خون آشام بجٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشی بدحالی اپنے عروج پہ ہے گورنمنٹ اکانومی کا کو ئی ہدف پورا نہیں کر سکی میجر کراپس نیگیٹو گروتھ۔ بجٹ آمدنی اور خرچ پہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں آمدنی تو زیرو ہے خرچ ہی خرچ ہے عام آدمی پر ٹیکسز کا بوجھ پڑے گا ایک فیملی جو تیس ہزار ماہانہ کماتی ہے ان پر سالانہ ٹیکس لگا دیا جو ان کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔

لوئر مڈل کلاس کو اس بات سے غرض نہیں کہ کون گرفتار ہوا کون سرِدار ہو ا ان کا پیٹ ان باتوں سے نہیں بھرتا ان کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا آپ نے آٹا، چا ئے، دال، چینی، آلو، ٹماٹر، چاول، دودھ، گوشت، پیٹرول، ڈیزل ان کی پہنچ سے دور کر دیے۔

اس پہ افتاد یہ کہ چھوٹے مزدور طبقہ سے بھی ٹیکس وصول کریں گے جو پہلے ہی بجلی، پانی اور گیس پہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں عام آدمی کہاں جائے اور آپ ڈنڈے کے زور پہ غریب سے ٹیکس لیں گے۔

آئی ایم ایف ایک خون آشام ساہوکار ہے اور اس کے مذاکرات بھی بڑے بے رحم ہوتے ہیں اس کی پالیسی ہے پہلے مارو پھر چمکارو عام لوگوں کا خون چوس لو بالکل ایسے ہی گورنمنٹ کا ”احساس“ پروگرام۔ جس میں راشن کارڈ اور ہیلتھ کارڈ کی لوئر مڈل کلاس کو پر کشش پالیسی دی گئی مگر عوام کا اس میں کوئی مفاد نہیں۔

اب مڈل کلاس کا حال دیکھ لیتے ہیں یہ ہے تنخواہ دار طبقہ پس کر رہ گیامڈل کلا س کو بری طرح ہٹ کیا گیا جن کی چھ لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ ٹیکس عائد کردیا گیا ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دو ر کردی۔

اس طرح ریوینیو پورا نہیں ہو گا عام آدمی کے لئے یہ بجٹ مہنگائی کا طوفان لائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی ایک وفاقی وزیر کی کارکردگی سراہے جانے کے قابل نہیں اگر وزیر اعظم پاکستان ملکی مفاد کے لئے ا س خود کش کابینہ کو تبدیل کر د ہں تو شاید عوام پہ خود کش بجٹ دھماکوں سے بچاٶ کی کوئی تدابیر ممکن ہوں پاکستان کی معیشت کو ہنگامی بنیادوں پہ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔

گورنمنٹ کے لئے یہ بجٹ خود کش حملہ ثابت ہو گا۔ یہ بیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے یہ بجٹ عام آدمی کے گھر کا بجٹ نہیں ہے۔

مدینہ کی ریاست میں خلفإ راشدین نے اپنے گھر کا سارا سامان لاکر نبی آخرالزماں کے حضور پیش کر دیا عوام الناس کو نہیں لوٹا گیا جا ن کی امان پاٶں تو عرض کروں، کسی ایک بیانیہ پہ تو قائم رہیں میرے سرکارِ بیکار۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •