موسمِ یاس میں خود سے ملنے کے دن

شکر ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سوشل میڈیا کی وبا پھیلنے کے بعد پھوٹی ہے۔ اسی لئے یاس کے اس موسم میں واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر جیسی سماجی اپلیکیشنز کی وجہ سے سماجی دوری کچھ خاص پریشان کن محسوس نہیں ہورہی ہے۔ اگر یہی وبا 1990 میں پھوٹتی تو ہمارے کئی لوگ اس پریشانی سے مرجاتے کہ ہم یہاں قید میں پڑے ہیں جب کہ ہمارے چاچے کا بیٹا لندن میں عیاشی مار رہا ہوگا۔ اب کم از کم یہ سکون ضرور ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت تمام رشتہ داروں کے بیٹے انہی حالات میں ہیں، جن سے ہم گزر رہے ہیں۔ اللّہ تیرا شکر!

Read more

کرونے، اب جنگ ہوگی!

کرونے آخر تم ایک بزدل دشمن کی طرح ہمارے ملک میں گھس آئے ہو۔ تمہیں لاکھ سمجھایا، پرے پرے۔ لیکن تم بھی نزلہ، زکام کے وائرس کی طرح انتہائی گھٹیا وائرس نکلے۔ اپنی مستی میں تم بھول گئے کے تم ایک ایسی قوم کو للکار نے جارہے ہو جس کے لئے ہمیشہ سے شمشیر و سناں اوّل اور طاؤس و رباب آخر رہا ہے۔ کرونے، آج سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اب تم دنیا میں ہمارے دوسرے بڑے دشمن ہو، پہلا ابھی بھی بھارت ہی ہے۔

Read more

مردوں کو عورت مارچ سے خوفزدہ ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں

وہ دن لد گئے جب دنیا میں مرد سرتاج اور مجازی خدا ہوا کرتے تھے، آج کل ہر طرف ”میری مرضی“ کا غُلغُلہ بلند ہے۔ خواتین ہوتی ہی نہایت بھولی بھالی ہیں اس لئے انہیں یہ جاننے میں صدیاں لگ گئیں کہ وہ جس مخلوق کو عالم پناہ سمجھتی رہیں اصل میں وہ انتہائی چالاک، ظالم اور خود غرض قسم کا جانور ہے جس سے عالم پناہ مانگتا ہے۔ اس لئے آزادی ضروری ہے۔

عورتوں کی آزادی کی تحریک کا آغاز کب ہوا اور مردوں نے عورتوں پر کیسے حکمرانی کی، اس بارے مؤرخین سخت خاموش اور خوفزدہ ہیں۔

Read more

ریاضی کی موت

یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جس نے اپنی لگن سے ناممکن کو ممکن بنایا اور اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ یہ کہانی اس با ہمت اور کامیاب شخص کی ہے جسے دنیا ریاض بولانی صدیق کے نام سے پکارتی ہے۔ آپ کو شاید بولانی سے لگے کے ریاض کا تعلق صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بولانی میرے محلے دار ہیں اور صدیوں سے ان کا خاندان یہیں مقیم ہے۔

بولانی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ریاض نے سوزوکی بولان، جسے کیری ڈبہ بھی کہا جاتا ہے، خرید کر کاروبار کا آغاز کیا ان کے نام کے ساتھ لفظ ”بولانی“ لکھا اور بولا جانے لگا۔ بولانی کا مشہور قول ہے، ”اگر میٹرک میں ریاضی اور بی اے میں انگریزی لازمی مضامین نہ ہوتے تو آج پاکستان میں گریجوئیٹس کی تعداد لاکھوں کے بجائے کروڑوں میں ہوتی“ ۔ جب محلے کے نوجوانوں نے ان کا یہ سچا قول سنا، ان کے نام کے آخر میں ”صدیق“ بھی لگا دیا۔

Read more

دانشوروں سے اجتناب!

انسان کی خوشی، سکون اور صحت پر تحقیق کرنے والے مشہور امریکی ادارے اَن لمیٹڈ بلیسنگز (unlimited blessings) نے 1987 میں ایک تحقیق کی جس میں ثابت ہوا کہ اگر انسان پیکنگ میں پیدا ہوتا تو اس کے بنانے والے نے پیکٹ پر انتباہ ضرور لکھنا تھا کہ ”اس پراڈکٹ کا دل کانچ کا بنا…

Read more

کھانا کب کھلے گا؟

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت ملک عزیز کے کسی نہ کسی حصے میں لوگ کسی بارات، ولیمہ، سالگرہ، عقیقہ، چہلم، برسی یا جلسے میں کھانا کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کھانا کب کھلے گا؟ کھلے گا بھی یا نہیں کھلے گا؟ منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے کہ کھانا کھلتے ہی اس پر کس سمت سے حملہ کرنا ہے اور ناکامی کی صورت میں پلان بی کیا ہوگا۔

Read more

اَگ گڈی، شعلہ ڈرائیور

نوٹ: یہ کہانی بچوں کے لئے لکھی گئی ہے اس لئے اسے بڑے نہ پڑھیں۔

پیارے بچو، یہ پرانے وقتوں کی بات ہے جب دنیا میں گاڑیاں نئی نئی چلنا شروع ہوئی تھیں۔ مختلف ملکوں میں بسنے والے بوڑھے لوگ اس تبدیلی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ بوڑھے جو گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کرتے تھے ان کے لئے بس اور ٹرک ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد تھی جس نے دنوں کی مسافت کو سکیڑ کر گھنٹوں میں بدل دیاتھا۔ نوجوان اس تبدیلی پر بہت خوش تھے کہ بہر حال چمچماتی بسوں پر سفر کرنا ہنہناتے گھوڑوں اور ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے گدھوں پر سفر کرنے سے ہزار گنا بہتر تھا۔

Read more

نیند ہزار نعمت ہے

میرے ایک دوست کو نیند کے کردار پر ہمیشہ شک رہا ہے۔ اس کا خیال ہے، ”نیند وہ واحد مادہ شے ہے جو جوانوں کے پاس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی“۔ جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر جوانی میں زیادہ نیند نہ آتی توکرہ ارض پر ہر وقت ہنگامے بپا رہتے۔ اب تو شکر ہے کافی ساری محفلیں صرف خوابوں میں ہی جمتی ہیں۔ اکثر ایسی محفلیں جب عروج پر ہوتی ہیں تو جوان کے کالج جانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ صبح صبح اٹھ کر علم حاصل کرنے جانا جوانی کی موت ہے۔ اسی لئے ہمارے جوانوں کی ایک کثیر تعداد ان پڑھ رہ گئی ہے۔

Read more

وجود ”بیوقوف“ سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

چاچو فرید چار ماہ کی اگٹھی تنخواہ وصول کرکے لاہور سے بذریعہ بس راولپنڈی اپنے گھرکے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی بس نے راوی کا پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ ان کی اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے گہری دوستی ہوگئی۔ دوستی کی وجہ دونوں کے ایک جیسے حالات و خیالات تھے۔ دونوں اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی لالچ سے تنگ اور سخت نالاں تھے۔ دونوں کا شعر و ادب سے لگاؤ بھی برابر تھا، جو کہ صفر تھا۔

چند ہی لمحوں میں جب دوستی ہمالہ سے اونچی ہو گئی تو دوست نے انہیں کھانے کے لئے مٹھائی پیش کی جو چاچو نے ذیابیطس کا مرض ہونے کے باوجود دوستی کی لاج رکھتے ہوئے کھا لی۔ دو دن بعد جب چاچو کو ہوش آیا تو وہ نقدی اور ہم خیال دوست، دونوں سے محروم ہوچکے تھے۔ بچھڑے دوست کہاں ملتے ہیں لیکن اس کو پکڑنے کے لئے چاچو کے بھتیجوں نے جو ہاہا کار مچائی اس نے چند دن گاؤں میں خوب رونق لگائے رکھی۔ بس کا سفر ہمیشہ سے بیوقوفوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے۔

Read more

سرکار کی نوکری کے مزے

میرا ایک دوست بینک میں ملازم تھا۔ کام کرتے کرتے اکثر خیالوں میں کہیں دورنکل جایا کرتا تھا۔ اس کے عقلمند مینیجر نے چند ہی دنوں میں بیماری کی تشخیص کرلی کہ موصوف تصور جاناں کئیے کسی بند گلی کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ کچی نوکری میں بیماری کا پتہ چل جائے تو نسخہ ایک ہی ملتا ہے، ”مہربانی فرما کر کل سے کام پرتشریف نہ لائیے گا“۔ جب میرا دوست یہی نسخہ ہاتھ میں لئے میرے پاس کسی اچھے وکیل کا پتہ کرنے آیا تو پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ سرکاری نوکری تو بہت بڑی نعمت ہے۔

ہمارے دفتر کا ایک مالی عرصے سے کام کے اوقات میں دفتر کے باہر پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے، لیکن مجال ہے اس نے کبھی اپنی نوکری پر حرف آنے دیا ہو۔ اس کاکہنا ہے، ”دفتر میں فارغ رہ کر حرام کھانے سے بہتر ہے بندہ باہر محنت کرکے حلال رزق کمائے“۔ کسی نے اس سے پوچھا، ”تمہیں نہیں لگتا دفتر کے مرجھائے ہوئے پودے تمہیں بد دعا دیتے ہوں گے؟ “
اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا، ”مفت کا پھل کھا کرحاضری کلرک اور کیشئیر کے معصوم بچے جو دعائیں دیتے ہوں گے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ “

Read more