں آیا۔ غالباً ان کے سات شعری مجموعوں میں میں دو تین ہی دیکھ پایا اور ایک آدھ انتخاب۔ لیکن اس محدود مواد میں سے بھی میرے پسندیدہ اشعار کی تعداد سیکڑوں میں ہو گی۔ خاص طور پر یہ چند اشعار دیکھیے

Read more

”رنگ باتیں کریں“ (یعقوب آسی کے ریڈیو ڈرامے) اور پنج ریڈیو

ایک مقبول خیال یہی ہے کہ بظاہر ریڈیو اور خاص طور پر ڈراموں کا دَور ختم ہو چکا، لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ایک انٹر نیٹ لائبریری میں مختصر ریڈیو ڈراموں کے ایک مجموعے کو پڑھ کر ہوا۔ یہ مشہور ڈیجیٹل لائبریری ہے جو سینئر رائٹر اعجاز عبید کی دہائیوں…

Read more

ممتاز شیخ کا بڑا کارنامہ ”لوح“

ممتاز شیخ کا نام علمی وادبی حلقوں میں ایک عرصے سے خوب جانا پہچانا جاتا ہے۔ وہ بذات ِ خود بھی تخلیق کار ہیں لیکن انہوں نے اپنی ذات کو پسِ پشت رکھ کر اپنے آ پ کو اعلیٰ ادبی اقدار کے فروغ کی خاظر اجتماعی ادبی سرگرمیوں کے لئے وقف کیا ہوا ہے جو کہ نہایت قابلِ قدر بات ہے خصوصا اس تناظر میں کہ ان کی یہ موقر مساعی زیادہ تر ان کے ذاتی وسائل پر منحصر ہوتی ہیں۔ ممتاز شیخ نے اولڈ راوئینز کے پلیٹ فارم کو جو عزت و توقیر بخشی اسے بہت قدر کی نگا سے دیکھاجاتا ہے۔

چند سال قبل اولڈ راوئینز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اعلیٰ معیار کے مشاعرے جتنے معروف و مقبول ہوئے وہ سب کو یاد ہو گا۔ ان مساعی کے اگلے مرحلے میں ممتاز شیخ نے اعلی معیار کے ایک ادبی جریدے کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر کی تلاش میں سرگرادں ہو گئے حالانکہ انہیں خوب علم تھا کہ ادبی پرچوں کی اشاعت کسی بھی دور میں منافع بخش کاروبار نہیں رہی بلکہ مبینہ طور پر یہ پرچے اپنی قیمت بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں اسی لئے مدیران لمبے عرصے تک ان کا بوجھ اٹھا نہیں پاتے۔

Read more