تصورِ انصاف اور تحریکِ انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدل ایک عظیم تصور ہے، زندگی کی ہر جہت میں اعتدال، برابری اور مساوات۔ اس تصور کی بنیاد نظامِ عدل پر دھری جاتی ہے۔ جزا و سزا کا نظام قانون کی حکمرانی کا تصور، ’’انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے، ہوتا نظر آنا بھی چاہیے۔‘‘ ’’چاہے سو مجرم چھوٹ جائیں، مگر ایک معصوم کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ ’’آپ معصوم ہیں، تاوقتیکہ آپ مجرم ثابت نہ ہو جائیں۔‘‘

یہ اور اس جیسے کئی دیگر اقوال عدل کے تصور کی منظر کشی کے لئے زبانِ زدِ عام ہیں۔ شاید ہیں نہیں، تھے۔ کیونکہ پچھلے چند سالوں میں مجرم اور ملزم کا فرق دھندلا گیا ہے۔ عدل کی جگہ بدلے کی خواہش نے لے لی ہے۔ چیختا چنگھاڑتا میڈیا، مادر پدر آزاد سوشل میڈیا، اور شعور و عقل سے عاری شو بِز، ہمارے اعصاب، حواس اور حسیات پر بے طرح سوار ہو چکا ہے۔ اربوں، کھربوں کی کرپشن کے قصے، جاگیرداروں، وڈیروں کے مظالم کے چرچے، عورتوں کو برہنہ بازاروں میں گھسیٹے جانے کی کہانیاں، اجتمائی عصمت دری کی دہائیاں، یہ سب ہم اس تواتر سے سنتے اور دیکھتے آرہے ہیں کہ ہم بھول ہی گئے ہیں کہ کلرک کو دی گئی چائے پانی یا ٹریفک وارڈن کی مٹھی میں ڈالا گیا سو پچاس کا نوٹ بھی اتنی ہی قابلِ نفرت اور اذیت ناک کرپشن ہے جتنا زرداری کا مبینہ فارن اکاؤنٹ۔ راہ چلتے آوارہ لڑکے کی ہوس میں لتھڑی نظر عورت کو اتنی ہی غلیظ لگتی ہے جتنا کسی وڈیرے کا بڑھا ہوا ہاتھ۔ گاؤں کے اوباش جوان کی تضحیک ویسے ہی تکلیف دہ ہے، جیسے کسی جاگیردار کا جبر و استبداد۔ ساس نند کی کاٹ دار باتیں دولہن کو اتنا ہی جلا دیتی ہیں جتنی پٹرول کی آگ۔

لیکن چیختے چنگھاڑتے شور نے ہمارے حواس کو اس طرح سن، مفلوج کر کے رکھ دیا ہے کہ یہ اذیتیں ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتیں۔ بلکہ ہماری برداشت کا پیمانہ اس قدر اونچا ہو چکا ہے کہ ہم ان معاملات کو درست سمجھنے لگے ہیں۔ سازش ہے یا بے عقلی یا پھر اندھی تقلید، ہماری توجہ کا تمام تر محور ان اونچے اونچے بڑے بڑے عفریتوں کو بنا دیا گیا ہے جن پر ہمارا کوئی بس نہیں، اور نتیجہ ہے، ایک بے بسی، نا چارگی اور نہ ختم ہونے والی فرسٹریشن۔

وہ فرسٹریشن، جس نے ہمیں انصاف کے عظیم تصور سے دور کر کے، نفرت اور بدلے کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ہم معمولی جرم کو جرم نہیں سمجھتے، وہیں دوسری جانب ہم ہر معاشی، معاشرتی، مالی اور سیاسی ناہمواری پر انصاف کا تقاضا کرنے کی بجائے بدلہ لینے کے شدید جذبے کے تحت فرسٹریشن کا شکار بن جاتے ہیں۔

انصاف کا ہونا اور ہوتا نظر آنا کتنا اہم ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب 2003 میں امریکی فوج نے عراق میں صدر صدام کو ڈھونڈ نکالا تو صدر بش نے ٹیلی وژن پر اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب صدام حسین عدل و انصاف کے اس عمل سے گزرے گا، جس سے اس نے اپنی عوام کو عشروں تک محروم رکھا۔ بعد میں پیش آنے والے حالات و واقعات سے قطع نظر، یہ اعلان عدل و انصاف، اور اس کی نظر آ سکنے والی موجودگی کی اہمیت کا مظہر ہے۔

دوسری طرف ہمارے معاشرے کا مزاج ایسا ہو گیا ہے، کہ ہم انصاف نہیں انتقام چاہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، قصور والے واقعے میں مجرم پکڑا گیا، سزا ہو گئی، مگر عوام اور میڈیا کا غیظ و غضب تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہاتھا۔ پکڑو، مارو، گھسیٹو، جلا دو ایسے نعرے ہمارے غصے سے بڑھ کر اب ہماری خواہش کا روپ دھار چکے ہیں۔

بد قسمتی سے اس معاشرتی رجحان کی روک تھام میں ملکی سیاسی بساط بھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہی۔ ملکی سیست میں متشدد رویے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، جس کے تانے بانے شاید جدو جہدِ آزادی کے زمانے سے ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ احتجاج انگریزوں کے غاصبانہ ریاستی اقتدار کے خلاف ہوتا تھا، اس لئے ریاستی املاک، جو اس اقتدار کے مظہر کے طور پر دیکھی جاتی تھیں، ان کی توڑ پھوڑ اور ان کو نقصان پہنچانا، حتیٰ کہ حکومتی عہدیداروں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں بھی اس سیاسی جدو جہد کا حصہ سمجھی جاتی تھیں۔ کسی مربوط فکری تربیت کی غیر موجودگی میں یہی ذہنی سوچ آزادی کے بعد کے سیاسی سفر میں بھی پروان چڑھتی رہی۔ حالات کی ستم ظریفی تھی کہ اس سفر کا بیشتر حصہ بھی غیر دستوری ریاستی اقتدار کے خلاف جدوجہد پر ہی مشتمل رہا، لہٰذا اکثر متشدد ہی رہا۔

اس تاریخی پس منظر میں 2014 کے کنٹینر مارکا دھرنے نے اس متشددانہ طرزِ سیاست کو ایک نئی جہت پہنائی۔ اب تشدد، نفرت اور منتقم مزاجی کا نشانہ محض ریاست اور ریاستی املاک نہیں بلکہ ہر سیاسی، غیر سیاسی اختلافِ رائے رکھنے والا شخص، جماعت، تنظیم یا ادارہ ٹھہرا۔ الزام تراشی سیاست کا ازلی عنصر رہا ہے، مگر الزام لگا کر اس کی تحقیق اور انصاف کا مطالبہ کیا جاتا تھا، اب الزام تراشی، الزام تراشی نہیں رہی بلکہ فیصلہ سازی بن گئی ہے، اور مطالبہ تحقیق اور انصاف کا نہیں سزا پر عمل درامد کا ہو گیا ہے۔ اور سزا کا تعین بھی قانون کے حوالے سے نہیں، انتقامی جذبے کی تسکین کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے تصورِ انصاف کو تحریکِ انصاف ہو گیا ہے۔

یہ ایک انتہائی خطرناک اور خوفناک رجحان ہے جو معاشرے کے تار و پود بکھیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کی جانب سے اس رجحان کے تدارک کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •