دُکھ درد کے مارے لوگ کدھر جائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی جمع پونجی ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔

ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سننے کو مل رہی ہے کہ جس کے بعد بندہ ایک لمحے کو ساکت ہو جاتا ہے بعد ازاں وہ اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اب وہ کیسے جیے گا۔ مگر اس کے جذبات و احساسات سے بے خبر دھڑا دھڑ حکومت ”قانونی سینہ زوری“ میں مصروف ہے۔ نفسیاتی طور سے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں یہ کہتی ہے کہ بس جونہی دو برس کا عرصہ بیتے گا ان کے زرد چہروں پر سرخی نمودار ہو جائے گی۔ جبکہ عوامی شعور اس منطق اور دلیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اس کے مطابق جب مسرت و انبساط کے لمحات کا کوئی امکان ہو گا بھی تو عوام بیزار اور دوبارہ انہیں مفلسی و تنگ دستی کی جانب لے جانے کی کوشش کریں گے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے کیونکہ وہ عوام کو کسی صورت خوشحال اور پر سکون نہیں دیکھنا چاہتے، ان پر خرچ ہونے والی دولت کا رخ اپنی طرف موڑتے چلے آئے ہیں۔

لہٰذا ایک ایسا نظام تشکیل پا چکا ہے کہ اسے بدلنا انتہائی مشکل ہے مگر اسے بدلے بغیر ملک میں امن آ سکتا ہے نہ اس کی بے چینی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور بے چینی جب بڑھتی ہے تو ایک بہت بڑا ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہم کسی ہنگامہ آرائی کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ نہیں ہر گز نہیں کیونکہ اس وقت وطن عزیز چاروں طرف سے بد خواہوں کے حصار میں ہے لہٰذا حکومت جس رفتار سے عوامی محسوسات کو نظر انداز کر رہی ہے وہ قطعی نیک شگون نہیں۔

وہ تو برداشت کرتے بہتر برس کے ہو گئے اب بھی ان سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مزید ایسا کریں گے۔ یہ ممکن نہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ جو بجٹ جسے حزب اختلاف آئی ایم ایف کا بجٹ کہہ رہی ہے کو دوبارہ دیکھے اور آئی ایم ایف کے سربراہ کو بتائے کہ ہمارے عوام میں یہ سکت نہیں کہ وہ ٹیکسوں کی بھر مار کا مقابلہ کر سکیں لہٰذا کچھ سوچ بچار کی جائے اور انہیں آسانیاں و راحتیں فراہم کی جائیں۔ مگر آئی ایم ایف کے لوگ شاید اس کی بات سے اتفاق نہ کریں کیونکہ انہیں انسانی اقدار سے نہیں کاروباری قدروں کی پاسداری سے غرض ہے وہ سیدھا سیدھا کاروبار کرتے ہیں۔

کسی کو نفع ہو یا نقصان ان کے نزدیک یہ چیزیں غیر اہم ہوتی ہیں۔ لہٰذا حکومت کو ہی کوئی راستہ نکالنا ہے کہ ملک میں پائی جانے والی معاشی و سماجی افراتفری کو قابو میں کیا جا سکے۔ کل حزب اختلاف اس کی پالیسیوں پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دیتی ہے تو یقینی طور سے عوام کی رائے تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ آہستہ آہستہ لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کے محاورے کو غور سے دیکھنے لگے ہیں؟ اس میں وہ بڑی حد تک درست بھی ہیں۔ کیونکہ آخر کب تک وہی روایتی طرز حکمرانی کو بروئے کار لایا جائے گا، کہ جن میں لوگوں کو آنے والے دنوں کی نوید دی جاتی ہے۔ قومی مفاد کو پیش نظر رکھنے پر زور دیا جاتا ہے نئے نئے منصوبوں کے قیام کا نقشہ کھینچا جاتا ہے اور انصاف فراہم کرنے کا پکا وعدہ کیا جاتا ہے مگر جب آنے والا وقت آتا ہے تو وہ چپکے سے گزر جاتا ہے۔ کوئی رنگ حیات تبدیل نہیں ہوتا جیسا تھا ویسا رہتا ہے لہٰذا اب عوام میں یہ شعور پیدا ہو چکا ہے کہ جب تک اس نظام غیر منصفانہ سے جان نہیں چھڑائی جاتی تمام وعدے او ردعوے غلط اور بے سود ہیں۔

یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہو گا کہ حکومت اپنے تئیں سماجی بہتری لانے سے متعلق کچھ نہ کچھ کر بھی رہی ہے معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے بد عنوانی، کمیشن خوری اور رشوت ستائی کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے مگر اسے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے رہنماؤں حزب اختلاف آ ڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے پاس ہونے میں وقت پیش آ رہی ہے اور اس کے رہنماؤں نے واضح طور سے کہہ دیا ہے کہ وہ یہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ عوام دشمن ہے جبکہ سچی بات یہ ہے کہ اسی حزب اختلاف نے کل عوام کا کچومر نکال کر رکھ دیا تھا یہ بھی آئی ایم ایف کا بجٹ ہی پیش کرتی رہی ہے۔ قرضوں پے قرضے لے کر عوام کو عارضی ریلیف دیے گئے جو آج وبال جان بن گئے ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں بتاتی کہ ہم عوام کی آڑمیں اپنے ”سیاہ کارنامے“ چھپانا چاہتے ہیں۔

چلیے مان لیتے ہیں۔ کہ حکومت اس کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے اور سیاسی انتقام لے رہی ہے مگر کیا وہ یہ بتا سکے گی کہ یہ جو بدعنوانی کے ثبوت سامنے لائے گئے ہیں۔ وہ غلط ہیں۔ یہ جو دولت کے پہاڑ کھڑے کیے گئے ہیں۔ ان کی خون پسینے کی کمائی ہے ایسا نہین ہے دال میں ضرور کچھ کالا ہے لہٰذا وہ عوامی مفاد کے لیے سڑکوں پر آئے اور اپنی ذات کو بھول جائے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ عوام کو احتجاج کے راستے پر ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اگر اقتدارمیں آتی ہے تو عوامی خواہشات کا احترام کرے گی، جس طرح کا اس کا طرز عمل دوران اقتدار رہا اس کو تو نہیں اختیار کرے گی۔ اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کیا مگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوا۔ وہ لوگوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں مستقبل میں بھی وہ ایسا ہی کریں گی کیونکہ وہ اس نظام میں کھو چکی ہیں۔ مگر اسے بدلنے کا ارادہ اگر کر لیتی ہیں۔ تو پھر عوام کی حالت زار میں خوشگوار تبدیلی بھی آ سکتی ہے!

بہر حال اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ عوام کو مایوسی سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید سخت رویہ اپناتی ہے یا پھر اپنے دل میں نرمی پیدا کرتی ہے۔ اگر ایسا کرتی ہے تو لوگ اس سے متعلق اپنی سوچ تبدیل کر سکتے ہیں۔ اور وہ اپنا یہ بھی زاویہ نگاہ بدل لیں گے کہ سیاستدان بُرے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت عام آدمی یہی کہتا ہوا پایا گیا ہے کہ ان سیاستدانوں نے ملک کو ڈبو دیا۔ یہ اس قابل نہیں کہ اقتدار میں آ کر عوام کی خدمت کر سکیں لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ حکومت سیاسی کلچر کو فروغ دینا چاہتی ہے اور ملک میں حقیقی جمہوریت کو دیکھنے کے حق میں ہے تو وہ فی الفور عوام کے مشتعل جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فلاحی و اصلاحی منصوبہ بندی کرے انہیں طاقت سے نہ دبایا جائے۔

وہ اہل زر کو کہے کہ ملک معاشی بحران کی زد پر ہے، لہٰذا وہ اس سے چھٹکارا دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں عوام کی عمر بھر کی معمولی رقوم کو ہتھیانے کی حکمت عملی سے اجتناب برتیں۔ پی ٹی آئی نے ببانگ دہل کہا تھا کہ وہ ایک ایسا نظام لائے گی جو مساوات پر مبنی ہو گا اس میں انصاف سستا اور سہل ہو گا مگر ابھی ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا جو دے رہا ہے بڑا ہی بھانک ہے اور لوگوں میں خوف کی لہریں اٹھ رہی ہیں!

حرف آخر یہ کہ حکومت معاشی ابتری پر قابو پانے کے لیے مقامی ذرائع کو استعمال میں لانے کے لیے کوئی منصوبہ بنائے اس حوالے سے ایسے لوگ موجود ہیں۔ جو اس کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ مگر وہ ان سے مستفید ہونے کے لیے انہیں اپنے ہاں مدعو کرے تاکہ روز بروز خراب ہوتی معیشت کو ٹھیک کیا جا سکے اور عوام کی زندگیوں میں ایک بہار لائی جا سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •