”سلیکٹڈ“ میں برائی کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کی طرف سے ”سلیکٹڈ“ پر جو ردعمل دکھایا گیا ہے اس سے اپوزیشن کو کافی سیاسی آکسیجن ملی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی بذات خود جب قومی دولت لوٹنے کے جرم میں میاں نواز شریف کو ڈاکو کہہ کر پکارتے تھے تو مسلم لیگ (ن) کے تمام رہنماؤں کے ماتھوں پر شکنیں واضح دکھائی دیتی تھیں لیکن میاں نواز شریف ایوان میں بھرپور اکثریت ہونے کے باوجود ایسی کوئی ترمیم پارلیمنٹ میں نہ لے کر آئے کہ منتخب وزیراعظم کو ڈاکواور چور کہہ کر نہیں پکارا جاسکتا۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان اور ان کے دوست میاں نواز شریف کے خاندان کو ”ٹبرچور“ کہہ کر پکارا کرتے تھے لیکن میاں نواز شریف نے اس پر کوئی آرڈینس جاری نہیں کیا تھا کہ منتخب وزیراعظم کو ”ٹبر سمیت چور اور ڈاکو“ کہنے پر قابل دست اندازی جرم تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر آصف علی زرداری کے لئے بھی ڈاکو کا لفظ استعمال کرتے تھے اور یہ پی ٹی آئی ہی تھی جس نے پی پی پی کے لئے پاپا پھوپھو پارٹی کی اصطلاح ایجاد کی تھی لیکن ان کی طرف سے بھی اتنا شدید رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا تھا جتنا ”سلیکٹڈ“ کہنے پر وفاقی حکومت نے دکھایا ہے اور حکم جاری کردیا گیا ہے کہ ”سلیکٹڈ“ لفظ شائع کرنے اور نشر کرنے پر پابندی ہوگی۔

ان دنوں وفاقی پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے، پولیس افسران کی نگرانی میں اہل امیدواروں کو ”سلیکٹ“ کرنے کے لئے نوجوانوں کی دوڑیں لگوائی جارہی ہیں اور ان کے سینے ماپے جارہے ہیں، وفاقی پولیس کواپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے 12 سو جوانوں کو ”سلیکٹ“ کرنے کی ضرورت ہے۔ اب مسئلہ تو یہ ہے کہ وفاقی پولیس ان 12 سو جوانوں کو اگر ”سلیکٹ“ کرلیتی ہے تو قانون کے مطابق وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتے کیونکہ ”سلیکٹ“ لفظ لکھنے اور نشر کرنے پر پابندی لگ چکی ہے۔

جوامیدوار کامیاب تصور کیے جائیں گے ان سے اہل محلہ یقینی طورپر چھیڑ چھاڑ کریں گے کہ بھئی تم ایلیکٹ ہوئے یا سلیکٹ ہوئے ہو؟ قانونی طورپر وہ ایلیکٹ تو نہیں ہوئے لیکن ”سلیکٹڈ“ بھی تصور نہیں ہوسکتے۔ بہرحال وفاقی پولیس کے افسران ان تمام امیدواروں کے لئے لفظ بھرتی کرلئے گئے کا جملہ استعمال کرکے سنسر کی تمام پابندیوں سے آزاد ہوجائیں گے۔

حکومت نے ”سلیکٹڈ“ شائع کرنے اور نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور اب ڈر اس بات کا ہے کہ اپوزیشن سلیکٹڈ سے تائب ہو کر وزیراعظم کے لئے ”بھرتی“ کا لفظ استعمال کرنا نہ شروع کردے اور یہ لفظ وزیراعظم کے عہدے کے لئے سلیکٹڈ سے بھی کہیں زیادہ بدبودار سمجھا جائے گا۔ حکومت کو بات ”سلیکٹڈ“ اور ”ریجیکٹڈ“ تک ہی محدود رکھنی چاہیے تھی۔ ایک ایسی اپوزیشن جس کے بڑے لیڈروں کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور کچھ کو عدالتیں سزاء بھی سنا چکی ہیں، ایسی اپوزیشن کے صرف ایک لفظ سے گھبرانے والی بات نہیں تھی۔

وزیراعظم عمران خان بذات خودجب قومی ٹیم میں شامل ہوئے تھے انہیں ان کی تیز رفتار باؤلنگ کی وجہ سے سلیکٹ کیا گیا تھا اور پھر انہوں نے خودکو دنیا کا نمبر ون آل راؤنڈر بھی منوایا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم ہو یا پھر ہاکی ٹیم ہو ان میں آج بھی نوجوان کارکردگی کی بنیاد پر سلیکٹ کیے جاتے ہیں نہ کہ ایلیکٹ کیے جاتے ہیں۔ اس لئے وزیراعظم عمران خان کو اس لفظ سے ”الرجی“ قطعی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

ویسے بھی دینی لحاظ سے دیکھا جائے تو پروردگار عالم مشکل ترین کاموں کے لئے اپنے مخصوص بندے سلیکٹ کرتا ہے اور ان سلیکٹڈ بندوں کی پھر بڑی آزمائشیں ہوتی ہیں۔ ملک و قوم آج کل بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں اور اللہ تعالی نے اگراس مشکل صورتحال کے لئے وزیراعظم عمران خان کو ”سلیکٹ“ کیا ہے تو پی ٹی آئی کے وزراء، مشیروں اور اراکین پارلیمنٹ کو شرمندہ ہونے کی بجائے خوش ہونا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان کرکٹ میں مشکلات کا سامنا دلیری سے کرتے تھے اور آج کل معاشی اور مہنگائی کے طوفان کاسامنا بھی اسی بہادری سے کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے طوفان بدتمیزی سے پریشان ہوناکپتان کے شایان شان نہیں ہے۔ جوہمارے نام نہاد ”ایلکٹڈ“ تھے انہوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے قومی دولت لوٹی۔ اس لئے قوم کواگر ”سلیکٹڈ“ راس آجائے تو اس میں ہرج ہی کیا ہے؟ سب سے اہم نقطہ تو یہی ہے کہ ملک و قوم کے لئے مخلص کون ہے؟

ہمارے ”ایلکٹڈ“ حضرات کی شوگرملیں اور بیرون ملک جائیدادیں قومی دولت لوٹ کر ہی بنائی گئی ہیں۔ ایسی ”ایلکٹڈقیادت“ سے سو بار توبہ۔ ”سلیکٹڈ“ وزیراعظم کی ”برائی“ صرف یہ ہے کہ اس نے ”الیکٹڈ“ کو بے نقاب کردیا ہے۔ اسی سلیکٹڈ نے دونوں کی چوریاں تلاش کرکے ان کی سرکاری ”چوری“ بند کردی ہے جب وہ منتخب ایوانوں کے نام پر عرصہ دراز سے طوطے بن کر رکھا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ”سلیکٹڈ“ میں کیا برائی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 59 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat