میرا ایک دوست بینک میں ملازم تھا۔ کام کرتے کرتے اکثر خیالوں میں کہیں دورنکل جایا کرتا تھا۔ اس کے عقلمند مینیجر نے چند ہی دنوں میں بیماری کی تشخیص کرلی کہ موصوف تصور جاناں کئیے کسی بند گلی کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ کچی نوکری میں بیماری کا پتہ چل جائے تو نسخہ ایک ہی ملتا ہے، ”مہربانی فرما کر کل سے کام پرتشریف نہ لائیے گا“۔ جب میرا دوست یہی نسخہ ہاتھ میں لئے میرے پاس کسی اچھے وکیل کا پتہ کرنے آیا تو پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ سرکاری نوکری تو بہت بڑی نعمت ہے۔
ہمارے دفتر کا ایک مالی عرصے سے کام کے اوقات میں دفتر کے باہر پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے، لیکن مجال ہے اس نے کبھی اپنی نوکری پر حرف آنے دیا ہو۔ اس کاکہنا ہے، ”دفتر میں فارغ رہ کر حرام کھانے سے بہتر ہے بندہ باہر محنت کرکے حلال رزق کمائے“۔ کسی نے اس سے پوچھا، ”تمہیں نہیں لگتا دفتر کے مرجھائے ہوئے پودے تمہیں بد دعا دیتے ہوں گے؟ “
اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا، ”مفت کا پھل کھا کرحاضری کلرک اور کیشئیر کے معصوم بچے جو دعائیں دیتے ہوں گے، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ “
Read more