نئے بجٹ کے دفاع میں کی گئی ایک سنجیدہ تقریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈپٹی سپیکر صاحب نے تقریریں دس منٹ تک محدود رکھنے کی درخواست کی اور سب سے پہلے جناب شہر یار خان آفریدی صاحب (وزیر مملکت برائے داخلہ) کو بجٹ پر تقریر کرنے کی دعوت دی۔ مقرر ایک لمحہ کے لئے بھی موضوع سے نہیں ہٹے۔

جناب شہر یار خان آفریدی صاحب نے چند آیات مقدسہ ایک انتہائی ماہر عالم کے انداز میں پڑھیں اور بجٹ کے دفاعی خطبے کا سماں باندھا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈپٹی سپیکر صاحب کا شکریہ ادا کیا پھر خالق کائنات کی خوبیاں گنوائیں اور شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد پاکستان کی بحیثیت ملک امتیازی حیثیت کا ذکر ان الفاظ میں کیا۔

“۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا ملک جس کی نسبت اللہ نے اپنی اور اپنے محبوب کے کلمے سے جوڑی” غور کریں نسبت جوڑنے کا کام اللہ نے کیا ہے۔

اس کے بعد انہوں نے ایوان کے سامنے بجٹ کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق رکھے اور انہیں لاجواب کیا۔

1۔ “ڈپٹی سپیکر صاحب پہلا وعدہ ‘لا’ کہ نہیں ہے کوئی معبود پہلا وعدہ رب سے ہے اور رب کی وحدانیت اس پر جب کوئی کمپرومائز کرتا ہے تو وہ ذلیل اور رسوا ہو جاتا ہے اور اس کی بہترین مثال ۔۔۔۔ ابلیس شیطان کی ہے۔”

2۔ “دوسری (دوسرا) محمد الرسول اللہ (ص) جس نے بھی امام الانبیا، خالق کائنات کے محبوب کی کسی لیول پر کوئی بھی ایسی سوچ یا فکر ان کے خلاف آئی تو انسانیت کے لیے ناسور بن گئی”

3۔ “آج اقوام عالم میں وہ تمام قوتیں جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی سوچ اور فکر کے خلاف چل رہی ہیں ڈپٹی سپیکر صاحب وہ عزت مند ہو گئے ہیں۔ ان کو دنیا عزت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ (شاید وہ ہمیں بتا رہے کہ ہم کیسے عزت حاصل کر سکتے ہیں) وہ آج ہمیں ڈکٹیٹ کراتے ہیں کہ ملینیم ڈیویلوپمنٹ گولز، سسٹین ایبل ڈیویلوپمنٹ گولز آپ کے انسانی حقوق ہیومن چارٹرز کی بات کرتے ہیں۔”

4۔ “یہ تو چھوڑیں آج مجھے اور آپ کو وہ بتاتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کے حقوق، انسانوں کے حقوق کے علاوہ مجھے ماحولیات کا بتاتے ہیں مجھے چرند پرند کی فکر کا احساس دلاتے ہیں۔”

اس کے بعد انہوں نے ایوان کو مسلمانوں کے شاندار ماضی سے کچھ ان الفاظ میں روشناس کرایا۔

5۔ “اور ڈپٹی سپیکر صاحب دوسری طرف مسلمان جس کا ایمان خالق کائنات سے تھا جو پیوند لگا کے کپڑے کپڑوں پہ پیوند پیٹ پہ پتھر رکھنے والے جن کے پاس ہنر، اسلحہ، دولت، دنیا، رتبے نام کچھ نہیں تھا اور ان کے تابع اللہ نے آسمان اور زمین کر دیے تھے۔”

انہوں نے مسلمان کی گزری ہوئی شاندار بادشاہتوں کا ذکر کچھ یوں کیا

6۔ “ایسی بادشاہتیں مسلمانوں کی گزریں ڈپٹی سپیکر صاحب کہ جانور کو بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ پرائے کھیت سے پرایا فصل کھایا جائے۔”

جانور مسلمان بادشاہتوں کے قوانین کا کتنا احترام کرتے تھے یہ بات میرے لیے بالکل نئی تھی۔

اس کے بعد انہوں نے اس ایوان میں بیٹھے ہوئے اپنے کولیگز کو آئینہ دکھایا اور اللہ کے عذاب سے کچھ یوں ڈرایا۔

7۔ “ڈپٹی سپیکر صاحب یہ وہ سوچ اور فکر ہے جو آج کی دنیا میں مسلمان ممالک میں اور خاص کر اس ایوان میں، جب سوچ دنیا سے جڑ جائے جب مقصد دو جمع دو چار ہو جب مقصد ہونے کا یقین رب کی بجائے اپنی پارٹی کے لیڈر سے ہو یا پرائم منسٹر سے ہو یا پارٹی کے چیئرمین سے ہو یا ان ناموں سے ہو جن کے پاس دنیا نام عہدہ رتبہ ہو تو پھر اللہ کہتا ہے کہ میں فیئر آف ان نون (fear of unknown) میں تمہیں مبتلا کروں گا تمہیں دشمن نظر نہیں آئے گا لیکن تمہارے دل اور دماغ پر ڈر اور خوف طاری کر دوں گا”،

اس کے بعد انہوں نے ڈپٹی سپیکر صاحب سے کچھ سوالات پوچھے تاکہ بجٹ کا مزید تجزیہ کیا جا سکے۔

1۔ “آج کیا وجہ ہے ڈپٹی سپیکر صاحب کہ حرم شریف اور مسجد نبوی میں جو مسلمان کا قبلہ اور کعبہ ہے اس کے اندر رینوویشن ہوتی ہے تو وہ رینوویشن کرنے کے لیے تمام ٹیکنالوجی غیر بنا رہے ہیں۔ آج کیا وجہ ہے کہ مسلمان صحت کے حوالے سے کوئی چیز استعمال کرتا ہے دوائی کی شکل میں اس کا بنانے والا غیر ہے آج کیا وجہ ہے کہ آج تعلیمی نظام، آج تعلیمی سسٹم، آج سوشل سسٹم ان کا بنایا ہوا جو لا الہ الا اللہ کے خلاف ہیں”

2۔ “ڈپٹی سپیکر صاحب یہ تمام چیزیں چلتی رہیں 71 سال اس ملک میں امراء کو ان ٹچ ایبل بنایا گیا اور تاریخ مسلم ہسٹری کو انسانی تاریخ کو بھلا دیا گیا”

3۔ “یہ کیا وجہ ہے کہ امیریکن پریزیڈنٹ پرجری لائینگ انڈر اوتھ (حلف میں جھوٹ بولنا) کے لیے معافی مانگتا ہے اور اس ایوان میں بیٹھنے والے ننانوے ناموں پہ جو حلف لے کر آتے ہیں، وہ اپنے چیئرمین، اپنے پرائم منسٹر اپنی حکومت اور اپنے لوگوں کو جو خود محتاج ہیں ان کی تابعداری پہ لگے ہوئے ہیں”

4۔ “تو یہی وجہ ہے ۔۔۔۔۔ اللہ پھر ان کو کیا بتاتا ہے کہ تمھاری بیٹی جب تھانے میں جائے گی وہ ذلیل ہو گی تمھارا بیٹا تمھارا بزرگ کسی ادارے میں جائے وہ ذلیل ہو گا” (یعنی یہ نکتہ بھی اللہ تعالی نے انہیں بتایا ہے!)

5۔ “تم مقروض رہو گے تم اوروں سے بھیک مانگو گے تمہارے گھر کے فیصلے اغیار کریں گے

6۔ “تمھاری عزت نہیں ہو گی کوئی تمہیں کسی لیول پر پروموٹ نہیں کرے گا۔ روہنگیا میں اور خاص کر جموں کشمیر میں سیرین (شامی) کے مہاجرین، مسلمانوں کی پگڑیاں مسلمان باریش بزرگ، مسلمانوں کی بیٹیاں، مسلمانوں کے بیٹے وہ کٹتے جائیں گے ان کو مارا جائے گا وہ ذلیل و رسوا ہوں گے”

7۔ لیکن غیروں کا پراپرس ورلڈ (خوشحال دنیا) کا ایک کتا جو ہے اس کو غلط آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ تضاد کیوں ہے”

8۔ “ابھی تو سورہ رحمن کی آیتیں بیان کی گئیں سورہ رحمن میں کیا کہا گیا کہ تم اللہ کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے”

9۔ “ڈپٹی سپیکر صاحب آج اس ایوان میں بیٹھنے والے بجٹ کے اس فگر کو کوٹ (Quote) کر رہے ہیں آج ہمیں مقروض کس نے کیا آج پاکستان کو اقوام عالم میں اس لیول پر کس نے کھڑا کیا”

10۔ “ہندوستان کے پارلیمنٹ میں ہندوستان کا پرائم منسٹر کہتا ہے کہ پاکستان کی قیمت لگانا میرے لیے بہت آسان ہے۔ ایوان بالا اور ایوان دونوں ایوان کی قیمت میں لگا لوں ان کو خرید لوں”

بجٹ کے دفاع میں ان دس نکات کو باآواز بلند بیان کرنے کے بعد انہوں نے امید کی بات کی اور حل بھی بتایا۔

1۔ “پھر رب نے ایسے شخص کو جس نے چالیس سال کے قریب کرکٹ سے وہ تعلق جوڑا اور انہوں نے ایک چیز کمائی کہ آج ویون رچرڈ ہو، ۔۔۔۔ چیپل ۔۔۔۔ گوسکر سبھی کے سبھی کہتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو کریڈیبل ہے جو کمپیٹنٹ ہے اور وہ ہے عمران خان۔۔۔۔۔۔۔”

اگلے نکتے میں انہوں نے اپنے خاندان کی اہمیت کا ذکر کیا۔

2۔ “اب آئیں پاکستان کی طرف ۔۔۔۔۔۔میرے والد کو جناح صاحب کے ساتھ گولڈ میڈل ملا تھا آزادی کے دوران، ۔۔۔میرے والد صاحب کو خان بہادر کہا جاتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نئی گاڑی خریدنے کا تصور بھی نہی کر سکتا۔”

3۔ پھر انہوں ملک کئ ہسپتالوں اور تھانوں کی حالت زار پر گفتگو کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس دفعہ کے بجٹ میں ان اداروں کو بہتر کرنے کے لیے ان کا بجٹ کتنا بڑھایا گیا ہے۔ اور مزید بتایا کہ عمران خان نے احتساب اپنے سے شروع کرنے کی آفر دی ہے۔

4۔ ہر لیڈر کے لیے صادق اور امین ہونا سب سے اہم ترجیح ہے۔ جو شخص اپنے مالی معاملات میں دیانت دار نہیں وہ اپنے والدین یا بیوی بچوں کے ساتھ کیا وفا کرے گا۔ ہاں البتہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جس نے اپنے بچوں کے ساتھ وفا نہیں کی وہ مالی طور پر دیانتدار کیسے ہو سکتا ہے۔

5۔ ان لوگوں نے واپڈا چلانے کے لیے تو فوج سے مدد لی۔ ویسے بھی چوری چوری فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان سے ملاقاتیں کرتے ہیں لیکن کلبھوشن یادیو کےمعاملے فوج کو سپورٹ نہیں کیا۔ وہ انٹی پاکستان لوگوں سے چھپ چھپ کے ملاقاتیں کرتے ہیں تو پھر پاکستان کے بارے میں کون سوچے گا۔

6۔ عمران خان نے کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ کیونکہ وہ دنیا سے نہیں ڈرتا صرف رب سے ڈرتا ہے۔

7۔ “عمران خان اور اس گورنمنٹ کا مقصد ہے کہ عزت نفس دینا پاکستانی کو ہیومن ڈگنٹی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو وہ مقام دیا جائے جس کو اقوام عالم عزت دیں۔ آج ذرا پاکستانی اورسیز پاکستانی سے پوچھیں جیلوں میں جو پڑے تھے جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ پاکستان کے اندر عام پاکستانی سے پوچھیں وہ کہتے ہیں کہ بھوک برداشت کر لیں گے، مہنگائی بے شک برداشت کر لیں گے، لیکن میری عزت پر جو سودے بازی کی ہے اس پر کمپرومائز نہیں ہے۔ پاکستانی قوم عزت چاہ رہی ہے اور عزت دینے والا رب کے بعد ایک لیڈر ہے عمران خان۔ آپ محنت کریں، کوشش کریں، لگے رہیں، ایک ہو جائیں، روڈوں پہ نکلیں جو کچھ کرنا ہے کریں، میرے رب کے فضل سے عمران خان کامیاب ہو گا، نیا پاکستان حقیقت بنے گا اور ایک ایسا ملک بنے گا کہ روز محشر کے دن حضرت محمد (ص) پاکستانیوں پر فخر کریں گے۔”

بجٹ پر اس زبردست تبصرے کے ساتھ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 217 posts and counting.See all posts by salim-malik