نئی تخلیقی صنف ” عشرہ” کا ظہور اور اس کی مقبولیت

تاریخی طور پر نظم کسی ایک ہیئت میں نہیں لکھی گئی۔ پابند نظم کی کئی صورتیں مسدس، مخمس، ثلاثی وغیرہ کے ناموں سے مقبول رہی ہیں جن میں مختلف مصرعوں میں قافیے کی ترتیب کا اہتمام بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ آزاد نظم کے فروغ کے بعد سانیٹ اور ترائیلے کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی گئی جو زیادہ پابندیوں کی حامل قدرے پیچیدہ صورتیں تھیں لیکن مسدس اور سانیٹ کیا، مخمس اور ترائیلے کیا، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ

Read more

علی مطہر اشعر مرحوم، تعارف و انتخاب کلام

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے اس شعر کے خالق غزل کے ممتاز و معروف شاعر سید علی مطہر اشعر نقوی دو ستمبر 2022 کو ہم سے جدا ہو گئے۔ ان کی عمر تقریباً ”85 سال تھی وہ شکار پور ( متحدہ ہندوستان ) میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے واہ میں آباد ہوئے۔ انٹر میڈیٹ تک تعلیم بھی یہیں حاصل

Read more

مڈغاسکر میں دیسی دوا کے باعث دو ماہ میں کوئی موت واقع نہیں ہوئی

جب سے دنیا میں نئے کرونا وائرس کی وبا پھلی ہے دنیا بدلتی جا رہی ہے۔ سٹاک مارکیٹوں میں عام لوگوں کے کھربوں ڈالرز ڈوب چکے ہیں۔ آبادی کی ایک بڑی تعداد روزگار سے محرومی کے باعث پریشان ہے، ان پانچ ماہ میں ایک قدرے تسلی بخش خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ایک امریکی دوا ساز کمپنی کی بنائی ہوئی پہلے سے موجود ایک ایک اینٹی الرجی دوا ”ریمڈسی وائر“ نئے کرونا کے مریضوں کے لیے بھی کار آمد مان لی گئی ہے جو صحت یابی کا عرصہ ایک تہائی کم کر دیتی ہے۔

Read more

علی مطہر اشعر مرحوم، تعارف و انتخاب کلام

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے اس شعر کے خالق غزل کے ممتاز و معروف شاعر سید علی مطہر اشعر نقوی دو ستمبر 2022 کو ہم سے جدا ہو گئے۔ ان کی عمر تقریباً ”85 سال تھی وہ شکار پور ( متحدہ ہندوستان ) میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے واہ میں آباد ہوئے۔ انٹر میڈیٹ تک تعلیم بھی یہیں حاصل

Read more

لیاقت علی عاصم، ایک مختصر تاثر

لیاقت علی عاصم کا نام میں اس وقت سے سنتا آیا ہوں جب سے با قاعدہ لکھنے اور چھپنے چھپانے کے مواقع میسر آنے شروع ہوئے۔ یہ شاید 1985 یاس اس کے کچھ بعد کی بات ہے جب میں نے چند بہت عمدہ اشعار سنے پڑھے اور مجھے پسند آئے۔ بعد میں علم ہوا کہ یہ اشعار لیاقت علی عاصم کے ہیں۔ تب سے ان کے ساتھ قربت کا ایک خاص احساس رکھتا ہوں لیکن اس کے باوجود ان کا کل کلام میری دسترس میں کبھی نہیں آیا۔ غالباً ان کے سات شعری مجموعوں میں میں دو تین ہی دیکھ پایا اور ایک آدھ انتخاب۔ لیکن اس محدود مواد میں سے بھی میرے پسندیدہ اشعار کی تعداد سیکڑوں میں ہو گی۔ خاص طور پر یہ چند اشعار دیکھیے

Read more

”رنگ باتیں کریں“ (یعقوب آسی کے ریڈیو ڈرامے) اور پنج ریڈیو

ایک مقبول خیال یہی ہے کہ بظاہر ریڈیو اور خاص طور پر ڈراموں کا دَور ختم ہو چکا، لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ایک انٹر نیٹ لائبریری میں مختصر ریڈیو ڈراموں کے ایک مجموعے کو پڑھ کر ہوا۔ یہ مشہور ڈیجیٹل لائبریری ہے جو سینئر رائٹر اعجاز عبید کی دہائیوں کی محنتِ شاقہ اور عرق ریزی کا ثمر ہے۔ اعجاز عبید ادب کی دنیا کے وہ خاموش محسن ہیں جو ہمہ وقت دنیا بھر میں

Read more

ممتاز شیخ کا بڑا کارنامہ ”لوح“

ممتاز شیخ کا نام علمی وادبی حلقوں میں ایک عرصے سے خوب جانا پہچانا جاتا ہے۔ وہ بذات ِ خود بھی تخلیق کار ہیں لیکن انہوں نے اپنی ذات کو پسِ پشت رکھ کر اپنے آ پ کو اعلیٰ ادبی اقدار کے فروغ کی خاظر اجتماعی ادبی سرگرمیوں کے لئے وقف کیا ہوا ہے جو کہ نہایت قابلِ قدر بات ہے خصوصا اس تناظر میں کہ ان کی یہ موقر مساعی زیادہ تر ان کے ذاتی وسائل پر منحصر ہوتی ہیں۔ ممتاز شیخ نے اولڈ راوئینز کے پلیٹ فارم کو جو عزت و توقیر بخشی اسے بہت قدر کی نگا سے دیکھاجاتا ہے۔

چند سال قبل اولڈ راوئینز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اعلیٰ معیار کے مشاعرے جتنے معروف و مقبول ہوئے وہ سب کو یاد ہو گا۔ ان مساعی کے اگلے مرحلے میں ممتاز شیخ نے اعلی معیار کے ایک ادبی جریدے کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر کی تلاش میں سرگرادں ہو گئے حالانکہ انہیں خوب علم تھا کہ ادبی پرچوں کی اشاعت کسی بھی دور میں منافع بخش کاروبار نہیں رہی بلکہ مبینہ طور پر یہ پرچے اپنی قیمت بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں اسی لئے مدیران لمبے عرصے تک ان کا بوجھ اٹھا نہیں پاتے۔

Read more