زہر کا ٹیکا اور ہم ڈاکٹر

دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری تمازت سے چمک رہا تھا۔ گرمی اور حبس سے برا حال تھا۔ میری ڈیوٹی میڈیکل ایمرجنسی میں تھی۔ ایمرجنسی میں داخل ہو کہ کرونا کے باعث سب سے پہلے حفاظتی لباس پہنا پھر چہرے پہ ڈبل ماسک اور حفاظتی عینک پہننے کے بعد سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا۔ شدید گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی سائڈ کے مریض جا کہ دیکھنے شروع کیے۔ دوسرے ہی بیڈ پر ایک بابا جی لیٹے ہوئے تھے جو کہ غنودگی کی حالت میں تھے ان کی تفصیل سے ہسٹری لینے اور معائنہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پچھلے ایک سال سے بیمار ہیں دو دفعہ فالج کا اٹیک ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو مہینے سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور بستر تک ہی محدود ہیں۔ مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے ان کی کمر پہ ایک زخم بھی بن چکا تھا۔ جو کہ اب انفیکٹ ہو چکا تھا۔ ابھی دو دن سے انھیں بخار بھی تھا اور وہ کھانا پینا بھی چھوڑ چکے تھے۔ ان کے ساتھ تین خواتین اور کچھ مرد بھی تھے۔ ان کا معائنہ کر کے چند ضروری ٹیسٹ کروا کہ انھیں دوائیں شروع کروا دیں۔

Read more

حیاتیاتی ہتھیار، کرونا اور تیسری جنگ عظیم

ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں دنیا ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی وہاں پہنچ چکی ہے جہاں پر انسان مریخ کو آباد کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ وہاں اچانک سے ایک وبا پھوٹ پڑتی ہے جو نوع انسانی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے جہاں ایک DNA سے انسانی کلون بنا لیے جاتے ہوں جہاں انسان چاند پہ قدم رکھ چکا ہو اس دنیا کو ایک چھوٹا ساوائرس ختم کر

Read more

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نہ نکلا کر

وہ ایک درمیانے قد کی خوبصورت لڑکی تھی۔ جس کا گندمی رنگ اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بناتا تھا۔ اس کے تیکھے نقوش میں اس کی ستواں ناک اور بڑی بڑی آنکھیں دیکھنے والے کو دوبارہ پلٹنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ نئی نئی شادی اور ماں بننے کی خوشی تھی کہ اس کے گالوں کی لالی اور چہرے کی ہنسی مزید گہری ہوگئی تھی۔ ان دنوں وہ بات بات پہ دل کھول کر ہنستی تھی جس پر اسے

Read more

میرا کشمیر جل رہا ہے

گاڑی سڑک پر برق رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھی۔ گاڑی میں ایک مدھر سا گیت چل رہا تھا۔ ہم کشمیر کی جانب گامزن تھے۔ وہ کشمیر جسے جنت نظیر کہتے ہیں۔ قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ مری کے راستے چلے تو پہلا پڑاؤ مظفرآباد پہ ہوا۔ مظفرآباد سے آگے کا راستہ چھوٹے چھوٹے جھرنوں اور آبشاروں سے بھرا ہوا تھا۔ پہاڑوں سے نیچے جھانکا تو نیلم بہتا ہوا نظر آرہا تھا۔ خوبصورت نیلم پہاڑوں میں گھر کر اور

Read more

کیا روایتوں کے نام پہ زندہ انسانوں کی قربانی جائز ہے؟

دوپہر بارہ بجے کا وقت تھا سورج سوا نیزہ پہ آچکا تھا۔ سرکاری ہسپتال کا آوٹ ڈور مریضوں سے بھرا ہواتھا۔ اس دن مریضوں کا رش کچھ زیادہ ہی تھا۔ میں بھی جلدی جلدی مریض دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی جو غالباً کافی دیر سے میرے کمرے میں موجود بینچ پہ بیٹھی تھی۔ کافی مریض جو کہ بعد میں آئے تھے وہ بھی دکھا کہ جا چکے تھے۔ مگر وہ وہیں بیٹھی تھی۔ وہ مجھے کچھ پراسرار سی لگ رہی تھی۔ وہ ادھیڑ عمر کی عورت جن کا سفید رنگ کا جوڑا اس پہ کالی چادر اور بالوں میں چمکتی ہوئی چاندی ان کی شخصیت کواور زیادہ پراسرار بنا رہی تھی۔

Read more

اولاد کی ستائی ماں اور مجبور ڈاکٹر

دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ لاہور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی چل رہی تھی۔ معمول کے مطابق رش تھا۔ میری ڈیوٹی دو بجے شروع ہونی تھی۔ ایمرجنسی کا یہ اصول ہوتا ہے کہ وہاں جب تک دوسری شفٹ کا ڈاکٹر نہیں آتا پہلی شفٹ والا جا نہیں سکتا اس لیے وہاں دیر سے پہنچنے کا رواج نہیں ہوتا۔ میں بھی دو بجے ایمرجنسی میں موجود تھی۔ پہلی شفٹ کے ڈاکٹر سے اوور لینا شروع کیا۔ وہ صبح چھ بجے سے ایمرجنسی میں ڈیوٹی پہ تھا اس لیے ہر مریض تفصیل سے بتا رہا تھا۔

Read more

روٹی بندہ کھا جاندی اے

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں جوگی ہانس گاؤں میں ایک میڈیکل افسر کی حیثیت سے کام کررہی تھی۔ وہ گاؤں شہر سے دس کلومیٹر کی مسافت پہ تھا۔ اس گاؤں کا نام بھی کسی دیو مالائی کہانی کے کردار سے ملتا جلتا تھا۔ وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اور وہاں کا واحد سرکاری ہسپتال نہر کنارے واقع تھا۔ اس ہسپتال کو اور بھی آس پاس کے چھوٹے بڑے دو تین مزید گاؤں لگتے تھے۔ وہاں کام کرتے

Read more

جب محبت کے معجزے نے موت کو شکست دی

رات دس بجے کا وقت تھا ڈیوٹی شروع ہوئے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی۔ میں اپنے روٹین کے مطابق انڈور میں تھی جہاں صرف سیریس مریضوں کاعلاج کیا جاتا ہے باقی سب کا علاج باہر آوٹ ڈور میں ہوتا ہے۔ اس دن خلاف معمول ایمرجنسی میں رش ذرا کم تھا۔ اتنے میں باہر سے ایک خاتون مریض کو بیڈ سمیت اندر شفٹ کیا جاتا ہے میں کسی اور مریض کے بیڈ پہ کھڑی تھی ساتھ ہی باہر والے ڈاکٹر نے مجھے اشارہ کیا کہ یہ مریض زیادہ سیریس ہے اسی لیے وہ خود ساتھ آئی تھی۔

Read more

ڈاکٹر کی ڈائری سے ایک ورق

صبح کی مسحورکن خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی ہے سر سبز شاداب کھیت حد نگاہ تک نظر آرہے ہیں۔ گاؤں کی طرف جانے والی پگڈنڈی نما نئی بنی ہوئی سڑک پر گاڑی برق رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی ہے۔ دور آسمان پر سورج ایک مغرور مسکراہٹ کے ساتھ ابھر رہا ہے آس پاس چرند پرند کا شور واضح سنائی دے رہا ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف کہیں مٹی کے بنے ہوے کچے گھر وقفے وقفے سے نظر آتے ہیں اور کہیں پکے اینٹوں کے بنے ہوے گھربھی دکھائی دیتے ہیں وہ پگڈنڈی نما سڑک کئی دفعہ بل کھا کرمڑتی ہے تو بھول بھلیوں کا سا گمان ہونے لگتا ہے۔

Read more