خون آشام بجٹ

معاشی بدحالی اپنے عروج پہ ہے گورنمنٹ اکانومی کا کو ئی ہدف پورا نہیں کر سکی میجر کراپس نیگیٹو گروتھ۔ بجٹ آمدنی اور خرچ پہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں آمدنی تو زیرو ہے خرچ ہی خرچ ہے عام آدمی پر ٹیکسز کا بوجھ پڑے گا ایک فیملی جو تیس ہزار ماہانہ کماتی ہے ان پر سالانہ ٹیکس لگا دیا جو ان کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔

Read more

خون آشام بجٹ

معاشی بدحالی اپنے عروج پہ ہے گورنمنٹ اکانومی کا کو ئی ہدف پورا نہیں کر سکی میجر کراپس نیگیٹو گروتھ۔ بجٹ آمدنی اور خرچ پہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں آمدنی تو زیرو ہے خرچ ہی خرچ ہے عام آدمی پر ٹیکسز کا بوجھ پڑے گا ایک فیملی جو تیس ہزار ماہانہ کماتی ہے ان پر سالانہ ٹیکس لگا دیا جو ان کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔

لوئر مڈل کلاس کو اس بات سے غرض نہیں کہ کون گرفتار ہوا کون سرِدار ہو ا ان کا پیٹ ان باتوں سے نہیں بھرتا ان کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا آپ نے آٹا، چا ئے، دال، چینی، آلو، ٹماٹر، چاول، دودھ، گوشت، پیٹرول، ڈیزل ان کی پہنچ سے دور کر دیے

Read more

ایک عام آدمی کا تصور سلطنت

ارون دھتی رائے کی یہ کتابordinary person ’guide to empire کا ا اردو ترجمہ ہے اس کا اردو ترجمہ ”شفیق الرحمن میاں“ نے کیا ہے۔ کتاب کا ا انتساب ان کے نام ہے جو مزاحمت پہ یقین رکھتے ہیں۔ ”وین گارڈ بکس“ نے یہ کتاب شائع کی ہے یہ کتاب چودہ ابواب پہ مشتمل ہے۔معروف دانشور ارون دھتی رائے ایک آزاد اور باغی روح ہے وہ خود لکھتی ہیں ”سچی روحیں اور ہوتی ہیں“۔ ان کے افکار اور تحریریں چونکا دینے والی ہوتی ہیں ا ان کا کام قابل تحسین ہے۔ ان کے افکار میں نوم چومسکی کے فکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے بحثیت ایک عورت بہت دلیری سے اپنا مقدمہ پیش کرتی ہیں

Read more

آئی ہَیو ڈَن

منتخب کے نام پہ عوام پہ مسلط کیے گئےحکومتی ارکان پر شطرنج کی بازی الٹی پڑ گئی عام آدمی اپنے استحصال پہ سراپا احتجاج اور نام نہاد منتخب نمائندے اپنے استحصال پہ سراپا احتجاج ہیں۔

صدارتی نظامکی راہیں ہموار کرنے کے لئے منتخب نمائندوں کی بجائےغیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی پر اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اب وفاقی کابینہ مشیروں اور معاونین پر مشتمل ہو گی جو کہ پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہوں گے ۔ وفاقی کابینہ میں تبدیلی صدارتی نظام کی جانب پیش قدمی ہے یعنی اقتدار و اختیار ان قوتوں کے ہاتھوں میں ہو گا اجنہیں نہ تو عوامی تائید حاصل ہو گی اور نہ ہی عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔

Read more