زہر کا ٹیکا اور ہم ڈاکٹر
دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری تمازت سے چمک رہا تھا۔ گرمی اور حبس سے برا حال تھا۔ میری ڈیوٹی میڈیکل ایمرجنسی میں تھی۔ ایمرجنسی میں داخل ہو کہ کرونا کے باعث سب سے پہلے حفاظتی لباس پہنا پھر چہرے پہ ڈبل ماسک اور حفاظتی عینک پہننے کے بعد سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا۔ شدید گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی سائڈ کے مریض جا کہ دیکھنے شروع کیے۔ دوسرے ہی بیڈ پر ایک بابا جی لیٹے ہوئے تھے جو کہ غنودگی کی حالت میں تھے ان کی تفصیل سے ہسٹری لینے اور معائنہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پچھلے ایک سال سے بیمار ہیں دو دفعہ فالج کا اٹیک ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو مہینے سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور بستر تک ہی محدود ہیں۔ مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے ان کی کمر پہ ایک زخم بھی بن چکا تھا۔ جو کہ اب انفیکٹ ہو چکا تھا۔ ابھی دو دن سے انھیں بخار بھی تھا اور وہ کھانا پینا بھی چھوڑ چکے تھے۔ ان کے ساتھ تین خواتین اور کچھ مرد بھی تھے۔ ان کا معائنہ کر کے چند ضروری ٹیسٹ کروا کہ انھیں دوائیں شروع کروا دیں۔
Read more



