ریلیاں ، میڈیا، خدا اور تاریخ کا فیصلہ


\"edit\"عمران خان کی تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے بالترتیب لاہور اور راولپنڈی میں ریلیاں نکالیں۔ ایک جماعت اور اس کا لیڈر شریف خاندان کا احتساب کرنے کی بات کر رہا ہے تو دوسرا رہنما اگست 2014 میں ماڈل ٹاؤن میں اپنی پارٹی کے قتل ہونے والے درجن بھر لوگوں کیلئے انصاف مانگ رہا ہے۔ یہ دونوں مقاصد جائز ہیں۔ جو حکمران یا شہری بھی کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہیں، انہیں ان جرائم کی سزا ملنی چاہئے۔ اسی طرح اگست 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے دفتر کے باہر پولیس اور تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی درست اور جائز ہے۔ یہ دونوں مقاصد کسی سیاسی دنگل کے بغیر ایک فعال نظام میں خود کار طریقہ کار کے تحت حاصل ہو سکتے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری کی بنیادی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے بھی، ان کے طریقہ کار اور بے بنیاد الزام تراشی کے رویہ کی تائید کرنا ممکن نہیں۔ درحقیقت یہ دونوں رہنما اپنے اپنے طور پر موجودہ سیاسی فکری اور سماجی بحران سے قوم کو نکالنے کےلئے کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ دراصل فوری سیاسی مقاصد اور بعض صورتوں میں خفیہ ایجنڈے کی وجہ سے ان مقاصد کا حصول مشکل بنا رہے ہیں، جنہیں حاصل کرنے کےلئے وہ کل رات گئے دو مختلف شہروں میں گلا پھاڑ کو لوگوں کر متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس بحث سے قطع نظر کہ عمران خان اور طاہر القادری کی اپیل پر کتنے لوگ گھروں سے باہر نکلے۔ وہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے دعوے کے مطابق لاہور میں پانچ چھ ہزار اور راولپنڈی میں دس پندرہ ہزار تھے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک اس تعداد کو لاکھوں قرار دے سکتی ہے۔ لیکن یہ دونوں لیڈر جب دن بھر کی مشقت کے بعد طول طویل ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور کے چیئرنگ کراس اور راولپنڈی کے رحمان پورہ میں بنائے گئے اسٹیج پر پہنچے اور پرانے الزامات کو نئے جوش و خروش کے ساتھ بیان کیا تو ان کے مخاطب وہ ہزاروں یا لاکھوں لوگ نہیں تھے جو ان کی اپیل پر سڑکوں پر نکل آئے تھے بلکہ وہ ٹیلی ویژن کیمروں کے ذریعے ان خاموش کروڑوں لوگوں سے مخاطب تھے جو گھروں میں بیٹھے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے اور صورتحال اور ان لیڈروں کے بارے میں اندازے قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا آزاد ہؤا یا نہیں، اس نے صحافت کے فروغ کےلئے کوئی کردار ادا کیا یا نہیں لیکن معمولی سانحہ کو ٹیلی ویژن اسکرین کے محدب آئینہ میں غیر معمولی بنا کر پیش کرنے کی قوت کا مظاہرہ ضرور کرسکتا ہے۔ اس صلاحیت کے مظاہر ہی کی وجہ سے یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوری نظام کو کامیاب بنانا ہے، اگر حق اظہار رائے کے اصول کو مقدم رکھنا ہے، اگر صحافت اور صحافی کو اپنے ضمیر کی روشن میں فرائض ادا کرنے کا حق دینا ہے تو اس کےلئے صحافیوں ، رپورٹروں ، مبصروں ، اینکرز اور ان کے معاونین کو مسلمہ پیشہ وارانہ اصولوں کے مطابق فرائض سرانجام دینے کا ہنر بھی سیکھنا ہو گا۔ تب ہر میڈیا ہاؤس کے ادارتی بورڈ میں ایسے ماہر لوگوں کو اہمیت اور اختیار دینا ہو گا جو خبر کی ضرورت اور اس کی ترسیل کے طریقہ کا تعین ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی سیاسی رائے یا وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ کسی واقعہ ، سانحہ یا حادثہ یا بیان کے میرٹ کی بنیاد پر طے کرنے کا حوصلہ کر سکیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ صحافی خبر فراہم کرنے والا دیانت دار رپورٹر ہے یا اپنے مخصوص نقطہ نظر سے صورتحال کو دیکھنے یا دکھانے کا ماہر ہے جو اس بات سے لاتعلق ہے کہ جس پیشہ کا سرنامہ اس کے نام کے ساتھ جڑا ہے، وہ اس سے قطعی غیر جانبداری کا تقاضہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیلی ویژن پر خبروں ، تبصروں یا لائیو کوریج کو دیکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ انہیں کون سے چینل پر کس رپورٹ ، مبصر یا اینکر کی باتوں کو سننا ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ اپنی رائے کو راسخ اور دلیل کو مستحکم کرتے ہیں۔ گویا ہمارے ملک کے الیکٹرانک میڈیا کے ماہرین نے گروپ بندی اور پسند ناپسند کی بنیاد پر اپنا اپنا حلقہ اثر بنا لیا ہے، وہ خبر کی ترسیل یا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے اسی حلقہ اثر کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ طریقہ کار کمرشل میڈیا کی ضرورتوں کو تو یقیناً پورا کر سکتا ہے۔ شاید اسی لئے میڈیا ہاؤسز کے مالکان اس قسم کے طرز عمل کو جاری رکھنے کی اجازت بھی دے رہے ہیں، لیکن یہ طریقہ پاکستان جیسے ملک میں جمہوری مزاج کے فروغ اور نظام کے استحکام کےلئے کام کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ ایک طاقتور خود مختار میڈیا کسی بھی جمہوریت کےلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے لیکن یہ طاقت دولت اور وسائل کی ریل پیل ، ٹیکنیکل سہولتوں کے حصول ، تعلقات کی نوعیت اور انفرادی یا ادارہ جاتی آمدنی کی بنیاد پر نہیں ماپی جا سکتی۔ اس کے لئے غیر جانبداری اور ذمہ داری کو معیار بنایا جائے گا۔ اگرچہ مالی وسائل کسی بھی دوسرے شعبہ کی طرح میڈیا کےلئے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح معاشرہ کے کسی بھی دوسرے فرد کی طرح صحافی کو بھی بھوک لگتی ہے، اس کے بچے بھی اسکول جاتے ہیں، ماں باپ بیمار ہو سکتے ہیں اور زندگی کی سہولتیں حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن جو چیز صحافی اور میڈیا کو زندگی کے دوسرے شعبوں سے ممیز کرتی ہے، وہ جمہوریت میں اس کا کردار ہے۔ یہ کردار ادا کرنے کےلئے باضمیر صحافی مالی وسائل یا سہولتوں کو خاطر میں نہیں لاتے نہ وہ انہیں اہم سمجھتے ہیں۔ اسی لئے معاشرے انہیں احترام کا خاص مقام دیتے ہیں۔ لیکن اگر یہ کردار کمزور ہونے لگے اور کسی میڈیا ہاؤس کی ہوس زر، کسی انشورنس کمپنی یا بینک کے دولت کمانے کی خواہش جتنی ہی طاقتور ہو جائے تو نہ تو اچھا صحافی پیدا ہوتا ہے اور نہ ایسا میڈیا طاقتور ہونے کے باوجود معاشرتی تبدیلیوں میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی صورتحال میں یہ سارے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔

جس طرح ذمہ دار اور پروفیشنل میڈیا سیاستدانوں کی رہنمائی اور عوام کی آگاہی کا فریضہ ادا کر سکتا ہے اسی طرح اپنے اصولوں سے بھٹکا ہوا شعبہ انہی سیاستدانوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتا ہے اور وہ اسے اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ اسی لئے کسی کو ایک اجتماع چند ہزار پر مشتمل دکھائی دیتا ہے تو دوسرا اسے انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر قرار دے سکتا ہے۔ اس کے باوجود اہم بات یہ نہیں ہے کہ ہم دس لوگوں کو سو یا سو لوگوں کو دس سمجھ یا دیکھ رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نظام مستحکم کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی سوال کی وجہ سے عمران خان اور طایر القادری کے اٹھائے ہوئے بنیادی سوالوں پر اتفاق کرنے کے باوجود ان سے اختلاف کرنے اور ان کے طریقہ کار کو رد کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ دونوں اپنے اپنے طور پر انصاف حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن انصاف فراہم کرنے والا نظام استوار کرنے کےلئے آمادہ و تیار نہیں ہیں کیونکہ انہیں اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کےلئے ’’شارٹ کٹ‘‘ کی ضرورت ہے۔ تعمیر کے کام میں شارٹ کٹ نہیں ہوتے۔ اس کےلئے پوری دیانت ، پوری محنت و مشقت اور صبر و استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری چھوٹے مقاصد کےلئے اعلیٰ مقاصد کو قربان کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں کے پاس اپنے اپنے طور پر معاشرے کی تطہیر اور ایک ایسا فنکشنل نظام استوار کرنے میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت تھی کہ وہ اس مقصد میں پوری طرح سرخرو نہ بھی ہو سکتے تو بھی وہ آنے والی نسلوں کےلئے ایک ایسی بنیاد فراہم کر سکتے تھے، جس پر ایک ایسا معاشرہ تعمیر ہو سکتا تھا جس میں انصاف کا حصول آسان اور ظلم کو چھپانا مشکل ہوتا۔

عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخاب میں 75 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ ایک صوبے میں حکومت بنائی اور قومی اسمبلی میں 32 نشستیں حاصل کیں۔ لیکن انہوں نے گزشتہ تین برس کے دوران اپنی سیاسی پوزیشن کو نظام کی تعمیر و تطہیر پر صرف کرنے کی بجائے تخریب اور دشنام طرازی کےلئے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے جتنا وقت سڑکوں پر احتجاج کرنے اور ریلیوں و دھرنوں سے خطاب کرتے ہوئے صرف کیا ہے، اگر وہ یہ وقت اسمبلی کے اجلاس میں شامل ہوتے اور حکومت کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے، اپنے سیاسی منشور کے مطابق بعض باتوں کو منوانے کی کوشش کرتے ، سیاسی عمل کی مثبت اور صحت مند روایت کا آغاز کرتے تو اس ملک کی جمہوری پارلیمانی تاریخ میں ان کا نام سنہرے حروف سے لکھا جاتا۔

عمران خان کو شاید آج تک یہ ادراک نہیں ہو سکا کہ جمہوریت میں صرف اقتدار کا حصول ہی اصل مقصد نہیں ہے بلکہ اپنے سیاسی پروگروام پر کسی حد تک عمل کروانا اور لوگوں کو اس کےلئے تیار کرنا بھی بے حد اہم ہوتا ہے۔ اس قسم کی محنت کرنے والے لیڈر اور جماعتیں ہی دراصل عوام کی توجہ اور ان کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ وہ یہ الزام تو لگاتے ہیں کہ نواز شریف انتخاب جیتنے کے ماہر ہیں اور وہ پاناما لیکس اسکیندل سے بچ نکلے تو 2018 کے انتخاب میں اپنی دولت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کر لیں گے۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کےلئے انہوں نے خود ہوم ورک نہیں کیا ہے۔ انہیں عوام نے جس مقصد سے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا تھا، وہ ان توقعات پر پورا اترنے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ اب بھی وہ 2018 کے انتخاب کا انتظار نہیں کر رہے۔ اسی لئے انہیں اس کی تیاری کی فکر بھی نہیں ہے۔ وہ نواز شریف حکومت کو گرانا چاہتے ہیں اور شریف خاندان کو لوگوں کی نظروں میں بے توقیر کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے کےلئے ان کے لئے گنجائش پیدا ہو جائے۔ وہ یہ طریقہ آزماتے ہوئے صرف یہ بھول جاتے ہیں کہ تعمیر کا کام تخریب کے ذریعے نہیں ہو سکتا۔ آپ دوسرے کی قبر پر اپنا محل کھڑا کر کے انصاف اور مساوات کا نعرہ بلند نہیں کر سکتے۔

اسی طرح طاہر القادری پاکستان میں اپنا ووٹ بینک بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ گزشتہ بیس پچیس برس میں انہوں نے اپنا انتخابی حلقہ اثر بنانے کےلئے ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا ہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ البتہ انہوں نے منہاج القرآن کے نام سے ایک دینی ادارہ اور تعلیمی نظام ضرور استوار کیا ہے۔ یہ ادارے پاکستان میں بھی کام کر رہے ہیں اور دنیا کے بیشتر ملکوں میں طاہر القادری کے معتقدین نے دینی ادارے قائم کئے ہیں۔ وہ اپنے ماننے والوں کو ہر چند ماہ بعد دھرنوں اور ریلیوں میں خوار کرنے کی بجائے، اگر لوگوں کی فکری اور دینی تربیت کا سلسلہ جاری رکھتے تو ملک میں ایک بہتر سیاسی و سماجی ماحول پیدا کرنے کےلئے ناقابل تردید کردار ادا کر سکتے تھے۔ اسی طرح وہ اپنی علمی استعداد اور عالمی سطح پر قبولیت کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی اور قتل و غارتگری کے خلاف طاقتور مزاحمتی تحریک شروع کر سکتے تھے۔ اس کی بجائے وہ ہر تھوڑے عرصے کے بعد کینیڈا سے پاکستان آ کر سیزنل ٹی وی سیریل کی طرح اپنا شو چلاتے ہیں۔ اس میں جھوٹ سچ کی آمیزش سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر اپنا بستر لپیٹ کر عازم سفر ہو جاتے ہیں۔ یقیناًان کے بھی کچھ ایسے مقاصد ہوں گے جو ہم جیسے کم نظر کو دکھائی نہیں دے سکتے۔ لیکن وہ سیاسی میدان میں اپنی صلاحیت ضائع کرنے کی بجائے دین کی خدمت اور علمی تحقیق میں کام کر کے عمران خان ہی کی طرح تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر یہ دونوں رہنما آرمی چیف سے لے کر اداروں کے سربراہوں اور مخالف سیاستدانوں کو اللہ سے ڈرنے اور یہ سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ مر کر خدا کو کیا منہ دکھائیں گے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ خدا کو تو منہ انہیں خود بھی دکھانا ہے۔ لیکن یہ معاملہ بندے اور اللہ کے بیچ ہے۔ اس سے کسی دوسرے کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تاہم ہر بڑا لیڈر اس بات کی فکر ضرور کرتا ہے کہ تاریخ میں اس کا نام کیسے یاد کیا جائے گا۔ مورخ اس کے بارے میں کیا لکھے گا۔ عمران خان اور طاہر القادری کو بھی اسی بات کی فکر کرنی چاہئے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali