اقوام متحدہ کی رپورٹ: منشیات کی کیمائی تیاری اور انٹرنیٹ پر فروخت میں اضافہ

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منشیات

Getty Images
نشے کے شکار افراد کی تعداد تین کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے

پاکستان دنیا میں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کا ایک اہم روٹ ہے جہاں سب سے زیادہ ہیروئن اور گانجا پکڑا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی منشیات کی ’مانگ اور فراہمی‘ کے بارے میں عالمی رپورٹ کے مطابق 71 رکن ممالک میں منشیات پکڑنے کے 25 لاکھ کیسز ہوئے جن میں ترتیب وار گانجا، ہیروئن اور کوکین پکڑی گئی۔

سپین کے بعد پاکستان اور مراکش ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ گانجا پکڑا گیا۔

اسی طرح سب سے زیادہ ہیروئن افغانستان اور اس کے بعد پاکستان اور ایران سے قبضے میں لی گئی جو دونوں افغانستان کے پڑوسی ممالک ہیں۔

عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں نشے کی بے راہ روی کے شکار افراد کی تعداد تین کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ سنہ2017 میں منشیات کے استعمال کی وجہ سے 5 لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات

درد کش دوائیں جو منشیات کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں

’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘

اسلام آباد میں کتنے فیصد طالبات نشہ کرتی ہیں؟

اس رپورٹ کے مطابق سال 2017 کے تخمینے کے مطابق 15 سے 64 سال تک کے تقریباً 2 کروڑ 71 لاکھ افراد نے سال میں ایک بار منشیات کا استعمال ضرور کیا ہے۔

کوکین افریقہ، ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ میں زیادہ استعمال کی جا رہی ہے جبکہ گانجے کا استعمال شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں زیادہ ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں مارکیٹ میں موجود منشیات کی تیاری کے طریقہ کار میں تبدیلی آئی ہے یعنی قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ کوکین اور ہیروئن اب کیمیائی طریقے سے بنائی جا رہی ہے جس سے انسانی اموات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

گانجا

Getty Images
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق عالمی طور پر ایک کروڑ 88 لاکھ افراد گانجے کے عادی ہیں

گانجا زیادہ مقبول نشہ

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے بارے میں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی طور پر ایک کروڑ 88 لاکھ افراد گانجے کے عادی ہیں، اس کا سب سے زیادہ استعمال شمالی امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سمیت بحرالکاحل، مشرقی اور وسطی افریقہ کے ممالک میں کیا جاتا ہے۔

سنہ2010 میں نوجوانوں میں گانجے کے استعمال میں کمی آ رہی تھی یا ٹھہراؤ دیکھا گیا تھا تاہم خاص طور پر مشرقی اور وسطی یورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اس کے استعمال کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا۔

ہیروئن اور کوکین

صحت پر شدید مضر اثرات کی وجہ سے کئی ممالک میں ہیروئن اور کوکین سب سے زیادہ قابلِ تشویش منشیات بن چکی ہیں۔

منشیات کی وجہ سے ہونے والی ایک لاکھ 67 ہزار اموات میں سے ایک لاکھ دس ہزار افراد کی اموات اسی کے استعمال سے ہوئیں جو کُل اموات کا 66 فیصد ہے۔ ہیروئن اور کوکین کا استعمال شمالی امریکہ اور کینیڈا میں زیادہ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 53 لاکھ سے زائد افراد ہیروئن یا کوکین کا استعمال کر رہے ہیں۔ 2016 کے مقابلے میں 2017 میں یہ تعداد 56 فیصد زیادہ ہے، 2016 میں ہیروئن کے عادی افراد کا تخمینہ 34 لاکھ لگایا گیا تھا۔

ایمفیٹامینز

ایمفیٹامینز کا استعمال طبی طور پر بھی کیا جاتا ہے تاہم بطور نشہ اعصابی نظام کو متحرک کرنے اور افسردگی دور کرنے کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کرسٹل میتھ یا آئس بھی اس کی اقسام ہیں۔

عالمی رپورٹ کے مطابق ایمفیٹامینز استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2016 میں 34 لاکھ کا اندازہ لگایا گیا تھا، جبکہ 2017 میں یہ تعداد 28 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال شمالی امریکہ، بحرالکاحل کے ممالک میں کیا جاتا ہے۔

کوکین

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کوکین کا استعمال کرتے ہیں اور سب سے زیادہ استعمال آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت بحرالکاحل سے جڑے ہوئے ممالک میں ہے۔ اس کے علاوہ شمالی امریکہ، مغربی یورپ، وسطی یورپ اور جنوبی امریکہ میں بھی یہ کافی مقبول ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2012 تک شمالی امریکہ میں کوکین کے استعمال میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا لیکن دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس کا پھیلاؤ کوکین بنانے والے ممالک کے علاوہ ایشیا اور مشرقی افریقہ میں بھی ہو رہا ہے۔

نشہ

Getty Images
منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی، جگر کے سرطان، ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا ہونے کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے

نوجوانوں میں منشیات کا استعمال زیادہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق منشیات کا استعمال نوجوانوں میں بڑھ رہا ہے۔

15 سے 64 سال کے افراد میں سے 18 سے 25 سال تک کے نوجوانوں میں رجحان زیادہ ہے جس کی وجوہات میں معلومات اور نتائج کے بارے میں لاعلمی، ذہنی تناؤ، خاندان کی جانب سے نظر انداز ہونا، سماجی رویے، میڈیا کا اثر اور دیگر عوامل شامل ہیں۔

منشیات کا علاج

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے رکن ممالک کو اقدامات لینا ہوں گے ورنہ عالمی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے اور ’کوئی پیچھے نہ رہ جائے‘ کے خواب کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق گانجے کا استعمال سب سے زیادہ نوجوان میں عام ہے اور اس وقت تک گانجے کی لت کو لے کر کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔ صرف سماجی اور نفسیاتی رویوں اور سوچ میں تبدیلی سے اس کی روک تھام ممکن ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں کوکین اور ہیروئن کے علاج پر توجہ دی جا رہی ہے۔

منشیات کے استعمال سے جہاں ذہنی امراض لاحق ہوتے ہیں وہاں اس کے عادی افراد کے ایچ آئی وی، جگر کے سرطان، ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا ہونے کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔

کیمیائی پیداوار

Getty Images
افغانستان اور میانمار کے بعد افیون کی سب سے زیادہ کاشت میکسکو میں کی جاتی ہے

منشیات کی کاشت اور فروخت

اس عالمی رپورٹ کے مطابق گانجا دنیا میں کاشت کی جانے والی سب سے بڑی منشیات ہے اور اس کے علاوہ کوکا کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سنہ 2016 کے مقابلے میں 17 فیصد کمی کی باوجود 2017 میں 3 لاکھ 46 ہزار ہیکٹرز پر غیر قانونی طور پر افیون کی کاشت کی گئی۔ یہ تعداد ایک دہائی قبل کی گئی کاشت سے 60 فیصد زیادہ ہے۔

پوست کی کاشت میں کمی کے باوجود بھی افغانستان پوست کاشت کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں قحط اور پوست کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

میانمار افیون کی پیداوار کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں پیداوار میں 12 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ جنوبی اور مشرقی ایشیا میں طلب میں کمی ہے جہاں اب کیمیائی طریقے سے منشیات تیار کی جاتی ہے۔

افغانستان اور میانمار کے بعد افیون کی سب سے زیادہ کاشت میکسکو میں کی جاتی ہے۔ یہ تینوں ممالک دنیا میں منشیات کی منڈی کا 96 فیصد افیون پیدا کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت

عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سنہ2014 میں اس کی شرح 4.7 فیصد تھی جو جنوری 2019 تک 10.7 فیصد ہو گئی ہے۔

انٹرنیٹ پر منشیات کی فروخت سب سے زیادہ یورپ میں کی جاتی ہے۔ فن لینڈ، سویڈن، سکاٹ لینڈ، ویلز، برطانیہ، امریکہ اور کولمبیا میں یہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9950 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp