ویسے تو زندگی ہی غیر یقینی ہے لیکن پاکستان میں بالعموم اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بالخصوص ہر چیز اور ہر وقت غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو خود پر یقین نہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بھی وزیر اعظم کو یقین نہیں ہے کہ وہ اس عہدے پر کتنا عرصہ رہیں گے۔ اپنے ”غیر یقینی“ ہونے بارے وزیر اعظم نے گزشتہ سات دن میں دو بار قوم کو یقین دلایا۔ سو دنوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ مجھے اکثر یقین دلاتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں۔
ملک میں غیر یقینی کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ اصولی طور پر ہمارے ہاں سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کی تازہ ترین صورت حال کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورت حال بھی ہر گھنٹے بعد ٹی وی چینلز کے ذریعے بتائی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا رہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت اور ”یقینی صورت حال“ کا کیا عالم ہے؟ جس طرح ہمارے وزیر اعظم غیر یقینی کا شکار ہیں بلکہ ”شاہکار“ ہیں اسی طرح اب یہ وائرس وفاقی کابینہ میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر ملکی معیشت کی بہتری اور غیریقینی صورت حال پر بات کرنے کی بجائے دن میں دو تین بار یہ وضاحت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس نہیں لیا جا رہا۔
Read more