وجود ”بیوقوف“ سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

چاچو فرید چار ماہ کی اگٹھی تنخواہ وصول کرکے لاہور سے بذریعہ بس راولپنڈی اپنے گھرکے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی بس نے راوی کا پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ ان کی اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے گہری دوستی ہوگئی۔ دوستی کی وجہ دونوں کے ایک جیسے حالات و خیالات تھے۔ دونوں اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی لالچ سے تنگ اور سخت نالاں تھے۔ دونوں کا شعر و ادب سے لگاؤ بھی برابر تھا، جو کہ صفر تھا۔

چند ہی لمحوں میں جب دوستی ہمالہ سے اونچی ہو گئی تو دوست نے انہیں کھانے کے لئے مٹھائی پیش کی جو چاچو نے ذیابیطس کا مرض ہونے کے باوجود دوستی کی لاج رکھتے ہوئے کھا لی۔ دو دن بعد جب چاچو کو ہوش آیا تو وہ نقدی اور ہم خیال دوست، دونوں سے محروم ہوچکے تھے۔ بچھڑے دوست کہاں ملتے ہیں لیکن اس کو پکڑنے کے لئے چاچو کے بھتیجوں نے جو ہاہا کار مچائی اس نے چند دن گاؤں میں خوب رونق لگائے رکھی۔ بس کا سفر ہمیشہ سے بیوقوفوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے۔

Read more

سرکار کی نوکری کے مزے

میرا ایک دوست بینک میں ملازم تھا۔ کام کرتے کرتے اکثر خیالوں میں کہیں دورنکل جایا کرتا تھا۔ اس کے عقلمند مینیجر نے چند ہی دنوں میں بیماری کی تشخیص کرلی کہ موصوف تصور جاناں کئیے کسی بند گلی کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ کچی نوکری میں بیماری کا پتہ چل جائے تو نسخہ ایک ہی ملتا ہے، ”مہربانی فرما کر کل سے کام پرتشریف نہ لائیے گا“۔ جب میرا دوست یہی نسخہ ہاتھ میں لئے میرے پاس کسی اچھے وکیل کا پتہ کرنے آیا تو پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ سرکاری نوکری تو بہت بڑی نعمت ہے۔

ہمارے دفتر کا ایک مالی عرصے سے کام کے اوقات میں دفتر کے باہر پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے، لیکن مجال ہے اس نے کبھی اپنی نوکری پر حرف آنے دیا ہو۔ اس کاکہنا ہے، ”دفتر میں فارغ رہ کر حرام کھانے سے بہتر ہے بندہ باہر محنت کرکے حلال رزق کمائے“۔ کسی نے اس سے پوچھا، ”تمہیں نہیں لگتا دفتر کے مرجھائے ہوئے پودے تمہیں بد دعا دیتے ہوں گے؟ “
اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا، ”مفت کا پھل کھا کرحاضری کلرک اور کیشئیر کے معصوم بچے جو دعائیں دیتے ہوں گے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ “

Read more

حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے

شیدا کونسلر بنا تو حلف لینے کے اگلے دن نائی کی دکان پر بیٹھا کہ رہا تھا، ”دوستو، حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن تم لوگ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ تم تو عوام ہو۔ اب دیکھو کل حلف لیتے ہوئے جج صاحب نے کہا، میں۔ ۔ ۔ اور خاموش ہوگئے۔ اب سب نے اپنا نام لینا تھا۔ اچانک سرکاری کاغذوں میں لکھا نام عبدالرشید ولد محمد یعقوب کہاں ذہن میں آتا ہے۔ میں نے فورا کہا جی، شیدا ولد قوبا تیلی۔ جب جج اور ان کے ساتھ بیٹھے ڈی ایس پی صاحب نے قہقہ لگایا تو مجھے احساس ہوا کہ حکومت کرناواقعی بہت مشکل کام ہے۔ “

Read more

ایک افسر کی پیدائش

ہمارے ایک دوست نے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور افسرہوگئے۔ اس خوشی میں انہوں نے اپنے تمام دوستوں کو کھانے پر مدعو کیا۔ چونکہ وہ نئے نئے افسر بنے تھے اس لئے اس تقریب کے وہ خود ہی مہمان خصوصی تھے۔ کرسی صدارت بھی انہی کے پاس تھی۔

کھانے کے دوران انہوں نے اپنی محنت شاقہ پر روشنی ڈالی۔ امتحان پاس کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے، کون کون سی درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانے پڑے اور کہاں کہاں سے نوٹس اکٹھے کرنے پڑے۔ اس نے۔ ۔ ۔ معذرت انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں اتنی کتابیں جمع ہو گئی ہیں کہ اگر وہ خدا نخواستہ ناکام ہوجاتے تو پرانی کتابوں کی دکان آسانی سے کھول سکتے تھے۔ انہوں نے اتنا علم حاصل کیا کہ آخر میں وہ یہ تک جان گئے کہ ”بحر مردار“ اصل میں ”ڈیڈ سی“ کا اردو ترجمہ ہے۔

Read more

کچھ خریداری کے بارے میں

خریداری کرنا عورتوں کا محبوب مشغلہ ہے جب کہ دکانداروں کے علاوہ اکثر مرد خریداری کرنے کا سن کر ہی گبھرا جاتے ہیں۔ ہماری ایک یونیورسٹی فیلو کا خیال تھا کہ مردوں نے اپنے لئے خریداری کرنے کے دروازے خود بند کیے ہیں۔ جب خود سرخ رنگ نہیں پہن سکتے تو پھر ہمارے لئے سرخ رنگ کے کئی شیڈز بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگرچہ اس خاتون کے پاس سرخ رنگ کا کوئی جوڑا نہیں تھا لیکن اس نے بات گہری کی تھی۔ ہمارے دوست فراز نے اسے بتایا، ”بی بی ہم بھی سرخ رنگ پہنتے ہیں لیکن ذرا چھپا کر“۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی پینٹ اوپر کی تو اس کے موزے واقعی سرخ رنگ کے تھے۔

Read more