بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ وہ مذہب کا ہتھیار استعمال نہیں کرتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا مذہب سماج پرریاستی قبضہ مضبوط کرنے کا ایک ہتھیار ہے؟ کیا مذہب کو حکومتی یا ذاتی مفادات پورے کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے طاقتور حکمران طبقات نے اپنی رعایا کو زیر اثر رکھنے کے لئے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یورپ تاریک دور میں صدیوں تک جہالت کے اندھیرے میں ڈوبا رہا۔ اس دوران بادشاہ، شرفاء اور چرچ نے مل کر مذہبی عقائد کی بنیاد پر عوام پر اپنا تسلط قائم رکھا۔ عوام کو مذہبی رہنماؤں نے اس مخمصے میں الجھائے رکھا کہ موجودہ زندگی کی مشکلات خدا کی طرف سے ہیں۔ خدا کسی کو کم دیتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ اس زندگی کی مشکلات اُخروی زندگی میں آسانیوں کا رستہ ہموار کرتی ہیں اور خدا کی رضا میں راضی رہنا ہی انسان کی ابدی کامیابی کی کنجی ہے۔

اس طرح ریاست مذہب کا نام استعمال کر کے عوام کی توجہ ان کی مشکلات اور مسائل سے ہٹا کر نیکی کے کاموں کی طرف مبذول کرنے میں کامیاب ہو تی رہی۔ مذہب تکلیف اور مصیبت میں حکمرانوں سے مدد مانگنے کی بجاے ان کو صبر کی تلقین کرتا رہا ہے۔ یوں حکومتی اہلکار آسانی سے لوگوں کو بے وقوف بناتے رہے۔ کارل مارکس نے مذہب کے اسی استعمال کو سامنے رکھتے ہوے کہا تھا۔ ”مذہب لوگوں کے لئے افیون ہے، بے روح انسانوں کی روح ہے، یہ طبقات پرحکمرانی کرنے کے لئے مفید ہے کیونکہ یہ مزدور لوگوں کو عہد سعادت کی جھوٹی امید دلاتا ہے۔ “

حکمرانوں نے مذہب کو ریاست اور بادشاہ کے ساتھ جوڑ کر ایک بھی کر دیا۔ اس طرح سیاسی مخالفیں کو غدار، کافر اور مرتد کے فتووں کی مدد سے راستہ سے ہٹانا آسان ہو گیا۔ مذہبی سیاسی حکمرانوں کی یہ حکمت عملی ان کے ظالمانہ دور حکومت کو طوالت بخشتی رہی۔

یورپ میں سب سے پہلے بازنطینی سلطنت کے بانی شہنشاہ قسطنطین اعظم نے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے کیتھولک چرچ کی بنیاد رکھی تھی۔ اس نے اپنے ملک کو مذہبی ریاست بنا کر مملکت پر اپنا شکنجا مضبوط کیا۔ اسی نئے مذہب کی مدد سے اس کے بعد میں آنے والوں نے اپنی اپنی حکومتوں کو طاقت فراہم کی۔ ان کی یہ چال وقتی طور پر تو مفید رہی لیکن مملکت کی تباہی کو دیرتک نہ روک سکی۔ بالآخر ان پر زوال آگیا لیکن مذہب کا شکنجا اور سخت ہو گیا اور ان کی اس چال نے پورے یورپ کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔ جو صدیوں تک چھایا رہا۔

اگرابتدائی مسیحیت کا بغور مطالعہ کیا جاے تو واضح نظر آتا ہے کہ سیدنا مسیح ؑکی ساری جدوجہد یہودی راہبوں کے خلاف تھی جن کے رومی قابض حکمرانوں کے ساتھ اتحاد نے لوگوں کو دبا کر رکھا ہوا تھا۔ مسیح ؑنے یہودی مذہب، اس کے راہبوں اوراستحصالی قوتوں کے خلاف خصوصی طور پرتبلیغ کی۔ ان مذ ہبی قوتوں نے مسیح ؑکی تبلیغ کو اپنے لئے خطرہ جانا۔ مسلسل ان کے خلاف مہم جاری رکھی اور بالآخر مسیح ؑ کو اپنے راستہ سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے۔

سیدنا مسیح ؑلوگوں کو ان کے شکنجے سے نجات دلانا چاہتے تھے۔ یہ کشمکش ظاہر کرتی ہے کہ ابن مریم ہر اصلاح کار کی طرح انسانیت کواس وقت کے مذہبی مظالم سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس جدوجہد میں اپنی جان پر بھی کھیل جاتے ہیں۔ لیکن کچھ مدت گزرنے کے بعد ان کے ماننے والے جب اپنے آپ کو اس قابل بنا لیتے ہیں کہ ظالموں کو اکھاڑ پھینکیں تو وہ بھی اپنی اجارہ داری کو دوام دینے کے لئے اسی راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اصل تعلیمات بدل دی جاتی ہیں اور انسانیت پھر زیر عتاب آ جاتی ہے۔

لوگوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر غلام بنانے کے لئے تعلیما ت میں اختراعات کی جاتی ہیں۔ نظریات تبدیل ہو جاتے ہیں اور نئے مذاہب کے ربی مذہب کو دوبارہ استحصالی آلہ بنا لیتے ہیں جس سے انسانیت پھرزیر عتاب آجاتی ہے۔ یورپ میں یہ عتاب بازنطینی سلطنت کے مسیحیت کو ریاستی مذہب قرا ر دینے سے شروع ہوا اور ہزار سال سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔ اس دوران بادشاہ اور اس کے حواری، چرچ او ر اس کے پوپ و پادری ہر طرح کا ظلم مذہب کی چھتر چھاؤں میں عوام اور مخالفین پر ڈھاتے رہے۔ ان کے اس ظلم سے سیاسی مخالفیں کے ساتھ ساتھ ہر وہ شریف انسان بھی متاثر ہوا جس نے ان کی سوچ کے خلاف ذرا سی بھی بات کی۔ اساتذہ، سائنسدان، حکماء، معالج، فلاسفر، محقق تو قابل گردن زنی قرار دیے ہی گئے، مجذوب اور ذہنی مریض بھی زندہ جلا دیے گئے۔

چرچ اور بادشاہ کی یہ رفاقت ہمیشہ ایسی ہی نہیں رہی، اس میں بھی کھینچا تانی مسلسل جاری رہی۔ رچرڈ برٹن کی فلم ”بیکیٹ“ اس کی بہترین مثال ہے۔ چرچ چونکہ عوام کو ذہنی غلام بنا لیتا تھا اور جنت کا لالچ، ان کا سب سے بڑا ہتھیار تھا (اور اب بھی ہے ) ، اس لئے وہ نہتے عوام کو بھی بادشاہ کی طاقتور افواج کے مقابلہ میں کھڑا کر دیتا تھا۔ اور یوں وہ ہمیشہ مملکت کے لئے مسائل کا سبب بنتا رہا۔ حکمران خاندان اور بادشاہ بدلتے رہتے تھے لیکن چرچ اور اس کی جاگیریں ہمیشہ موجود رہتی تھیں، اس لئے اس کی گرفت بادشاہ کی نسبت زیادہ مضبوط تھی۔

یورپ میں جب تحریک احیائے علوم کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی چرچ کی اس اجارہ داری پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوے۔ سولہویں صدی کے شروع میں رومن کیتھولک چرچ اور پاپائیت کی ان زیادتیوں کے خلاف پروٹیسٹنٹ اصلاحِ کلیساء تحریک کا آغاز ہوا۔ اس دوران کیتھولک فرقہ کے طریقہ کار پر سخت اعتراضات کیے گئے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے پچانوے مقالے اس کے خلاف لکھے اور بایئبل کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ اس نے چرچ اور مملکت کی علیحدہ علیحدہ حکومت کا خیال پیش کیاجس سے چرچ کے مضبوط قلعہ میں دراڑ پڑنا شروع ہوگئی۔ لوتھر کے ان دو حکومتوں کے عقیدے نے چر چ کو مملکت سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کے موجودہ تصور کو بنیاد فراہم کی۔

اس کے بعد مذہب کی سیاست اور مملکت کے کاروبار میں آہستہ آہستہ مداخلت کم ہوتی گئی اور مملکت نے بھی مذہبی معاملات میں ہدایات جاری کرنا چھوڑ دیں۔ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کا ذکر کرتے ہوے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے اپنے ایک خط میں لکھا،

”آپ کے ساتھ میرا بھی ایمان ہے کہ مذہب خالصتاً خدا اور اس کے بندے کا آپس کا معاملہ ہے۔ میں امریکی لوگوں کو پورے اعتماد کے ساتھ یقین دلاتا ہوں کہ ان کی مقننہ کسی مذہب کو لاگو کرنے یا کسی پر آزادانہ عمل کرنے پر پابندی کا کوئی قانون نہیں بناے گی۔ اس طرح چرچ اور حکومت کے درمیان علیحدگی کی دیوار کھڑی کی جاے گی۔ “ حکومت چرچ کے کاموں میں مداخلت نہیں کرے گی اور مذہبی قائدین کا مملکت کے کاموں میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔

یہ وہی بات تھی جس کا ذکر بائیبل میں ہے۔

جب مبارک جمعۃ العظیم سے تین دن پہلے بیت الحم میں سیدنا مسیح ؑسے سوال کیا جاتا ہے کہ قیصر کو جزیہ دینا روا ہے کہ نہیں؟ انہوں نے کہا، ”اے ریا کارو مجھے کیوں آزماتے ہو؟ جزیہ کا سکہ مجھے دکھاؤ۔ اس پر صورت اور نام کس کا ہے؟ انہوں نے اس سے کہا قیصر کا۔ جواب دیا پس جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔ “ متیّ کی انجیل 22 : 17۔ 21

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر مذہبی آدمی تھے۔ ایک مرتبہ ایک سوال کے جواب میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی کوشش کی تو ان کے سنئیر مشیر الیسٹر کیمبیل اس میں مداخلت کی اور کہا، ”We don`t do God۔ “

سیاسی معاملا ت میں مذہب کی مداخلت پر اتنی سخت پابندی ہے کہ اس نے ٹوک دیا، ہم خدا کا نام استعمال نہیں کرتے۔

خلیج کی جنگ کے دوران جب عراق میں ہلاکتوں کاآغازہوا تو ٹونی بلئیر کے مشیروں نے قوم سے خطاب کے ا ختتام میں ”خدا تم پر رحم کرے“ کے الفاظ ادا کرنے سے بھی منع کر دیا تھا۔

الیسٹر کیمبیل نے تھریسا مے کے ایسٹر پیغام پر اس سے ملتے جلتے الفاظ کہنے پر بھی اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ پاسٹر کی بیٹی کو بھی سیاست کو مذہب کے ساتھ الجھانے سے احتیاط کرنی چاہیے۔

جب تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تواکّا دکّا مذہبی رہنماؤں کے علاوہ تمام مذہبی جماعتوں نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔ ان سب کی مخالفت کے باوجود پاکستا ن معرضِ وجود میں آگیا۔ قائد اعظم سیکولر اور لبرل نظریات کے حامل وکیل کے طور پر جانے جاتے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا 11 اگست 1947 کو پہلی قانون سا ز اسمبلی کوخطاب بلاشبہ سیکولر نظریات کا ایک کلاسیکی اور پر زور اظہار ہے۔ جس کی روح سے پاکستان کے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا بھر پور حق ہے۔ ریاست کو کوئی حق نہیں کہ وہ شہریوں میں ان کے مذہب کے لحاظ کے تفریق کرے۔ اور ریاست کا بھی کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ قائداعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہندو ہندو نہ رہے گا اور مسلمان مسلمان نہ ہوگا۔ تمام پاکستانی ہوں گے۔ ”تم کسی بھی مسلک، ذات یا نسل کے ہو، اس کا مملکت کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ “

قائد اعظم کی وفات کے بعد کسی بھی لیڈر کی عوام میں مقبولیت موجود نہ تھی ان حالات میں مذہبی جماعتوں نے ان پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا اورپاکستاں ایک مذہبی ریاست میں ڈھلتا چلا گیا۔ بوقت ضرورت ہرآمر اورسیاستدان نے مذہب کا نام استعمال کیا۔ بھٹو جیسے لبرل قائد کو بھی اسلامی بلاک، ختم نبوت، جمعہ کی چھٹی اور شراب پر بابندی کے نعروں کا سہارا لینا پڑا۔ ضیا الحق تو دو آیات پڑھتا تھا اور دوسال الیکشن ملتوی کر دیتا تھا۔

بے نظیر بھٹو کو اپنے ہاتھ میں تسبیح اور سر پر ڈوپٹا اوڑھنا پڑا۔ فضل الرحمان کو ہم رکاب رکھنا پڑا۔ نواز شریف تو ضیا، مولویوں اور پیروں کے آستانہ سے نکل کر ہی سرخرو ہوا۔ مذہبی انتہا پسندوں کو افغان جنگ میں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اور یہی ہتھیار بوقت ضرورت سیاسی مخالفین پر بھی داغ دیا گیا۔ ملک کے حالات یورپ کے تاریک دور سے بھی بد تر ہوگئے۔ صدر، وزیر اعظم، چیف آف آرمی سٹاف، گورنر کے ساتھ ساتھ، جی ایچ کیو اور فوجی سکول تک نشانہ بناے گئے تو کچھ بات سمجھ میں آنا شروع ہوئی کہ مذہب کو یورپ نے کیوں چرچ کی حدود میں قید کیا تھا۔ لیکن جب دوبارہ ضرورت پڑی تو اس کو جڑواں شہروں کے چوکوں پر پھر لا بٹھا یا گیا۔

اب مولانا فضل الرحمان نے اسی ہتھیار کو عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کی بات کی تو پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر بلاول بھٹو نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ ہم مذہب کا ہتھیار استعمال نہیں کرتے۔ یہ بات قائد اعظم کے بعد اب کسی لیڈر نے کہی ہے۔ اس ے پہلے نواز شریف بھی اس طرح کا اظہار سندھ میں ہندووں کی مذہبی تہوار کے موقع پر ڈھکے چھپے الفاظ میں کر چکے ہیں۔ لیکن کسی لیڈر کا کھلے الفاظ میں یہ کہہ دینا مستقبل میں اس ملک کے سیاسی خدو خال میں بہتر تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے۔ کاش کہ اس بات کو وہ بھی سمجھ جائیں جنہوں نے اس عفریت کو پالا ہوا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •