نوجوان لڑکیوں میں ذہنی دباؤ اور اس کا ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک سائکالوجسٹ دوست اپنے کسی کام سے ملنے دفتر آئی۔ آج کل وہ سائکالوجسٹ لڑکیوں کے سماجی مسائل خاص کر عشق میں ناکامی پر تحقیق کر رہی ہے، اس سے جو گفتگو ہوئی سنسر کرنے کے بعد حسب ذیل ہے

لڑکیوں کی عشق میں ناکامی کی بڑی وجہ سوشل کمپیٹیبلٹی کا نہ ہونا ہے مڈل کلاس لڑکیاں ہمیشہ اپر کلاس یا بزنس کلاس لڑکوں کو پسند کرتی ہیں۔ لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات ہونی چائیے کے وو ان کی ضرورت تو ہو سکتی ہیں مجبوری نہیں۔ مجبوری اس لئے نہیں کیوں کے لڑکا کھاتے پتے گھر سے ہے وہ کسی دوسری سے دوستی کر لے گا، سائکالوجسٹ کے مطابق اگر یہی مڈل کلاس لڑکی کسی اپنے ہم پلّہ لڑکے سے محبت کرتی تو کامیابی کا چا نس زیادہ ہوتا ہے۔ محبت کرنا کوئی بری بات نہیں ہر لڑکی اور لڑکے کا بنیادی حق ہے کے وہ اپنی مرضی سے شادی کرے۔

حال ہی میں اسکول کی تین طالبات کی گمشدگی کا قصہ ذہن میں آیا۔ بظاہر تو لگا کہ یہ اغوا کا معاملہ ہے۔ تاہم، چند روز بعد، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے بعد، تینوں لڑکیاں منظر پر لائی گئیں۔ انکشاف ہوا کہ تینوں طالبات سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں، اور گھریلو حالات کی بدمزگی کے سبب ان تینوں نے گھر چھوڑ کر جانے کی منصوبہ بندی کی۔ میری جب سینٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی (CIA) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ تینوں طالبات اغوا نہیں ہوئیں۔ والدین اور گھریلو ذہنی دباؤ کے باعث گھر سے فرار ہوئیں۔

لڑکیوں نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بھی یہی بتایا کہ ان کے والدین کا ان پر عدم اعتماد، گھریلو ناچاقیاں ان پر ذہنی دباؤ کے باعث اور تینوں لڑکیاں گھر سے فرار کا سوچا۔ گھریلو ناچاقیاں، معاشرتی نا ہمواریاں، ذہنی انتشار، مایوسیاں، یہ وہ تمام عناصر ہیں جو پاکستان میں نوجوانوں کو ذہنی الجھنوں کا شکار بنا رہے ہیں۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ملک میں دماغی امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں لڑکیوں کی ہے۔

اسی سلسلے میں جب میری لاہور جنرل ہسپتال کی ایک سینئر سائکالوجسٹ ڈاکٹر عائشہ سے بات ہی تو کہتی ہیں کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں عام ذہنی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے جس میں ڈیڑھ سے ساڑھے تین کروڑ بالغ افراد مختلف قسم کی ذہنی بیماریوں سے متاثر ہیں جس میں بری تعداد لڑکیوں کی ہے۔ عائشہ نے گفتگو مِں بتایا کہ نوجوانوں لڑکیوں میں گھبراہٹ اور ڈپریشن ایک عام مسئلہ ہے سب سے اہم بات لڑکیوں کے اردگرد کا ماحول اور افراد کی جانب سے ایک ذہنی دباؤ لڑکیوں پر ہوتا ہے

میں نے جب عائشہ سے پوچھا کے لڑکیاں خاص کر کس بات سے ذہنی الجھنوں کا شکار ہوتی ہیں تو کہنے لگیں ویسے تو بہت سے وجوہات ہیں مگر ایک خاص جملہ جو سب سے زیادہ لڑکیوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے اور وہ ہے کہ ’یہ ایک خوبصورت لڑکی نہیں‘ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ یہ تو فارغ ہے، موٹی ہے، فلیٹ ہے مطلب جتنے منہ اتنی باتیں۔ عائشہ کے بقول ‘تم ایک خوبصورت لڑکی نہیں’ یہ وہ جملہ ہے جو نوجوان اور خاص کر چھوٹی عمر کی لڑکیوں میں شدید مایوسی پیدا کر دیتا ہے۔ لڑکیوں میں ایک مکمل شخصیت نہ ہونے کا ایک رجحان ان میں مایوسی کو بڑھا رہا ہے، جس کی ایک وجہ معاشرے کے اردگرد کا ماحول ہے جہاں نوجوان اردگرد کے ماحول سے اثرات کو مایوسی کی صورت میں ذہن پر سوار کرلیتے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کا کلچر اتنا عام ہوگیا ہے اگر الیکٹرانک میڈیا کو دیکھیں تو جو 100 سے زائد ٹی وی چینلز کیا دکھا رہے ہیں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ ان کے مطابق، ہمارا دھیان اس جانب ہونا چاہیے کہ ہم بچوں کی کس طرح تربیت کریں، کیا تبدیلی لائیں ؛ وہ ایسے حالات سے سیکھیں بھی اور ان کا منفی اثر نا لیں۔ عائشہ کے مطابق اکثر والدین اب بچوں کو باہر کھیلنے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ انھیں ماحول محفوظ نہیں لگتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اعتماد دیں اور خصوصی طور پر اپنی بیٹیوں کو اتنا اعتماد دیں کہ وہ بلا کسی جھجھک اپنے ایسے معاملات کا اظہار بھی کر سکیں جو وو کسی وجہ سے نہیں کر پا رہیں۔ بے جا روک ٹوک سے پرہیز کرتے ہوئے، انہیں محبت و شفقت سے سمجھائیں اور جب کوئی راستہ نہ نکلے، تو کوشش کریں کہ کوئی درمیانی راہ نکالیں، اپنی انا کو کم کریں اور قابل قبول حل پیش کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •