نیند ہزار نعمت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک دوست کو نیند کے کردار پر ہمیشہ شک رہا ہے۔ اس کا خیال ہے، ”نیند وہ واحد مادہ شے ہے جو جوانوں کے پاس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی“۔ جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر جوانی میں زیادہ نیند نہ آتی توکرہ ارض پر ہر وقت ہنگامے بپا رہتے۔ اب تو شکر ہے کافی ساری محفلیں صرف خوابوں میں ہی جمتی ہیں۔ اکثر ایسی محفلیں جب عروج پر ہوتی ہیں تو جوان کے کالج جانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ صبح صبح اٹھ کر علم حاصل کرنے جانا جوانی کی موت ہے۔ اسی لئے ہمارے جوانوں کی ایک کثیر تعداد ان پڑھ رہ گئی ہے۔

ایک بار ہم نے اپنے پروفیسر سے پوچھا کہ کیا آپ بزرگوں کو رات کو نیند نہیں آتی اس لئے آپ کالج کا آغاز گیارہ بجے کے بجائے صبح آٹھ بجے کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، ”ایسی کوئی بات نہیں۔ اس ٹائم ٹیبل کے پیچھے یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ جتنی جلدی کالج سے چھٹی ہوگی شام تک اتنے ہی زیادہ لوگ ہم سے ٹیوشن لے کر ہمارے علم سے فیضیاب ہو سکیں گے۔ نئی نسل کا خیال اگر میں نہیں رکھوں گا تو کسی دوسرے کالج کے پروفیسر کو فیس مل جائے گی“۔ پھر وہ اپنی نئی کار کی طرف اشارہ کرکے بولے، ”یہ کار علم کی پیاس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ میں نے ٹیوشن کی کمائی سے خریدی ہے“۔

نیند کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی جگہ بھی آسکتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اسے نہ آنا ہو تو نیند کی گولی بھی کھا لو، نہیں آتی۔ نیند فٹ پاتھ پر آسکتی ہے، کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے آسکتی ہے، سولہ گھنٹے لگا تارسونے کے بعد بندہ اٹھ کر پانی پئیے، اس کے بعد دوبارہ بھی آسکتی ہے۔ ہمارے ایک کلاس فیلو، ”سہیل خان“ کو موٹر سائیکل چلاتے ہوئے نیند آگئی تھی، اس لئے اب اس کا نام ”سہیل خان مرحوم“ ہے۔ اس حادثے کے بعد حکومت نے ہر موٹر سائیکل سوار کے لئے ہیلمٹ پہننا لازمی کر دیا۔

ایک کانسٹیبل بتا رہا تھا اس نے ایک دفع ایک بغیر ہیلمٹ پہنے موٹر سائیکل سوار کو روک کرسمجھایا کہ حکومت نے تمہارے ہی سر کی حفاظت کے لئے ہیلمٹ پہننا ضروری قرار دیا ہے۔ اس شخص نے چلا کر جواب دیا، ”اگر حکومت کو میرے سر کے بجائے میرے پیٹ کی فکر ہوتی تو جولائی کی گرمی میں میں سڑک پر ذلیل نہ ہو رہا ہوتا“۔ کوئی شک نہیں انسان ناشکرا ہے۔

پچھلے سال کی بات ہے میں بس میں سفر کر رہا تھاکہ اچانک ایک بزرگ زور زور سے رونے لگ گئے اور بولے، ”میری آنکھ کیا لگی میرے ساتھ بیٹھا جیب کترا، میری جیب خالی کرکے غائب ہو گیا ہے“۔ ایک مسافر نے فلسفیانہ مزاج میں انہیں حوصلہ دیا کہ پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے اس کے نقصان پر پریشان نہیں ہونا چاہیے دیکھیں آپ نے سکون سے سو تو لیا۔ اس عمر میں اتنی سکون کی نیند کسے نصیب ہوتی ہے۔ بابا جی بولے یہ مجھے جیب کترے کا دوست لگتا ہے۔ مظلوم اور مسافر بزرگ پر یقین کرنا لازمی تھا، اس لئے دوسرے مسافروں نے فلسفی مسافر کی وہ درگت بنائی کہ اسے اگلا پورا ہفتہ نیند نہیں آئی ہوگی۔ تاریخ میں فلسفیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک ہوا ہے۔

نیند اپنی مرضی کی مالک ہوتی ہے۔ زور زبردستی تو بالکل نہیں مانتی۔ آپ نے آج تک کوئی ایسا مداری دیکھا ہے جو مجمعے کو کہے کہ میں آپ کو پانچ منٹ کے لئے سو کر دکھا سکتا ہوں؟ نیند کو قابو میں کرنے کے لئے بہت ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ ہمارا ایک یونیورسٹی فیلو سخت محنت کرنے کے باوجود ہر ٹیسٹ میں مشکل سے پاس ہوتا یا پھرآرام سے فیل ہو جاتا۔ یار لوگوں نے اس پر تحقیق کرنا لازمی سمجھا تاکہ دنیا کو بتایا جاسکے کہ وہ طلبہ جو محنت کرنے کے باوجود ناکام ہو جاتے ہیں ان کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی نیند عجیب نوعیت کی ہے۔ وہ کھانا کھا کر اپنے روم میٹ کو کہے گا میں دس منٹ سو لوں اور وہ واقعی دس منٹ سو کر اٹھ بیٹھے گا۔ اس کے روم میٹ کا کہنا تھا کہ جو لڑکی کلاس میں ٹاپ کر رہی ہے وہ اتنی دیر میں ٹھیک طرح سے جمائی نہیں لے پاتی جتنی دیر میں اس کی نیند پوری ہو جاتی ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا، ”بھائی آپ کو کیا مجبوری ہے جو آپ دس منٹ کے لئے سوتے ہیں؟ “۔ اس نے جواب میں ہمیں پتے کی بات بتائی کہ سونا اچھی صحت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ہم نے تحقیق کا یہ نتیجہ نکالا کہ یونیورسٹی میں جو طلبا اچھی صحت کے لئے سوتے ہیں وہ ناکام رہتے ہیں۔

جو شخص کم سوتا ہے اس کے گھر میں کبھی چوری نہیں ہوتی، ہاں ڈاکہ پڑ جائے تو اور بات ہے۔ ایک لڑکا دوسرے لڑکے کو بتا رہا تھا کہ شکر ہے الارم والی گھڑی میری پیدائش سے پہلے ایجاد ہو گئی نہیں تو میں پچھلے ہفتے سے ابھی تک سو رہا ہوتا۔ جب کہ میرا یہ خیال ہے چند دن الارم آپ کو نیند سے بیدار کرتا ہے اور اس کے بعد جب آپ بیدار ہوتے ہیں تو اس وقت الارم بجنا شرو ع ہوتا ہے۔

بچے قدرت کی حسین اور معصوم تخلیق ہیں لیکن ان کی نیند کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتے لیکن سوئے ہونے کا مکر بہت اچھا کرلیتے ہیں۔ اس لئے احتیاط لازم ہے۔ بچوں کو نیند لانے کے لئے لوری سنانی پڑتی ہے۔ لوری سنانے والے کی آواز کی موسیقیت کا اندازہ بچے کے جاگنے کے بعد ہوتا ہے۔ اگر بچہ ہنستے ہوئے جاگے تو جان جائیں لوری مترنم تھی۔ اگر چیختے چلاتے ہوئے جاگے تو سمجھ لیں کہ بچے کو لوری ہضم نہیں ہوئی اور وہ اگل رہا ہے۔

ہم دوستوں نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا کہ بڑھاپے میں کیوں نیند نہیں آتی؟ وہ غصے سے بولے، ”اللہ کے بندو بڑھاپے میں سانس مشکل سے آتا ہے تم نیند کی بات کرتے ہو۔ “۔ میرا ڈاکٹر صاحب سے اختلاف ہے۔ اصل میں بڑھاپے میں کھانسی اور نیند اکٹھی آتی ہیں۔ دونوں ساری رات آپس میں لڑتی رہتی ہیں۔ ہمیشہ سے جیتنے والی نیند بڑھاپے میں کھانسی سے ہار مان لیتی ہے۔ میرے دوست فراز کا کہنا ہے، ”یہ بالکل غلط مفروضہ ہے کہ بڑھاپے میں نیند نہیں آتی۔ میں نے تو بے شمار بوڑھوں کو ہمیشہ ہمیشہ کی نیند سوتے بھی دیکھا ہے“۔
پس تحریر: یہ کالم سرفراز کی جمائی سے متاثر ہوکر لکھا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •