جب محبت کے معجزے نے موت کو شکست دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات دس بجے کا وقت تھا ڈیوٹی شروع ہوئے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی۔ میں اپنے روٹین کے مطابق انڈور میں تھی جہاں صرف سیریس مریضوں کاعلاج کیا جاتا ہے باقی سب کا علاج باہر آوٹ ڈور میں ہوتا ہے۔ اس دن خلاف معمول ایمرجنسی میں رش ذرا کم تھا۔ اتنے میں باہر سے ایک خاتون مریض کو بیڈ سمیت اندر شفٹ کیا جاتا ہے میں کسی اور مریض کے بیڈ پہ کھڑی تھی ساتھ ہی باہر والے ڈاکٹر نے مجھے اشارہ کیا کہ یہ مریض زیادہ سیریس ہے اسی لیے وہ خود ساتھ آئی تھی۔

اس اشارہ کا مطلب میں سمجھ چکی تھی کہ مریض آخری سانسوں پر ہے اسی لیے میں بھاگ کر اس بیڈ پر پہنچی سسٹر کو آواز دی اپنے ہاؤس افسر کو بلایا اتنے میں ایمرجنسی ٹرالی بھی آگئی تھی یہ سب چند لمحوں میں ہوا ہوگا کیونکہ مریض کا بیڈ دروازے سے اندر تک پہنچنے تک ہر چیز تیار تھی بلکہ سسٹر نے مریض کوسانس کی نالی ڈالنے کے لیے سامان بھی ریڈی کر لیا تھا اور میں بھی گلوز پہن کر تیار تھی ایمر جنسی میں کام کرنے والے عملہ کا خاصا یہی ہوتا ہے کہ وہاں لمحوں کی کھیل ہوتی ہے وہاں گھڑی کی ٹک ٹک میں سیکنڈز کا رول زیادہ ہوتا ہے ادھر سانسوں کی ڈور ٹوٹی ادھر چند سیکنڈز میں دماغ ختم ہو جاتا ہے اور وہی چند سیکنڈ ہوتے ہیں جس میں ڈاکٹر اور عزرائیل کے درمیان جنگ ہوتی ہے آخری نتیجہ تو خدا کی مرضی ہوتی مگر وہ لمحے ہمیشہ مشکل ہوتے ہیں۔

خیر اس دن بھی عزرائیل سے جنگ کرنی تھی سو تیاری مکمل تھی سانسوں کی ڈور ٹوٹ چکی تھی لمحوں کا کھیل شروع ہو گیا تھا وہ ایک دبلی پتلی سی عورت تھی جس کی عمر غالباً پچاس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔ میں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہو ئے چند سیکنڈ میں سانس کی نالی ڈال دی تھی ساتھ ہی مصنوعی طریقے سے دل دبا کر چلانے کا کام بھی شروع ہو چکا تھا ای سی جی والے نے اسٹرپ نکال کر دی تو وہ بالکل اسٹریٹ تھی کوئی rhythm نہیں تھا مجھے لگا عزرائیل جیت گیا ہے میں نے سسٹر سے کہا adrenaline دیں cpr جاری رکھیں اتنی جلدی ہار مان لینا میرے مزاج کے خلاف تھا۔

سسٹر نے مجھے عجیب سی نظر سے دیکھا کہ اب ڈاکٹر صاحبہ کیا تیر مارنا چاہ رہی ہیں ای سی جی والے کے بھی کم وبیش تاثرات ویسے ہی تھے خیر ڈاکٹر صاحبہ پر ان باتوں کا کہاں اثر ہوتا تھا خاصی پرامید تو میں بھی نہیں تھی مگر جو کتابوں میں لکھا ہے وہ پروٹوکول پورا کررہی تھی آخر کو لکیر کے فقیر جو ٹھہرے۔ تھوڑی دیر میں ہاؤس افسر نے کہا carotids آرہی ہیں میں نے ہاتھ رکھا تو وہ واقعی واپس آگئی تھی ای سی جی کی تودل پورے جوش و خروش سے چل رہا تھا۔

سانس ابھی بھی ambu کے ذریعے ہی دیا جا رہا تھا۔ میں نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ سسٹر اور ای سی جی والے کو دیکھا۔ حالانکہ اس مریض کے واپس آنے میں میرا کوئی کمال نہیں تھا وہ اوپر والے کی مرضی تھی مگر ایک کم ظرف انسان ہونے کے ناتے میں نے کریڈٹ لینے کی بھرپور کوشش کی۔ اس مریض کے رشتے داروں کو دیکھا تو ایک بوڑھا شخص جس کے چہرے کی جھریوں میں زمانے کی سختیاں نظر آرہی تھیں سفید قمیض کے نیچے دھوتی باندھے کھڑا تھا ان کی آنکھوں میں آنسو ٹھہرے ہوئے تھے جیسے تذبذب کا شکار ہوں کہ اب بہنا چاہیے یا نہیں۔

جذبات کی شدت سے ان کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ انھیں بتایا کہ آپ کے مریض کی حالت سیریس ہے دعا کریں کیونکہ ایسے مریض دوبارہ collapse ہوتے ہیں اس لیے ان کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی اچھی امید نہیں تھی بس ایک چیز عجیب لگی ان باباجی کی انھوں نے اس تمام گفتگو میں ایک دفعہ بھی نہیں کہا کہ میرے مریض کو بچا لو یا یہ پوچھا ہو کہ میرا مریض بچ جائے گا یا نہیں۔ گو کہ ان کو یقین تھا کہ ان کے مریض کو بچانے کا اختیار میرے پاس نہیں ہے وہ بار بار یہی کہ رہے تھے حمیداں اٹھ جا میں کلا رہ جاواں گا ان سے تھوڑی سی ہسٹری لینے پہ پتہ چلا کہ وہ دونوں میاں بیوی اکیلے رہتے ہیں ان کے بچے نہیں ہیں۔

اتنے میں کسی ہاؤس افسر نے ان سے کہا باباجی کسی عورت کو بلائیں ان کو پیمپر لگانا ہے باباجی انکھوں میں آنسو لے کر آگے کہ پتر میں آپ بدلاں گا وہ بار بار اپنے سر کے صافہ سے اماں جی کی آنکھوں سے گرتے آنسو صاف کر رہے تھے کبھی اماں جی کی ٹانگیں دباتے۔ ان بابا جی کی شخصیت میں کوئی خاص بات تھی جو مجھے بار بار ان کی طرف دیکھنے پر مجبور کر تی تھی وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے اور پھر اوپر کی طرف دیکھتے جیسے رب سے شکوہ کر رہے ہوں۔

وہ کبھی ہاتھ مسلتے کبھی ٹہلنے لگ جاتے کبھی اوپر دیکھ کر رب سے شکوہ کرتے اس لمحے وہ مجھے بچپن کی کہانیوں والے جن محسوس ہوئے جس کی جان ایک طوطے میں قید ہوتی ہے جیسے اس طوطے کی گردن مروڑ دی جائے وہ جن بھی مر جاتا ہے مجھے لگ رہا تھا کہ اگر یہ بوڑھی عورت مر گئی تو یہ باباجی بھی مر جائیں گے کیونکہ ان کی جان اس بوڑھی عورت میں قید تھی میں نے پہلی دفعہ اتنی شدید محبت دیکھی تھی مجھے ہمیشہ سے یہ لگتا تھا کہ محبت صرف کہانیوں میں ہوتی ہے اس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں اس وقت ایک ساٹھ سال کے باباجی کی ایک پچپن سال کی بوڑھی عورت سے محبت دیکھ کر میں حیران تھی وہ محبت ہی تو تھی جس نے عزرائیل کو خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور کیا تھا وہ محبت کا معجزہ ہی تو تھا کہ دل بند ہو کر دوبارہ چل پڑا تھا۔

ان باباجی کا اپنی محبت اور خدا پر بھروسا اتنا تھا کہ انھوں نے ایک دفعہ بھی مجھ سے نہیں کہا تھا کہ میرے مریض کو بچا لو اور یہی چیز مجھے حیرت میں مبتلا کر رہی تھی۔ انہیں اپنی محبت پر یقین تھا کہ وہ انھیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ شاید ان کی اور ہماری جنریشن کی محبت میں یہی فرق تھا میں نے اپنے آس پاس ہزاروں محبت کی کہانیاں دیکھی تھیں جو کسی کا اسٹیٹس اس کی شکل یا پیسے سے شروع ہوتی تھیں اور ابھی پہلی محبت ختم بھی نہیں ہوتی تھی دوسری کی تلاش شروع ہو جاتی تھی جیسے محبت کوئی سیل میں بکنے والی چیز ہو یہاں پسند نہ ائی تو کہیں اور سہی۔

بس فرق یہ تھا کہ وہ ایک جائز رشتے میں بندھی ہوئی ایک حلال محبت تھی جو آج کل کی جنریشن کی سمجھ میں نہیں آتی۔ میں محبت کو مانوں یا نہ مانوں مگر میرا ماننا یہ ہے کہ محبت ایمان کی طرح ہوتی ہے اس میں شرک کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اور باباجی کا حقیقی اور مجازی دونوں محبتوں پر یقین کمال کا تھا۔ ایک شعر یاد آگیا

لکھ دیا جاتاہے۔ مقدر میں
عشق عادتاً نہیں ہوتا

میں بار بار ان کے مریض کو دیکھنے جارہی تھی ان کی حالت میں دو تین گھنٹوں میں خاصا فرق نہیں پڑا تھا ایک ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے مجھے علم تھا کہ اگر بہتری نہ ہوئی تو کیا ہو سکتا مگر کوشش کے باوجود بھی میں باباجی کو یہ بات نہ بتا سکی۔ بس میں دعا کر رہی تھی کہ میری ڈیوٹی تک وہ زندہ رہیں۔ تاکہ وہ بری خبر میں باباجی کو نہ دوں۔ مجھے ڈیتھ ڈکلیئر کرنا ہمیشہ سے مشکل لگتا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ ہر ڈاکٹر کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے چاہے وہ کتنا بھی بے حس کیوں نہ ہو۔

خیر باباجی کی دعائیں سن لی گئی تھیں اماں جی کی حالت بہتر ہونے لگی وہ سانس لینے کی کوشش کرنے لگی تھیں میں کبھی اماں جی کو زندگی کی طرف لوٹتے دیکھتی کبھی باباجی کو دعائیں کرتا دیکھتی اور کبھی اوپر والے کو دیکھتی۔ مجھے لگتا تھا کہ آج کل کے دور میں معجزے نہیں ہوتے مگر اس دن مجھے ماننا پڑا کی معجزے ابھی بھی ہوتے ہیں میری ڈیوٹی ختم ہونے سے پہلے اماں جی کی سانسیں بہتر ہو گئی تھیں ان کی سانس کی نالی نکال دی تھی وہ اپنے قدموں پر اٹھ کر وہیل چیئر پر بیٹھی تھیں اور واقعی وہ معجزہ تھا مجھ جیسا انسان جس نے زندگی میں کبھی محبت کو نہیں مانا ہمیشہ مذاق اڑایا مانا بھی تو کہاں ایک ساٹھ سال کے باباجی اور پچپن سال کی بوڑھی عورت کی محبت نے مجھے ماننے پر مجبور کردیا کہ ابھی بھی اس دنیا میں سچی محبتیں زندہ ہیں۔ اور اگر جذبات سچے ہوں تو عزرائیل کو بھی لوٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

کچھ خاص دلوں کو عشق کے الہام ہوتے ہیں۔
محبت معجزہ ہے، معجزے کب عام ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •