واٹ نیکسٹ

بھلے لوگو، یہ کسی اور قبیل کے فرد ہوتے ہیں۔ اس لیے ادنیٰ پرجاتیوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ان کے کسی عمل پر رائے دیں، ان کی کامیابیوں پر شادیانے بجائیں یا پھر ان کی مرگ ناگہانی پر آنسو بہائیں۔ یہ منفرد لوگ اپنی مرضی سے جیتے ہیں، ان کی زندگی میں کئی بار موت ان کی آنکھوں تلے پھرتی ہے اور پھر یہ اچانک کسی دن ہنستے کھیلتے اپنے چاہنے والوں کو خدا حافظ کہ دیتے ہیں۔

Read more

جب ساون رت کی پون چلی

cerberus تین سروں والا ایک کتا ہے۔ یونانیوں کا خیال ہے کہ یہ کتا جہنم کا پہرے دار ہے۔ مجھے اتنا تو کافی عرصے سے معلوم تھا کہ Cerberus اگر حقیقت ہے تو اس کا ایک منہ ان لوگوں کو پکڑے گا جو ایک ڈھلتی عمر کی بے رنگ و بے نور، ”مونا لیزا“ نامی عورت کی تصویر کو آرٹ کا شاہکار سمجھتے ہیں۔ اپنے دوسرے منہ سے وہ جہنمی کتا ان صالحین کو بھنبھوڑے گا جن کا ایمان ہے

Read more

چاند کی ڈائری

میں کیسی خوش بخت ٹھہری کہ جس دن پیدا ہوئی اسی دن مر بھی گئی۔ یا پھر مار دی گئی۔ کوئی خاص فرق نہیں، ایک ہی بات ہے! خدا کا شکر ہے کہ میں ایک بے حس، درندہ صفت اور مردہ معاشرے میں چند گھنٹے زندہ رہی۔ اور زندہ رہتی تو شاید میں روز مرتی۔ رسم، رواج، عزت، غیرت۔ پردہ۔ کتنا اچھا ہوا کہ ایسی تمام صعوبتوں سے، قید سے میری روح آزاد ہو گئی۔ یا پھر کر دی گئی۔

Read more

دھند میں سفر

مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا، دھند بہت ہے۔ اس گہری دھند میں صاف نظر آنے کی خواہش سے میری آنکھوں نے پھٹ جانا ہے، میری بینائی چلی جائے گی، میں نے اندھا ہوجانا ہے۔ لیکن جب دھند میں کچھ نظر ہی نہیں آ رہا تو بھلا اور اندھا ہونا کسے کہتے ہیں؟ شاید میں اندھا ہو چکا ہوں میں اپنی بینائی کھو چکا ہوں۔

Read more

علی صد پارہ کی موت اور ہمارے اردگرد بکھرے لاشے

تصدیق وہ واحد عمل ہے جس سے گمان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ گمان امید ہے، حوصلہ ہے، زندگی ہے۔ کل تک ہمیں گمان تھا کہ علی سد پارہ زندہ ہیں، آج تصدیق ہو گئی کہ ایسا نہیں ہے تو اس تصدیق کے ساتھ ہی ہمارا گمان بھی مر گیا ہے۔

خدا جانے ہمالہ کے عاشقوں نے اپنے محبوب کی آغوش میں آخری سانسیں کب لیں۔ کل، پرسوں، ترسوں جانے کب وہ برف کے بن گئے، معلوم نہیں بلندی پر پہلے کسی کی روح نے آسمان کی طرف پرواز کیا ہو گا، جنون کے اس پیشے میں چاندی کا تمغہ کس کے سینے پر سجا ہو گا، ہمیں کیا پتہ آخری بچ جانے والے نے اکیلے کتنی دیر موت کا انتظار کیا ہو گا اور اس جان لیوا اڈیک میں اس کے ذہن میں اپنے بال بچوں کے علاوہ کیا خیالات آئیں ہوں گے؟

Read more

اتفاق میں برکت ہے (ری مکس)۔

آج کل کی بات ہے بر اعظم ایشیا کے ایک غریب ملک میں ایک کامیاب سرکاری ٹھیکے دار رہتا تھا۔ اس ٹھیکے دار کی کامیابی کی واحد وجہ ”دولت تقسیم کرنے سے بڑھتی ہے“ جیسے عمیق فلسفے پر دل و جاں سے عمل پیرا ہونا تھا۔ وہ بامراد شخص روزی میں برکت کی نیک نیت سے اپنے ہر ٹھیکے کے منافع کا چالیس سے پچاس فیصد غریب سرکاری ملازمین اور مظلوم سیاست دانوں پر رشوت کی صورت میں دان دیتا تھا، اور فلاح پاتا تھا۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ غریبوں اور مظلوموں کی دعا کبھی رد نہیں جاتی اس لیے ٹھیکے دار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پیسے کی دوڑ میں اپنے ہم عصروں سے میلوں آگے نکل گیا۔

Read more

یرغمال جہاز اور کامران کے ابا کا کھلا خط

شہزادے! تم نے اس قوم کو مقابلے پر اکسایا ہے جس کے پاس، درجہ ہشتم کے مطالعہ پاکستان کے مطابق سونا اگلتے کھلیان، سر سبز وادیاں اور بہتی آبشاریں ہیں۔ جب کہ دہم جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں سنہرے حروف میں لکھا ہوا ہے کہ یہ قوم معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ اس کے پاس رہو ڈیم، پلا ڈیم اور چاندی کے پہاڑ ہیں۔ تم اس قوم کے خلاف لنگوٹ کس کر میدان میں آئے ہو، جس کے لبوں پر ہر وقت دعا رہتی ہے، ”مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے، میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے“ ۔ ڈئیر! یقین جانو، ہم سے ادھار واپس مانگ کر تم  نے اپنی موت کو دعوت دی ہے۔

Read more

نئے برس کے لیے ایک سیانے کے مشورے

جب آپ کے گھر اپنی گاجریں ہوں تو دنیا جس حال میں بھی ہو آپ کو فکر کی چنداں ضرورت نہیں۔ جمیل واہ واہ کہتے ہوئے آگے بڑھا اور عقیدت سے جھک کر پہلے سیانے کے گھٹنے چھوئے اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں اپنی آنکھوں پر لگا لیں۔ ہم نے سیانا صاحب کو بتایا کہ آج کل سب گھروں میں اتنی زمین نہیں ہوتی کہ لوگ اپنا اگا اور اپنا کھا سکیں۔ جمیل نے طفیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ یہ شادی کے بعد بھی اپنے والد کے گھر میں رہتا ہے۔

Read more

گرلڈ چمگادڑ، وبا کی نحوست اور بھٹی کی گالی

آپ نئے سال کی خوشیاں منانے کی تیاریاں کر رہے ہوں گے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی چھوٹی سی عیاشی انسانیت کے بقا کو خطرے میں ڈال سکتی ہے؟ آپ کی لمحوں کی خطا کی سزا صدیوں پر محیط ہو سکتی ہے؟ اور آپ کی ذرا سی غلطی لاکھوں انسانوں کی جان لے سکتی ہے؟ اگر آپ کو میری

اس بات پر اعتبار نہیں آ رہا تو آئیں میں آپ کو ایک ایسا سچا قصہ سناتا ہوں جس کے سننے کے بعد آپ کو یقین کامل ہو جائے گا کہ خوشیاں مناتے وقت باقی دنیا کا خیال کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Read more

وہ چیتا کیسے بنا؟

رشید ہمارے محلے کا ایک بہادر جوان ہے۔ اس لئے سارے محلے میں وہ شیدا جری کے نام سے پکارا اور پہچانا جاتا ہے۔ جری نے اوائل عمر میں ایک خواب دیکھا جس نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اس کی آدھی عمر اس خواب کی تعبیر معلوم کرتے گزری اور جری میرا معترف بھی اسی لئے ہے کہ میں وہ واحد شخص ہوں جس نے اسے اس کی خواب کی صحیح تعبیر بتائی۔

پہلے خواب کا بیان ہو جائے۔ جری کا ایک دفعہ فیل ہونے کے بعد ساتویں جماعت میں دوسرا سال تھا کہ اسے خواب آیا کہ وہ پینٹ شرٹ پہنے گلی کے نکڑ میں اکرم کی ریڑھی سے گول گپوں کی ہاف پلیٹ کھا رہا ہے۔ اچانک ایک بڑی سے گاڑی اس کے پاس آکر رکتی ہے۔ اس گاڑی میں تین معزز شخص بیٹھے ہوتے ہیں جن کا خواب میں ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ تینوں شہر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے مشہور سرجنز ہیں۔ ان میں سے ایک سرجن جری کو مخاطب کرتے ہوئے اس سے پوچھتا ہے، ”رشید صاحب آپ ہمارے قافلے میں شامل ہوں گے؟“ جری نے اثبات میں سر ہلایا۔

Read more

کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے

انسان کو دوسرے انسان کی قدر تب آتی ہے جب وہ اسے میسر نہیں رہتا۔ یہ بات چونکہ انتہائی گہری اور عمیق ہے اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو چاچا ابراہیم لودھی کی زندگی کا جائزہ لینا پڑے گا۔ چاچا ہمارے علاقے کے مشہور حجام تھے جن کی حیاتی بھوتوں کے بال کاٹ کر انہیں انسان بنانے میں گزری۔ ان کا کہنا تھا، ”دنیا میں اللّہ انسان پیدا کرتا ہے جب کہ اس کے بعد اس کو

Read more

منکسر المزاج نیک انسانوں کی بستی کے اوّل جلول مکین

دنیا میں نیکی اور عجز و انکساری کا وجود ہمیشہ سے ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم رہا ہے۔ نیکی عجز کے بغیر نیکی نہیں رہتی جب کہ وہ عاجز جو دوسروں سے بھلائی نہیں کرتا اس سے مخلوق عاجز آئے رہتی ہے۔ نیکوکاروں پر نظر دوڑائیں تو نظر پنسلین کو دریافت کرنے والے مشہور سائنسدان فلیمنگ پر جا ٹھہرتی ہے جس کی دریافت نے آج انسان کی اوسط عمر کو تقریباً دگنا کردیا ہے۔ لیکن حیرت ہے اس

Read more

دنیا پاکستان کی طرف مت دیکھے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا نے گزشتہ سو سالوں میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ گھوڑوں اور خچروں پر کیا
جانے والا سفر سائیکل اور کار سے ہوتا ہوا ہوائی جہاز تک جا پہنچا ہے۔ انسان نے چاند کو مسخر کرلیا جب کہ باقی مانندہ ستاروں پر بھی کمندیں ڈالنے کے لئے مضطرب ہے۔ جراحی کے شعبے میں اتنی ترقی کرلی کہ کہاں طبیب چھوٹے سے زخم پر پوراعضو کاٹ دیا کرتا تھا اور کہاں اب جراح قریب مرگ دلوں کو توانا، بیداد جگر کو تبدیل جب کہ ناکارہ گردوں کو کار آمد بنانے لگ گیا ہے۔ پیغام رسائی کا نظام کبوتر اور قاصد کو کب کا بھول چکا اور دور خط، ٹیلی فون، فیکس سے ہوتا ہوا ای میل، فیس ٹائم اور سکائپ تک پہنچ چکا ہے۔

Read more

موسمِ یاس میں خود سے ملنے کے دن

شکر ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سوشل میڈیا کی وبا پھیلنے کے بعد پھوٹی ہے۔ اسی لئے یاس کے اس موسم میں واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر جیسی سماجی اپلیکیشنز کی وجہ سے سماجی دوری کچھ خاص پریشان کن محسوس نہیں ہورہی ہے۔ اگر یہی وبا 1990 میں پھوٹتی تو ہمارے کئی لوگ اس پریشانی سے مرجاتے کہ ہم یہاں قید میں پڑے ہیں جب کہ ہمارے چاچے کا بیٹا لندن میں عیاشی مار رہا ہوگا۔ اب کم از کم یہ سکون ضرور ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت تمام رشتہ داروں کے بیٹے انہی حالات میں ہیں، جن سے ہم گزر رہے ہیں۔ اللّہ تیرا شکر!

Read more

کرونے، اب جنگ ہوگی!

کرونے آخر تم ایک بزدل دشمن کی طرح ہمارے ملک میں گھس آئے ہو۔ تمہیں لاکھ سمجھایا، پرے پرے۔ لیکن تم بھی نزلہ، زکام کے وائرس کی طرح انتہائی گھٹیا وائرس نکلے۔ اپنی مستی میں تم بھول گئے کے تم ایک ایسی قوم کو للکار نے جارہے ہو جس کے لئے ہمیشہ سے شمشیر و سناں اوّل اور طاؤس و رباب آخر رہا ہے۔ کرونے، آج سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اب تم دنیا میں ہمارے دوسرے بڑے دشمن ہو، پہلا ابھی بھی بھارت ہی ہے۔

Read more

مردوں کو عورت مارچ سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں

وہ دن لد گئے جب دنیا میں مرد سرتاج اور مجازی خدا ہوا کرتے تھے، آج کل ہر طرف ”میری مرضی“ کا غُلغُلہ بلند ہے۔ خواتین ہوتی ہی نہایت بھولی بھالی ہیں اس لئے انہیں یہ جاننے میں صدیاں لگ گئیں کہ وہ جس مخلوق کو عالم پناہ سمجھتی رہیں اصل میں وہ انتہائی چالاک، ظالم اور خود غرض قسم کا جانور ہے جس سے عالم پناہ مانگتا ہے۔ اس لئے آزادی ضروری ہے۔

عورتوں کی آزادی کی تحریک کا آغاز کب ہوا اور مردوں نے عورتوں پر کیسے حکمرانی کی، اس بارے مؤرخین سخت خاموش اور خوفزدہ ہیں۔

Read more

ریاضی کی موت

یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جس نے اپنی لگن سے ناممکن کو ممکن بنایا اور اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ یہ کہانی اس با ہمت اور کامیاب شخص کی ہے جسے دنیا ریاض بولانی صدیق کے نام سے پکارتی ہے۔ آپ کو شاید بولانی سے لگے کے ریاض کا تعلق صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بولانی میرے محلے دار ہیں اور صدیوں سے ان کا خاندان یہیں مقیم ہے۔

بولانی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ریاض نے سوزوکی بولان، جسے کیری ڈبہ بھی کہا جاتا ہے، خرید کر کاروبار کا آغاز کیا ان کے نام کے ساتھ لفظ ”بولانی“ لکھا اور بولا جانے لگا۔ بولانی کا مشہور قول ہے، ”اگر میٹرک میں ریاضی اور بی اے میں انگریزی لازمی مضامین نہ ہوتے تو آج پاکستان میں گریجوئیٹس کی تعداد لاکھوں کے بجائے کروڑوں میں ہوتی“ ۔ جب محلے کے نوجوانوں نے ان کا یہ سچا قول سنا، ان کے نام کے آخر میں ”صدیق“ بھی لگا دیا۔

Read more

دانشوروں سے اجتناب!

انسان کی خوشی، سکون اور صحت پر تحقیق کرنے والے مشہور امریکی ادارے اَن لمیٹڈ بلیسنگز (unlimited blessings) نے 1987 میں ایک تحقیق کی جس میں ثابت ہوا کہ اگر انسان پیکنگ میں پیدا ہوتا تو اس کے بنانے والے نے پیکٹ پر انتباہ ضرور لکھنا تھا کہ ”اس پراڈکٹ کا دل کانچ کا بنا ہے اس لئے  اس کے دل کو ٹوٹنے سے بچائیں، ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھیں“۔  اگر یہ جملہ آپ کے دل میں چبھا ہے

Read more

کھانا کب کھلے گا؟

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت ملک عزیز کے کسی نہ کسی حصے میں لوگ کسی بارات، ولیمہ، سالگرہ، عقیقہ، چہلم، برسی یا جلسے میں کھانا کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کھانا کب کھلے گا؟ کھلے گا بھی یا نہیں کھلے گا؟ منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے کہ کھانا کھلتے ہی اس پر کس سمت سے حملہ کرنا ہے اور ناکامی کی صورت میں پلان بی کیا ہوگا۔

Read more

اَگ گڈی، شعلہ ڈرائیور

نوٹ: یہ کہانی بچوں کے لئے لکھی گئی ہے اس لئے اسے بڑے نہ پڑھیں۔

پیارے بچو، یہ پرانے وقتوں کی بات ہے جب دنیا میں گاڑیاں نئی نئی چلنا شروع ہوئی تھیں۔ مختلف ملکوں میں بسنے والے بوڑھے لوگ اس تبدیلی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ بوڑھے جو گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کرتے تھے ان کے لئے بس اور ٹرک ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد تھی جس نے دنوں کی مسافت کو سکیڑ کر گھنٹوں میں بدل دیاتھا۔ نوجوان اس تبدیلی پر بہت خوش تھے کہ بہر حال چمچماتی بسوں پر سفر کرنا ہنہناتے گھوڑوں اور ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے گدھوں پر سفر کرنے سے ہزار گنا بہتر تھا۔

Read more

نیند ہزار نعمت ہے

میرے ایک دوست کو نیند کے کردار پر ہمیشہ شک رہا ہے۔ اس کا خیال ہے، ”نیند وہ واحد مادہ شے ہے جو جوانوں کے پاس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی“۔ جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر جوانی میں زیادہ نیند نہ آتی توکرہ ارض پر ہر وقت ہنگامے بپا رہتے۔ اب تو شکر ہے کافی ساری محفلیں صرف خوابوں میں ہی جمتی ہیں۔ اکثر ایسی محفلیں جب عروج پر ہوتی ہیں تو جوان کے کالج جانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ صبح صبح اٹھ کر علم حاصل کرنے جانا جوانی کی موت ہے۔ اسی لئے ہمارے جوانوں کی ایک کثیر تعداد ان پڑھ رہ گئی ہے۔

Read more

وجود ”بیوقوف“ سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

چاچو فرید چار ماہ کی اگٹھی تنخواہ وصول کرکے لاہور سے بذریعہ بس راولپنڈی اپنے گھرکے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی بس نے راوی کا پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ ان کی اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے گہری دوستی ہوگئی۔ دوستی کی وجہ دونوں کے ایک جیسے حالات و خیالات تھے۔ دونوں اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی لالچ سے تنگ اور سخت نالاں تھے۔ دونوں کا شعر و ادب سے لگاؤ بھی برابر تھا، جو کہ صفر تھا۔

چند ہی لمحوں میں جب دوستی ہمالہ سے اونچی ہو گئی تو دوست نے انہیں کھانے کے لئے مٹھائی پیش کی جو چاچو نے ذیابیطس کا مرض ہونے کے باوجود دوستی کی لاج رکھتے ہوئے کھا لی۔ دو دن بعد جب چاچو کو ہوش آیا تو وہ نقدی اور ہم خیال دوست، دونوں سے محروم ہوچکے تھے۔ بچھڑے دوست کہاں ملتے ہیں لیکن اس کو پکڑنے کے لئے چاچو کے بھتیجوں نے جو ہاہا کار مچائی اس نے چند دن گاؤں میں خوب رونق لگائے رکھی۔ بس کا سفر ہمیشہ سے بیوقوفوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے۔

Read more

سرکار کی نوکری کے مزے

میرا ایک دوست بینک میں ملازم تھا۔ کام کرتے کرتے اکثر خیالوں میں کہیں دورنکل جایا کرتا تھا۔ اس کے عقلمند مینیجر نے چند ہی دنوں میں بیماری کی تشخیص کرلی کہ موصوف تصور جاناں کئیے کسی بند گلی کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ کچی نوکری میں بیماری کا پتہ چل جائے تو نسخہ ایک ہی ملتا ہے، ”مہربانی فرما کر کل سے کام پرتشریف نہ لائیے گا“۔ جب میرا دوست یہی نسخہ ہاتھ میں لئے میرے پاس کسی اچھے وکیل کا پتہ کرنے آیا تو پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ سرکاری نوکری تو بہت بڑی نعمت ہے۔

ہمارے دفتر کا ایک مالی عرصے سے کام کے اوقات میں دفتر کے باہر پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے، لیکن مجال ہے اس نے کبھی اپنی نوکری پر حرف آنے دیا ہو۔ اس کاکہنا ہے، ”دفتر میں فارغ رہ کر حرام کھانے سے بہتر ہے بندہ باہر محنت کرکے حلال رزق کمائے“۔ کسی نے اس سے پوچھا، ”تمہیں نہیں لگتا دفتر کے مرجھائے ہوئے پودے تمہیں بد دعا دیتے ہوں گے؟ “
اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا، ”مفت کا پھل کھا کرحاضری کلرک اور کیشئیر کے معصوم بچے جو دعائیں دیتے ہوں گے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ “

Read more

حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے

شیدا کونسلر بنا تو حلف لینے کے اگلے دن نائی کی دکان پر بیٹھا کہ رہا تھا، ”دوستو، حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن تم لوگ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ تم تو عوام ہو۔ اب دیکھو کل حلف لیتے ہوئے جج صاحب نے کہا، میں۔ ۔ ۔ اور خاموش ہوگئے۔ اب سب نے اپنا نام لینا تھا۔ اچانک سرکاری کاغذوں میں لکھا نام عبدالرشید ولد محمد یعقوب کہاں ذہن میں آتا ہے۔ میں نے فورا کہا جی، شیدا ولد قوبا تیلی۔ جب جج اور ان کے ساتھ بیٹھے ڈی ایس پی صاحب نے قہقہ لگایا تو مجھے احساس ہوا کہ حکومت کرناواقعی بہت مشکل کام ہے۔ “

Read more

ایک افسر کی پیدائش

ہمارے ایک دوست نے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور افسرہوگئے۔ اس خوشی میں انہوں نے اپنے تمام دوستوں کو کھانے پر مدعو کیا۔ چونکہ وہ نئے نئے افسر بنے تھے اس لئے اس تقریب کے وہ خود ہی مہمان خصوصی تھے۔ کرسی صدارت بھی انہی کے پاس تھی۔

کھانے کے دوران انہوں نے اپنی محنت شاقہ پر روشنی ڈالی۔ امتحان پاس کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے، کون کون سی درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانے پڑے اور کہاں کہاں سے نوٹس اکٹھے کرنے پڑے۔ اس نے۔ ۔ ۔ معذرت انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں اتنی کتابیں جمع ہو گئی ہیں کہ اگر وہ خدا نخواستہ ناکام ہوجاتے تو پرانی کتابوں کی دکان آسانی سے کھول سکتے تھے۔ انہوں نے اتنا علم حاصل کیا کہ آخر میں وہ یہ تک جان گئے کہ ”بحر مردار“ اصل میں ”ڈیڈ سی“ کا اردو ترجمہ ہے۔

Read more

کچھ خریداری کے بارے میں

خریداری کرنا عورتوں کا محبوب مشغلہ ہے جب کہ دکانداروں کے علاوہ اکثر مرد خریداری کرنے کا سن کر ہی گبھرا جاتے ہیں۔ ہماری ایک یونیورسٹی فیلو کا خیال تھا کہ مردوں نے اپنے لئے خریداری کرنے کے دروازے خود بند کیے ہیں۔ جب خود سرخ رنگ نہیں پہن سکتے تو پھر ہمارے لئے سرخ رنگ کے کئی شیڈز بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگرچہ اس خاتون کے پاس سرخ رنگ کا کوئی جوڑا نہیں تھا لیکن اس نے بات گہری کی تھی۔ ہمارے دوست فراز نے اسے بتایا، ”بی بی ہم بھی سرخ رنگ پہنتے ہیں لیکن ذرا چھپا کر“۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی پینٹ اوپر کی تو اس کے موزے واقعی سرخ رنگ کے تھے۔

Read more