ورلڈ کپ: ظہیر عباس، میں اور جھوٹی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’اسپورٹس روم لائیو‘‘ ٹی 20 اسپیشل (ورلڈ کپ 2009ء) میں، آصف اقبال کے ساتھ دوسرے مبصر معروف ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس تھے۔ میں نے ظہیر عباس کو ان کے آخری دور میں کھیلتے دیکھا ہے، بس دھندلا سا یاد ہے. پی ٹی وی سے نشر ہونے والا ان کا وہ انٹرویو بھی کچھ کچھ یاد آتا ہے، جس میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک تھے۔ شاید اسی یا کسی اور انٹرویو میں انھوں نے عمران خان کا نام لیے بہ غیر کچھ ایسا کہا تھا کِہ جب ریس کے گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جائے، تو اسے گولی مار دی جاتی ہے۔ عمران خان ان دنوں ٹخنے کی انجری کا شکار تھے۔ کپتان کی ٹیم میں وا پسی کے بعد ظہیر عباس کو رٹائر منٹ لیتے بنی۔

ظہیر عباس پروگرام کے لیے اپنی کار میں، اپنے ڈرائیور کے ساتھ آتے تھے۔ حالاں کہ اس شو کے مہمانوں کو لانے لے جانے کے لیے مجھے دو کاریں مہیا کی گئی تھیں۔ اکثر وہ شو کرنے کے بعد اے آر وائے کے آفس سے چلے جایا کرتے تھے، بہت کم ہوا کہ وہ ٹھیرے ہوں۔

ہمارے لائیو شو کے بیچ میں وقفہ ہوتا تو وقت گزاری کے لیے غیر رسمی طور پر ادھر اُدھر کی بات ہوتی۔ دو نام ور ہستیوں کی موجودی کا فائدہ اٹھاتے، میں ان کے دور کے واقعات جاننے کا مشتاق رہتا. ایک روز ظہیر عباس گئے دنوں کو یاد کرنے لگے. فرمایا، “عمران خان آٹھ سال میرا روم میٹ رہا ہے۔‘‘ میں نا سمجھ یہ سمجھا، کہ دونوں ایک ساتھ پڑھتے رہے ہیں، تو ہوسٹل کے کمرے کی بات ہو رہی ہے. ظہیر عباس نے واضح کیا، کہ جب قومی کرکٹ ٹیم غیر ملکی دورے پر جاتی تھی تو عمران اور مجھے ایک ہی کمرے میں ٹھیرنا ہوتا تھا۔ یوں آٹھ سال تک ہم روم میٹ رہے ہیں۔ (میں یہ سمجھا  ہوں، پی سی بی نے یہ ترتیب بنائی تھی کہ کون کون کس کس کا روم میٹ ہو گا)۔ انھوں نے بڑی صاف گوئی سے عمران خان کی کرزمیٹک پرسنالٹی کا اعتراف کیا۔ کہنے لگے لڑکیاں تو باقی کرکٹرز پر بھی فدا تھیں، لیکن جس طرح ملکی، غیر ملکی دورے میں گوریاں، سانولیاں عمران خان پر قربان ہو ہو جاتی تھیں، وہ ہمارا مقدر نہ تھا۔ ایسی ایسی حسین، ایسی ایسی نام ور خواتین کہ عمران خان سے حسد محسوس ہوتا تھا۔ روم میٹ ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے کئی لمحوں کے چشم دید گواہ رہے ہیں۔ بقول ظہیر عباس، عمران ان خواتین میں ہر ایک سے نہیں ملنا چاہتا تھا. لیکن پھر بھی وہ آ کے کمرے میں قبضہ جما لیتی تھیں، جب کہ عمران ان سے چھپتا پھرتا تھا۔ ایسے ہی ایک لڑکی عمران کی غیر موجودی میں کمرے میں آ کے بیٹھ گئی، شاید عمران، ظہیر سے اس لڑکی کو ٹالنے کا کہ گئے تھے، اسے ہر قیمت پر عمران سے ملنا تھا۔ عمران کمرے میں نہیں تھا، تووہ انتظار کرنے لگی۔ اس سے آگے انھوں نے کیا بتایا تھا، مجھے یاد نہیں رہا۔

ظہیر عباس کے منہ سے عمران خان کی تعریفیں سُن کے لگتا نہیں تھا، ان کے بیچ میں کبھی کوئی اختلاف بھی رہا ہو گا۔

پاکستان ابھی سیمی فائنل نہیں جیتا تھا، کہ آصف اقبال کو لارڈز میں 21 جون کو ہونے والا فائنل میچ دیکھنے کا دعوت نامہ موصول ہو گیا تھا۔ کیوں کہ آصف لارڈز کے اعزازی رُکن تھے. یہ رکنیت لارڈز میں ٹیسٹ سینچری اسکور کرنے والے کو دی جاتی ہے، یا کاونٹی کرکٹ میں کلب کی نمایندگی کرنے پر، مجھے یاد نہیں کہ آصف اقبال نے کیا  بتایا  تھا۔ انھوں نے طے کر لیا تھا کہ پاکستان سیمی فائنل جیت گیا، تو وہ فائنل لارڈز میں بیٹھ کے دیکھیں گے۔ ایسا ہی ہوا۔ فائنل میں ہم نے آصف اقبال کو لارڈز سے براہ راست لیا تھا۔ انھی دنوں میں سے کوئی ایک دن تھا، فائنل سے پہلے جب آصف انگلینڈ میں تھے، ظہیر عباس نے پروگرام کے بعد پوچھا، کھانے کو کیا منگوا رہے ہو؟ مہمانو‍ں کی پیٹ پوجا کے لیے ہمیں معمول کے پروگراموں سے کچھ زیادہ بجٹ دیا گیا تھا۔ مہمان کی پسند کا منگا لیا کرتے تھے۔ میں نے کہا، جو آپ کہیں۔ کہنے لگے، آج باہر چل کے کھاتے ہیں۔

ٹھیک دس برس پہلے آج ہی کا کوئی دن تھا، وسیم بادامی، اسسٹنٹ رفیع، میں اور ظہیر عباس انھی کی گاڑی میں نکلے۔ حبیب بنک چورنگی پر پہنچے تو نہ جانے ظہیر عباس کے من میں کیا آیا، ملازم کو کال کی، اور ہم سے کہا چلو گھر چل کے کھاتے ہیں۔ ہم وہاں سے ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی میں ان کے گھر آ گئے۔ راستے میں میں نے پوچھا کہ آپ کا تعلق سیال کوٹ سے ہے؟ ظہیر عباس نے منہ بسورتے کہا، میرے والد (شاید دادا) سیال کوٹ سے کراچی آئے تھے، میں وہاں کبھی نہیں رہا۔ انٹرویو لیتے کوئی ایسا کہتا تھا، تو میں نے تردید نہیں کی۔ مجھے محسوس ہوا کہ انھیں سیال کوٹ سے اپنا ناتا جوڑنے پر کوئی فخر نہیں تھا، بل کہ ناظم آباد گراونڈ کا ذکر کیا، اپنے کوچ کا بتانے لگے کہ ان کے کوچ نے ان پر کتنی محنت کی. وہ شان دار دور جب سکھانے والے بے غرض ہو کے سکھایا کرتے تھے اور کوچنگ کی فیس نہیں ہوتی تھی۔

ظہیر عباس کا گھر کیا تھا، کسی فن کار کے ذوق کا پتا دیتا تھا۔ ظہیر عباس کی مسز نہایت معروف انٹریئر ڈِزائنر ہیں۔ کہتے ہیں، موچی لوگوں کے جوتے سیتا ہے، لیکن اس کا اپنا جوتا ٹوٹا ہوتا ہے، اس میں کچھ تبدیلی کی اجازت ہو تو کہوں، انٹیریئر ڈِزائنر اپنا گھر ایسا ڈِزائن کرتا ہے، کہ تعریف کے لیے الفاظ کم پڑتے ہیں۔

ہم جس کمرے میں بیٹھے تھے، میں نے ایسا کمرا نہ کبھی پہلے، نہ کبھی بعد میں کہیں دیکھا. تمام سرٹفکیٹ، انعامات، تمغے، ٹرافیاں، بیٹ، تصاویر اس سلیقے سے رکھی تھیں، جیسے کرکٹ کی چھوٹی سی گیلری ہو۔ میں اسے آرٹ گیلری کہوں گا، کیوں کہ اس کمرے کی سجاوٹ میں کسی آرٹسٹ کا ہاتھ نمایاں تھا۔ ظہیر عباس کے پورے کیریئر کی جھلکیاں آپ اس کمرے میں دیکھ سکتے ہیں۔

صفائی اور نفاست کے لحاظ سے کچن اور واش رُوم میں میرا ایک معیار ہے، ابھی تو جیسے تیسے چل رہا ہے، کہ غریب بھی ہوں اور غریب الوطن بھی. جب کبھی اپنا مکان بنایا تو ان دو کمروں پر سب سے زیادہ خرچ کروں گا، جنھیں کچن اور واش رُوم کہا جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے، کہ باتھ روم اور کچن کو بیڈ رُوم سے بھی بڑا ہونا چاہیے۔ صاف، روشن اور خشک. ظہیر عباس کی ’’کرکٹ گیلری‘‘ سے ملحق واش رُوم اتنا نفیس ہے کہ اس کا نقشہ کھینچنے کو لفظ نہیں ملتے. مرمری ٹائلوں پر ہرے پتوں کی بہار. دروازے کے بائیں ہاتھ دیوار کے ساتھ لکڑی کا بنچ رکھا تھا، جیسے کسی باغ کا منظر۔ میں وہیں بنچ پر بیٹھ گیا اور کہا، ’’یہ واش روم ہے یا گارڈن؟ یہاں سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا۔‘‘ انھوں نے اپنے ایک غیر ملکی دوست کا نام لیا، کہ وہ جب بھی میرے گھر آتا ہے، “گلاس” اٹھا کے یہیں بیٹھ جاتا ہے، جہاں تم بیٹھے ہو۔ اسے بھی یہ روم ایسا ہی پسند ہے۔

کھانا ہم نے کھلے آسمان تلے کھایا۔ بنگلے کے صحن نما حصے کے در میان سوئنگ پُول، بڑے بڑے پنکھے، اہتمام سے پیش کیا گیا پُر لطف کھانا۔ وہ لمحے بڑے یاد گار ہیں۔

مجھے فائنل پروگرام سے پہلے سن گن مل گئی تھی، کہ ظہیر عباس کو آخری پروگرام کے بعد چینل کی طرف سے جو چیک دیا جانا تھا، اس کی ادائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بل کہ کچھ بڑے ٹھٹھا اڑا رہے تھے کہ ظہیر عباس یونھی لوٹائے جائیں گے تو دیکھنے لائق منظر ہو گا۔ آخری شو رات گئے ختم ہوتا، ظہیر عباس پروڈیوسر سے پوچھتے، پروڈیوسر جواب دیتا، اکاونٹ تو شام پانچ بجے کلوز ہو جاتا ہے، کل صبح کال کیجیے گا۔ یہاں میں اس کا نام نہیں لیتا، جس نے مجھے کہا، ظہیر عباس کو کال کر کے یقین دلا دو کہ آخری روز چیک ضرور مل جائے گا۔ آصف اقبال، جن کے سامنے احتراما جاوید میاں داد کی آواز بھی دب جاتی تھی، ظہیر عباس انھیں فقط آصف کہ کر مخاطب کرتے تھے، اور کئی بار آصف سے نہایت بے تکلفی سے گزشتہ ’’سانجھے کارناموں‘‘ کا ذکر کر جاتے، کہ تمھیں وہ دن یاد ہے، جب وہ؟۔۔۔ وہ بھول جاتے کہ ہم وہاں موجود ہیں، جب آصف اقبال کے چہرے پر چھائی سنجیدگی میں زرا فرق نہ آتا، تو ظہیر سمجھ جاتے یہ تخلیے کی بات ہے، بچوں کے سامنے کرنا مناسب نہیں۔

میرے پاس دو راستے تھے، ایک یہ کہ باس کے کہنے پر ’’یا جھوٹ تیرا آسرا۔‘‘ دوسرا یہ کہ آصف اقبال کو کال کر کے بتاتا، کہ آپ کے دوست کے ساتھ یہ تماشا ہونے جا رہا ہے۔ میں نے تیسرے راستے کا انتخاب کیا۔ ظہیر عباس کو کال کر کے کہا، یا آپ آصف اقبال سے بات کر لیں، یا یہ اصرار کریں کہ میری فیس کی کل رقم کا چیک فائنل سے پہلے ادا کر دیں، ورنہ فائنل شو کرنے نہیں آوں گا۔ ظہیر عباس نے دوست کو تنگ گرنا گوارا نہیں کیا، دوسری تجویز مان لی۔ بات بڑوں تک پہنچی، منٹوں سیکنٹوں میں چیک تیار ہوا، اور وہی جو مجھے کہ رہی تھی، ظہیر عباس سے جھوٹ بولو، وہ چیک اٹھائے دوڑی دوڑی ظہیر عباس کے گھر دینے جا پہنچی، کہ آپ کا چیک نکلوانے میں میرا بڑا کردار رہا ہے۔ وہ بھی ظہیر عباس ہیں، عمران خان سے ملنے کے لیے آنے والی شائق کے آنسو پونجھ سکتے ہیں، تو کس کس کے ’’درد کا درماں‘‘ کرنا نہ جانتے ہوں گے۔

ظہیر عباس نے اگلے روز مجھے کال کر کے خصوصی شکریہ ادا کیا، کہ تم نہ بتاتے تو یہ سیٹھ میری فیس ہڑپ کر جاتے اور میں آصف سے کبھی نہ کہ پاتا۔

(جاری)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 285 posts and counting.See all posts by zeffer-imran