بے چارہ نیب!

حکومت نے ایک بار پھر نیب پر چڑھائی کی ہے اور کہا ہے کہ نیب کی کارکردگی قابل اطمینان نہیں ہے۔ حکومت نیب کے کام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہے جبکہ نیب کے چیئرمین اور افسران کا کہنا ہے کہ نیب اتنا کام کر رہا ہے کہ اس کو ”اطمینان“ نصیب ہی نہیں ہوتا۔ دونوں طرف ”عدم اطمینان“ کی کیفیت ہے۔ لہٰذا نیب اور حکومت دونوں کو مل بیٹھ کر ایسی راہیں تلاش کرنی چاہئیں جو ”اطمینان بخش“ ہوں وگرنہ دونوں بے چینی کا شکار ہو کر مشکلات میں گھر سکتے ہیں۔

Read more

نجی تعلیمی ادارے اور ہسپتال

میاں نواز شریف پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ آج کل وہ بیمار ہیں اور ان کے چاہنے والے پاکستان کے ہسپتالوں میں ان کا علاج موت کو دعوت دینے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو اس وقت بھی علاج وہ بیرون ملک ہی کراتے تھے۔…

Read more

گناہ ٹیکس

سگریٹ پر گناہ ٹیکس عائد کرنے کے بعد حکومت کو چند اقدامات اور بھی کرنا چاہئیں۔ ان اقدامات سے ملکی معیشت کو بھرپور فائدہ ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام آباد سمیت ملک کے تمام بڑے اور قدرے چھوٹے شہروں میں عصمت فروشی کے اڈے پولیس کی زیر نگرانی چل رہے ہیں۔ عصمت فروشی کے تمام اڈے درحقیقت پولیس سرکار کو ”گناہ ٹیکس“ ادا کرکے اپنا دھندہ کرتے ہیں۔ بڑی سرکار اگر ایف بی آر کو اس سلسلے میں متحرک کرے تو پولیس کے منہ سے ”ٹیکس نوالہ“ چھین کر قومی خزانہ میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کا دوسرا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس تھانے کی حدود میں جتنے عصمت فروشی کے اڈے چل رہے ہیں اس حساب سے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے ”گناہ ٹیکس“ وصول کرلیا جائے۔

Read more

انصاف نہیں ہو سکتا

سانحہ ساہیوال میں کی گئی اب تک کی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ جو لوگ قانون پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہی ان کو تحفظ دے گا یہی لوگ چوکوں اور چوراہوں میں بے دردی سے مار دیے جاتے ہیں اور جو لوگ قانون سے ماوراء ہو کر جینے کا گر سیکھ جاتے ہیں یہی لوگ معاشرے میں ”عزت دار“ اور معتبر قرار پاتے ہیں۔

سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی تحقیق کا آغاز جائے وقوعہ پر سیلفیاں لے کر کیا تھا اور اب ”سیلف ڈیفنس“ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ سانحہ ساہیوال کے متاثرین اب بھی قانون کی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے جینے کی آرزو لئے بیٹھے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ قانون کے رکھوالے انہیں لاہور سے اسلام آباد تک کا سفر انصاف کی آسان فراہمی کے لئے کروا رہے ہیں۔

Read more

زیر تعمیر یا زیر تربیّت حکومت

وزیر اعظم عمران خان اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد اقتدار بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان 22 سالہ اپوزیشن کی ریاضت کے بعد معمولی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اکثریت معمولی ہے اور ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ…

Read more

عثمان بزدار کا ایک بہترین انتخاب

پاکستان کے معروف بزنس مین اور سابق صوبائی وزیر سردار تنویر الیاس خان کو پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کا چیئرمین مقرر کیاگیا ہے۔ سردار تنویر الیاس خان کا خاندان سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سے مختلف سرمایہ کاروں کے ذریعے پاکستان میں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری میں اہم کردار اداکرچکے ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان نے پنجاب میں گزشتہ نگران حکومت میں بطور وزیربھی خدمات سرانجام دی ہیں۔

سردار تنویر الیاس خان کو نگران وزیرزراعت وخوراک کا قلمدان سونپاگیا اور اس دوران پنجاب کی دیگر اہم وزارتیں ان کے حصے میں آئیں جن میں ایک پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بھی تھی۔ اس دوران سردار تنویر الیاس خان نے متعدد منصوبوں کو تکمیل تک پہنچایا، اپنے مختصر وقت کو ضائع نہیں کیا بلکہ دن رات کام کرکے محکموں کی زبوں حالی کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار اداکیا۔

Read more

سرکاری بندوقوں کا خوف

سانحہ ساہیوال پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم  ہے لیکن قابل فکر بات یہ ہے کہ سانحہ پہ سانحہ ہوا جا رہا ہے اور ہم سب انہیں روکنے کا مستقل حل تلاش کرنے کی بجائے چند روز سینہ کوبی یا پھر ”قلم زنی“ کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور مختلف اداروں میں موجود…

Read more

نواز شریف اور زرداری سے ڈیل کرنے کے لئے حکومت پر کون دباؤ ڈال رہا ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے بھی دباؤ کا اعلان کر دیا ہے۔ پچھلی دو حکومتیں خلائی مخلوق کے دباؤ کا تذکرہ کرتے کرتے اپنی مدت پوری کر گئی تھیں اور ان دونوں حکومتوں میں خلائی مخلوق کا دباؤ کم و بیش دو سال گزرنے کے بعد ظاہر ہرنا شروع ہوا تھا لیکن موجودہ حکومت کو تو ابھی اپنے اقتدار میں موجودگی کا بمشکل یقین آیا ہے اور اس نے دباؤ کے ہلکے ہلکے جھٹکے محسوس کرنا شروع کر دیے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اپنے آبائی شہر جہلم میں یہ انکشاف کیا کہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سے معاملات طے کرنے کے لئے شدید دباؤ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر معاملات کو کچھ لے دے کر ہی طے کرنا ہوتا تو پھر عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا کیا فائدہ ہے؟ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے جس دباؤ کی ”اطلاعات“ دی ہیں۔ یقیناً یہ ”دباؤ“ آئی جی اسلام آباد یا وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی طرف سے حکومت پر نہیں آیا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) سے فوری طور پر معاملات طے کیے جائیں۔

Read more

جھوٹوں کی منڈی

حکومت کے لچھن آہستہ آہستہ یہ راز فاش کرتے جا رہے ہیں کہ ”ایماندار حکومت“ کے پلے بھی ”بے ایمانی“ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عبدالرزاق داؤد جو کہ حکومت کے اہم ترین وزیر ہیں ان کے بیٹے کی کمپنی ”ڈیسکون“ کو مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیاجانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ عبدالرزاق داؤد نے کابینہ میں شمولیت سے پہلے کاروبار چھوڑ دیا تھا۔

اگر حکومت کے اس موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر میاں نواز شریف سے بڑا بے گناہ سیاستدان کوئی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کاروبار اور سیاست کو خاندان کے دو حصوں میں کئی سال پہلے تقسیم کر دیا تھا۔ اس اصول تقسیم کے تحت حسن نواز اور حسین نواز لندن میں ہر طرح کے ”کاروباری“ امور کے نگران ہیں جبکہ محترمہ مریم نواز کو سیاسی امور کا نگران بنایا گیا تھا۔ وفاقی وزیر کامرس عبدالرزاق داؤد نے بھی ”کاروبار حکومت“ میں شامل ہونے سے پہلے ذاتی کاروبار اپنے بیٹے کے سپرد کر دیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عبدالرزاق داؤد نے تمام وزارتوں اور صوبوں کو یہ ہدایات جاری کر دی ہوں کہ میرے بیٹے کی کمپنی کو اس وقت تک کوئی ٹھیکہ نہ دیاجائے جب تک میں وفاقی وزیر ہوں یا حکومت کے کسی دیگر اہم عہدے پر فائز رہوں!

Read more

اصغر خان کیس کا انجام

اصغر خان کیس بالکل اسی طرح دم توڑتا ہوا نظر آرہا ہے جس طرح ہمارے ہاں اسی، نوے سال کے بزرگ اپنے آخری ایام میں بستر مرگ سے لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اصغر خان کیس بنیادی طور پر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف عوام کا کیس تھا اور اس میں ملک کی ٹاپ عسکری اور سول سیاسی لیڈر شپ ملوث تھی۔ اس کیس کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ دو فوجی جرنیل سیاستدانوں کے ساتھ مل کر سیاست کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔

ہمارے ملک کا ہمیشہ سے المیہ ہی یہ رہا ہے کہ طاقتور کے سامنے قانون کے دانت ہمیشہ کھٹے ہوجاتے ہین۔ اس کیس نے ایک طرف قانون کے دانت کھٹے کر دیے اور دوسری طرف ایک بار پھر عوام کے قانون سے متعلق ”دل کھٹے“ کردیئے۔ ہمارے ملک کا طاقتور طبقہ اس اہم ترین کیس میں قانون کے جبڑے کھول کر اپنا ہاتھ نکالتا ہوا صاف دکھائی دے رہا ہے۔

Read more