ریاضی کی موت

یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جس نے اپنی لگن سے ناممکن کو ممکن بنایا اور اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ یہ کہانی اس با ہمت اور کامیاب شخص کی ہے جسے دنیا ریاض بولانی صدیق کے نام سے پکارتی ہے۔ آپ کو شاید بولانی سے لگے کے ریاض کا تعلق صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بولانی میرے محلے دار ہیں اور صدیوں سے ان کا خاندان یہیں مقیم ہے۔

بولانی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ریاض نے سوزوکی بولان، جسے کیری ڈبہ بھی کہا جاتا ہے، خرید کر کاروبار کا آغاز کیا ان کے نام کے ساتھ لفظ ”بولانی“ لکھا اور بولا جانے لگا۔ بولانی کا مشہور قول ہے، ”اگر میٹرک میں ریاضی اور بی اے میں انگریزی لازمی مضامین نہ ہوتے تو آج پاکستان میں گریجوئیٹس کی تعداد لاکھوں کے بجائے کروڑوں میں ہوتی“ ۔ جب محلے کے نوجوانوں نے ان کا یہ سچا قول سنا، ان کے نام کے آخر میں ”صدیق“ بھی لگا دیا۔

Read more

دانشوروں سے اجتناب!

انسان کی خوشی، سکون اور صحت پر تحقیق کرنے والے مشہور امریکی ادارے اَن لمیٹڈ بلیسنگز (unlimited blessings) نے 1987 میں ایک تحقیق کی جس میں ثابت ہوا کہ اگر انسان پیکنگ میں پیدا ہوتا تو اس کے بنانے والے نے پیکٹ پر انتباہ ضرور لکھنا تھا کہ ”اس پراڈکٹ کا دل کانچ کا بنا…

Read more

کھانا کب کھلے گا؟

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت ملک عزیز کے کسی نہ کسی حصے میں لوگ کسی بارات، ولیمہ، سالگرہ، عقیقہ، چہلم، برسی یا جلسے میں کھانا کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کھانا کب کھلے گا؟ کھلے گا بھی یا نہیں کھلے گا؟ منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے کہ کھانا کھلتے ہی اس پر کس سمت سے حملہ کرنا ہے اور ناکامی کی صورت میں پلان بی کیا ہوگا۔

Read more

اَگ گڈی، شعلہ ڈرائیور

نوٹ: یہ کہانی بچوں کے لئے لکھی گئی ہے اس لئے اسے بڑے نہ پڑھیں۔

پیارے بچو، یہ پرانے وقتوں کی بات ہے جب دنیا میں گاڑیاں نئی نئی چلنا شروع ہوئی تھیں۔ مختلف ملکوں میں بسنے والے بوڑھے لوگ اس تبدیلی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ بوڑھے جو گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کرتے تھے ان کے لئے بس اور ٹرک ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد تھی جس نے دنوں کی مسافت کو سکیڑ کر گھنٹوں میں بدل دیاتھا۔ نوجوان اس تبدیلی پر بہت خوش تھے کہ بہر حال چمچماتی بسوں پر سفر کرنا ہنہناتے گھوڑوں اور ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے گدھوں پر سفر کرنے سے ہزار گنا بہتر تھا۔

Read more

نیند ہزار نعمت ہے

میرے ایک دوست کو نیند کے کردار پر ہمیشہ شک رہا ہے۔ اس کا خیال ہے، ”نیند وہ واحد مادہ شے ہے جو جوانوں کے پاس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی“۔ جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر جوانی میں زیادہ نیند نہ آتی توکرہ ارض پر ہر وقت ہنگامے بپا رہتے۔ اب تو شکر ہے کافی ساری محفلیں صرف خوابوں میں ہی جمتی ہیں۔ اکثر ایسی محفلیں جب عروج پر ہوتی ہیں تو جوان کے کالج جانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ صبح صبح اٹھ کر علم حاصل کرنے جانا جوانی کی موت ہے۔ اسی لئے ہمارے جوانوں کی ایک کثیر تعداد ان پڑھ رہ گئی ہے۔

Read more

وجود ”بیوقوف“ سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

چاچو فرید چار ماہ کی اگٹھی تنخواہ وصول کرکے لاہور سے بذریعہ بس راولپنڈی اپنے گھرکے لئے روانہ ہوئے۔ ابھی بس نے راوی کا پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ ان کی اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے گہری دوستی ہوگئی۔ دوستی کی وجہ دونوں کے ایک جیسے حالات و خیالات تھے۔ دونوں اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی لالچ سے تنگ اور سخت نالاں تھے۔ دونوں کا شعر و ادب سے لگاؤ بھی برابر تھا، جو کہ صفر تھا۔

چند ہی لمحوں میں جب دوستی ہمالہ سے اونچی ہو گئی تو دوست نے انہیں کھانے کے لئے مٹھائی پیش کی جو چاچو نے ذیابیطس کا مرض ہونے کے باوجود دوستی کی لاج رکھتے ہوئے کھا لی۔ دو دن بعد جب چاچو کو ہوش آیا تو وہ نقدی اور ہم خیال دوست، دونوں سے محروم ہوچکے تھے۔ بچھڑے دوست کہاں ملتے ہیں لیکن اس کو پکڑنے کے لئے چاچو کے بھتیجوں نے جو ہاہا کار مچائی اس نے چند دن گاؤں میں خوب رونق لگائے رکھی۔ بس کا سفر ہمیشہ سے بیوقوفوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے۔

Read more

سرکار کی نوکری کے مزے

میرا ایک دوست بینک میں ملازم تھا۔ کام کرتے کرتے اکثر خیالوں میں کہیں دورنکل جایا کرتا تھا۔ اس کے عقلمند مینیجر نے چند ہی دنوں میں بیماری کی تشخیص کرلی کہ موصوف تصور جاناں کئیے کسی بند گلی کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ کچی نوکری میں بیماری کا پتہ چل جائے تو نسخہ ایک ہی ملتا ہے، ”مہربانی فرما کر کل سے کام پرتشریف نہ لائیے گا“۔ جب میرا دوست یہی نسخہ ہاتھ میں لئے میرے پاس کسی اچھے وکیل کا پتہ کرنے آیا تو پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ سرکاری نوکری تو بہت بڑی نعمت ہے۔

ہمارے دفتر کا ایک مالی عرصے سے کام کے اوقات میں دفتر کے باہر پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے، لیکن مجال ہے اس نے کبھی اپنی نوکری پر حرف آنے دیا ہو۔ اس کاکہنا ہے، ”دفتر میں فارغ رہ کر حرام کھانے سے بہتر ہے بندہ باہر محنت کرکے حلال رزق کمائے“۔ کسی نے اس سے پوچھا، ”تمہیں نہیں لگتا دفتر کے مرجھائے ہوئے پودے تمہیں بد دعا دیتے ہوں گے؟ “
اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا، ”مفت کا پھل کھا کرحاضری کلرک اور کیشئیر کے معصوم بچے جو دعائیں دیتے ہوں گے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ “

Read more

حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے

شیدا کونسلر بنا تو حلف لینے کے اگلے دن نائی کی دکان پر بیٹھا کہ رہا تھا، ”دوستو، حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن تم لوگ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ تم تو عوام ہو۔ اب دیکھو کل حلف لیتے ہوئے جج صاحب نے کہا، میں۔ ۔ ۔ اور خاموش ہوگئے۔ اب سب نے اپنا نام لینا تھا۔ اچانک سرکاری کاغذوں میں لکھا نام عبدالرشید ولد محمد یعقوب کہاں ذہن میں آتا ہے۔ میں نے فورا کہا جی، شیدا ولد قوبا تیلی۔ جب جج اور ان کے ساتھ بیٹھے ڈی ایس پی صاحب نے قہقہ لگایا تو مجھے احساس ہوا کہ حکومت کرناواقعی بہت مشکل کام ہے۔ “

Read more

ایک افسر کی پیدائش

ہمارے ایک دوست نے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور افسرہوگئے۔ اس خوشی میں انہوں نے اپنے تمام دوستوں کو کھانے پر مدعو کیا۔ چونکہ وہ نئے نئے افسر بنے تھے اس لئے اس تقریب کے وہ خود ہی مہمان خصوصی تھے۔ کرسی صدارت بھی انہی کے پاس تھی۔

کھانے کے دوران انہوں نے اپنی محنت شاقہ پر روشنی ڈالی۔ امتحان پاس کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے، کون کون سی درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانے پڑے اور کہاں کہاں سے نوٹس اکٹھے کرنے پڑے۔ اس نے۔ ۔ ۔ معذرت انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں اتنی کتابیں جمع ہو گئی ہیں کہ اگر وہ خدا نخواستہ ناکام ہوجاتے تو پرانی کتابوں کی دکان آسانی سے کھول سکتے تھے۔ انہوں نے اتنا علم حاصل کیا کہ آخر میں وہ یہ تک جان گئے کہ ”بحر مردار“ اصل میں ”ڈیڈ سی“ کا اردو ترجمہ ہے۔

Read more

کچھ خریداری کے بارے میں

خریداری کرنا عورتوں کا محبوب مشغلہ ہے جب کہ دکانداروں کے علاوہ اکثر مرد خریداری کرنے کا سن کر ہی گبھرا جاتے ہیں۔ ہماری ایک یونیورسٹی فیلو کا خیال تھا کہ مردوں نے اپنے لئے خریداری کرنے کے دروازے خود بند کیے ہیں۔ جب خود سرخ رنگ نہیں پہن سکتے تو پھر ہمارے لئے سرخ رنگ کے کئی شیڈز بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگرچہ اس خاتون کے پاس سرخ رنگ کا کوئی جوڑا نہیں تھا لیکن اس نے بات گہری کی تھی۔ ہمارے دوست فراز نے اسے بتایا، ”بی بی ہم بھی سرخ رنگ پہنتے ہیں لیکن ذرا چھپا کر“۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی پینٹ اوپر کی تو اس کے موزے واقعی سرخ رنگ کے تھے۔

Read more